Overseas Jobs Help Desk

Overseas Jobs Help Desk Online Help Desk for All Foreign Jobs in Pakistan!
(1)

Dos in UAEاپنا ایمریٹس آئی ڈی (Emirates ID) بننے کے بعد اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔ملازمت کا معاہدہ (Offer Letter) دستخط ک...
24/05/2026

Dos in UAE
اپنا ایمریٹس آئی ڈی (Emirates ID) بننے کے بعد اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔

ملازمت کا معاہدہ (Offer Letter) دستخط کرنے سے پہلے اسے اچھی طرح پڑھیں یا کسی بھروسہ مند شخص سے سمجھیں۔

ہمیشہ منظور شدہ ایکسچینج کمپنیوں یا بینکوں کے ذریعے ہی پاکستان پیسے بھیجیں۔

صرف قانونی اور کارآمد ورک ویزا پر ہی باقاعدہ کام کا آغاز کریں۔

متحدہ عرب امارات کے مقامی قوانین، رسم و رواج اور اسلامی روایات کا دل سے احترام کریں۔

کام کے دوران حفاظتی سامان (ہیلمٹ، دستانے، سیفٹی شوز) کا لازمی استعمال کریں۔

کسی بھی طبی ایمرجنسی کے لیے اپنی ہیلتھ انشورنس کا کارڈ ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔

اپنی کمپنی، کفیل (Sponsor) اور رہائش کی مکمل تفصیلات اپنے گھر والوں کو لازمی دے کر آئیں۔

لیبر سے متعلق کسی بھی مسئلے کی صورت میں منسٹری آف ہیومن ریسورسز (MOHRE) کا نمبر (80060) محفوظ رکھیں۔

اپنے پاسپورٹ اور ویزا کی کاپیاں اپنے موبائل فون اور پاکستان میں گھر والوں کے پاس محفوظ رکھیں۔

رمضان المبارک کے دوران پبلک مقامات پر کھانے پینے کے حوالے سے مقامی قوانین کی سختی سے پابندی کریں۔

میٹرو یا بس میں سفر کرنے کے لیے اپنا نول (Nol) کارڈ ہمیشہ ریچارج رکھیں۔

اپنی رہائش گاہ کو صاف ستھرا رکھیں اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کریں۔

سڑک پار کرنے کے لیے ہمیشہ زیبرا کراسنگ یا پیدل چلنے والوں کے پل (Pedestrian Bridge) کا استعمال کریں۔

ہمیشہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی تنخواہ ویج پروٹیکشن سسٹم (WPS) کے ذریعے آپ کے اکاؤنٹ میں آئے۔

اگر آجر وقت پر تنخواہ نہ دے تو لڑنے کے بجائے فوری طور پر لیبر کورٹ سے قانونی رجوع کریں۔

نئے لوگوں سے ملتے وقت محتاط رہیں اور کسی پر بھی اندھا بھروسہ نہ کریں۔

سوشل میڈیا پر صرف مثبت چیزیں شیئر کریں۔

مقامی اماراتی شہریوں اور دنیا بھر سے آئے ہوئے دیگر غیر ملکیوں کے ساتھ ہمیشہ شائستگی سے پیش آئیں۔

ہنگامی صورتحال کے لیے پولیس (999) اور ایمبولینس (998) کے ٹول فری نمبرز یاد رکھیں۔

گرمیوں میں دوپہر کے وقت کام کی پابندی (Midday Break Rule) کے قانون کا احترام اور فائدہ اٹھائیں۔

ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھیں اور دوسروں کے نجی معاملات میں غیر ضروری دخل اندازی سے بچیں۔

گرم موسم میں پانی کا زیادہ استعمال کریں تاکہ آپ ڈی ہائیڈریشن اور گرمی سے بچ سکیں۔

اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے فارغ وقت میں عربی یا انگریزی زبان اور نئے ہنر سیکھنے کی کوشش کریں۔

