ضرب مومن

ضرب مومن لا غالب اِلا اللہ،

03/10/2026

احتساب ناصبیت کے نام سے لکھی گئ کتاب پر ہمارا مؤقف وہی ہے جو مولانا عبدالواحد قریشی حفظہ اللہ کی ہے.

ہم عام مسلمان کسی بھی صحابی رسول کے پاؤ تک پہنچی ہوئی گرد کے بھی برابر نہیں ہو سکتے.

اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے.

ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من الدنک رحمتہ، انک انت الوھاب.

آمین ثم آمین

24/09/2026
24/09/2026

غموں کی ماری اس بہن شبانہ کی فریاد سنیں۔۔۔
شبانہ بالاکوٹ سے آگے پارس نامی کسی گاؤں کے ہنستے مسکراتے گھرانے میں خوشحال زندگی بسر کررہی تھی۔ماں باپ بہن بھائی جیسی اللہ کی عظیم نعمتوں سے مالا مال تھی۔ اسکول بھی جاتی تھی۔ بچپن میں یرقان کی مرض میں مبتلا ہوئی تھی۔ والد پارس سے مانسہرہ اسپتال علاج کے لئے لایا۔ شبانہ اپنے والد کے ساتھ مانسہرہ میں تھی۔۔۔
اتنے میں دنیا بھر میں ایک خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔۔۔۔ وہ خبر تھی 8 اکتوبر 2005 کے قیامت خیز زلزلے کی۔۔۔!!
شبانہ کو والد مانسہرہ اسپتال میں چھوڑ کر اپنے آشیانے کی خبر لینے پارس گیا۔ وہاں بہت ہی مشکلوں سے پہنچا تو دیکھا کہ سب کچھ ملیامیٹ تھا۔۔۔ بستی صفحہ ہستی پر موجود نہیں تھی۔۔ والد واپس بیٹی شبانہ کے پاس مانسہرہ پہچنا اور بیٹی کو بتایا کہ سب چلے گیے ہیں۔۔۔ہم دو ہیں بس۔
والد سے یہ صدمہ برداشت نا ہوا اور دل کا دورہ پڑنے سے اللہ کو پیارا ہوگیا۔ وہاں موجود کمیٹی نے تجہیز و تدفین کی اور شبانہ کو زلزلہ متاثرین کے کیمپ منتقل کردیا۔۔۔۔۔ شبانہ آج بھی زندگی کے بہت سخت مراحل سے گزررہی ہے۔۔۔ وہ بڑی ہوکر اپنے گاوں بھی گئی لیکن اسکا کہنا تھا کہ علاقہ بدل چکا تھا کسی کو پہچان نہیں سکی۔ شبانہ چاہتی ہے کہ انکی مدد کی جائے۔
خاندان کا کوئی فرد اگر زندہ ہو کہیں موجود ہو اس تک رسائی ملے۔۔یا کوئی رشتےدار دنیا میں ہو تو اس سے رابطہ ہو۔۔
شبانہ نے والد کا نام محمد سرور اور والدہ کا نام شاہدہ بتایا۔
بھائی دو تھے ریاست اور عابد ۔۔ دو بہنیں روبینہ اور ثمینہ ۔
ایک چچا کا نام الیاس دوسرا رزاق یاد ہے۔
پارس محلے میں رہتے تھے ۔ یہ شاید بالاکوٹ سے آگے کسی گاوں کا نام ہے۔۔گھر کے قریب دریا تھا لکڑی کا پل ہوتا تھا ۔ پل سے گزر کر مسجد جاتے تھے۔ گھر کے پاس ہی اسکول تھا۔ دو سال جاتی رہی ہے۔ چچازاد بہن کلاس فیلو تھی بشری نام تھا۔
گھر میں ہندکو بولتے تھے ۔
بھائی ریاست کی بیوی کا نام رضیہ تھا۔

بالاکوٹ کے تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اپنی اس بہن کی فریاد ہر طرف عام کریں کیا پتہ کہیں پر شبانہ کا کوئی رشتےدار موجود ہو ۔۔ کم از کم شبانہ کو تسلی تو ہو کہ انکا خونی رشتہ بھی دنیا میں موجود ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

23 sept 2026

18/09/2026

یہ نوجوان بول اور سن نہیں سکتا۔۔۔۔ اپنا نام اقبال لکھتا ہے۔

آج سے بیس بائیس سال قبل کہیں سے بھٹک کر راجنپور پنجاب پہنچا تھا۔ ایک نیک دل انسان نے اسکو اپنے پاس رکھ کر اسکے ورثاء کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ نہیں ملے۔
یہ تصویر اسکے راجن پور پہنچنے کے دو تین سال بعد کی ہے۔
اب یہ جوان ہوچکا ہے ۔ جن کے پاس ہے وہ اسکا رشتہ بھی طے کرچکے ہیں اور اسکا گھر بھی بنا چکے ہیں۔
لیکن انکی خواہش ہے کہ انکے خاندان والے ملیں اور وہ اس خوشی کے موقع پر شرکت کرکے خوشی دوبالا کریں۔
یہ لڑکا اپنا اقبال لکھتا ہے ۔ اشاروں سے بتاتا ہے کہ تین بہنیں اور تین بھائی تھے۔ والد کا بتاتا ہے کہ مستری کا کام کرتا تھا۔
اقبال عید اور خوشی کے دیگر مواقع پر اداسی ہوجاتا ہے اور تنہائیوں میں اپنے اپنے پیاروں کو یاد کرکے روتا ہے۔
آپ کا ایک شئیر اقبال کو اسکے خاندان سے ملانے کا سبب بن سکتا ہے۔ خوب زیادہ شئیر کریں اور نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

