Republic Policy

Republic Policy Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Republic Policy, Community Organization, Islamabad.

Republic Policy is an independent think tank dedicated to strengthening democratic governance, public institutions, economic development, and human rights values through research, policy analysis, training, consultancy, and public discourse.

نیشنل بک ریڈنگ موومنٹتقریبِ آغاز کی پُرخلوص دعوتعلم صرف کتابوں میں محفوظ الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ قوموں کی ترقی، شعور، ...
31/07/2026

نیشنل بک ریڈنگ موومنٹ

تقریبِ آغاز کی پُرخلوص دعوت

علم صرف کتابوں میں محفوظ الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ قوموں کی ترقی، شعور، کردار اور مستقبل کی بنیاد ہے۔ جب مطالعہ ایک معاشرتی روایت بن جاتا ہے تو تحقیق، تخلیق، برداشت اور قیادت جیسی اعلیٰ اقدار جنم لیتی ہیں۔
اسی سوچ کو فروغ دینے کے لیے ریپبلک پالیسی آرگنائزیشن، اکیڈیمیا اور بک بڈیز کے اشتراک سے "نیشنل بک ریڈنگ موومنٹ" کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان میں مطالعے کی ثقافت کو زندہ کرنا اور ہر شہری، خصوصاً نوجوان نسل، کو کتاب سے جوڑنا ہے۔
آپ کو نہایت احترام اور مسرت کے ساتھ اس تاریخی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔

تاریخ: بدھ، 5 اگست 2026
وقت: شام 4:30 بجے (بروقت تشریف لائیں)
مقام: قائدِ اعظم لائبریری، باغِ جناح، لاہور

خصوصی شرکت کے لیے مدعو:
سیاست دان، ماہرینِ، سول سرونٹس، دانشور، محققین، اساتذہ ،مصنفین، طلبہ و طالبات اور کتاب دوست حضرات۔

آئیے، مل کر عہد کریں کہ:
جو قوم کتاب پڑھتی ہے، وہی قوم قیادت کرتی ہے۔

آپکی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ اعزاز ہوگی۔

30/07/2026

محسن نقوی صاحب جب فرماتے ہیں کہ سسٹم ناکام ہو چکا ہے ، تو کیا اس سے انکی یہ مراد ہے کہ ہائیبرڈ سسٹم ناکام ہو چکا ہے؟

در اصل پاکستان کا وفاقی پارلیمانی جمہوری سسٹم ناکام نہی ہوا۔
اس لیے پاکستان کو وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام کی طرف لوٹنا چاہیے، اور اس موقف کیساتھ کہ یہی نظام کو مستقل چلایا جائے گا۔

اگر یہ نظام عشروں چلتا ہے تو پاکستان ایک مضبوط ریاست کے طور پر سامنے آئے گا۔

اداریہپاکستان میں سیاست اور تاریخ پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، مگر گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات پر سنجیدہ علمی کام نہایت کم ...
30/07/2026

اداریہ

پاکستان میں سیاست اور تاریخ پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، مگر گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات پر سنجیدہ علمی کام نہایت کم نظر آتا ہے۔ ریپبلک پالیسی میں ہمارا مقصد ہمیشہ مسائل کی نشاندہی تک محدود رہنے کے بجائے عملی حل اور بامعنی اصلاحات پیش کرنا رہا ہے۔

غیر جانب دار، شواہد پر مبنی اور تحقیقی طرزِ فکر کے ذریعے ہم مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ پاکستان کے بنیادی مسائل کا حل بہتر طرزِ حکمرانی اور جامع ادارہ جاتی اصلاحات میں پوشیدہ ہے۔

ہم اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کا روشن مستقبل ریاست کے تینوں ستونوں—انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ—کی بنیادی اصلاحات سے وابستہ ہے۔ اسی وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے ریپبلک پالیسی نے چار ایسی کتابیں شائع کی ہیں جو مجموعی طور پر پاکستان کے نظامِ حکمرانی کے لیے ایک جامع اصلاحاتی خاکہ پیش کرتی ہیں۔ ان کتابوں میں انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ اور سول سروس کی اصلاح کے لیے تفصیلی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

فکسنگ دی ایگزیکٹو برانچ آف گورنمنٹ حکومتی نظم و نسق کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک واضح لائحۂ عمل پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کی مرکزی، طاقت پر مبنی سول سروس کو ایک پیشہ ور، پیداواری اور کارکردگی پر مبنی سول سروس میں تبدیل کیے بغیر کوئی بھی اصلاح کامیاب نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ ووڈرو ولسن نے کہا تھا:
“آئین بنانا جتنا مشکل ہے، اس سے کہیں زیادہ مشکل اسے مؤثر انداز میں چلانا ہے۔”