اپنی تنخواہ میں سے باقاعدگی سے کچھ رقم اپنے اور اپنے خاندان کے مستقبل کے لیے بچائیں۔

بیمار ہونے کی صورت میں کمپنی کے منظور شدہ یا مستند ڈاکٹر سے علاج کروائیں اور اپنی کمپنی کو بروقت میڈیکل سرٹیفکیٹ دیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران صفائی اور نظم و ضبط کے اصولوں کا مکمل خیال رکھیں۔

کسی بھی سرکاری محکمے یا عدالت میں جائیں تو صاف ستھرا اور مناسب لباس پہن کر جائیں۔

اپنے روم میٹس (کمرے کے ساتھیوں) کے ساتھ مل جل کر، بھائی چارے اور برداشت کے ساتھ رہیں۔

انٹرنیٹ اور وائی فائی کے استعمال میں یو اے ای کے سائبر کرائم قوانین کا مطالعہ کریں۔

چھٹی کے دن صحت مندانہ سرگرمیوں جیسے کہ کھیل کود اور سیر و تفریح میں حصہ لیں۔

خواتین کے لیے مختص جگہوں (میٹرو کے پنک ڈبے، بس کی مخصوص نشستوں) کا احترام کریں۔

اگر اپنے اردگرد کوئی مشکوک سرگرمی یا لاوارث سامان دیکھیں تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔

خریداری کے بعد رسید ہمیشہ اپنے پاس رکھیں تاکہ اگر کوئی چیز واپس کرنی ہو تو مسئلہ نہ ہو۔

پاکستانی ایمبیسی یا قونصل خانے کے رابطہ نمبرز کسی ہنگامی صورتحال کے لیے اپنے پاس محفوظ رکھیں۔

اپنا موبائل نمبر اور ای میل ایڈریس ہمیشہ ایکٹو اور کمپنی کے ریکارڈ میں اپ ڈیٹ رکھیں۔

کام کی جگہ پر اپنے مینیجر اور ساتھیوں کے ساتھ مکمل پیشہ ورانہ (Professional) رویہ اختیار کریں۔

ٹریفک قوانین کا سختی سے احترام کریں، چاہے آپ پیدل چلنے والے ہی کیوں نہ ہوں۔

اپنے روزمرہ کے اخراجات کا حساب رکھیں تاکہ مہینے کے آخر میں آپ کا بجٹ خراب نہ ہو۔

پردیس میں ذہنی دباؤ یا پریشانی کی صورت میں تنہا رہنے کے بجائے دوستوں یا گھر والوں سے بات کریں۔

ادویات اور ضروری اشیاء ہمیشہ لائسنس یافتہ دکانوں یا فارمیسیوں سے ہی خریدیں۔

ڈیوٹی کے اوقات کی سختی سے پابندی کریں اور ہمیشہ وقت پر کام پر پہنچیں۔

دفتری یا قانونی نوعیت کے کسی بھی کاغذ پر دستخط کرنے سے پہلے تسلی کر لیں کہ اس پر کیا لکھا ہے۔

مساجد اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے آداب اور تقدس کا مکمل خیال رکھیں۔

اپنی ذاتی اور جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں، کام پر روزانہ نہا کر اور صاف کپڑے پہن کر جائیں۔

تنازعات، غیر ضروری بحث و مباحثے یا سیاسی گفتگو سے اپنے آپ کو مکمل طور پر دور رکھیں۔

متحدہ عرب امارات کے لیبر قوانین میں اپنے حقوق اور فرائض کے بارے میں ہمیشہ باخبر رہیں۔

چھٹی پر جاتے وقت یا نوکری چھوڑتے وقت کمپنی سے اپنے تمام مالی بقایا جات قانونی طور پر کلیئر کروا کر جائیں۔

پبلک مقامات پر کسی بھی شخص یا فیملی کی تصویر بنانے سے پہلے ان کی اجازت لازمی طلب کریں۔

ہمیشہ یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ آپ وہاں صرف ایک فرد نہیں، بلکہ اپنے ملک اور خاندان کے سفیر ہیں۔

24/05/2026

فوری اور ترجیحی بنیادوں پر Tasheer Appointment بک کروائیں — تیز، محفوظ اور قابلِ اعتماد سہولیات کے ساتھ۔ تو ابھی رابطہ کریں!

