Pure intention Foundation

Pure intention Foundation پانی مہیا کرنا افضل ترین صدقہ ہے ۔

05/08/2026

پانی مہیا کرنا افضل ترین صدقہ ہے ۔
اپنے مرحومین کی جانب سے پانی کا عطیہ کیجئے ۔
رابطہ برائے واٹس ایپ :- +923000740007

خوارج محض اختلاف رکھنے والے لوگوں کا نام نہیں، بلکہ احادیث میں ان کے مخصوص عقائد، طرزِ فکر اور پُرتشدد رویّے بیان ہوئے ہ...
05/08/2026

خوارج محض اختلاف رکھنے والے لوگوں کا نام نہیں، بلکہ احادیث میں ان کے مخصوص عقائد، طرزِ فکر اور پُرتشدد رویّے بیان ہوئے ہیں۔

1۔ بظاہر بہت زیادہ عبادت گزار ہونا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنی نماز، روزے اور تلاوت کو ان کی نماز، روزے اور تلاوت کے مقابلے میں کم سمجھو گے۔ یعنی ان کی ظاہری عبادت بہت زیادہ ہوگی، لیکن صحیح عقیدہ، فہم اور اخلاص سے محروم ہوگی۔

> «تَحْقِرُونَ صَلَاتَكُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ»
“تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں حقیر سمجھو گے۔”

حوالہ: صحیح بخاری: 6931۔

2۔ قرآن پڑھیں گے مگر صحیح طور پر سمجھیں گے نہیں

وہ قرآن کی کثرت سے تلاوت کریں گے، لیکن قرآن کی ہدایت ان کے دلوں تک نہیں پہنچے گی:

> «يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ»
“وہ قرآن پڑھیں گے، مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔”

اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قرآن پڑھیں گے، مگر اس کے صحیح مفہوم، حکمت، رحمت اور مقاصد کو نہیں سمجھیں گے یا غلط جگہ اس کا اطلاق کریں گے۔
حوالہ: صحیح بخاری: 6934، صحیح مسلم: 1068a۔

3۔ کم عمر اور ناپختہ عقل کے حامل ہوں گے

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

> «حُدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ»
“وہ کم عمر اور ناپختہ عقل والے ہوں گے۔”

یہاں صرف جسمانی عمر مقصود نہیں، بلکہ دینی علم، تجربے، فہم اور نتائج کو سمجھنے میں ناپختگی بھی مراد ہے۔
حوالہ: صحیح بخاری: 6930، صحیح مسلم: 1066a۔

4۔ بہت دلکش اور مذہبی نعرے استعمال کریں گے

حدیث میں آیا ہے:

> «يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ»
“وہ بہترین باتیں کہیں گے۔”

یعنی ان کی گفتگو قرآن، سنت، عدل، توحید اور دین کے خوبصورت نعروں سے مزین ہوگی، مگر ان کے اعمال ان نعروں کے برخلاف ہوں گے۔

5۔ دین میں غلو اور سختی اختیار کریں گے

وہ دین کو حکمت، رحمت اور اعتدال کے بجائے شدت اور تنگ نظری کے ساتھ سمجھیں گے۔ ان کی عبادت زیادہ ہوگی، لیکن غلط فہم اور غلو کی وجہ سے وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم سے پار ہوجاتا ہے:

> «يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ»

حوالہ: صحیح بخاری: 6932، صحیح مسلم: 1067۔

6۔ مسلمانوں کا خون بہائیں گے

خوارج کی سب سے نمایاں عملی نشانی یہ بیان ہوئی ہے:

> «يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ»
“وہ اہلِ اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔”

یعنی ان کا زیادہ تر غصہ اور تشدد مسلمانوں ہی کے خلاف ہوگا۔ وہ مسلمانوں کو مرتد، کافر یا دین کا دشمن قرار دے کر ان کے خون کو حلال سمجھنے لگیں گے۔
حوالہ: صحیح بخاری: 3344، صحیح مسلم: 1064a۔

7۔ مسلمانوں کی تکفیر میں جلد بازی

تاریخی خوارج کبیرہ گناہوں اور سیاسی یا فقہی اختلافات کی بنیاد پر مسلمانوں کو کافر قرار دیتے تھے۔ ان کے عقیدے کی ایک بنیادی علامت یہ تھی کہ گناہ گار یا اپنے مخالف مسلمان کو اسلام سے خارج سمجھتے، پھر اس کے خلاف تشدد کو جائز قرار دیتے تھے۔

8۔ اہلِ علم اور جائز دینی قیادت پر بدگمانی

خوارج کے ابتدائی شخص نے رسول اللہ ﷺ کی تقسیم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا: “اللہ سے ڈریے!” گویا وہ خود کو نبی کریم ﷺ سے زیادہ عادل اور متقی سمجھ رہا تھا۔ اس واقعے سے ان کے اندر موجود خود پسندی، بدگمانی اور اپنے فہم کو اہلِ علم سے برتر سمجھنے کا رویہ ظاہر ہوتا ہے۔
حوالہ: صحیح بخاری: 3344، صحیح مسلم: 1064a۔

9۔ سر منڈانا ایک تاریخی ظاہری علامت

ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> «سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ»
“ان کی علامت سر منڈانا ہوگی۔”

حوالہ: صحیح بخاری: 7562۔

البتہ محض سر منڈانے سے کوئی شخص خارجی نہیں ہوجاتا۔ یہ ابتدائی خوارج کی ایک تاریخی علامت تھی؛ اصل پہچان ان کا عقیدہ، تکفیری فکر اور مسلمانوں کے خلاف خروج و تشدد ہے۔

مجھے بتائیے ، کیا کسی جرم اور خباثت کا اپنا کوئی مذہب ، ادارہ یا لباس ہوتا ہے ؟کتنی عام فہم بات ہے کہ : انسان جہاں ہوگا ...
05/08/2026

مجھے بتائیے ، کیا کسی جرم اور خباثت کا اپنا کوئی مذہب ، ادارہ یا لباس ہوتا ہے ؟

کتنی عام فہم بات ہے کہ : انسان جہاں ہوگا ، اپنے ساتھ اپنی نیکی یا اپنی خباثت لے کر جائے گا ۔۔۔ انسان کا لباس ، اس کی ڈگری ، اس کی مسند یا اس کا ادارہ حتیٰ کہ اسکا ایمان بھی اس کے معصوم اور فرشتہ ہونے کی ضمانت نہیں دے سکتا ، نہ دیتا ہے!

وگرنہ ہمیں بھی بتایا جائے کہ آخر وہ کون سا ادارہ ہے جس کے دروازے پر کبھی کوئی مجرم داخل ہی نہ ہوا ہو ؟ مجرم تو ہمیشہ کسی نہ کسی صف میں کھڑا ہوتا ہے ، کسی نہ کسی پیشے سے وابستہ ہوتا ہے ، کسی نہ کسی لباس میں ہی ملبوس ہوتا ہے ۔۔۔تو کیا جب وہ جرم کرتا ہے تو دنیا والے لباس کو سزا دیتے ہیں ؟ یا جرم کرنے والے مجرم کو سزا دیتے ہیں ۔۔۔ دنیا والے عمارت کو نہیں گراتے ، مجرم کو گرفتار کرتے ہیں ، پورے نظام کو نہیں جلاتے ، اس میں موجود خرابی کو دور کرتے ہیں!

