05/08/2026
مجھے بتائیے ، کیا کسی جرم اور خباثت کا اپنا کوئی مذہب ، ادارہ یا لباس ہوتا ہے ؟
کتنی عام فہم بات ہے کہ : انسان جہاں ہوگا ، اپنے ساتھ اپنی نیکی یا اپنی خباثت لے کر جائے گا ۔۔۔ انسان کا لباس ، اس کی ڈگری ، اس کی مسند یا اس کا ادارہ حتیٰ کہ اسکا ایمان بھی اس کے معصوم اور فرشتہ ہونے کی ضمانت نہیں دے سکتا ، نہ دیتا ہے!
وگرنہ ہمیں بھی بتایا جائے کہ آخر وہ کون سا ادارہ ہے جس کے دروازے پر کبھی کوئی مجرم داخل ہی نہ ہوا ہو ؟ مجرم تو ہمیشہ کسی نہ کسی صف میں کھڑا ہوتا ہے ، کسی نہ کسی پیشے سے وابستہ ہوتا ہے ، کسی نہ کسی لباس میں ہی ملبوس ہوتا ہے ۔۔۔تو کیا جب وہ جرم کرتا ہے تو دنیا والے لباس کو سزا دیتے ہیں ؟ یا جرم کرنے والے مجرم کو سزا دیتے ہیں ۔۔۔ دنیا والے عمارت کو نہیں گراتے ، مجرم کو گرفتار کرتے ہیں ، پورے نظام کو نہیں جلاتے ، اس میں موجود خرابی کو دور کرتے ہیں!
وگرنہ کل کسی ڈاکٹر کے ہاتھوں کوئی ہولناک جرم سرزد ہو جائے تو کیا آپ میڈیکل کالجز بند کرنے کا مطالبہ کریں گے ؟ اگر کسی جج کے ہاتھوں انصاف کا قتل ہو جائے تو کیا آپ عدالتوں کو ختم کرنے کی بات کریں گے ؟ اگر کسی پولیس افسر کی بدعنوانی ثابت ہو جائے تو کیا آپ پورے محکمۂ پولیس کو مجرم قرار دے دیں گے ؟ اگر نہیں تو پھر یہی اصول مدارس کے لیے کیوں بدل جاتا ہے ؟
انصاف کی بات کیا ہے ؟ انصاف کی بات یہ ہے کہ اداروں کا احتساب ان کے اصولوں سے کیا جائے اور افراد کا احتساب ان کے اعمال سے ۔
لیکن عجیب بات ہے کہ جب کسی مولوی سے جرم ہو تو کہا جاتا ہے : دیکھو! یہی ہے مذہب کا اصل چہرہ۔
لیکن جب یہی جرم کسی سیکولر ، جدید یا نام نہاد روشن خیال ماحول میں ہو تو فوراً کہا جاتا ہے : ہر ادارے میں چند کالی بھیڑیں ہوتی ہیں۔
ہم صرف اتنا پوچھتے ہیں کہ آخر یہ اصول صرف ایک طرف ہی کیوں لاگو ہوتا ہے ؟ اگر "چند کالی بھیڑیں" والی منطق یونیورسٹی ، میڈیا، ہسپتال اور دیگر اداروں کے لیے درست ہے تو مدارس کے لیے کیوں نہیں ؟ اور اگر مدارس کے ایک مجرم کی بنیاد پر پورا ادارہ کٹہرے میں کھڑا ہوگا تو پھر انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ یہی معیار ہر ادارے پر یکساں نافذ کیا جائے۔
لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا ۔۔۔ بلکہ جیسے ہی کسی مدرسے میں کوئی واقعہ سامنے آتا ہے ، اچانک وہ مجرم غائب ہو جاتا ہے اور مدرسہ ، دینی نظام ، تمام علماء بلکہ دین تک کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
آخر یہ دو الگ الگ اصول کیوں ؟یا تو ہر ادارے کو اس کے ایک مجرم کی بنیاد پر مجرم قرار دو یا پھر کسی بھی ادارے میں جرم ہونے کی صورت میں صرف مجرم کو سزا دو اور باقی ادارے کا فیصلہ ثبوت ، تحقیق اور انصاف کی بنیاد پر کرو۔
یعنی ہمارا مطالبہ فقط اتنا ہے کہ اس جرم کرنے والے کو مجرم کہو ، اسے درندہ کہو اور اسے چوک پر لا کر ٹکاؤ!