24/05/2026
Ambassador H.E. Ahmad Farooq met with Dr. Fahd Balghunaim, Chairman of the Founding Team of the Global Water Organizatio...
05/05/2026

Ambassador H.E. Ahmad Farooq met with Dr. Fahd Balghunaim, Chairman of the Founding Team of the Global Water Organization to review the Global Water Organization’s latest developments and explore avenues for enhanced bilateral cooperation on water sustainability initiatives.

UAE Drugs Laws - Use of Drugsمتحدہ عرب امارات ایک سخت قانونی نظام نافذ کرتا ہے جس کے تحت غیر مجاز نشہ آور ادویات، ذہن پر...
05/05/2026

UAE Drugs Laws - Use of Drugs
متحدہ عرب امارات ایک سخت قانونی نظام نافذ کرتا ہے جس کے تحت غیر مجاز نشہ آور ادویات، ذہن پر اثر انداز ہونے والے کیمیائی مادوں (psychotropic substances) اور بعض نقصان دہ نباتاتی اشیاء کا ذاتی استعمال، قبضہ یا ان کا عادی ہونا سختی سے ممنوع ہے۔ یہ قوانین فیڈرل ڈیکری بائی لاء نمبر (30) آف 2021 کے تحت نافذ ہیں، خاص طور پر آرٹیکلز 41، 42 اور 43 میں ان کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

اس قانون کے تحت مختلف خلاف ورزیوں کے لیے مرحلہ وار سزائیں مقرر ہیں۔ پہلی بار جرم ثابت ہونے کی صورت میں عام طور پر کم از کم تین ماہ قید یا 20,000 سے 100,000 درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ کچھ نسبتاً کم درجے کے ممنوعہ مادوں سے متعلق جرائم میں بھی کم از کم تین ماہ قید یا 10,000 سے 100,000 درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص بار بار اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو سزائیں مزید سخت ہو جاتی ہیں، جس میں دو سال تک قید اور 100,000 درہم سے زیادہ مالی جرمانہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔

مزید برآں، آرٹیکل 42 BIS کے تحت سرحدی کنٹرول کے حوالے سے ایک سخت شق موجود ہے، جس کے مطابق اگر کوئی غیر ملکی یا غیر رہائشی شخص متحدہ عرب امارات میں داخل ہوتے وقت (فضائی، بحری یا زمینی راستے سے) ذاتی استعمال کے لیے بھی منشیات لے کر پکڑا جائے تو اسے فوری طور پر 5,000 سے 1,000,000 درہم تک جرمانہ، منشیات کی ضبطی اور تلفی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی بھی قسم کی کنٹرول شدہ دوا (controlled medication) ملک میں لانے سے پہلے وزارتِ صحت و تحفظ (MOHAP) سے باقاعدہ اجازت حاصل کی جائے۔ اس کے لیے درست طبی نسخہ (prescription) اور ڈاکٹر کی تفصیلی میڈیکل رپورٹ لازمی ہوتی ہے، اور عام طور پر اجازت شدہ مقدار زیادہ سے زیادہ تین ماہ کی دوا تک محدود ہوتی ہے۔

پالیسی اور عملی نفاذ کے نقطہ نظر سے یہ اقدامات متحدہ عرب امارات کی اس پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد عوامی صحت کا تحفظ، منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس (zero tolerance) نفاذ، اور سرحدی سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے، خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں بین الاقوامی نقل و حرکت اور تارکینِ وطن کی بڑی تعداد موجود ہو۔