وگرنہ کل کسی ڈاکٹر کے ہاتھوں کوئی ہولناک جرم سرزد ہو جائے تو کیا آپ میڈیکل کالجز بند کرنے کا مطالبہ کریں گے ؟ اگر کسی جج کے ہاتھوں انصاف کا قتل ہو جائے تو کیا آپ عدالتوں کو ختم کرنے کی بات کریں گے ؟ اگر کسی پولیس افسر کی بدعنوانی ثابت ہو جائے تو کیا آپ پورے محکمۂ پولیس کو مجرم قرار دے دیں گے ؟ اگر نہیں تو پھر یہی اصول مدارس کے لیے کیوں بدل جاتا ہے ؟

انصاف کی بات کیا ہے ؟ انصاف کی بات یہ ہے کہ اداروں کا احتساب ان کے اصولوں سے کیا جائے اور افراد کا احتساب ان کے اعمال سے ۔

لیکن عجیب بات ہے کہ جب کسی مولوی سے جرم ہو تو کہا جاتا ہے : دیکھو! یہی ہے مذہب کا اصل چہرہ۔

لیکن جب یہی جرم کسی سیکولر ، جدید یا نام نہاد روشن خیال ماحول میں ہو تو فوراً کہا جاتا ہے : ہر ادارے میں چند کالی بھیڑیں ہوتی ہیں۔

ہم صرف اتنا پوچھتے ہیں کہ آخر یہ اصول صرف ایک طرف ہی کیوں لاگو ہوتا ہے ؟ اگر "چند کالی بھیڑیں" والی منطق یونیورسٹی ، میڈیا، ہسپتال اور دیگر اداروں کے لیے درست ہے تو مدارس کے لیے کیوں نہیں ؟ اور اگر مدارس کے ایک مجرم کی بنیاد پر پورا ادارہ کٹہرے میں کھڑا ہوگا تو پھر انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ یہی معیار ہر ادارے پر یکساں نافذ کیا جائے۔

لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا ۔۔۔ بلکہ جیسے ہی کسی مدرسے میں کوئی واقعہ سامنے آتا ہے ، اچانک وہ مجرم غائب ہو جاتا ہے اور مدرسہ ، دینی نظام ، تمام علماء بلکہ دین تک کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
آخر یہ دو الگ الگ اصول کیوں ؟یا تو ہر ادارے کو اس کے ایک مجرم کی بنیاد پر مجرم قرار دو یا پھر کسی بھی ادارے میں جرم ہونے کی صورت میں صرف مجرم کو سزا دو اور باقی ادارے کا فیصلہ ثبوت ، تحقیق اور انصاف کی بنیاد پر کرو۔

یعنی ہمارا مطالبہ فقط اتنا ہے کہ اس جرم کرنے والے کو مجرم کہو ، اسے درندہ کہو اور اسے چوک پر لا کر ٹکاؤ!

کہ جب مدرسے میں کوئی مبینہ واقعہ سامنے آئے تو لبرل طبقہ ، این جی اوز اور میڈیا کیمرے لے کر مدراس پر چڑھ دوڑتے ہیں ۔۔۔ فرد کی غلطی کو پورے دینی نظام ، تمام علماء اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر تھوپ دیا جاتا ہے ، نعرے لگائے جاتے ہیں کہ " مدرسے بند کرو ، یہ دینی تعلیم ہی کا قصور ہے ۔ "

میرا سؤال ، صرف اس خبیث لیبلنگ کے خلاف ہے کہ جب جرم کسی مدرسے یا مذہبی فرد سے ہو جائے تو مجرم کو سائیڈ پر کر کے پورا ملبہ "دینی تعلیم" اور "مدرسے" پر ڈال دیا جاتا ہے کیوں ؟

اسکے برعکس ، جب یونیورسٹیوں اور کالجوں کا سڑا ہوا گند باہر نکلے ۔۔۔ جب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں 5,000 سے زائد فحش ویڈیوز اور آئس و منشیات کا نیٹ ورک پکڑا جائے ۔۔۔ جب بلوچستان یونیورسٹی کے واش رومز اور ہاسٹلز میں خفیہ کیمرے لگا کر طالبات کو بلیک میل کیا جائے ۔۔۔ جب اقراء ، جی سی ، یا قائد اعظم یونیورسٹی میں اساتذہ کے ہاتھوں ڈگری اور نمبروں کے بدلے طالبات کے استحصال کے سکرین شاٹس وائرل ہوں تو یہی لبرل طبقہ سانپ سونگھ کر بیٹھ جاتا ہے ۔۔۔ اور اگر مرتے مرتے بول بھی دے تو معصومیت سے کہتا ہے " جی وہ تو فرد کا ذاتی فعل ہے ۔۔۔ یونیورسٹی کو بدنام نہ کرو ۔۔۔ تعلیم تو بہت ضروری ہے!

میں صدقے!

کیا جرم صرف اس لئے جرم نہیں رہتا کہ وہ یونیورسٹی میں ہوا ہے ؟
کیا یونیورسٹی میں ہونے والی جنسی زیادتی صرف اس لیے معافی کے قابل ہو جاتی ہے کہ وہ کسی مسجد میں نہیں ہوئی ؟ کیا وہاں کسی بچی یا بچے کے ساتھ ہونے والا ظلم ، ظلم نہیں رہتا ؟ کیا جنسی زیادتی صرف اس لئے جنسی زیادتی نہیں رہتی کہ وہ کسی پروفیسر نے کی ہوتی ہے ؟ کیوں بھئی ؟ کیا جرم دونوں جگہ جرم نہیں ہے ؟

مجھے بتائیے ، نرسری اسکول کی دہلیز سے شروع ہو کر میڈیا ہاؤس کی چمکتی ہوئی سکرین تک درمیان میں جتنے ادارے آتے ہیں ، ان میں سے کون سا ایک ادارہ ایسا ہے جو اس برائی ، اس جرم ، اس بے حیائی ، اس فحاشی ، اس تشدد ، اس جنسی زیادتی اور اس ہراسانی سے محفوظ ہے ؟

نام لیجیے اور بتائیے!