کہ جب مدرسے میں کوئی مبینہ واقعہ سامنے آئے تو لبرل طبقہ ، این جی اوز اور میڈیا کیمرے لے کر مدراس پر چڑھ دوڑتے ہیں ۔۔۔ فرد کی غلطی کو پورے دینی نظام ، تمام علماء اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر تھوپ دیا جاتا ہے ، نعرے لگائے جاتے ہیں کہ " مدرسے بند کرو ، یہ دینی تعلیم ہی کا قصور ہے ۔ "
میرا سؤال ، صرف اس خبیث لیبلنگ کے خلاف ہے کہ جب جرم کسی مدرسے یا مذہبی فرد سے ہو جائے تو مجرم کو سائیڈ پر کر کے پورا ملبہ "دینی تعلیم" اور "مدرسے" پر ڈال دیا جاتا ہے کیوں ؟
اسکے برعکس ، جب یونیورسٹیوں اور کالجوں کا سڑا ہوا گند باہر نکلے ۔۔۔ جب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں 5,000 سے زائد فحش ویڈیوز اور آئس و منشیات کا نیٹ ورک پکڑا جائے ۔۔۔ جب بلوچستان یونیورسٹی کے واش رومز اور ہاسٹلز میں خفیہ کیمرے لگا کر طالبات کو بلیک میل کیا جائے ۔۔۔ جب اقراء ، جی سی ، یا قائد اعظم یونیورسٹی میں اساتذہ کے ہاتھوں ڈگری اور نمبروں کے بدلے طالبات کے استحصال کے سکرین شاٹس وائرل ہوں تو یہی لبرل طبقہ سانپ سونگھ کر بیٹھ جاتا ہے ۔۔۔ اور اگر مرتے مرتے بول بھی دے تو معصومیت سے کہتا ہے " جی وہ تو فرد کا ذاتی فعل ہے ۔۔۔ یونیورسٹی کو بدنام نہ کرو ۔۔۔ تعلیم تو بہت ضروری ہے!
میں صدقے!
کیا جرم صرف اس لئے جرم نہیں رہتا کہ وہ یونیورسٹی میں ہوا ہے ؟
کیا یونیورسٹی میں ہونے والی جنسی زیادتی صرف اس لیے معافی کے قابل ہو جاتی ہے کہ وہ کسی مسجد میں نہیں ہوئی ؟ کیا وہاں کسی بچی یا بچے کے ساتھ ہونے والا ظلم ، ظلم نہیں رہتا ؟ کیا جنسی زیادتی صرف اس لئے جنسی زیادتی نہیں رہتی کہ وہ کسی پروفیسر نے کی ہوتی ہے ؟ کیوں بھئی ؟ کیا جرم دونوں جگہ جرم نہیں ہے ؟
مجھے بتائیے ، نرسری اسکول کی دہلیز سے شروع ہو کر میڈیا ہاؤس کی چمکتی ہوئی سکرین تک درمیان میں جتنے ادارے آتے ہیں ، ان میں سے کون سا ایک ادارہ ایسا ہے جو اس برائی ، اس جرم ، اس بے حیائی ، اس فحاشی ، اس تشدد ، اس جنسی زیادتی اور اس ہراسانی سے محفوظ ہے ؟
نام لیجیے اور بتائیے!