بیرونِ ملک سفر کرنے والے کارکنوں اور تارکینِ وطن کے لیے اس قانون سے مکمل آگاہی ضروری ہے، کیونکہ بعض اوقات عام یا ثقافتی طور پر استعمال ہونے والی اشیاء جیسے نسوار، پان کے پتے یا پوست کے بیج بھی اماراتی قانون کے تحت ممنوع یا محدود اشیاء میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سفر سے پہلے مکمل معلومات حاصل کی جائیں، اپنی دواؤں کی دستاویزات تیار رکھی جائیں، MOHAP کی شرائط کی تصدیق کی جائے، اور اپنے آجر یا بھرتی کرنے والے ادارے سے درست رہنمائی حاصل کی جائے۔

قبل از روانگی آگاہی اور ذمہ دارانہ بھرتی کے نظام کو مضبوط بنانا اس لیے ضروری ہے تاکہ غیر ارادی قانونی خلاف ورزیوں سے بچا جا سکے اور تارکینِ وطن کو سنگین قانونی و مالی نتائج سے محفوظ رکھا جا سکے۔

05/05/2026

UAE Social Media Laws - Offending Foreign States
متحدہ عرب امارات کے سائبر جرائم سے متعلق قانون UAE Federal Decree-Law No. 34 of 2021 on Combatting Rumours and Cybercrimes میں ایسی آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں بھی واضح قوانین موجود ہیں جن سے کسی دوسرے ملک کی توہین ہو سکتی ہو یا سفارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہوں۔

دفعہ 28 کے مطابق اگر کوئی شخص انٹرنیٹ، سوشل میڈیا یا کسی بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسی معلومات یا مواد پھیلائے جس سے کسی غیر ملکی ریاست کی توہین ہو تو یہ ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ اس جرم کی سزا کم از کم چھ ماہ قید اور 1 لاکھ سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتی ہے۔ اس دفعہ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کے مقدمات صرف متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل کی اجازت سے ہی شروع کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ یہ معاملات بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں۔

اس جرم کی سنگینی کو دفعہ 71 مزید واضح کرتی ہے، جس کے تحت دفعہ 28 کی خلاف ورزی کو ریاستی سلامتی سے متعلق جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے ملک کے خلاف توہین آمیز مواد پھیلانا صرف ایک عام جرم نہیں بلکہ ایسا عمل ہے جو سفارتی تعلقات اور ریاستی مفادات کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر اس دور میں جب آن لائن معلومات بہت تیزی سے دنیا بھر میں پھیل جاتی ہیں۔

تاہم قانون میں ایسے معاملات کو حل کرنے کے لیے ایک محدود قانونی راستہ بھی موجود ہے جس کا ذکر دفعہ 67 میں کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق بعض حالات میں عدالت یا پراسیکیوشن فریقین کے درمیان مفاہمت کو قبول کر سکتی ہے۔ اگر مفاہمت عدالت میں مقدمہ بھیجنے سے پہلے ہو جائے تو ملزم کو کم از کم مقررہ جرمانے کے نصف سے لے کر زیادہ سے زیادہ جرمانے کے نصف تک رقم ادا کر کے معاملہ ختم کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اگر مفاہمت عدالت میں مقدمہ پہنچنے کے بعد لیکن حتمی فیصلہ آنے سے پہلے ہو تو ادا کی جانے والی رقم کم از کم جرمانے کے دو گنا سے لے کر زیادہ سے زیادہ جرمانے کے دو تہائی تک ہو سکتی ہے۔ ایسی مفاہمت کے بعد فوجداری مقدمہ ختم ہو جاتا ہے، البتہ اگر کسی متاثرہ شخص کے دیگر قانونی حقوق ہوں تو وہ برقرار رہتے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ دفعات ظاہر کرتی ہیں کہ متحدہ عرب امارات اپنے بین الاقوامی تعلقات کے احترام کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اسی لیے آن لائن مواد کے ذریعے کسی دوسرے ملک کی توہین یا سفارتی مسائل پیدا کرنے والی سرگرمیوں پر سخت قانونی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ کچھ مخصوص حالات میں معاملہ حل کرنے کے لیے محدود مفاہمتی راستہ بھی فراہم کیا گیا ہے۔