کیا آپ کے پرائیویٹ اسکولز محفوظ ہیں ؟ جہاں معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ اساتذہ اور پرنسپلز کی درندگی کی خبریں اور ویڈیوز روزانہ پولیس ریکارڈ کی زینت بنتی ہیں ؟ کیا آپ کے نام نہاد جدید کالجز محفوظ ہیں ؟ جہاں ہراسانی ، نائٹ پارٹیز ، منشیات (آئس و چرس) کا استعمال اور بلیک میلنگ کو "ماڈرن کلچر" کا نام دے کر دبایا جاتا ہے ؟ کیا آپ کی یونیورسٹیاں محفوظ ہیں ؟ جہاں ڈگریوں ، حاضری اور گریڈز کے بدلے طالبات کی عزتوں کا سودا ہوتا ہے ؟ جہاں 5,000 ویڈیوز کے سکنڈلز بنتے ہیں اور واش رومز میں خفیہ کیمرے لگا کر بچیوں کو سالہا سال بلیک میل کیا جاتا ہے ؟
کیا آپ کے ہسپتال اور نجی دفاتر محفوظ ہیں ؟ جہاں لیڈی ڈاکٹرز ، نرسز اور خاتون ملازمین کو اپنے ہی سینئرز کے ہاتھوں آئے روز ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟
کیا آپ کے وڈیروں کے محلات اور بیوروکریسی کے بنگلے محفوظ ہیں ؟ جہاں 10 سالہ طیبہ ، رضوانہ اور فاطمہ فرڑو جیسی معصوم بچیوں کی ہڈیاں توڑی جاتی ہیں ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور ان کی لاشیں کنوؤں سے ملتی ہیں ؟ یا پھر آپ کا وہ میڈیا ہاؤس محفوظ ہے؟ جو دن رات دوسروں پر اخلاقیات کے لیکچر دیتا ہے جبکہ اس کے اپنے اندر کام کرنے والی درجنوں خاتون اینکرز اسی غلیظ اور ہراسانی پر مبنی ماحول سے تنگ آ کر آن کیمرہ روتے ہوئے صحافت چھوڑ دیتی ہیں ؟

مجھے بتائیے ، یہ کس میڈیا ہاؤس نے کہا تھا جب انکو کہا گیا تھا کہ یہ جو آپ کی نیوز کاسٹر خواتین ہوتی ہیں اگر ان کے سر پہ دوپٹہ ہو تو اچھی بات ہے ۔۔ بتائیے وہ کون سا میڈیا ہاؤس تھا جس نے کہا تھا کہ "جس نے بچی دیکھنی ہے وہ بچی دیکھ لے ، جس نے خبر سننی ہے وہ خبر سن لے"؟ These are the words میں کوٹ کر رہا ہوں ۔۔۔۔ یہ MeToo موومنٹ کہاں سے آئی تھی ؟ آپ ہی کی انڈسٹری سے آئی تھی ۔۔۔ کس پروڈیوسر کے بارے میں نہیں کہا گیا جو بعد میں ایکٹریسز اس کام سے باہر نکلیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے ؟

مجھے بتائیے ، پاکستان میں بچوں کی باضابطہ ، ان کے سیکشوئل کام کی منڈی ، پورے سپلائی نیٹ ورک کے ساتھ پاکستان میں ٹرانس جینڈرز کی صورت میں موجود ہے ۔۔ جہاں بچوں کو مختلف اسٹیٹس دیے جاتے ہیں ۔۔۔ بچوں کی بولیاں لگتی ہیں ، بچے بیچے جاتے ہیں ، اب تو ایپس (Apps) تک بات چلی گئی ہے ، بک تک کر سکتے ہیں آپ بچے کو ۔

سؤال صرف اتنا ہے کہ جب کوئی ایک ادارہ بھی پاک نہیں تو پھر یہ بغض صرف مدرسے ہی سے کیوں ؟ جب حقیقت یہ ہے کہ اسکول سے لے کر میڈیا ہاؤس تک ، کالج ، یونیورسٹی ، ہسپتال ، دفتر اور وڈیرے کے محل تک آپ کا بنایا ہوا پورا معاشرتی اور تعلیمی نظام اس گند ، فحاشی اور استحصال سے بھرا پڑا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ آپ کی تمام تر غیرت ، آپ کا تمام تر واویلا اور آپ کی تمام تر میڈیا کوریج صرف اور صرف "مدرسے" کے دروازے پر آ کر ہی کیوں جاگتی ہے ؟ منافق ہو اس لئے ؟

میں تو بول رہا ہوں ۔۔۔ مدرسے میں بدکاری کرنے والا بھی وہی مجرم اور لعنتی ہے جو یونیورسٹی یا اسکول میں طالبات کی عزتوں سے کھیلنے والا ہے ۔۔۔ میں تو کہہ رہا ہوں کہ اس معاملے میں ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں اور مجرم کے لیے کسی قسم کی جھجک یا معافی کے قائل نہیں ہیں ۔۔۔ بلکہ ایک دینی ماحول میں ایسا جرم کرنے والے کو ڈبل اور سخت ترین سزا ملنی چاہیے کیونکہ اس نے نہ صرف جرم کیا بلکہ ایک مقدس ادارے کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی۔

تم بھی کہو نا ۔۔۔ کہ یہ جرم جو خواجہ سرا کر رہے ہیں ان کو سزائے موت دی جائے ، میڈیا ہاؤسز اپنی صفائی کریں اور ان کو سزائے موت دی جائے ، ایجوکیشن سیکٹر میں جو کچھ استحصال ہے ، جو جو کر رہا ہے ، سب کو پبلک میں سزا دیجائے!

الزام ہم پر ۔۔۔ کہ ہم ان مجرمین کا دفاع کرتے ہیں ، تاثر یہ بنادیا گیا ہے کہ جیسے بدکاری اور ہراسانی کا یہ عمل خدانخواستہ صرف اور صرف دینی مدارس ہی کا عطیہ ہو ۔۔۔ منافقت کی مجسم تصویرو ۔۔۔ ہم نے کب کسی مدرسے کے مجرم کا دفاع کیا ؟ ہمارا مطالبہ تو پہلے دن سے ہی یہی رہا کہ ایسے ہر مجرم کو چوک پر لا کر سخت سے سخت سزا دی جائے۔

میں پھر اپنی بات واضح کر رہا ہوں ۔۔۔ سؤال یہ ہے ہی نہیں کہ " آیا مدرسے میں جرم ہوتا ہے یا نہیں۔" اس بات پر ہمارا موقف شروع سے سو فیصد واضح ، غیر مبہم اور قطعی ہے : جرم ، جرم ہے ۔۔۔ خواہ وہ مدرسے میں ہو ۔۔۔ یونیورسٹی میں ہو ۔۔۔ کسی وڈیرے کے محل میں ہو یا میڈیا ہاؤس میں ۔۔۔ بلکہ اس مجرم کو عام مجرم سے بھی سخت اور ڈبل سزا ملنی چاہیے کیونکہ جس نے مقدس دینی مسند اور عوامی اعتماد کو مجروح کیا ہو۔