کیا آپ کے پرائیویٹ اسکولز محفوظ ہیں ؟ جہاں معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ اساتذہ اور پرنسپلز کی درندگی کی خبریں اور ویڈیوز روزانہ پولیس ریکارڈ کی زینت بنتی ہیں ؟ کیا آپ کے نام نہاد جدید کالجز محفوظ ہیں ؟ جہاں ہراسانی ، نائٹ پارٹیز ، منشیات (آئس و چرس) کا استعمال اور بلیک میلنگ کو "ماڈرن کلچر" کا نام دے کر دبایا جاتا ہے ؟ کیا آپ کی یونیورسٹیاں محفوظ ہیں ؟ جہاں ڈگریوں ، حاضری اور گریڈز کے بدلے طالبات کی عزتوں کا سودا ہوتا ہے ؟ جہاں 5,000 ویڈیوز کے سکنڈلز بنتے ہیں اور واش رومز میں خفیہ کیمرے لگا کر بچیوں کو سالہا سال بلیک میل کیا جاتا ہے ؟
کیا آپ کے ہسپتال اور نجی دفاتر محفوظ ہیں ؟ جہاں لیڈی ڈاکٹرز ، نرسز اور خاتون ملازمین کو اپنے ہی سینئرز کے ہاتھوں آئے روز ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟
کیا آپ کے وڈیروں کے محلات اور بیوروکریسی کے بنگلے محفوظ ہیں ؟ جہاں 10 سالہ طیبہ ، رضوانہ اور فاطمہ فرڑو جیسی معصوم بچیوں کی ہڈیاں توڑی جاتی ہیں ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور ان کی لاشیں کنوؤں سے ملتی ہیں ؟ یا پھر آپ کا وہ میڈیا ہاؤس محفوظ ہے؟ جو دن رات دوسروں پر اخلاقیات کے لیکچر دیتا ہے جبکہ اس کے اپنے اندر کام کرنے والی درجنوں خاتون اینکرز اسی غلیظ اور ہراسانی پر مبنی ماحول سے تنگ آ کر آن کیمرہ روتے ہوئے صحافت چھوڑ دیتی ہیں ؟
مجھے بتائیے ، یہ کس میڈیا ہاؤس نے کہا تھا جب انکو کہا گیا تھا کہ یہ جو آپ کی نیوز کاسٹر خواتین ہوتی ہیں اگر ان کے سر پہ دوپٹہ ہو تو اچھی بات ہے ۔۔ بتائیے وہ کون سا میڈیا ہاؤس تھا جس نے کہا تھا کہ "جس نے بچی دیکھنی ہے وہ بچی دیکھ لے ، جس نے خبر سننی ہے وہ خبر سن لے"؟ These are the words میں کوٹ کر رہا ہوں ۔۔۔۔ یہ MeToo موومنٹ کہاں سے آئی تھی ؟ آپ ہی کی انڈسٹری سے آئی تھی ۔۔۔ کس پروڈیوسر کے بارے میں نہیں کہا گیا جو بعد میں ایکٹریسز اس کام سے باہر نکلیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے ؟
مجھے بتائیے ، پاکستان میں بچوں کی باضابطہ ، ان کے سیکشوئل کام کی منڈی ، پورے سپلائی نیٹ ورک کے ساتھ پاکستان میں ٹرانس جینڈرز کی صورت میں موجود ہے ۔۔ جہاں بچوں کو مختلف اسٹیٹس دیے جاتے ہیں ۔۔۔ بچوں کی بولیاں لگتی ہیں ، بچے بیچے جاتے ہیں ، اب تو ایپس (Apps) تک بات چلی گئی ہے ، بک تک کر سکتے ہیں آپ بچے کو ۔
سؤال صرف اتنا ہے کہ جب کوئی ایک ادارہ بھی پاک نہیں تو پھر یہ بغض صرف مدرسے ہی سے کیوں ؟ جب حقیقت یہ ہے کہ اسکول سے لے کر میڈیا ہاؤس تک ، کالج ، یونیورسٹی ، ہسپتال ، دفتر اور وڈیرے کے محل تک آپ کا بنایا ہوا پورا معاشرتی اور تعلیمی نظام اس گند ، فحاشی اور استحصال سے بھرا پڑا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ آپ کی تمام تر غیرت ، آپ کا تمام تر واویلا اور آپ کی تمام تر میڈیا کوریج صرف اور صرف "مدرسے" کے دروازے پر آ کر ہی کیوں جاگتی ہے ؟ منافق ہو اس لئے ؟
