Republic Policy

Republic Policy Republic Policy is a leading think tank of Pakistan covering the themes of governance, politics, economy, sports, literature & reforms.

It has four organizations. Please visit republicpolicy.com for details.

30/05/2026

‏پاکستانی سول سروس: میرٹ، گروہی وابستگیاں اور انتظامی حقیقتیں

پاکستان کی سول سروس میں براہِ راست بھرتی کا نظام عمومی طور پر میرٹ پر مبنی سمجھا جاتا ہے۔ وفاقی سطح پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) اور صوبائی سطح پر صوبائی پبلک سروس کمیشنز کے ذریعے ہونے والی بھرتیوں میں امیدواروں کا انتخاب زیادہ تر مسابقتی امتحانات اور انٹرویوز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات مختلف صوبوں، خصوصاً سندھ اور بلوچستان، میں بھرتیوں کے حوالے سے شکایات سامنے آتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر ابتدائی تقرریوں کو نسبتاً میرٹ پر مبنی تصور کیا جاتا ہے۔

تاہم، سول سروس میں داخلے کے بعد کیریئر کا دوسرا مرحلہ زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں پوسٹنگز، ٹرانسفرز اور بعض اوقات ترقیوں کے معاملات محض پیشہ ورانہ قابلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔ سیاسی ترجیحات، انتظامی ضرورتیں، ذاتی تعلقات، گروہی وابستگیاں، صوبائی شناخت اور بعض اوقات برادری یا فرقہ وارانہ پس منظر بھی فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
بعض مبصرین کا مؤقف ہے کہ جب کسی خاص برادری، علاقے یا فرقے سے تعلق رکھنے والی سیاسی یا انتظامی قیادت اقتدار میں آتی ہے تو اس کے زیرِ اثر افراد کو نسبتاً زیادہ مواقع مل سکتے ہیں۔ اسی طرح راجپوت، گجر، کشمیری، پٹھان، بلوچ یا دیگر سماجی گروہوں کے بارے میں بھی ایسے تاثرات پائے جاتے ہیں کہ بعض اوقات ان کی نمائندگی یا اثر و رسوخ سرکاری معاملات میں کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم یہ ایک عمومی تاثر ہے اور اس کی شدت مختلف ادوار، صوبوں اور اداروں میں مختلف ہو سکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ریاستی اداروں میں تقرریوں کے فیصلے اکثر متعدد عوامل کے امتزاج سے ہوتے ہیں۔ کسی افسر کی پیشہ ورانہ صلاحیت، سیاسی قیادت کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ، ادارہ جاتی ضروریات، اعتماد، تجربہ، علاقائی نمائندگی اور انتظامی ترجیحات سب عوامل اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام فیصلے صرف میرٹ پر ہوتے ہیں یا تمام فیصلے صرف برادری اور تعلقات کی بنیاد پر ہوتے ہیں؛ عملی صورت حال ان دونوں انتہاؤں کے درمیان واقع ہے۔
پاکستانی بیوروکریسی کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس نے مختلف سیاسی ادوار اور ریاستی بحرانوں کے باوجود ریاستی نظم و نسق کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم شفافیت، احتساب، کارکردگی پر مبنی ترقی اور پوسٹنگ کے نظام میں مزید اصلاحات کی ضرورت بدستور موجود ہے تاکہ عوامی اعتماد اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافہ ہو سکے۔

اس کے علاوہ پاکستانی سول سروس میں غیر رسمی گروپس گروہی ڈھانچے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مختلف سروس گروپس، بیچز، علاقائی تعلقات اور بااثر سینئر افسران کے گرد ایسے نیٹ ورکس تشکیل پاتے ہیں جو اپنے اراکین کی پوسٹنگز، تبادلوں، ترقیوں اور ادارہ جاتی اثر و رسوخ کے تحفظ کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض ناقدین کے مطابق یہ گروہی وابستگیاں بعض اوقات میرٹ اور پیشہ ورانہ کارکردگی سے زیادہ اہم ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں طاقت اور مواقع چند حلقوں میں مرتکز ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ افسران جو کسی مضبوط گروہ، سرپرست یا نیٹ ورک کا حصہ نہیں ہوتے، اکثر اپنے پورے کیریئر میں زیادہ مشکلات، محدود مواقع اور انتظامی تنہائی کا سامنا کرتے ہیں۔ یوں سول سروس کے رسمی قواعد کے ساتھ ساتھ غیر رسمی طاقت کے مراکز بھی کیریئر کی سمت اور رفتار کے تعین میں اثرانداز ہوتے ہیں۔ عموماً ان گروپس کے ساتھ وابستہ سول سرونٹس کو کماو پوت کہا جاتا ہے۔