جھگڑا صرف اس دوہرے معیار (Double Standard) اور فکری ناانصافی پر ہے جو لبرل طبقے اور میڈیا کی طرف سے برتی جاتی ہے کہ جب کسی یونیورسٹی ، میڈیا ہاؤس یا وڈیرے کے گھر میں ہزاروں ویڈیوز ، بلیک میلنگ یا تشدد کا سکنڈل سامنے آئے تو کہا جاتا ہے: "یہ فرد کا ذاتی فعل ہے ، اس کی بنیاد پر پورے ادارے ، یونیورسٹی یا نظام کو بدنام نہ کرو اور جیسے ہی ایسا کوئی مبینہ واقعہ کسی مدرسے میں سامنے آئے تو فوراً فرد کے فعل کو پورے دینی نظام، تمام علماء اور مدرسہ کلچر پر تھوپ کر "مدرسے بند کرو" اور "دینی تعلیم پر پابندی لگاؤ" کا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔

اور کوئی ڈیٹا اور اعداد و شمار کی زبان سمجھتا ہے تو بچوں کے حقوق پر کام کرنے والے ادارے ساحل (NGO Sahil) کی سالانہ رپورٹس جا کر اٹھا کر دیکھ لے ۔ بچوں کے خلاف ہونے والے کل جرائم میں دینی مدارس کا تناسب 2 سے 3 فیصد سے زیادہ نہیں ہے جبکہ 97% جرائم عام اسکولوں ، گلی محلے اور ان کے اپنے بنائے ہوئے نظام میں ہوتے ہیں۔ دوسری طرف وفاقی محتسب (FOSPAH) اور RTI رپورٹس کا بھی دیکھ لے کہ اسلام آباد کی فقط چند یونیورسٹیوں میں صرف ایک سال میں 58 سے زائد ہراسانی کے باقاعدہ کیسز فائل ہوتے ہیں ، بہاولپور یونیورسٹی میں 5,000 سے زیادہ ویڈیوز کے سکنڈل بنتے ہیں، اور جامعہ بلوچستان کے واش رومز سے کیمرے نکلتے ہیں! سوال یہ ہے کہ جب 97% گند تمہاے اپنے عصری اداروں ، یونیورسٹیوں، اور اسکولوں میں ہے تو پھر تمہارا 99% واویلا اور کیمروں کا رخ صرف 3% والے مدرسے پر کیوں ہوتا ہے ؟

اور آخری بات ) خبر سادہ بھی تو ہو سکتی ہے کہ " فلاں جگہ ایک واقعہ پیش آیا جس کی تحقیقات جاری ہیں" لیکن اسے یوں پیش کرنا : اوئے ہوئے! مدرسوں میں کیا ہو رہا ہے!" یا "مدارس کی بھیانک حقیقت!"۔

اس ڈرامائی زبان اور واویلے کا آخر مقصد کیا ہے ؟

آپ عوام سے مخاطب ہوں ۔۔۔ آپ کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ میڈیا جو دکھاتا ہے ، اس سے زیادہ اہم وہ چیز ہوتی ہے جو وہ چھپاتا ہے ۔۔۔جب مدرسے کا کیس ہو تو اسے دن میں ۵۰ بار بریکنگ نیوز بنایا جائے گا ۔۔۔ لیکن جب کسی یونیورسٹی میں ہزاروں فحش ویڈیوز ، بلیک میلنگ ، یا ہراسانی کا اسکینڈل سامنے آئے تو خبر کو مختصر کر دیا جائے گا ۔۔۔ تصویریں بلر کر دی جائیں گی اور اینکرز معصوم بن کر کہیں گے کہ "جی یہ تو انفرادی فعل ہے ، تعلیمی اداروں کو بدنام نہ کریں"۔

اور آپ س فرق کو نہیں دیکھ پاتے اور سمجھتے ہیں کہ شاید جرم صرف وہیں ہو رہا ہے جہاں میڈیا کا کیمرہ بار بار جا رہا ہے ۔۔۔ اور پھر یہ ایسا منافق طبقہ ہے کہ کسی بھی واقعے کے سامنے آتے ہی ، بغیر کسی قانونی تحقیقات ، عدالتی فیصلے یا ٹھوس ثبوت کے فوراً اپنا عدالتی فیصلہ سنا دیتا ہے ۔۔۔ تصویروں اور سرخیوں کے زریعے عوام کو اتنا مشتعل کر دیتے ہیں کہ عوام یہ بھول جاتی ہے کہ کیا جرم ثابت ہوا بھی ہے یا نہیں ؟

ہمیں بحیثیت عوام خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا : کیا ہم اتنے سادہ ہیں کہ چند سنسنی خیز تصاویر اور ڈرامائی سرخیوں کو دیکھ کر اپنے ایمان ، اداروں اور نظام پر سے اعتماد اٹھا لیں ؟

اور خبردار! جو اگر کسی نے آ کر کمنٹ سیکشن میں مجھ پر یہ الزام لگانے کی کوشش کی کہ میں مدرسوں میں ہونے والے جرائم کا دفاع کر رہا ہوں ، ڈنکے کی چوٹ پر واضح کیا ہے کہ ایسا ہر شخص مجرم ہے لعنتی ہے اور اس کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے!

مدثر فاروقی ✒️

05/08/2026

اندھیرا نہ دیکھا ہو تو روشنی کی قدر نہیں ہوتی ۔۔۔ پیاس نہ لگے تو پانی کی لذت محسوس نہیں ہوتی ۔۔۔ بھوک نہ لگے تو روٹی کی نعمت کا اندازہ نہیں ہوتا ۔۔۔ بیماری نہ آئے تو صحت کی قیمت معلوم نہیں ہوتی ۔۔۔ قید نہ دیکھی ہو تو آزادی کا مطلب سمجھ نہیں آتا ۔۔۔ جنگ نہ دیکھی ہو تو امن کی اہمیت محسوس نہیں ہوتی ۔۔۔ تنہائی نہ جھیلی ہو تو مخلص ساتھی کی قدر نہیں ہوتی ۔۔۔ غم نہ دیکھا ہو تو خوشی کی مٹھاس پوری طرح محسوس نہیں ہوتی ۔۔۔ جھوٹ کی تاریکی نہ دیکھی ہو تو سچ کی چمک نمایاں نہیں ہوتی ۔۔۔ شور میں نہ رہے ہوں تو خاموشی کی راحت محسوس نہیں ہوتی ۔۔۔محرومی نہ دیکھی ہو تو نعمتوں پر شکر کم ہوتا ہے ۔۔۔ راستہ نہ بھٹکے ہوں تو منزل ملنے کی خوشی کم محسوس ہوتی ہے اور حیات کا کاروان جب تک آلام و مصائب کے خارزاروں سے نہ گزرے ، عافیتِ زیست کی قیمت کا تعین ناممکن ہوتا ہے!

کہ کبھی حقائق اس اصول سے بھی پہچانے جاتے ہیں " تُعرَفُ الأشياءُ بأضدادِها"

بات یہ ہے کہ ۔۔۔ ہمیں اسلام بنا مانگے ، بغیر کسی محنت اور قربانی کے مل گیا ، باپ مسلمان تھا ، دادا مسلمان تھا ۔۔۔۔ تو ہم نے بھی مسلمان گھرانے میں پیدا ہونا تھا ۔۔۔ سو پیدا ہوتے ہی دائیں کان میں اذان دی گئی ، بائیں میں اقامت اور ہم کہلائے مسلمان!

