PFUJ Secretariat Islamabad

PFUJ Secretariat Islamabad PAKISTAN FEDERAL UNION OF JOURNALISTS

24/07/2026

IFJ Writes to Prime Minister on Pakistani Journalists' Rights; PFUJ Reaffirms Commitment to Continue the Struggle

PFUJ President Rana Muhammad Azeem:

Yesterday, the Pakistan Federal Union of Journalists (PFUJ) reaffirmed its commitment to stand by journalists and fight for their rights. During the International Federation of Journalists (IFJ) Congress in France, we strongly raised the issues faced by Pakistani journalists. Today, we are pleased to share that the IFJ has formally written to the Prime Minister of Pakistan and other relevant government authorities.

The letter expresses serious concern over forced layoffs in media organizations, salary cuts, delayed payment of wages, the economic exploitation of journalists, the PECA Act, and the growing restrictions on freedom of expression.

This letter demonstrates that the voices of Pakistani journalists are being heard at the international level. We once again assure you that the Pakistan Federal Union of Journalists has always stood with journalists, stands with them today, and will continue to stand with them until their rights are protected. Together, we will win this struggle.

PFUJ Secretary General Shakeel Ahmed:

Absolutely. As the President has said, the Pakistan Federal Union of Journalists has consistently fought for the rights of journalists from Khyber to Karachi. Our struggle is not limited to Pakistan; we have raised the concerns of Pakistani journalists on every important international platform.

We highlighted these issues before the International Federation of Journalists (IFJ), the global representative organization of journalists. As a result, the IFJ has written to the Prime Minister of Pakistan and other relevant authorities, expressing serious concern over forced dismissals, mass layoffs, and the non-payment of journalists' salaries.

PFUJ has continuously protested against these injustices. We also strongly opposed the PECA Act and have remained committed to defending journalists' fundamental rights. By issuing this letter, the IFJ has once again joined its voice with ours and urged the Government of Pakistan to immediately stop forced layoffs, ensure the timely payment of journalists' salaries, and safeguard the rights of media workers.

There is no doubt that this is a difficult period for journalists in Pakistan. However, the strong support extended by the IFJ is a source of encouragement and hope. We are confident that through collective efforts at both the national and international levels, we will continue to advance the cause of press freedom and protect the rights of journalists.

24/07/2026

پاکستانی صحافیوں کے حقوق پر آئی ایف جے کا وزیراعظم کو خط، پی ایف یو جے نے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان

صدر پی ایف یو جے رانا محمد عظیم:

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم آپ کے حقوق کی جنگ لڑیں گے۔ فرانس میں ہونے والی آئی ایف جے کانگریس میں بھی ہم نے پاکستانی صحافیوں کے مسائل بھرپور انداز میں اٹھائے تھے۔ آج ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہے کہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے وزیراعظم پاکستان سمیت متعلقہ حکومتی حکام کو ایک اہم خط ارسال کیا ہے۔

اس خط میں میڈیا اداروں میں ہونے والی جبری چھانٹیوں، تنخواہوں میں کٹوتیوں، بروقت ادائیگی نہ ہونے، صحافیوں کے معاشی استحصال، پیکا ایکٹ اور صحافیوں کی آزادیٔ اظہار پر بڑھتے ہوئے دباؤ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

یہ خط اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر بھی پاکستانی صحافیوں کی آواز سنی جا رہی ہے۔ ہم ایک بار پھر یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) آپ کے ساتھ کھڑی تھی، کھڑی ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی۔ ہم سب مل کر اس جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کریں گے۔

سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے شکیل احمد:

جی بالکل، جس طرح صدر صاحب نے کہا، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے خیبر سے کراچی تک ہمیشہ صحافیوں کے حقوق کی جنگ لڑی ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ہم نے ہر فورم پر پاکستانی صحافیوں کی نمائندگی کی ہے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس، جو دنیا کے درجنوں ممالک کی نمائندہ تنظیم ہے، کے فورم پر بھی ہم نے یہ معاملہ بھرپور انداز میں اٹھایا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آئی ایف جے نے وزیراعظم پاکستان، متعلقہ وفاقی حکام اور دیگر ذمہ دار اداروں کو خط لکھ کر میڈیا اداروں میں جاری جبری برطرفیوں، چھانٹیوں اور صحافیوں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

آپ جانتے ہیں کہ ان مسائل کے خلاف پی ایف یو جے مسلسل احتجاج کرتی رہی ہے۔ پیکا ایکٹ کے خلاف بھی ہم نے بھرپور آواز اٹھائی اور صحافیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔ آئی ایف جے نے بھی ایک مرتبہ پھر ہماری آواز میں آواز ملاتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جبری برطرفیوں کو فوری طور پر روکا جائے، صحافیوں کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے اور میڈیا ورکرز کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

