ضرب مومن

ضرب مومن لا غالب اِلا اللہ،

01/08/2026

آج یکم اگست ہے ۔۔ یہ بچہ ایک اگست 2024 کو پاکستان ریلوے پولیس کو لودھراں ٹرین اسٹیشن پر لاوارث حالت میں ملا تھا۔
آج دو سال ہوگئے اسکو لاوارث ہوئے۔
بچہ بہت ننھا سا تھا بات نہیں کرسکتا تھا۔ ورثاء کو ڈھونڈنے کی بہت کوششیں کی گئی ہیں۔ ہم نے بھی دو بار پوسٹ لگائی تھی لیکن گھر والوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
بچے کو ایک سرکاری شیلٹر میں دے دیا گیا تھا۔
راتوں کو بچہ اٹھ کر زور زور سے روتا تھا۔ ماں کی آغوش میں جس بچے کو ہونا چاہئے تھا وہ شیلٹر میں ہے۔ راتوں کو اٹھ کر کمرے سے باہر نکل کر دیکھتا کہ شاید امی سوئی ہوئی ہوگی انکے پاس سر رکھ کر سوجائےگا۔ لیکن آج تین سال مکمل ہوگئے کسی نے اس کے لئے رابطہ نہیں کیا۔
بائیں طرف پرانی تصویر ہے اور دائیں طرف حالیہ
برائے مہربانی انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو پاکستان کی گلی گلی میں عام کریں۔ جس کونے میں بھی والدین موجود ہوں ان تک ہماری پوسٹ پہنچ جائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

1 Aug 2026

31/07/2026

یہ نوجوان بول اور سن نہیں سکتا

اسکا نام علی رضا ہے اور والد کا نام اللہ دتہ ہے۔ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ملتان کا رہائشی ہے۔
علی رضا 23 مارچ 2017 کو گھر سے نکل کر خانیوال کے ایک روحانی اجتماع میں شرکت کرنے گیا تھا۔اجتماع کے بعد واپس گھر نہیں پہنچ سکا۔
علی رضا کی والدہ دن رات اپنے بچے کے لئے روتی ہے۔صبح شام بیٹے کا چہرہ خیالوں میں ہوتا ہے۔
والدین کا اکلوتا سہارا تھا۔ذہنی طور پر بالکل تندرست تھا۔
ماں کسی دوسرے بچے کو مخاطب کرنے کے لئے بلاتی ہے تو اچانک علی رضا نام منہ پر آجاتا ہے پھر یاد آتا ہے کہ علی رضا تو نہیں ہے۔ سارا دن روتی ہے اور طبعیت خراب ہوجاتی ہے۔
علی رضا ضرور کسی ایسی جگہ گیا ہوگا جہاں وہ کسی کو اپنا ایڈریس بتانے سے قاصر ہوا ہوگا اور کسی نے اپنے پاس رکھ لیا ہوگا۔
آپ انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو ملک بھر میں عام کریں ان شاءاللہ علی رضا کا غمگین گھرانہ خوشیوں سے بھرپور گھرانہ بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

29 july 2026

31/07/2026

مجھے میرے ماں باپ سے ملائیں۔۔!!

اس خاتون نے اپنی داستان سنائی تو سن کر کانپ گیا۔
کہتی ہے: میری عمر چار سے پانچ سال تھی،میرے والد کا ایک بہت ہی عزیز دوست جسکا نام *** تھا ۔اسکا ہمارے گھر آنا جانا بھی لگارہتا تھا۔
والد کے دوست نے ایک دن مجھے کہا چلو تمہیں جھولا جھلاتا ہوں۔میں خوشی خوشی ساتھ روانہ ہوگئی۔
وہ مجھے ٹرک میں بٹھاکر دور کہیں اپنے ایک رشتےدار کے ہاں لے گیا اور مجھے کہا یہ تمہارے ماں باپ ہیں۔
جیسے جیسے میرے والدین شاید ڈھونڈتے ڈھونڈتے قریب پہنچتے وہ شخص کسی دوسرے رشتے دار کے پاس منتقل کردیتا۔ میں تقریبا 8 سال انکی قید میں رہی چار سے پانچ جگہے تبدیل کئے انہوں نے۔
پھر آخری بار جس گھر میں تھی اس گھر میں ایک بزرگ موجود تھا۔ایک دن گھر میں کوئی نہیں تھا۔ بزرگ نے مجھے کہا بیٹا یہاں سے نکل کر تم بھاگ جاو۔ جہاں بھی جاوگی اللہ تمہارا بھلا کرےگا لیکن یہاں سے کسی صورت خود کو نکال دو۔
میں نکل کر ایسے بھاگی کہ پیچھے دیکھا ہی نہیں جاتی رہی جاتی رہی۔
کسی علاقے میں پہنچ کر ایک فیملی کے ہاتھ لگی۔ انہوں نے مجھ رکھ لیا۔ میں 13 سال کی ہوچکی تھی۔ 13 سال کی عمر میں میری شادی کرلی گئی۔
سال 2001 میں میری شادی ہوئی تھی۔8 سال قید اور چھبیس سال شادی کے ہوئے۔34 سال قبل کا واقعہ ہے یہ۔
میری دھندلی یادوں کے مطابق میرا نام گھر میں عندل حفیظ تھا والد کا نام انور تھا اور والدہ کا نام سکینہ تھا۔ اور ہمارے ایک ماموں کا نام نواز ڈوگر تھا۔
ہمارا گھر گاوں میں تھا۔کھیتوں کے درمیان گھر بنا ہوا تھا۔گھر کے باہر کنواں تھا۔قریب میں امرود کا درخت تھا۔اور ایک دربار بھی تھا۔
میں ابھی پانچ بچوں کی ماں ہوں لیکن میرے ماں باپ کی یاد آج تک مجھے چین سے جینے نہیں دے رہی۔
خدا کے لئے مجھے اپنوں سے ملائیں
تمام دوست انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