لیکن ، خدا شاہد ہے ۔۔۔ بندہ اگر کسی قرض خواہ سے مل رہا ہو تو اس کے چہرے پر اتنی شرمندگی نہیں ہوتی جتنی آج کا مسلمان اپنی مذہبی شناخت بتاتے ہوئے محسوس کرتا ہے ۔۔۔ کہ : جس شناخت پر ہمیں سینہ تان کر کھڑا ہونا چاہیے تھا آج اسی شناخت کو ہم سر جھکا کر متعارف کرواتے ہیں ۔۔۔ گویا ایک نوع کی معذرت خواہانہ شرمندگی اور احساسِ کمتری نے ڈیرے ڈال لئے ہیں!

کوئی پوچھ لے : آر یو مسلم ؟ تو سر کھجاتے ہوئے مدہم سی ، مری ہوئی آواز میں میں کہیں گے : نعم بس ، ہیں مسلمان!

سر جھکاکے ، آنکھیں چراکے بتاتے ہوئے یوں کترائیں گے جیسے معاذ اللہ ۔۔۔ بس مجبوری میں یہ شناختی کارڈ ساتھ لگا لیا ہو ۔

اور ایسا کیوں ہے ؟

کیونکہ ہم نے اس کی قیمت ہی نہیں چکائی ۔۔۔ کیونکہ ہم نے اندھیروں کی ہولناکی کو سمجھا ہی نہیں ۔۔۔ کیونکہ ہمیں یہ نعمت بغیر تڑپ کے پلیٹ میں سجائی ہوئی مل گئی!
کہ نہ تو ہمیں تپتی ریت پر لیٹنا پڑا اور نہ ہمیں کسی نے ننگا کر کے کوڑے مارے۔

سمجھ رہے ہیں نا ؟

تو پھر ظاہر ہے کہ جس چیز کے لیے انسان تڑپتا نہیں ، جس چیز کو پانے کے لیے جدوجہد نہیں کرتا ، جس کی خاطر کوئی قیمت ادا نہیں کرتا ۔۔۔ اس کی قدر بھی پوری طرح نہیں کر پاتا ۔۔۔ اور ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔۔۔ ہم نے اسلام کو تلاش نہیں کیا ۔۔۔ ہم نے اس کے لیے دروازے نہیں کھٹکھٹائے ۔۔۔ ہمیں وہ آزمائشیں دیکھنے کو نہیں ملیں جو ایمان کے راستے میں پہلے لوگوں نے برداشت کیں!

اسی لئے ۔۔۔ اسلام ۔۔۔۔ ہمارے لیے ایک عظیم نعمت سے زیادہ ایک معمول بن گیا اور اسی لئے ہمیں ۔۔۔ قدر ۔۔۔ بھی نہیں ہے!

اور بھلا کیوں ہوگی قدر ؟ اندھیرا نہ دیکھا ہو تو روشنی کی قدر بھی ہوتی ہے بھلا ؟

لیکن کبھی کبھار ہو بھی جاتی ہے ، قدر ۔

اور وہ کب ہوتی ہے ، پتا ہے ؟

نبی ﷺ نے فرمایا : تین باتیں جس شخص میں ہوں گی ۔۔۔ وہ ایمان کی حلاوت پائے گا اور انہی میں ایک بات یہ بھی فرمائی : اور اللہ نے اسے کفر سے نجات دی ہو ، پھر کفر کی طرف لوٹنا اسے ایسا ہی ناپسند ہو جیسے آگ میں پھینکا جانا۔

ذرا اس جملے پر غور کیجئے ۔۔۔ کہ : جب انسان کو اس بات کا شعور ہو جائے کہ اللہ نے اسے کس چیز سے بچایا ہے تو ایمان کی قدر اس کے دل میں اور بڑھ جاتی ہے۔ خصوصاً جس شخص نے کفر سے نکل کر ایمان قبول کیا ہو اسے اس نعمت کا احساس زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ کس اندھیرے سے نکل کر آیا ہے۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ ہمیں کبھی کبھار قدر ہو بھی جاتی ہے ۔۔۔ کب ؟ جب ہم کسی نومسلم کی کہانی سنتے ہیں اور وہ بتاتا ہے کہ برسوں گمراہی میں بھٹکتا رہا ۔۔۔کس طرح حق کی تلاش میں ایک ایک دروازہ کھٹکھٹایا ۔۔۔ کس طرح آخرکار اللہ نے اسے اسلام کی روشنی عطاء کی ۔۔۔۔ تب ہماری آنکھیں نم ہونے لگتی ہیں اور کچھ دیر کیلئے " پراؤڈ مسلم " فیل ہوتا ہے " احساسِ کمتری ، احساسِ عزت اور اعتماد میں بدل جاتی ہے اور اپنے مسلمان ہونے پر فخر محسوس ہونے لگتا ہے۔

سؤال : یہ ہے کہ ہم اس نو مسلم کی روداد سن کر روتے کیوں ہیں ؟

کیونکہ چند لمحوں کے لیے ہمیں اسلام کی اصل قیمت نظر آ جاتی ہے ۔۔۔ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جس نعمت کو ہم نے معمول بنا رکھا ہے ۔۔۔ کوئی اس کے لیے پوری زندگی بھٹکتا رہا ۔۔۔ کوئی اس کے لیے اپنے خاندان سے کٹ گیا ۔۔۔ کوئی اپنی عزت ، اپنا کاروبار ، اپنے تعلقات ، سب کچھ قربان کر کے بھی کہتا ہے : الحمد للہ مجھے اسلام مل گیا ۔

کہ جس نے کڑواہٹ چھکی ہو ، وہی بتاسکتا ہے مٹھاس کی قدر کیا ہے!۔

(نیچے کمنٹ میں چند نو مسلمز کی ویڈیوز لگا رہا ہوں ۔۔۔ آگے بڑھنے سے قبل پہلے وہ دیکھئے ۔۔۔ کہ جب کوئی غیر مسلم کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے چہرے پر کیسی خوشی ہوتی ہے ، اسکی کیفیت کیا ہوتی ہے ، آپ دیکھیں گے کوئی رو رہا ہے ، کوئی حیرت اور خوشی سے کہہ رہا ہے کہ واقعی اب میں مسلم ہوں ؟ کیا سچ میں ؟ اور ایک شخص کو جب قرآن ملتا ہے تو وہ بار بار کہتا ہے : یہ قرآن ہے ؟ یہ واقعی قرآن ہے ؟ جیسے اسے یقین ہی نہیں آ رہا کہ جس کتاب کی تلاش تھی ، وہ آج اس کے ہاتھوں میں ہے اور ہم ؟ ہیں مسلمان بس !)