بلاشبہ یہ پاکستانی صحافیوں کے لیے ایک مشکل وقت ہے، لیکن آئی ایف جے کی جانب سے آنے والی یہ مضبوط حمایت امید اور حوصلے کا پیغام ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ مقامی اور عالمی سطح پر مشترکہ جدوجہد کے ذریعے صحافیوں کے حقوق اور آزادیٔ
صحافت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کا وزیراعظم شہباز شریف،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور چیئرمین سینیٹ کو خط، میڈیا ورکرز کے ...
24/07/2026

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کا وزیراعظم شہباز شریف،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور چیئرمین سینیٹ کو خط،

میڈیا ورکرز کے جبری برطرفیوں پر شدید تشویش کا اظہار

آئی ایف جے نے پاکستان میں صحافیوں کے روزگار کے تحفظ، بقایا تنخواہوں کی ادائیگی اور لیبر قوانین پر عملدرآمد کا مطالبہ کر دیا۔

آئی ایف جے نے حکومت سے جنگ گروپ، دنیا، ، ایک نیوز، سنو نیوز اور آج نیوز ، 365 نیوز، نیوز ون سمیت دیگر اداروں میں برطرفیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا

پاکستان میں صحافیوں کو ہراساں کرنے اور قانونی دباؤ کے خاتمے پر زور، آئی ایف جے کا خط

پیکا سمیت آزادی اظہار کو محدود کرنے والے قوانین کے خاتمے کا موثر ترامیم پر زور ،خط کا متن

میڈیا ملازمین کو نوٹس، معاوضے اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر برطرف نہ کیا جائے، آئی ایف جے

پاکستان میں الیکٹرانک، ڈیجیٹل اور فری لانس میڈیا ورکرز کو بھی مکمل لیبر تحفظ دینے کا مطالبہ

آئی ایف جے نے بقایا تنخواہوں کی فوری ادائیگی اور جبری برطرفیوں کے خاتمے پر زور دے دیا

میڈیا کی آزادی اور صحافیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ جمہوری نظام کے لیے ناگزیر ہے، خط میں مطالبہ

صحافیوں کے خلاف قانونی و سائبر قوانین کے مبینہ غلط استعمال کا۔ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ آئی ایف جے کا مطالبہ

میڈیا انڈسٹری کا بحران فوری حکومتی توجہ کا متقاضی ہے، ورنہ آزاد صحافت مزید متاثر ہوگی۔ آئی ایف جے

پاکستان میں صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے نواز اور سائبر کرائم کے قوانین کے استعمال پر بھی تشویش ہے، خط کا متن

پاکستان میں میڈیا اداروں کے موجودہ حالات پر آئی ایف جے کی جانب سے آواز اٹھانا خوش آئند ہے، رانا محمد عظیم صدر پی ایف یو جے

حکومت پاکستان کو میڈیا ہاؤسز میں جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا سخت نوٹس لینا ہوگا، شکیل احمد سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے

16/07/2026
پریس ریلیزسما نیوز انتظامیہ فوری طور پر جبری برطرفیوں کا فیصلہ واپس لے، بصورت دیگر ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی...
11/07/2026

پریس ریلیز

سما نیوز انتظامیہ فوری طور پر جبری برطرفیوں کا فیصلہ واپس لے، بصورت دیگر ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی: پی ایف یو جے