Need help with your Takomol / NAVTTC Appointment?We provide fast, reliable, and hassle-free appointment assistance. ✅📞 C...
03/05/2026

Need help with your Takomol / NAVTTC Appointment?
We provide fast, reliable, and hassle-free appointment assistance. ✅

📞 Contact us today: 0337-9921418
📧 [email protected]

پاکستان واپسی پر خوش آمدید!  ری انٹیگریشن آف ریٹرنیز پروجیکٹ کے تحت، وطن واپس آنے والے افراد کی مفت مدد اور رہنمائی کے ل...
03/05/2026

پاکستان واپسی پر خوش آمدید!

ری انٹیگریشن آف ریٹرنیز پروجیکٹ کے تحت، وطن واپس آنے والے افراد کی مفت مدد اور رہنمائی کے لیے لاہور، اسلام آباد، اور پشاور کے انٹرنیشنل ایئرپورٹس پر ایئرپورٹ ریسپشن ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔

ان ایئرپورٹ ریسپشن ڈیسک پر جو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، وہ یہ ہیں:
✅ معلومات کی فراہمی
✅ فوری خوراک، ہائیجین کٹس، اور گھر پہنچنے کے لیے محفوظ سفری سہولیات
✅ ضرورت مندوں کے لیے عارضی رہائش، اور اہل خانہ سے رابطے کی سہولت

🤝 ایم آر سیز (MRCs) کی جانب سے فراہم کردہ یہ تمام خدمات بالکل مفت دی جاتی ہیں۔

اگر آپ کو، یا بیرونِ ملک سے وطن واپس آنے والے آپ کے کسی عزیز کو مدد یا رہنمائی درکار ہے، تو آج ہی مائیگرنٹ ریسورس سینٹرز سے رابطہ کریں: 👇

📞 ایم آر سی ہاٹ لائن: 0304-111-2-123
📧 ای میل: [email protected]

Disclaimer: This initiative is funded by the European Union. Its contents are the sole responsibility of the Reintegration of Returnee project/Migrant Resource Centre and do not necessarily reflect the views of the European Union.

Saudi Vision 2030 - An Analysis of Future Jobsسعودی عرب کا وژن 2030 ایک وسیع اور بنیادی معاشی تبدیلی کا منصوبہ ہے، جس کا...
03/05/2026

Saudi Vision 2030 - An Analysis of Future Jobs
سعودی عرب کا وژن 2030 ایک وسیع اور بنیادی معاشی تبدیلی کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد ملک کی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر ایک متنوع، علم پر مبنی اور نجی شعبے کی قیادت میں چلنے والی معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔ اس عمل کے ساتھ ساتھ “سعودائزیشن” کی پالیسی بھی نافذ کی جا رہی ہے، جس کے تحت مختلف شعبوں میں سعودی شہریوں کی ملازمت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ غیر ملکی افرادی قوت ختم ہو رہی ہے، بلکہ اس کا کردار اب زیادہ منظم، محدود اور مہارت پر مبنی ہو رہا ہے۔

اس نئی معاشی ساخت میں غیر ملکی ماہرین کے لیے ملازمت کے مواقع خاص طور پر ان شعبوں میں موجود ہیں جہاں اعلیٰ تکنیکی مہارت اور بین الاقوامی تجربے کی ضرورت ہے۔

مثال کے طور پر کان کنی اور معدنیات کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جہاں سونا، فاسفیٹ اور یورینیم جیسے وسائل کی تلاش اور نکالنے کے لیے ماہر انجینئرز، ارضیاتی ماہرین اور بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کے ماہرین کی ضرورت ہے۔