پر ، میں یہ سب صرف دوسروں کے بارے میں نہیں کہہ رہا ، خود اپنے بارے میں بھی یہی حقیقت پائی۔

آج سے چھ سات سال پہلے دیکھوں تو میری حالت بھی کچھ مختلف نہ تھی میں بھی اسی غفلت کے دھندلکے میں جی رہا تھا ، لیکن بفضلِ خدا گمراہیوں کی تاریکی کو قریب سے دیکھنے اور پڑھنے کا موقع میسر آیا ۔۔۔ اور جیسے جیسے گمراہیوں کی تاریکی کو دیکھتا گیا روشنی کی ضرورت بھی محسوس ہونے لگی اور پہلے سے موجود روشنی کی قدر بھی معلوم ہونے لگی ۔

بتائیے ، الحاد اور انکارِ حدیث جیسے فتنے کیا ہیں ؟ یہ سب تاریکیاں اور گمراہیاں ہی تو ہیں اور انہی تمام گمراہیوں کو قرآن مجید "ظلمات" کہتا ہے ۔۔۔ تو جب میں نے ان تاریکیوں اور گمراہیوں کو قریب سے دیکھا ، تب مجھے اس نورِ مبین کی وسعتوں کا اندازہ ہوا جسے قرآن "نُورٌ عَلَى نُورٍ" سے تعبیر کرتا ہے ۔۔۔ الحاد کے تیرہ و تار غاروں کو دیکھا تو ہی مجھے اسلام کی رفعتوں کا ایقان حاصل ہوا۔

اور یوں محسوس ہوا جیسے آدمی برسوں موم بتی کی روشنی میں بیٹھا رہا ہو اور اچانک اسے معلوم ہو کہ سورج نام کی بھی کوئی چیز دنیا میں موجود ہے۔

یقین جانئے ، میں لفظوں کے ذریعے آپ کو وہ حلاوت محسوس نہیں کروا سکتا جسے میں اٹھتے ، بیٹھتے ، چلتے ، پھرتے اور سوتے ہوئے محسوس کرتا ہوں کیونکہ پہلے شاید میں جانتا تھا کہ میں مسلمان ہوں ، لیکن آج میں محسوس کرتا ہوں کہ مسلمان ہونا کیا چیز ہے۔

بہرحال ، میں نے تو گمراہیوں کا مطالعہ کرکے اسلام کی قدر جانی ۔۔۔ لیکن یہ بات یاد رکھیئے!

ہر مسلمان کے لیے یہ راستہ مناسب نہیں ۔۔ اب ظاہر ہے کہ ہر شخص کے لیے الحاد کے گہرے کنویں میں چھلانگ لگانا کیسے مناسب ہوسکتا ہے ۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بندہ نور کی قدر جاننے نیچے اترے اور واپسی پر رسی ہی ٹوٹ جائے!

خیر ، تو کیا آپ کبھی ایمان کی وہ حلاوت محسوس نہیں کر سکتے ؟

کر سکتے ہیں ۔

کیسے ؟ رسول اللہ ﷺ کی سیرت پڑھیں ۔۔۔صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں پڑھیں ۔۔۔ دین کے لیے ان کی قربانیاں پڑھیں ۔۔۔ سلف صالحین کی مشقتیں ، محنتیں اور تکلیفیں اپنے مطالعے میں لائیں ۔۔۔ الخ

کیونکہ جب آپ پڑھیں گے کہ اُن لوگوں نے ایمان کی خاطر کیا کچھ برداشت کیا ، کس طرح اپنے گھر چھوڑے ، اپنے عزیز چھوڑے ، اپنی جانیں ، اپنا مال ، اپنی راحتیں قربان کر دیں تو آہستہ آہستہ آپ کے دل میں بھی ایمان کی قدر پیدا ہونے لگتی ہے۔

اور جس طرح کسی نومسلم کی روداد سن کر چند لمحوں کے لیے ہمارا ایمان تازہ ہو جاتا ہے ۔۔۔ اسی طرح سیرتِ رسول ﷺ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات ، اور ایمان والوں کی جدوجہد پڑھ کر بھی دل کے اندر ایمان کی حلاوت بڑھے گی اور بڑھتی چلی جائے گی ، ان شاءاللہ ۔

دعا پڑھ لیجئے!

ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا ۔۔۔ آمین یارب العالمین ۔

مدثر فاروقی ✒️

31/07/2026

Kher Ka Kam chlta rehna chahye ...

16/07/2026

Subhan Allah

عورت بات نہ مانے تو خاوند سے مار اور فرشتوںسے پھٹکار کی حقدار ہے!!!رسول کریمﷺ نے فرمایا: "جب مرد بیوی کو بستر پر بلائے، ...
16/07/2026

عورت بات نہ مانے تو خاوند سے مار اور فرشتوں
سے پھٹکار کی حقدار ہے!!!
رسول کریمﷺ نے فرمایا: "جب مرد بیوی کو بستر پر بلائے، وہ انکار کرے اور شوہر غصے میں رات گزارے، تو فرشتے عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے ہیں" (بخاری)۔ جہاں یہ فرمان رشتوں کی نزاکت کا احساس دلاتا ہے، وہیں اس کا ایک گہرا اور اہم ترین رخ اس کے پیچھے چھپا شوہر کا کمالِ ضبط، صبر اور مروت ہے۔ وہ کیسے ۔۔ آئیں اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔

آج مغرب میں اور ہمارے ہاں پاکستان کے جدید حلقوں میں "میریٹل ریپ" (Marital R**e یعنی ازدواجی زندگی میں زبردستی) پر جو اتنا شور مچ رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ مرد اپنے غصے اور جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا۔ مغرب کے اس قانون کے پیچھے چند اہم نکات کام کر رہے ہیں:
• اول یہ کہ وہاں شادی کو صرف ایک قانونی معاہدہ مانا گیا ہے جس میں کسی بھی وقت مرضی کا نہ ہونا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
• دوم یہ کہ وہاں مرد کو کنٹرول کرنے کے لیے صرف بیرونی سزاؤں پر انحصار کیا گیا ہے۔
• سوم یہ کہ یہ قانون صرف نقصان پہنچنے کے بعد حرکت میں آتا ہے، لیکن بند کمرے کے اندر مرد کے حیوانی غصے اور زعمِ مردانگی کو اندر سے لگام دینے میں مکمل ناکام ہے۔
چودہ سو سال پہلے رسول کریمﷺ نے اس حدیث کے ذریعے مرد کے اسی حیوانی رویے کی جڑ کاٹ دی تھی۔ شریعت مرد کو یہ سکھاتی ہے کہ رات کی تنہائی میں جب بیوی کی طرف سے کسی بھی وجہ سے انکار کا سامنا ہو، تو اپنی طاقت کے زعم میں وحشی بن کر قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے اپنے نفس پر پہرا دو۔ جب مرد اپنی طاقت کے باوجود کمالِ ضبط کا مظاہرہ کرتا ہے اور وحشت سے کوسوں دور رہتا ہے، تو وہ اپنی جسمانی برتری کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتا۔ وہ رات بھر خاموشی سے کروٹیں بدلتا رہتا ہے، کڑھتا ہے، بستر کے کونے نوچتا ہے، مگر زبردستی نہیں کرتا۔ مرد کا اپنی ہی چاردیواری میں اپنی جسمانی طاقت پر یہ قابو پا لینا ہی دراصل وہ جہادِ اکبر ہے جس کا مطالبہ دین اس سے کرتا ہے۔
یہ اخلاقی سفر صرف بند کمرے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ جب معاملہ شریعت کی اصطلاح میں "نشوز" یعنی عورت کی کسی سرکشی یا نافرمانی تک جا پہنچے، تب بھی قرآنِ پاک مرد کو وحشی بننے یا گھر کا تماشہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ قرآنِ پاک کا فرمان ہے:
(اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو، تو انہیں سمجھاؤ اور انہیں بستروں میں اکیلا چھوڑ دو)
یہاں قرآن کا یہ حکم ہرگز نہیں ہے کہ عورت کو دھکے مار کر بستر سے اتار دیا جائے یا اس کی تذلیل کی جائے، بلکہ حکم یہ ہے کہ عورت اپنے بستر پر عزت کے ساتھ رہے گی، مرد خود پیچھے ہٹ جائے گا۔
اسلام دراصل ایک ایسا مرد بنانا چاہتا ہے جو عورت کو اس کے اپنے بستر سے بھی نہ نکالے۔ ایک ایسا بستر جو مرد اور عورت دونوں کا مشترکہ ہے، جہاں مرد یہ پورا شرعی, قانونی اور معاشرتی اختیار رکھتا ہے کہ چاہے تو عورت کو گھر سے نکال دے یا طلاق دے دے، لیکن اس کے باوجود وہ مرد اخلاق اور مروت کے اس بلند مرتبے پر فائز ہوتا ہے کہ عورت کو اپنے بستر سے بھی نکل جانے کا نہیں کہتا، بلکہ اس کا مان رکھنے کے لیے وہ خود اس بستر سے نکل جاتا ہے اور اس بستر کو چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اپنے غصے کو خاندان اور بچوں کا تماشہ بننے نہیں دیتا، بلکہ خود بستر چھوڑ کر اس کی حرمت کی حفاظت کرتا ہے۔
عورت فطرتاً اتنی حساس، نازک اور جذباتی وابستگی کی پیاسی مخلوق ہے کہ شوہر کا بستر الگ کر لینا یا اس سے بات چیت کا ختم ہو جانا اس کے دل پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ مرد پر شاید عورت کی خاموشی سے کچھ دن کوئی فرق نہ پڑے، لیکن عورت اس خلا کو اور شوہر کی اس بے رخی کو بہت شدت سے محسوس کرتی ہے اور اسے اپنے دل پر لیتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے اس نازک مزاج ہستی پر کوئی جسمانی سختی روا نہیں رکھی، بلکہ اس نفسیاتی دوری کا انتخاب کیا۔ یہ دوری دراصل کوئی سزا نہیں، بلکہ "محبت کی اخلاقی مار" ہے، جو عورت کے دل پر چوٹ لگا کر اسے رشتوں کے تقدس کا احساس دلاتی ہے۔
(مرد عورتوں پر نگران (اور کارساز) ہیں...سورۃ النساء: 34)
یہاں سے یہ بات بھی بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام میں "قوامیت" کا مطلب ڈکٹیٹر شپ، جبر یا حاکمیت نہیں، بلکہ ایک بھاری ذمہ داری اور رحمدل نگہبانی کا نام ہے۔ سچی قوّامیت یہ ہے کہ مرد اپنی جسمانی و مالی صلاحیتوں کو بیوی کے نان و نفقہ، راحت، اور اس کی عزت و جذبات کے تحفظ کے لیے وقف کر دے۔
حقِ قوامیت تو دراصل ایسے ہی مرد کا بنتا ہے جس کے اخلاق کا معیار اتنا بلند ہو کہ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر عورت پر کوئی زبردستی نہ کرے۔ سچی قوامیت تو یہی ہے کہ مرد عورت کے جسم، اس کے جذبات اور اس کی مرضی کا اس حد تک لحاظ کرے کہ اس کی آمادگی کے بغیر اسے چھوئے بھی نہ۔ جو مرد نشوز جیسی تلخ صورتحال میں بھی وحشی بننے کے بجائے ضابطہِ شریعت کے تحت اپنے جذبات کو قابو میں رکھتا ہے اور جس کی خفگی کی انتہا بس یہ ہو کہ وہ خاموشی سے بستر کو چھوڑ دے، دراصل وہی مرد قوامیت کے اس عظیم منصب کا حقدار ہے، کیونکہ وہ اپنی بیوی کا جابر حاکم نہیں بلکہ اس کا رحمدل محافظ ہے۔
••۔ ائمہِ دین کے فتاویٰ اور عورت کے لیے فقہی و انسانی استثناء
حدیث پاک میں بیان کردہ یہ انتباہ اس وقت بالکل واضح ہو جاتا ہے جب ہم شریعت کے اس توازن پر نگاہ ڈالتے ہیں جہاں عورت کو حالات اور جذبات کی بنیاد پر مکمل آزادی دی گئی ہے۔ یہ تصور سراسر باطل ہے کہ ہر حالت میں عورت کا معذرت کرنا گناہ کا سبب ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے انتہائی واضح اور مستند انسانی و طبی استثناءات (Exceptions) دیے ہیں جہاں ائمہِ فقہ کے نزدیک فرشتوں کی ملامت کا کوئی وجود ہی نہیں رہتا:
•امام ابن حجر عسقلانیؒ (شافعی): آپ نے 'فتح الباری' میں صراحت فرمائی ہے کہ اگر بیوی بیمار ہو، شدید تھکن یا نقاہت کا شکار ہو، یا حیض و نفاس جیسے شرعی عذر سے گزر رہی ہو، تو اس کا معذرت کرنا گناہ نہیں ہے۔ شوہر کو اس حال میں ناراض ہونے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔
• فقہ حنفی کا موقف (الفتوٰی الہندیہ اور علامہ ابن عابدین شامیؒ):حنفی فقہاء نے واضح فتویٰ دیا ہے کہ اگر عورت پر بیماری، شدید کمزوری یا ایسا درد غالب ہو جو ازدواجی تعلق کی استطاعت نہ چھوڑے، تو عورت پر شوہر کی پکار کا جواب دینا لازم نہیں رہتا۔ ایسے عذر کی حالت میں شوہر کا اصرار کرنا یا ناراض ہونا ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔
•امام بغویؒ اور ائمہِ حنابلہ: انہوں نے لکھا ہے کہ اگر عورت کسی گہرے صدمے، غم، یا ذہنی دباؤ کے دور سے گزر رہی ہو، تو شوہر پر لازم ہے کہ وہ مروت کا مظاہرہ کرے۔ ایسی نفسیاتی کیفیت میں زبردستی یا غصہ کرنا شریعت کے مزاج کے سراسر خلاف ہے۔
دینِ اسلام تو نام ہی شفقت اور مروت کا ہے؛ جہاں عذر ہو، وہاں شریعتِ مطہرہ نرمی اور رعایت کا حکم دیتی ہے۔ چنانچہ بیماری یا جائز عذر کی حالت میں معذرت کرنے والی عورت پر فرشتوں کی لعنت یا ملامت کا کوئی اطلاق نہیں ہوتا، بلکہ ایسی نازک صورتحال میں بیوی کے درد کو سمجھنا اور اس کی دلجوئی کرنا مرد کا اولین اخلاقی فریضہ ہے۔
جب یہ تمام علمی اور فقہی حقیقتیں واضح ہو جاتی ہیں، تب کالم کا اصل منظرنامہ ایک ایسے مومن مرد کی شکل میں ڈھلتا ہے جو اپنے جذبات کے طوفان کے باوجود مروت کے اعلیٰ ترین درجے پر کھڑا ہوتا ہے۔
°پہلی صفت: یہ کہ اگر ایک تندرست اور صحت مند بیوی، دن بھر کی تھکاوٹ، کسی غصے، خفگی یا کسی بھی ذاتی الجھن کی وجہ سے شوہر کے بلانے پر بستر پر نہیں آتی، تو مرد اپنی طاقت کے زعم میں اس پر چیختا چلاتا نہیں، غصہ نہیں کرتا اور نہ ہی گھر میں اودھم مچاتا ہے۔ اس کا ضبطِ نفس دیکھیے کہ وہ خاموشی سے اسی بستر پر اپنا منہ موڑ کر چپ چاپ سو جاتا ہے۔
°دوسری صفت: یہ کہ اگر بیوی ظاہری طور پر اس کے ساتھ زیادتی پر اتر آئے اور "نشوز" (نافرمانی) کی مرتکب ہو، تو وہ قانون ہاتھ میں لے کر اسے مارنے پیٹنے یا تذلیل کرنے کے بجائے خاموشی اور مروت سے وہ بستر ہی چھوڑ دیتا ہے اور خود الگ ہو جاتا ہے۔
° تیسری صفت: یہ کہ اگر اصلاح کے تمام طریقے بے اثر ہو جائیں اور معاملہ طلاق تک بھی جا پہنچے، تب بھی وہ مرد اس عورت کو رسوا نہیں کرتا، گلی محلوں میں اس کی بددیانتی کے قصے بیان نہیں کرتا، بلکہ انتہائی پروقار طریقے سے خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔
مرد کے اسی کمالِ مروت اور مادی دنیا سے ماورا طرزِ عمل کی چند روشن اور تاریخی مثالیں :
•••آقا کریمﷺ کا اسوہ مبارک: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آقاﷺ رات کے وقت بستر سے اٹھتے تو چادر، جوتے اور دروازہ اتنی آہستگی اور دھیمے پن سے سنبھالتے کہ سوئی ہوئی زوجہ کی نیند میں خلل نہ آئے اور وہ جاگ نہ جائیں۔ (صحیح مسلم: 974)
••حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی مروت: آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک زوجہ کو طلاق دی اور لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا: "وہ میری زوجیت سے نکل چکی ہے، اب اس کے عیوب پر بات کرنا میرا اخلاقی حق نہیں بنتا۔" (تاریخ ابن عساکر)
• امام ابو حنیفہ کے شاگردِ خاص کا طرزِ عمل: امام محمد بن حسن شیبانیؒ شادی کی پہلی رات کمرے میں آئے تو دیکھا دلہن سو چکی ہے۔ انہوں نے اپنے حقِ زوجیت کے لیے انہیں جگانا گوارا نہیں کیا اور رات بھر کونے میں بیٹھ کر علمِ دین پڑھتے رہے تاکہ بیوی کا آرام خراب نہ ہو۔ (مناقب الائمہ)
جو مردِ مومن ایمان، اخلاق اور خدا ترسی کے ایسے بلند مرتبے پر فائز ہو کہ بند کمرے کی تنہائی میں اپنی جسمانی طاقت اور قانونی اختیارات کے باوجود، وہ اپنے بستر کا شرعی حق مروت کے ساتھ بیوی کے سپرد کر کے خود بستر چھوڑ دے، اور طلاق کے بعد بھی اس کی پردہ داری قائم رکھے، تو ایسے خاوند کا یہ کمالِ ضبط ربِ کریم کے ہاں ایک عظیم ترین اخلاقی فتح بن جاتا ہے۔ جب مرد طاقت کے باوجود اپنے حقوق کے لیے لڑنے کے بجائے مروت کا راستہ چنتا ہے، تو اللہ کی مدد اس کے اس ایثار کی لاج رکھتی ہے، اور گھر کی چاردیواری کسی جنگل کا منظر پیش کرنے کے بجائے امن اور مروت کا گہوارہ بن جاتی ہے۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
سلیم زمان خان
جولائی 2026ء