اسلام آباد (پ ر)پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے صدر رانا محمد عظیم اور سیکرٹری جنرل شکیل احمد نے سما نیوز سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی حالیہ جبری برطرفیوں پر شدید تشویش اور سخت مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف لیبر قوانین اور آئین پاکستان کی روح کے منافی ہے بلکہ آزادیٔ صحافت اور کارکن صحافیوں کے بنیادی حقوق پر بھی کاری ضرب ہے۔اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ جن صحافیوں کو اسی ادارے کی جانب سے ماضی میں غیر معمولی پیشہ ورانہ کارکردگی پر متعدد بار تعریفی اسناد (Appreciation Letters) اور اعزازات سے نوازا گیا، آج انہی صحافیوں کو اچانک ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ادارہ جاتی تضاد کی عکاسی کرتا ہے بلکہ میڈیا ورکرز میں شدید بے چینی بھی پیدا کر رہا ہے۔پی ایف یو جے کے رہنماؤں نے کہا کہ مختلف حلقوں میں یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ بعض برطرفیوں کے پیچھے پیشہ ورانہ معیار کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند یا انتظامی فیصلوں کا اثر موجود ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ نہایت تشویشناک صورتحال ہے۔ کسی بھی بیورو چیف یا انتظامی افسر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ذاتی اختلاف یا پسند و ناپسند کی بنیاد پر کارکن صحافیوں کے مستقبل سے کھیلے۔ تقرری، تبادلے یا برطرفیوں کے تمام فیصلے شفاف، منصفانہ اور قانون کے مطابق ہونے چاہییں۔رانا محمد عظیم نے کہا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کارکن صحافیوں کے معاشی استحصال، جبری برطرفیوں اور غیر منصفانہ اقدامات کے خلاف ہمیشہ صفِ اول میں کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی کسی میڈیا ادارے کو قانون سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام متاثرہ صحافیوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور برطرفیوں کی وجوہات شفاف انداز میں سامنے لائی جائیں۔شکیل احمد نے کہا کہ اگر کسی میڈیا ادارے کو انتظامی یا مالی مشکلات کا سامنا ہے تو اس کا حل کارکن صحافیوں کو بے روزگار کرنا نہیں۔ میڈیا ورکرز کسی ادارے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، انہیں یکطرفہ فیصلوں کے ذریعے ملازمتوں سے محروم کرنا نہ صرف غیر قانونی بلکہ غیر اخلاقی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ PFUJ ہر متاثرہ صحافی کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کرے گی۔پی ایف یو جے نے سما نیوز کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ تمام جبری برطرفیوں کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے، متاثرہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو بلا تاخیر بحال کیا جائے اور مستقبل میں ملازمین کے خلاف کسی بھی کارروائی سے قبل لیبر قوانین، سروس رولز اور قدرتی انصاف کے تقاضوں کو یقینی بنایا جائے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر انتظامیہ نے فوری طور پر اپنے فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ملک بھر کی یونٹس اور صحافتی تنظیموں سے مشاورت کے بعد سما نیوز کے دفاتر کے باہر مرحلہ وار احتجاج، مظاہروں اور دیگر جمہوری و آئینی اقدامات کا اعلان کرے گی، جس کی مکمل ذمہ داری ادارے کی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

جاری کردہ:

احتشام الحق
انفارمیشن سیکرٹری

تیز ہو تیز ہو، جدوجہد تیز ہومضبوط ہو مضبوط ہو ، شِیرازَہ بندی مضبوط ہو
10/07/2026

تیز ہو تیز ہو، جدوجہد تیز ہو
مضبوط ہو مضبوط ہو ، شِیرازَہ بندی مضبوط ہو

10/07/2026

اتحاد ہی صحافیوں کی طاقت، میڈیا بحران کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا آغاز