اسی طرح قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) جیسے سولر اور ونڈ انرجی کے منصوبے بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جن کے لیے توانائی کے ماہرین، پروجیکٹ مینجمنٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے ماہر افراد درکار ہیں۔

ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ای-گورننس بھی ایک بڑا ترقی پذیر شعبہ ہے، جہاں سعودی عرب خود کو خطے کا ڈیجیٹل لیڈر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس شعبے میں آئی ٹی ماہرین، سائبر سیکیورٹی ماہرین، ڈیٹا ایکسپرٹس اور ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرز کی طلب بڑھ رہی ہے۔

اسی طرح لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی بڑی تبدیلی سے گزر رہا ہے، جس کا مقصد سعودی عرب کو ایک عالمی تجارتی مرکز بنانا ہے۔ اس میں بندرگاہوں، ریلوے، فضائی نظام اور کسٹمز کے جدید نظام کے ماہرین کی ضرورت شامل ہے۔

صحت (ہیلتھ) کے شعبے میں بھی غیر ملکی ماہرین کا کردار برقرار ہے، خاص طور پر پیچیدہ بیماریوں کے علاج، اسپیشلسٹ ڈاکٹرز، اور جدید ہیلتھ سسٹم مینجمنٹ میں۔ اگرچہ سعودی شہریوں کی تربیت بڑھائی جا رہی ہے، لیکن اب بھی اعلیٰ سطح کے طبی ماہرین کی ضرورت موجود ہے۔

اسی طرح دفاعی صنعت، سیاحت، ثقافتی ورثہ، ہوٹلنگ، کھیل، اور تفریحی صنعتیں بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہیں، جہاں بین الاقوامی ماہرین کو پروجیکٹ مینجمنٹ، ایونٹ آرگنائزیشن، میوزیم اور ورثہ کی بحالی، اور جدید انٹرٹینمنٹ سسٹمز میں مواقع مل رہے ہیں۔

پالیسی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سعودی لیبر مارکیٹ اب اس طرف جا رہی ہے کہ کم ہنر مند (low-skilled) ملازمتوں کے مقابلے میں زیادہ مہارت رکھنے والے اور ٹیکنالوجی پر مبنی کام کرنے والے افراد کو ترجیح دی جائے۔ غیر ملکی کارکنوں سے اب صرف ملازمت نہیں بلکہ علم کی منتقلی، مقامی افرادی قوت کی تربیت، اور ادارہ جاتی ترقی میں کردار ادا کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔

ساتھ ہی کچھ شعبوں میں سعودائزیشن تیزی سے بڑھ رہی ہے، جیسے تیل و گیس اور ریٹیل، جس کی وجہ سے وہاں غیر ملکی ملازمت کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔ اس کے برعکس خصوصی اقتصادی زونز اور جدید ترقیاتی منصوبوں میں زیادہ لچکدار اور بین الاقوامی سطح کے مواقع موجود ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی لیبر مارکیٹ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں میرٹ، مہارت، اور کارکردگی کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ اس ماحول میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ بیرونِ ملک جانے والے افراد اپنی مہارتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنائیں، بین الاقوامی معیار کی قابلیت حاصل کریں، اور خود کو صرف ملازم نہیں بلکہ ایک ماہر اور ترقی میں حصہ لینے والے فرد کے طور پر پیش کریں۔

UAE Social Media Laws - Prestige of the Stateمتحدہ عرب امارات کے سائبر جرائم سے متعلق قانون UAE Federal Decree-Law No. 3...
03/05/2026

UAE Social Media Laws - Prestige of the State
متحدہ عرب امارات کے سائبر جرائم سے متعلق قانون UAE Federal Decree-Law No. 34 of 2021 on Combatting Rumours and Cybercrimes میں ایسی کئی دفعات شامل ہیں جن کا مقصد سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست، اس کے اداروں اور قومی وقار کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