#مروت

15/07/2026

پردہ: اللہ کا حکم، عورت کا وقار

الحمد للہ، والصلاة والسلام علی رسول اللہ ﷺ۔

پردہ اسلام کی عطا کردہ عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ یہ کسی عورت کی آزادی چھیننے کا نام نہیں بلکہ اس کے وقار، عزت، پاکیزگی اور معاشرے کی اخلاقی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے، پاکدامنی اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ کی حدود کی پاسداری کا حکم دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

«"اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں۔"
(سورۃ النور: 31)»

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«"اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں۔ یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے۔"
(سورۃ الأحزاب: 59)»

یہ آیات واضح طور پر بتاتی ہیں کہ پردہ محض ایک سماجی روایت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ ایک مسلمان عورت کے لیے اس کی پابندی عبادت اور اطاعتِ الٰہی کا حصہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"عورت پردہ کی چیز ہے، جب وہ (بلا ضرورت بے پردہ) باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے لوگوں کی نظروں میں مزین کر دیتا ہے۔"
(جامع ترمذی، حدیث: 1173)

پردہ عورت کی عزت، حیا اور شخصیت کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ اس کے کردار کی مضبوطی اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اسلام عورت کو قیمتی موتی کی طرح محفوظ دیکھنا چاہتا ہے، اسی لیے اسے حیا اور پردے کی زینت عطا کی گئی۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پردے کا حکم صرف خواتین کے لیے نہیں، بلکہ مردوں کو بھی سب سے پہلے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (سورۃ النور: 30) اس لیے اسلامی معاشرہ مرد اور عورت دونوں کی ذمہ داریوں سے مل کر بنتا ہے۔

آئیے! ہم پردے کو بوجھ نہیں بلکہ اپنے رب کا حکم، اپنی عزت کا محافظ اور جنت کی طرف لے جانے والی اطاعت سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی شریعت پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے، حیا کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے اور اپنی بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کو دین کی صحیح تعلیم دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللّٰہم ارزقنا العفاف والحیاء، وثبتنا علی طاعتک۔ آمین۔

Address

Ghori Town Islamabad
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pure intention Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share