اسلامآباد (پ ر) راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) نے ملک میں میڈیا انڈسٹری کو درپیش سنگین بحران کے پیشِ نظر جڑواں شہروں کے سینئر، پروفیشنل اور نظریاتی صحافیوں کو ایک مضبوط پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ اس سلسلے کی پہلی تقریب نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے مین ہال میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے سیکرٹری جنرل شکیل احمد اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) کے صدر طارق عثمانی کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی، جس میں صحافیوں، اینکر پرسنز اور میڈیا ورکرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب میں رضوان غلزئی، مدثر الیاس کیانی، عبد الوحید جنجوعہ، خالد مالک،قیصر مرزا، فرخ نواز بھٹی، اسحاق چوہدری، مالک جنید، ابرار احمد، محمود خان،رضوان قاضی، رانا طارق، زبیر، طیّب گلفام، صدیق انظر، عامر نیازی، فیصل، بابر،عادل شاہ، مجاہد بھٹی، عائشہ ناز، صائمہ صدیق اور دیگر رہنماؤں نے یونین کا حصہ بننے والے سینئر صحافیوں، اینکر پرسنز اور میڈیا پروفیشنلز، جن میں حسن خان، مظہر طفیل، اشفاق بنگش، شاداب خٹک، سہیل انجم ملک، نعیم اللہ یوسفزئی، حسنہ خٹک، محمد لطیف، لیاقت علی، نوید جاوید، سدرہ پرویز، محمد عثمان، نازیہ آصف، فراز خٹک، نوید احمد، رضوان علی شاہ، ثاقب خٹک، سید رسول بٹانی، امجد گل، حذیفہ شہسوار اور دیگر شامل تھے، کو پھولوں کے ہار پہنا کر خوش آمدید کہا۔سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس شکیل احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ میڈیا انڈسٹری اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ جبری برطرفیاں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، ملازمتوں کا عدم تحفظ اور آزادیٔ صحافت پر بڑھتی ہوئی پابندیاں صحافی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں صحافیوں کا اتحاد ہی ان کی اصل طاقت ہے اور یہی اتحاد انہیں ہر قسم کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائے گا۔ شکیل احمد نے کہا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ملک بھر کے کارکن صحافیوں کے آئینی، قانونی، پیشہ ورانہ اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ میڈیا مالکان کی جانب سے لیبر قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی برطرفیوں اور واجبات کی عدم ادائیگی جیسے مسائل پر کسی قسم کی خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی بلکہ ان کے خلاف منظم اور بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔ انہوں نے تمام صحافیوں پر زور دیا کہ وہ ذاتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنی نمائندہ تنظیموں کو مضبوط کریں تاکہ آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے حقوق کا مؤثر دفاع کیا جا سکے۔صدر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس طارق عثمانی نے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس ہمیشہ کارکن صحافیوں کی حقیقی نمائندہ تنظیم رہی ہے اور آئندہ بھی صحافیوں کے حقوق کے تحفظ میں صفِ اول کا کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، جبری برطرفیاں اور معاشی عدم استحکام انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صحافی آج متحد نہ ہوئے تو آنے والی نسلوں کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آر آئی یو جے ہر مظلوم صحافی کی آواز بنے گی اور کسی بھی کارکن صحافی کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔قیصر مرزا نے کہا کہ صحافت صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی طاقت ان کے اتحاد میں ہے اور موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ سینئر اور نوجوان صحافی ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوط کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہر فورم پر صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔ سینیئر صحافی حسن خان نے کہا کہ آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو تقسیم کرنے کی ہر کوشش ناکام بنانا ہوگی اور اتحاد کے ذریعے آزادیٔ اظہار اور عوام کے حقِ معلومات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے RIUJ کی اس مہم کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال نے کہا کہ نیشنل پریس کلب ہمیشہ صحافیوں کے اتحاد، آزادیٔ صحافت اور کارکن صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام صحافتی تنظیموں کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔سیکرٹری نیشنل پریس کلب ڈاکٹر فرقان راؤ نے کہا کہ صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مضبوط تنظیم، مستقل جدوجہد اور باہمی اعتماد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پریس کلب ہر اس مثبت اقدام کا ساتھ دے گا جو صحافی برادری کے مفاد، آزادیٔ صحافت اور پیشہ ورانہ وقار کے لیے ہو۔اس موقع پر مظہر طفیل، فرخ نواز بھٹی، اشفاق بنگش، شاداب خٹک، حسنہ خٹک، عبد الوحید جنجوعہ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں صحافی برادری کو متحد ہو کر اپنے حقوق، آزادیٔ صحافت اور روزگار کے تحفظ کی جنگ لڑنا ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میڈیا ورکرز کے استحصال، غیر قانونی اقدامات اور آزادیٔ اظہار پر قدغن کے خلاف ہر سطح پر مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
تقریب کے اختتام پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اگست کے پہلے ہفتے سے صحافیوں کے حقوق، آزادیٔ صحافت، روزگار کے تحفظ، جبری برطرفیوں کے خاتمے اور میڈیا ورکرز کے استحصال کے خلاف منظم تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحافی برادری کے وقار، اتحاد اور پیشہ ورانہ آزادی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

جاری کردہ:

مدثر الیاس کیانی
انفارمیشن سیکرٹری
راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ)
+92-321-6866670

اتحاد ہی صحافیوں کی طاقت، میڈیا بحران کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا آغازاسلامآباد (پ ر) راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس ...
10/07/2026

اتحاد ہی صحافیوں کی طاقت، میڈیا بحران کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا آغاز