پاکستانی سول سروس، اس کے طاقت کے ڈھانچوں، سیاسی اثرات اور انتظامی حرکیات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے "The Bureaucratic Coup" از تاریق محمود اعوان ایک قابلِ مطالعہ کتاب ہے۔ یہ کتاب پاکستانی بیوروکریسی کے تاریخی ارتقا، اختیارات کے استعمال، سول و عسکری تعلقات اور انتظامی سیاست کے مختلف پہلوؤں پر تنقیدی بحث پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب وین گارڈ بکس اور دوسرے کتب خانوں پر دستیاب ہے۔

+92 300 9552542

29/05/2026

گلگت بلتستان قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک حساس خطہ ہے۔ پاکستان کے وفاق کے ساتھ اس کے آئینی اور سیاسی تعلقات کے تناظر میں وہاں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد نہ صرف جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے ضروری ہے بلکہ پاکستان کے بہتر اور مستحکم مستقبل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

How will government tackle it?India has approved the controversial 260-megawatt Dulhasti Stage-II hydropower project on ...
29/05/2026

How will government tackle it?

India has approved the controversial 260-megawatt Dulhasti Stage-II hydropower project on the Chenab River in Indian Illegally Occupied Jammu and Kashmir, a move that is expected to deepen water-related tensions with Pakistan and intensify concerns over the future of the Indus Waters Treaty.

The project, estimated to cost Rs 3,277.45 crore, was cleared by India’s Environmental Appraisal Committee under the Ministry of Environment, Forest and Climate Change.

Article!
29/05/2026

Article!

The Abraham Accords were sold to the world as a breakthrough for peace in the Middle East. In practice, they were something far more modest and far more troubling.

‏ریپبلک پالیسی کی کتاب The Bureaucratic Coup کا آغاز پنجاب کے موجودہ چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان کے ایک واقعے سے کیا ہے۔ع...
29/05/2026

‏ریپبلک پالیسی کی کتاب The Bureaucratic Coup کا آغاز پنجاب کے موجودہ چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان کے ایک واقعے سے کیا ہے۔

عدالتِ عالیہ پنجاب نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ جونیئر افسران کو سینئر افسران کی اسامیوں پر تعینات کرنا قانون اور میرٹ کے خلاف ہے، اور چیف سیکرٹری کو حکم دیا گیا کہ اس غیر قانونی عمل کو ختم کیا جائے۔ مگر یہاں ایک عجیب صورت حال پیدا ہوگئی۔ خود چیف سیکرٹری، زاہد اختر زمان، اس وقت گریڈ 21 کے افسر تھے لیکن گریڈ 22 کی نشست پر تعینات تھے۔ یعنی جس نظام کو ختم کرنے کا حکم عدالت نے دیا تھا، وہ خود اسی نظام سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ اس تضاد سے بچنے کے لیے انہوں نے عدالتی حکم پر عمل کرنے کے بجائے پورا قانون ہی تبدیل کروا دیا۔ اس مقصد کے لیے پہلے ایک آرڈیننس جاری کروایا گیا جب پنجاب میں نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی تھے، اور بعد میں اسے باقاعدہ قانون بنا کر Punjab Civil Servants Act کا حصہ بنا دیا گیا۔ قانون کی ستم ظریفی دیکھیں کہ یہ قانون اصل میں صوبائی افسران کے لیے بنایا گیا تھا، مگر بعد میں اسے مسلسل وفاقی افسران کے حق میں بھی استعمال کیا جانے لگا۔ یوں ایک عدالتی فیصلے کو ختم کرنے کے بجائے قانون ہی بدل دیا گیا، اور نہ نگران حکومت کو اس کی اصل وجہ سمجھ آئی اور نہ بعد میں آنے والی منتخب حکومت کو۔ مریم نواز صاحبہ اور پنجاب اسمبلی کو اس واقعے کا ادراک ہونا ضروری ہے کہ کیسے بیوروکریسی انکو مینیج کرتی ہے ۔
اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں بیوروکریسی کس طرح اپنی طاقت اور مہارت سے انتظامیہ، مقننہ اور حتیٰ کہ عدلیہ کے فیصلوں کو بھی اپنے مفادات کے مطابق موڑ لیتی ہے۔ اب پنجاب میں یہ ایک صوبائی قانون ہے کہ افسر جس مرضی گریڈ میں ہو، اسکی کسی بھی انتظامی عہدے پر تعینات کیا جا سکتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ صوبائی قانون کو جس مرضی سروس پر لاگو کر دیا جائے ، کوئی نہی پوچھے گا کیونکہ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ بیوروکریسی کی depceptions کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