فکسنگ دی لیجسلیٹو برانچ آف گورنمنٹ پاکستان کے قانون ساز نظام میں اصلاحات کا ایک جامع خاکہ پیش کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی استدلال یہ ہے کہ پاکستان ایک وفاقی جمہوریہ ہے، اس لیے اسے حقیقی معنوں میں وفاق اور جمہوریہ دونوں کی روح کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔ یہ کتاب سیاسی انتظامیہ کے مؤثر کردار، بیوروکریسی کے غیر ضروری غلبے کے خاتمے، اور پارلیمانی نگرانی و احتساب کو مضبوط بنانے کی وکالت کرتی ہے۔

فکسنگ دی جوڈیشل برانچ آف گورنمنٹ عدلیہ کی مکمل آزادی کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ وہ انتظامیہ کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کر سکے۔ تاہم یہ کتاب پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کے اس کردار کا بھی تنقیدی جائزہ لیتی ہے جس نے مختلف ادوار میں جمہوری اور آئینی نظام کو کمزور کیا۔ کتاب کا مؤقف ہے کہ عدالتی آزادی کے ساتھ ادارہ جاتی احتساب بھی ناگزیر ہے۔

دی بیوروکریٹک کوپ اس بات پر زور دیتی ہے کہ آئینِ پاکستان کے متن اور اس کی روح میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ وفاقی معاملات وفاقی بیوروکریسی کے ذریعے اور صوبائی معاملات صوبائی سول سروس کے ذریعے چلائے جانے چاہییں۔ وفاقیت کے اصول صرف آئین کی دفعات تک محدود نہ رہیں بلکہ ریاستی نظم و نسق میں بھی پوری طرح نمایاں ہوں۔

یہ چاروں کتابیں طلبہ، اساتذہ، محققین، پالیسی سازوں، سول سرونٹس اور ان تمام افراد کے لیے ناگزیر مطالعہ ہیں جو پاکستان کے نظامِ حکمرانی کو سمجھنا اور بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

یہ کتابیں پاکستان بھر کے معروف کتب فروشوں کے پاس دستیاب ہیں۔ ہوم ڈیلیوری کے لیے درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں:

0341-4222501

Fixing the Executive Branch of Government presents a pathway to transform the operations of government. Our core argumen...
30/07/2026

Fixing the Executive Branch of Government presents a pathway to transform the operations of government. Our core argument is that no reform will be successful without reforming the centralized civil service into the productive civil service. As Woodrow Wilson remarked, “It’s getting harder running a constitution than framing one.”

Fixing the Legislative Branch of Government talks about reforming the legislation of Pakistan. Our core thesis in this book is that Pakistan is a Federal Republic. It should work like a REPUBLIC AND FEDERATION. The book presents a case for the leading role of the political executive over the bureaucratic executive. It makes a case for the empowerment of legislative oversight.

Fixing the Judicial Branch of Government demands judicial independence from the executive. Simultaneously, it never ignores the complicit role of the judiciary in the history of Pakistan in subverting the democratic fabric of our society.

The Bureaucratic Coup demands that the letter and spirit of the Constitution of Pakistan be reconciled. The affairs of the federation must be handled by the federal bureaucracy, and the affairs related to the provinces must be handled by the provincial bureaucracy. The spirit of the federation must be reflected in the actual practice of how we run this state.

These books are essential reading for students, academics, researchers, policymakers, and anyone interested in understanding and improving Pakistan’s governance framework.

The books are available at bookstores across Pakistan. For home delivery, please contact us at the number 0341-4222501

مصنف کے لیے کوئی سوال؟
30/07/2026

مصنف کے لیے کوئی سوال؟

پاکستان میں سیاست اور تاریخ پر تو لکھا گیا ہے، مگر گوورنس اور ریفارمز پر شائد ہی آپ کو کوئی سنجیدہ کتاب ملے۔ ہمارے ادارے...
30/07/2026