اسلامآباد (پ ر) راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) نے ملک میں میڈیا انڈسٹری کو درپیش سنگین بحران کے پیشِ نظر جڑواں شہروں کے سینئر، پروفیشنل اور نظریاتی صحافیوں کو ایک مضبوط پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ اس سلسلے کی پہلی تقریب نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے مین ہال میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے سیکرٹری جنرل شکیل احمد اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) کے صدر طارق عثمانی کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی، جس میں صحافیوں، اینکر پرسنز اور میڈیا ورکرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب میں رضوان غلزئی، مدثر الیاس کیانی، عبد الوحید جنجوعہ، خالد مالک،قیصر مرزا، فرخ نواز بھٹی، اسحاق چوہدری، مالک جنید، ابرار احمد، محمود خان،رضوان قاضی، رانا طارق، زبیر، طیّب گلفام، صدیق انظر، عامر نیازی، فیصل، بابر،عادل شاہ، مجاہد بھٹی، عائشہ ناز، صائمہ صدیق اور دیگر رہنماؤں نے یونین کا حصہ بننے والے سینئر صحافیوں، اینکر پرسنز اور میڈیا پروفیشنلز، جن میں حسن خان، مظہر طفیل، اشفاق بنگش، شاداب خٹک، سہیل انجم ملک، نعیم اللہ یوسفزئی، حسنہ خٹک، محمد لطیف، لیاقت علی، نوید جاوید، سدرہ پرویز، محمد عثمان، نازیہ آصف، فراز خٹک، نوید احمد، رضوان علی شاہ، ثاقب خٹک، سید رسول بٹانی، امجد گل، حذیفہ شہسوار اور دیگر شامل تھے، کو پھولوں کے ہار پہنا کر خوش آمدید کہا۔سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس شکیل احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ میڈیا انڈسٹری اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ جبری برطرفیاں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، ملازمتوں کا عدم تحفظ اور آزادیٔ صحافت پر بڑھتی ہوئی پابندیاں صحافی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں صحافیوں کا اتحاد ہی ان کی اصل طاقت ہے اور یہی اتحاد انہیں ہر قسم کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائے گا۔ شکیل احمد نے کہا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ملک بھر کے کارکن صحافیوں کے آئینی، قانونی، پیشہ ورانہ اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ میڈیا مالکان کی جانب سے لیبر قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی برطرفیوں اور واجبات کی عدم ادائیگی جیسے مسائل پر کسی قسم کی خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی بلکہ ان کے خلاف منظم اور بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔ انہوں نے تمام صحافیوں پر زور دیا کہ وہ ذاتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنی نمائندہ تنظیموں کو مضبوط کریں تاکہ آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے حقوق کا مؤثر دفاع کیا جا سکے۔صدر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس طارق عثمانی نے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس ہمیشہ کارکن صحافیوں کی حقیقی نمائندہ تنظیم رہی ہے اور آئندہ بھی صحافیوں کے حقوق کے تحفظ میں صفِ اول کا کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، جبری برطرفیاں اور معاشی عدم استحکام انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صحافی آج متحد نہ ہوئے تو آنے والی نسلوں کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آر آئی یو جے ہر مظلوم صحافی کی آواز بنے گی اور کسی بھی کارکن صحافی کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔قیصر مرزا نے کہا کہ صحافت صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی طاقت ان کے اتحاد میں ہے اور موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ سینئر اور نوجوان صحافی ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوط کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہر فورم پر صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔ سینیئر صحافی حسن خان نے کہا کہ آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو تقسیم کرنے کی ہر کوشش ناکام بنانا ہوگی اور اتحاد کے ذریعے آزادیٔ اظہار اور عوام کے حقِ معلومات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے RIUJ کی اس مہم کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال نے کہا کہ نیشنل پریس کلب ہمیشہ صحافیوں کے اتحاد، آزادیٔ صحافت اور کارکن صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام صحافتی تنظیموں کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔سیکرٹری نیشنل پریس کلب ڈاکٹر فرقان راؤ نے کہا کہ صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مضبوط تنظیم، مستقل جدوجہد اور باہمی اعتماد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پریس کلب ہر اس مثبت اقدام کا ساتھ دے گا جو صحافی برادری کے مفاد، آزادیٔ صحافت اور پیشہ ورانہ وقار کے لیے ہو۔اس موقع پر مظہر طفیل، فرخ نواز بھٹی، اشفاق بنگش، شاداب خٹک، حسنہ خٹک، عبد الوحید جنجوعہ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں صحافی برادری کو متحد ہو کر اپنے حقوق، آزادیٔ صحافت اور روزگار کے تحفظ کی جنگ لڑنا ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میڈیا ورکرز کے استحصال، غیر قانونی اقدامات اور آزادیٔ اظہار پر قدغن کے خلاف ہر سطح پر مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
تقریب کے اختتام پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اگست کے پہلے ہفتے سے صحافیوں کے حقوق، آزادیٔ صحافت، روزگار کے تحفظ، جبری برطرفیوں کے خاتمے اور میڈیا ورکرز کے استحصال کے خلاف منظم تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحافی برادری کے وقار، اتحاد اور پیشہ ورانہ آزادی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

جاری کردہ:

مدثر الیاس کیانی
انفارمیشن سیکرٹری
راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ)
+92-321-6866670

10/07/2026

Address

Office No 2, 2nd Floor Civic Center MCB Building Melody G6 Markaz Islamabad
Islamabad
45600

Telephone

+3216866670

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PFUJ Secretariat Islamabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category