دفعہ 22 ریاستی مفادات سے متعلق حساس معلومات کے تحفظ پر زور دیتی ہے۔ اس کے مطابق اگر کوئی شخص انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے کسی ادارے، تنظیم یا فرد کو ایسی معلومات، رپورٹیں یا دستاویزات فراہم کرے جو شائع کرنے کی اجازت نہیں رکھتیں اور جن کے پھیلنے سے متحدہ عرب امارات یا اس کے سرکاری اداروں کی ساکھ، مفادات یا وقار کو نقصان پہنچ سکتا ہو، تو یہ جرم تصور ہوگا۔ اس کی سزا عارضی قید ہو سکتی ہے، کیونکہ قانون ریاستی معلومات اور اداروں کی ساکھ کے تحفظ کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

دفعہ 25 ملک کے وقار اور قومی علامات کے تحفظ سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق اگر کوئی شخص ویب سائٹ، سوشل میڈیا یا کسی بھی آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ایسی معلومات، خبریں، تصاویر یا افواہیں پھیلائے جن کا مقصد متحدہ عرب امارات کا مذاق اڑانا یا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہو تو یہ جرم سمجھا جائے گا۔ یہ تحفظ ریاستی اداروں، حکومتی شخصیات، ملک کے بانی رہنماؤں اور قومی علامات جیسے پرچم، کرنسی، قومی نشان اور قومی ترانے تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ اس جرم کی سزا پانچ سال تک قید اور 5 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتی ہے۔

دفعہ 23 بنیادی طور پر قومی سلامتی سے متعلق ہے لیکن اس کے ذریعے ریاست کے اعلیٰ مفادات اور اداروں کے وقار کا بھی تحفظ کیا جاتا ہے۔ اس کے تحت ایسی ویب سائٹس بنانا یا چلانا، یا ایسا آن لائن مواد پھیلانا جس سے ریاست کی سلامتی یا اس کے اہم مفادات کو خطرہ لاحق ہو، جرم ہے۔ اس میں معلومات، خبریں، تصاویر یا کارٹون بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اس جرم میں ملوث افراد کو عارضی قید کے ساتھ 10 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

دفعہ 52 جھوٹی خبروں اور گمراہ کن افواہوں کے پھیلاؤ سے متعلق ہے۔ اگر انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا کے ذریعے غلط معلومات اس انداز میں پھیلائی جائیں کہ عوام کو ریاستی اداروں یا حکام کے خلاف بھڑکایا جائے تو اسے سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں کم از کم دو سال قید اور کم از کم 2 لاکھ درہم جرمانہ ہو سکتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ دفعات ظاہر کرتی ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں آن لائن معلومات اور سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے سخت قانونی ضابطے موجود ہیں۔ ان قوانین کا مقصد ریاستی اداروں کے وقار، قومی سلامتی اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا ہے، تاکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ذمہ دارانہ اور قانون کے مطابق استعمال کیا جائے۔
قانون کے مطابق سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کو بھی عوامی جگہوں کی طرح سمجھا جاتا ہے، اس لیے ان پر بھی وہی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں لاگو ہوتی ہیں جو عام عوامی گفتگو میں ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے امارات میں رہنے والے افراد، پیشہ ور افراد اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ ملک، اس کی قیادت یا سرکاری اداروں کے بارے میں کوئی بھی مواد شیئر کرتے وقت احتیاط برتیں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی بات درست، ذمہ دارانہ اور قانون کے مطابق ہو۔

Address

PMI Auditorium Building, Khayaban-e-Suhrawardy, Near Zero Point, G-7/1
Islamabad

Telephone

+923329243781

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Overseas Jobs Help Desk posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Overseas Jobs Help Desk:

Shortcuts

Share