14/08/2026
(14 اگست 2026)
آج کے دن جینے والے اکثر لوگ صرف سبز جھنڈے لہراتے ہیں، حلوے کھاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر پوسٹس لگاتے ہیں۔ مگر کتنوں کو معلوم ہے کہ 14 اگست 1947 کو یہ جھنڈا لہرانے کے لیے کتنی قیمت ادا کی گئی تھی؟
لاکھوں مسلمانوں نے اپنے آبائی گھر چھوڑے۔ خواتین نے اپنی عزت بچانے کے لیے کنوؤں میں چھلانگ لگائی۔ بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے۔ خون کی ندیاں بہیں۔ ریلوے اسٹیشن لاشوں سے بھرے پڑے تھے۔ یہ صرف آزادی نہیں تھی۔ یہ ایک قوم کی آخری سانس پر لکھی گئی تاریخ تھی۔
جناح کا پاکستان کیا تھا؟
قائداعظم محمد علی جناح کا واضح تصور تھا: کہ ایک ایسا آزاد اور خود مختار ملک جہاں مسلمان اپنے مذہب، ثقافت اور شناخت کے ساتھ بغیر خوف کے رہ سکیں۔ جہاں ریاست کسی خاص طبقے یا ادارے کی جاگیر نہ ہو۔ جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو۔ جہاں بولنے کی آزادی ہو، سوچنے کی آزادی ہو اور اپنا مستقبل خود طے کرنے کی آزادی ہو۔
11 اگست 1947 کو قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ پاکستان میں ہر شہری کو اپنے مندر، مسجد یا کسی بھی عبادت گاہ جانے کی آزادی ہوگی۔ ریاست کا کاروبار مذہب سے الگ ہوگا۔ یہ ایک جمہوری، آزاد اور خود مختار ریاست کا نقشہ تھا۔
اور افواج پاکستان کے بارے میں قائداعظم کا حکم بالکل واضح تھا:
“Do not forget that the armed forces are the servants of the people. You do not make national policy; it is we, the civilians, who decide these issues and it is your duty to carry out these tasks with which you are entrusted.”
فوج عوام کی خادم ہے۔ پالیسی بنانا سویلینز کا کام ہے۔ فوج صرف وہ کام کرے جو اسے سونپا جائے۔
اب سوال یہ ہے کہ آج 2026 میں قائداعظم کا وہ پاکستان کہاں ہے؟
تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو کئی دہائیوں سے دو خاندان اور ان کے سہولت کار اس ملک پر مسلط ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو اپنی آبائی جاگیر سمجھ رکھا ہے۔ لوٹ مار جاری ہے، وسائل پر قبضہ ہے، اور بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ جو بھی تنقید کرتا ہے، جو بھی اپنا حق مانگتا ہے، اسے کچل دیا جاتا ہے۔ صحافی گمشدہ ہو جاتے ہیں، عام شہری جیل بھیجے جاتے ہیں، یا انکی آواز دبا دی جاتی ہے۔
کیا آج پاکستان میں بولنے کی آزادی ہے؟
ایک صحافی سوال اٹھائے تو گمشدہ ہو جاتا ہے۔ شاعر کو اٹھا لیا جاتاہے۔ ایک عام شہری سوشل میڈیا پر تنقید کرے تو تفتیش شروع ہو جاتی ہے۔ میڈیا پر خاموشی کے تالے لگے ہوئے ہیں۔ اختلاف رائے کو غداری کا نام دے دیا جاتا ہے۔ کیا یہ وہ آزادی تھی جس کے لیے لاکھوں نے جان دی تھی؟
کیا فوج آج بھی صرف عوام کی خادم ہے؟
یا پالیسیاں بنانے، حکومتیں گرانے اور بزنس ایمپائرز چلانے میں مصروف ہے؟ قائداعظم نے جو حد بندی کی تھی، وہ حد بندی آج کہاں نظر آتی ہے؟
اتنی قربانیاں دے کر جو وطن حاصل کیا گیا تھا، اس کا اصل مقصد کیا تھا؟
ایک ایسا ملک جہاں طاقت عوام کے ہاتھ میں ہو، نہ کہ کسی ادارے کے۔ جہاں آزادیٔ اظہار مقدس ہو۔ جہاں فوج صرف سرحد کی حفاظت کرے، نہ کہ سیاست کی۔
آج ہم آزادی کا جشن منا رہے ہیں تو ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں۔
کیا ہم نے ان شہیدوں کا حق ادا کیا؟
کیا ہم قائداعظم کے خواب کی طرف جا رہے ہیں یا اس سے دور؟
تاریخ صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتی۔ تاریخ ہمیں جواب دہ بناتی ہے۔
اور آج ہمیں اپنے آپ سے یہ پوچھنا چاہیے کہ ہم نے جو پاکستان پایا، کیا وہی پاکستان ہے جو قائداعظم نے ہمیں سونپا تھا؟
پاکستان ذندہ باد 🇵🇰
قائداعظم محمد علی جناح ذندہ باد