ریپبلک پالیسی کی کتاب The Bureaucratic Coup
وین گارڈ بکس اور دوسرے کتب خانوں پہ دستیاب ہے ۔
+92 300 9552542

28/05/2026

‏عمران خان صرف اسی صورت میں غیر مقبول ہو سکتے ہیں کہ وہ اقتدار میں آئیں اور پھر گورننس میں بری طرح ناکام ہوں۔ اس کے علاوہ، اپوزیشن میں رہتے ہوئے مستقبلِ قریب میں ان کے غیر مقبول ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ خصوصاً نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ عمران خان غیر مقبول ہو چکے ہیں۔

Good Intentions, Unfinished Business: Punjab's Reform Initiatives Under ScrutinyEditorialPunjab’s two flagship initiati...
28/05/2026

Good Intentions, Unfinished Business: Punjab's Reform Initiatives Under Scrutiny



Editorial

Punjab’s two flagship initiatives — Saaf Suthra Punjab and the Punjab Environmental Protection Authority — represent exactly the kind of institutional thinking that Pakistan’s governance landscape has long needed. The ambition behind both programmes is commendable. A cleaner province is not a cosmetic goal. It is a public health imperative, an environmental necessity and a statement about the relationship between the state and the citizens it serves. Similarly, a functional environmental regulator is long overdue in a province where industrial pollution, urban waste and air quality have reached crisis levels. Conceptually, both initiatives deserve

Details heee.

PERA faces a parallel challenge. Environmental regulation in Pakistan has historically suffered from regulatory capture, political interference and the absence of enforcement muscle.

Article!Blood on the Tracks: Balochistan’s Unending OrdealThe explosion near the Chaman railway crossing in Quetta last ...
27/05/2026

Article!

Blood on the Tracks: Balochistan’s Unending Ordeal

The explosion near the Chaman railway crossing in Quetta last Sunday was not merely an act of violence. It was a declaration — brutal, deliberate, and aimed at the most defenceless. An explosives-laden vehicle rammed into a crowded shuttle train ferrying ordinary passengers toward Quetta railway station. At least thirty people were killed. Women. Children. Commuters who had done nothing more than board a train. Dozens more were wounded. Nearby homes crumbled. Roofs caved in. Entire neighbourhoods were shaken to their foundations by the force of a single, savage blast. What followed was silence of a familiar, terrible kind — the silence of a nation that has learned, through repetition and grief, how to absorb these wounds without yet knowing how to close them..........

Read here the complete article.

Blood on the Tracks: Balochistan's Unending Ordeal

The explosion near the Chaman railway crossing in Quetta last Sunday was not merely an act of violence. It was a declaration — brutal, deliberate, and aimed at the most defenceless.

EditorialThe guns have not fallen silent in the Persian Gulf. Despite a ceasefire reached in early April, U.S. Central C...
27/05/2026

Editorial

The guns have not fallen silent in the Persian Gulf. Despite a ceasefire reached in early April, U.S. Central Command conducted fresh strikes against Iranian targets — boats allegedly laying mines and missile launch sites — as Secretary of State Marco Rubio warned that the Strait of Hormuz would be reopened “one way or the other.” Meanwhile, Iran’s foreign minister was in Doha negotiating a potential deal, and President Trump dangled both olive branch and sword in the same breath on Truth Social. The region remains a powder keg.

Israel's simultaneous escalation against Hezbollah in Lebanon only deepens the regional stakes. The Middle East is being remade. Pakistan must decide whether it watches as a sovereign, or once again serves as an instrument.

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Republic Policy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Republic Policy:

Share