پاکستان میں سیاست اور تاریخ پر تو لکھا گیا ہے، مگر گوورنس اور ریفارمز پر شائد ہی آپ کو کوئی سنجیدہ کتاب ملے۔ ہمارے ادارے ریپبلک پالیسی کی یہ کوشش رہی ہے کہ ہمیشہ حل اور دادرسی پر بات کی جائے۔ ہم نے اپنی تحقیق میں ہمیشہ غیر جانبداری سے کام لیتے ہوئے، پاکستان کے مسائل کا حل بہتر گوورنس اور ریفارمز میں تلاش کیا ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئے حکومتی ڈھانچے کے تینوں ستونوں کو مکمل طور پر ریفارم کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ہمارے ادارے نے چار کتب تحریر کی ہیں۔ جو پاکستان کے ایگزیکٹیو، عدلیہ اور قانون سازی کے نظام پر ایک ریفارم پیکج کا درجہ رکھتی ہیں۔ طلبہ اساتذہ اور محققین کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ کتابیں پاکستان کے تمام بک سٹورز پر دستیاب ہیں۔ تاہم ہوم ڈیلیوری کے لیے اس نمبر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

0341-4222501

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے طویل عرصے تک امریکہ کے ساتھ اپنی سیاسی اور ذاتی قربت کو اپنی ناگزیر حیثیت کے ثب...
29/07/2026

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے طویل عرصے تک امریکہ کے ساتھ اپنی سیاسی اور ذاتی قربت کو اپنی ناگزیر حیثیت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ اپنی جوانی کا بڑا حصہ امریکہ میں گزارنے اور امریکی سیاست پر گہری گرفت کے باعث وہ مختلف امریکی صدور کو اسرائیل کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب سمجھے جاتے رہے، جس سے نہ صرف اسرائیل بلکہ ان کے اپنے سیاسی مستقبل کو بھی تقویت ملی۔

ایک عرصے تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیتن یاہو کے لیے سب سے زیادہ موافق امریکی صدر ثابت ہوئے، خصوصاً اس وقت جب وہ ایران کے خلاف براہِ راست جنگ میں اسرائیل کا ساتھ دینے والے پہلے امریکی صدر بنے۔ تاہم اب جبکہ یہ جنگ تعطل کا شکار ہے، ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں اسرائیل کو ساتھ لیے بغیر معاہدوں پر آمادگی ظاہر کر رہے ہیں، اور امریکہ کے اندر اسرائیل پر تنقید بھی بڑھ رہی ہے، اس لیے اسرائیل میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ نیتن یاہو کا سب سے مضبوط امریکی پتہ شاید اب پہلے جیسا مؤثر نہیں رہا

ایران اور یوکرین کی جنگیں بحیرۂ خزر میں آمنے سامنےایران اور اس کے مخالفین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب بحیرۂ خزر تک پ...
29/07/2026

ایران اور یوکرین کی جنگیں بحیرۂ خزر میں آمنے سامنے

ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب بحیرۂ خزر تک پہنچ گئی ہے، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ سمندر تہران اور ماسکو کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی ایک اہم شاہراہ بن چکا ہے۔

یوکرین نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ اس کے بغیر پائلٹ طیاروں نے بحیرۂ خزر میں دو روسی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جو فوجی سامان لے جا رہے تھے۔ یوکرین کے مطابق دونوں جہاز ایران سے روانہ ہو کر روسی بندرگاہ کی جانب جا رہے تھے۔ ہفتے کو سماجی رابطے کے ایک ذریعے پر جاری اپنے بیان میں یوکرینی صدر وولودی میر زیلنسکی نے کہا کہ نشانہ بنائے گئے اہداف میں ایسے بحری جہاز شامل تھے جو ایران سے فوجی سامان منتقل کر رہے تھے، جبکہ ایک روسی جنگی جہاز بھی حملے کی زد میں آیا، جسے بعد میں یوکرین کی سلامتی سروس نے روسی میزائل بردار کشتی قرار دیا۔

ایران نے اس واقعے کی مختلف تصویر پیش کی۔ تہران کے مطابق اس کا ایک تجارتی جہاز، جو لوہا لے جا رہا تھا، حملے کا نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں ایک ملاح ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ بتایا گیا کہ یہ جہاز روس کی بندرگاہ آستراخان سے ایران کی بندرگاہ انزلی جا رہا تھا۔ ایرانی صوبائی گورنر ہادی حق شناس نے اس راستے کو دونوں بندرگاہوں کے درمیان تجارتی تبادلوں کے لیے “محفوظ اور قابلِ اعتماد راہداری” قرار دیا۔

پیر کے روز کشیدگی مزید بڑھ گئی جب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خبردار کیا کہ “یوکرین کی یہ خطرناک مہم جوئی ہرگز جواب کے بغیر نہیں رہے گی۔” اس واقعے پر احتجاج کے لیے تہران میں یوکرین کے ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کر لیا گیا۔

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Republic Policy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Republic Policy:

Shortcuts

Share