میں تو بول رہا ہوں ۔۔۔ مدرسے میں بدکاری کرنے والا بھی وہی مجرم اور لعنتی ہے جو یونیورسٹی یا اسکول میں طالبات کی عزتوں سے کھیلنے والا ہے ۔۔۔ میں تو کہہ رہا ہوں کہ اس معاملے میں ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں اور مجرم کے لیے کسی قسم کی جھجک یا معافی کے قائل نہیں ہیں ۔۔۔ بلکہ ایک دینی ماحول میں ایسا جرم کرنے والے کو ڈبل اور سخت ترین سزا ملنی چاہیے کیونکہ اس نے نہ صرف جرم کیا بلکہ ایک مقدس ادارے کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی۔
تم بھی کہو نا ۔۔۔ کہ یہ جرم جو خواجہ سرا کر رہے ہیں ان کو سزائے موت دی جائے ، میڈیا ہاؤسز اپنی صفائی کریں اور ان کو سزائے موت دی جائے ، ایجوکیشن سیکٹر میں جو کچھ استحصال ہے ، جو جو کر رہا ہے ، سب کو پبلک میں سزا دیجائے!
الزام ہم پر ۔۔۔ کہ ہم ان مجرمین کا دفاع کرتے ہیں ، تاثر یہ بنادیا گیا ہے کہ جیسے بدکاری اور ہراسانی کا یہ عمل خدانخواستہ صرف اور صرف دینی مدارس ہی کا عطیہ ہو ۔۔۔ منافقت کی مجسم تصویرو ۔۔۔ ہم نے کب کسی مدرسے کے مجرم کا دفاع کیا ؟ ہمارا مطالبہ تو پہلے دن سے ہی یہی رہا کہ ایسے ہر مجرم کو چوک پر لا کر سخت سے سخت سزا دی جائے۔
میں پھر اپنی بات واضح کر رہا ہوں ۔۔۔ سؤال یہ ہے ہی نہیں کہ " آیا مدرسے میں جرم ہوتا ہے یا نہیں۔" اس بات پر ہمارا موقف شروع سے سو فیصد واضح ، غیر مبہم اور قطعی ہے : جرم ، جرم ہے ۔۔۔ خواہ وہ مدرسے میں ہو ۔۔۔ یونیورسٹی میں ہو ۔۔۔ کسی وڈیرے کے محل میں ہو یا میڈیا ہاؤس میں ۔۔۔ بلکہ اس مجرم کو عام مجرم سے بھی سخت اور ڈبل سزا ملنی چاہیے کیونکہ جس نے مقدس دینی مسند اور عوامی اعتماد کو مجروح کیا ہو۔
جھگڑا صرف اس دوہرے معیار (Double Standard) اور فکری ناانصافی پر ہے جو لبرل طبقے اور میڈیا کی طرف سے برتی جاتی ہے کہ جب کسی یونیورسٹی ، میڈیا ہاؤس یا وڈیرے کے گھر میں ہزاروں ویڈیوز ، بلیک میلنگ یا تشدد کا سکنڈل سامنے آئے تو کہا جاتا ہے: "یہ فرد کا ذاتی فعل ہے ، اس کی بنیاد پر پورے ادارے ، یونیورسٹی یا نظام کو بدنام نہ کرو اور جیسے ہی ایسا کوئی مبینہ واقعہ کسی مدرسے میں سامنے آئے تو فوراً فرد کے فعل کو پورے دینی نظام، تمام علماء اور مدرسہ کلچر پر تھوپ کر "مدرسے بند کرو" اور "دینی تعلیم پر پابندی لگاؤ" کا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔
اور کوئی ڈیٹا اور اعداد و شمار کی زبان سمجھتا ہے تو بچوں کے حقوق پر کام کرنے والے ادارے ساحل (NGO Sahil) کی سالانہ رپورٹس جا کر اٹھا کر دیکھ لے ۔ بچوں کے خلاف ہونے والے کل جرائم میں دینی مدارس کا تناسب 2 سے 3 فیصد سے زیادہ نہیں ہے جبکہ 97% جرائم عام اسکولوں ، گلی محلے اور ان کے اپنے بنائے ہوئے نظام میں ہوتے ہیں۔ دوسری طرف وفاقی محتسب (FOSPAH) اور RTI رپورٹس کا بھی دیکھ لے کہ اسلام آباد کی فقط چند یونیورسٹیوں میں صرف ایک سال میں 58 سے زائد ہراسانی کے باقاعدہ کیسز فائل ہوتے ہیں ، بہاولپور یونیورسٹی میں 5,000 سے زیادہ ویڈیوز کے سکنڈل بنتے ہیں، اور جامعہ بلوچستان کے واش رومز سے کیمرے نکلتے ہیں! سوال یہ ہے کہ جب 97% گند تمہاے اپنے عصری اداروں ، یونیورسٹیوں، اور اسکولوں میں ہے تو پھر تمہارا 99% واویلا اور کیمروں کا رخ صرف 3% والے مدرسے پر کیوں ہوتا ہے ؟
اور آخری بات ) خبر سادہ بھی تو ہو سکتی ہے کہ " فلاں جگہ ایک واقعہ پیش آیا جس کی تحقیقات جاری ہیں" لیکن اسے یوں پیش کرنا : اوئے ہوئے! مدرسوں میں کیا ہو رہا ہے!" یا "مدارس کی بھیانک حقیقت!"۔
اس ڈرامائی زبان اور واویلے کا آخر مقصد کیا ہے ؟
آپ عوام سے مخاطب ہوں ۔۔۔ آپ کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ میڈیا جو دکھاتا ہے ، اس سے زیادہ اہم وہ چیز ہوتی ہے جو وہ چھپاتا ہے ۔۔۔جب مدرسے کا کیس ہو تو اسے دن میں ۵۰ بار بریکنگ نیوز بنایا جائے گا ۔۔۔ لیکن جب کسی یونیورسٹی میں ہزاروں فحش ویڈیوز ، بلیک میلنگ ، یا ہراسانی کا اسکینڈل سامنے آئے تو خبر کو مختصر کر دیا جائے گا ۔۔۔ تصویریں بلر کر دی جائیں گی اور اینکرز معصوم بن کر کہیں گے کہ "جی یہ تو انفرادی فعل ہے ، تعلیمی اداروں کو بدنام نہ کریں"۔
اور آپ س فرق کو نہیں دیکھ پاتے اور سمجھتے ہیں کہ شاید جرم صرف وہیں ہو رہا ہے جہاں میڈیا کا کیمرہ بار بار جا رہا ہے ۔۔۔ اور پھر یہ ایسا منافق طبقہ ہے کہ کسی بھی واقعے کے سامنے آتے ہی ، بغیر کسی قانونی تحقیقات ، عدالتی فیصلے یا ٹھوس ثبوت کے فوراً اپنا عدالتی فیصلہ سنا دیتا ہے ۔۔۔ تصویروں اور سرخیوں کے زریعے عوام کو اتنا مشتعل کر دیتے ہیں کہ عوام یہ بھول جاتی ہے کہ کیا جرم ثابت ہوا بھی ہے یا نہیں ؟
ہمیں بحیثیت عوام خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا : کیا ہم اتنے سادہ ہیں کہ چند سنسنی خیز تصاویر اور ڈرامائی سرخیوں کو دیکھ کر اپنے ایمان ، اداروں اور نظام پر سے اعتماد اٹھا لیں ؟
اور خبردار! جو اگر کسی نے آ کر کمنٹ سیکشن میں مجھ پر یہ الزام لگانے کی کوشش کی کہ میں مدرسوں میں ہونے والے جرائم کا دفاع کر رہا ہوں ، ڈنکے کی چوٹ پر واضح کیا ہے کہ ایسا ہر شخص مجرم ہے لعنتی ہے اور اس کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے!
مدثر فاروقی ✒️