05/07/2026
(شہیدِ امت)
شہیدِ رہبرِ انقلاب اِسلامی، آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ علیہم
یہ تاریخ کے وہ درخشاں چراغ ہیں جنہوں نے ظلم کے اندھیروں میں امید، غیرت اور مزاحمت کی شمع روشن کی۔ ان کا پیغام سرحدوں اور قومیتوں سے بلند ہو کر پوری امتِ مسلمہ کے دلوں کی آواز بن گیا۔ انہوں نے ہمیشہ مظلوموں کی حمایت، حق کے دفاع اور باطل کے سامنے استقامت کا درس دیا۔
فلسطین کے زخمی کوچوں، یتیم بچوں، بے گھر ماؤں اور قبلۂ اول کی حرمت کے لیے اٹھنے والی ہر صدا میں ان کی فکر اور دردِ امت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ فلسطین کے مظلوم عوام کے حق میں ان کی ثابت قدم حمایت نے انہیں دنیا بھر کے حریت پسندوں کے دلوں میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ انہوں نے یہ پیغام دیا کہ ظلم کے سامنے خاموشی جرم ہے اور مظلوم کی حمایت ایمان، انسانیت اور ضمیر کی پکار ہے۔
آج بھی غزہ کے ملبوں سے، القدس کی گلیوں سے اور شہداء کے لہو سے ایک ہی صدا بلند ہوتی ہے کہ حق کی راہ قربانی مانگتی ہے، اور جو اس راہ میں ڈٹ جائے وہ تاریخ کے صفحات میں امر ہو جاتا ہے۔
سلام ہو ان تمام شہداء، مجاہدوں اور حق کے علمبرداروں پر جنہوں نے امتِ مسلمہ کی عزت، فلسطین کی آزادی اور مظلوم انسانیت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، کیونکہ شہداء کا لہو ہمیشہ بیداری، مزاحمت اور آزادی کی نئی صبح کو جنم دیتا ہے۔
شہیدِ امت، شہیدِ رہبر کا پیغام یہی ہے:
"ظلم مٹ سکتا ہے، حق کو دبایا جا سکتا ہے مگر شکست نہیں دی جا سکتی؛ اور فلسطین کی سرزمین ایک دن ضرور آزادی کی صبح دیکھے گی۔"