16 sept 2026

03/09/2026

اس جوان کا نام معین الدین ہے اور والد کا نام بنوس خان ہے
معین الدین کراچی کے علاقے اسلامیہ کالونی کا رہائشی ہے۔
دبئی میں اسکی شاپ تھی۔آج سے پندرہ سال قبل وہاں سے سب کچھ ختم کرکے کراچی آیا۔ ذہنی طور پر کوئی مسئلہ ہوا تھا۔سر پر انڈے توڑ کر ملتا تھا ۔ گھر سے یہ کہہ کر نکلا کہ وہ کوئٹہ سے دم کرواکر آئےگا۔ ہندرہ سال ہوگئے آج تک نہیں لوٹا۔
چھوٹے بچے جوان ہوگئے اپنے بابا کی راہ آج بھی تک رہے ہیں۔
معین الدین کا والد کوئٹہ گیا تھا وہاں انکو بازار میں ڈھونڈ لیا تھا ۔ بیٹے بال بنانے سیلون گئے بال بنواکر نکلے تھے لیکن کوئٹہ کے شارجہ مارکیٹ میں پھر لاپتہ ہوگیا۔ اسکی والدہ نیک نامہ
سات بھائی ہیں داوود۔ اسماعیل۔ موسی۔ نور علی۔ عثمان ۔ محمد علی ۔
ماں باپ آج بھی اپنے بیٹے کے لئے دن رات ایک کرکے رورہے ہیں۔بچے باپ کے جیتے جی یتیم ہوچکے ہیں۔
کوئٹہ کے تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ برائے مہربانی اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ کسی کو بھی معین الدین کے متعلق کوئی بھی معلومات ہوں تو نیچے درج نمبر پر اطلاع دیں۔
03162529829

3 sep 2026

30/08/2026

پچاس سال سے اپنے خاندان کی تلاش میں محمد اسلم…! 😢

ان صاحب کا نام محمد اسلم ہے اور والد کا نام محمد لطیف ہے۔
یہ پختون گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ رہائش ملتان کمیارہ والے چوک میں تھی۔
ایک بھائی کا نام محمد افضل تھا۔ والدہ کا نام یاد نہیں ہے ۔ ایک چھوٹی بہن فوت ہوئی تھی۔
محمد اسلم کے مطابق جب وہ صرف سات سال کے تھے تو ان کے والد کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ انہیں سانس کی تکلیف تھی۔ والد علاج کی غرض سے انہیں اپنے ساتھ ساہیوال لے کر گئے، جہاں اسپتال میں دورانِ علاج ان کے والد محمد لطیف کا انتقال ہوگیا۔
اس وقت محمد اسلم کی عمر صرف سات سال تھی۔ والد کے انتقال کے بعد وہ اسپتال میں اکیلے رہ گئے اور زار زار روتے رہے۔ اسپتال انتظامیہ نے ان کے والد کی تدفین کر دی۔ اسی دوران ایک فیملی نے اس معصوم بچے کو اپنے پاس رکھ لیا۔
وقت گزرتا گیا…
لیکن محمد اسلم آج تک اپنے حقیقی خاندان سے نہیں مل سکے۔
تقریباً 20 سال قبل محمد اسلم اپنے خاندان کی تلاش میں دوبارہ ملتان کے کمیارہ والے چوک پہنچے۔ ان کے مطابق وہاں رومی کاٹن نامی ایک فیکٹری ہوا کرتی تھی، جہاں ان کے والد کام کرتے تھے، جبکہ ان کا گھر فیکٹری کے بالکل سامنے تھا۔
لیکن جب وہ وہاں پہنچے تو نہ وہ فیکٹری موجود تھی اور نہ ہی ان کا گھر۔
وہاں کسی شخص نے انہیں پہچان لیا اور بتایا کہ:
"تمہارا ماموں یہاں آیا تھا، وہ تمہاری امی اور گھر والوں کو کراچی لے گیا ہے۔"
یہ بات سن کر محمد اسلم کو امید تو ملی، لیکن کراچی میں ان کا خاندان کہاں گیا، ان کے ماموں کون تھے اور آج ان کے اپنے کہاں ہیں؟ اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔
آج پچاس سال گزر چکے ہیں، مگر محمد اسلم کے دل میں آج بھی اپنے ماں، بہن بھائیوں اور خاندان سے ملنے کی امید زندہ ہے۔
اگر آپ محمد اسلم، ان کے والد محمد لطیف، یا ملتان کے کمیارہ والے چوک میں رہنے والے اس خاندان کے بارے میں کوئی معلومات رکھتے ہیں تو براہِ کرم ہم سے رابطہ کریں۔
ممکن ہے آپ کی ایک شیئر اس شخص کو پچاس سال بعد اس کے اپنوں تک پہنچا دے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829

28 Aug 2026

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ضرب مومن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share