31 july 2026

27/07/2026

کیا کوئی ہے جو ایک معذور باپ کو اس کے بیٹے سے ملا دے؟
یہ نوجوان سمیع اللہ ہے، والد کا نام عبدالعزیز ہے، اور اس کا تعلق ژوب شیرانی سے ہے۔
تقریباً پانچ سال پہلے سمیع اللہ روزگار کی تلاش میں کراچی آیا تھا، جہاں وہ ایک ہوٹل پر کام کرتا تھا۔ ذہنی پریشانیوں کے باعث نجانے اس کے ساتھ کیا پیش آیا کہ اس کا اپنے گھر والوں سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا۔
آج پانچ سال گزر چکے ہیں۔

اگر آپ سمیع اللہ کو جانتے ہیں، کہیں دیکھا ہے، یا اس کے بارے میں کوئی بھی معلومات رکھتے ہیں تو براہِ کرم فوراً نیچے دیے گئے نمبر پر صرف واٹس ایپ کریں۔

0316-2529829

25 July 2026

27/07/2026
27/06/2026
25/06/2026

بابا جی کی فریاد سنیں۔۔۔

بابا جی کا نام منصف ہے۔ راولپنڈی کے بحریہ ٹاؤن میں چوراہے پر اپنے ضعیف ہاتھوں میں پھول لیکر رات دیر تک بیچتے ہیں۔ چند پیسے کماکر اپنے آشیانے جاکر بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔
ہمارے پیج سے جڑے ایک نیک دل انسان کامران سعید صاحب انکی مدد کے بہانے ان سے پھول خریدتے ہیں۔ انکے چہرے پر اداسی دیکھ کر بابا جی سے بات چیت کرنے لگتے ہیں اور انکے دل کا حال پوچھتے ہیں کہ آنکھوں میں چمک نہیں اور چہرہ اداس کیوں ہے؟ تو بابا جی کہتے ہیں "بیٹا میرے دو خوبصورت بچے 2006 سے لاپتہ ہیں انکی جدائی نے مجھے ایسا کردیا ہے"۔
یہ سن کر کامران صاحب اپنے خیالوں میں ہمارا پیج سرچ کرکے کھولتے ہیں اور ہمارے سارے کیسز ذہن میں چلنے لگتے ہیں۔ بابا جی کو امید کی ایک کرن دکھاکر کہتے ہیں کہ آپ ہمیں تفصیل بتائیں ان شاءاللہ بچے مل جائیں گے۔
بابا جی نے بتایا کہ بچوں کے نام محمد یاسر اور وقار ہیں۔ ایک کی عمر سات سال اور ایک کی عمر نو سال تھی۔ انکی تصاویر موجود نہیں ہیں۔ بس میری تصویر لگائیں کیا پتہ وہ میرے چہرے کو دیکھ کر مجھے پہچان لیں اور میری جس ڈانٹ کی وجہ سے گھر سے گئے تھے مجھے دیکھ کر انکا دل نرم ہو اور لوٹ آئیں۔ انکے ایک بھائی کا نام وقاص اور ایک کا نام قیصر ہے۔
اس وقت رہائش ایبٹ آباد کے بیرن گلی محلہ دھب میں ہے۔
مجھے مرنے سے قبل ایک بار بچوں سے ملائیں میرے سارے دکھ ختم ہوجائیں گے۔
بچے شاید ناراض ہوکر کہیں نکل گئے ہوں۔ کسی ڈیرے میں کام کررہے ہونگے یا کسی بٹھے یا شیلٹر میں بند ہوگئے ہونگے۔ ورنہ سات آٹھ سال کے بچے گھر لوٹ سکتے تھے۔
آپ تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ بابا جی کی پوسٹس زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔اگر یہ پوسٹ ان بھائیوں تک پہنچتی ہے تو ان سے گزارش ہے کہ آپکے بابا کے سفید بالوں کا واسطہ لوٹ آو۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829

23 june 2026

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ضرب مومن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share