21/07/2025
اسلام میں پسند کی شادی (Love Marriage) کا تصور بالکل موجود ہے، اور ایک مسلمان عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کرے، بشرطیکہ وہ شریعت کے دائرے میں ہو۔ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ مسئلہ واضح طور پر بیان کیا گیا ہے:
---
💠 1. قرآن مجید سے دلیل:
سورۃ النساء، آیت 19:
> يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا
"اے ایمان والو! تمہارے لیے جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کو وراثت میں لے لو۔"
📌 اس آیت میں عورت کی رضامندی کو شرط قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نکاح عورت کی رضا مندی کے بغیر جائز نہیں۔
---
💠 2. حدیث سے دلیل:
صحیح بخاری، حدیث نمبر 5138:
> "لا تُنكحُ الأيِّمُ حتَّى تُستأمرَ، ولا تُنكحُ البِكرُ حتَّى تُستأذنَ"
ترجمہ: "بیوہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔"
📌 یہاں بھی واضح ہے کہ عورت کی مرضی کے بغیر نکاح جائز نہیں۔
---
💠 3. ایک عورت کا نبی ﷺ کے سامنے اپنی پسند ظاہر کرنا:
صحیح بخاری، حدیث 5120:
> ایک عورت (خنساء بنت خذام) نے نبی ﷺ سے شکایت کی کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اس کی مرضی کے خلاف کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس نکاح کو کالعدم قرار دیا۔
📌 یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر عورت کو زبردستی شادی پر مجبور کیا جائے، تو وہ نکاح منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
---
✅ نتیجہ:
اسلام میں عورت کو نکاح کے فیصلے میں اختیار حاصل ہے۔
اگر عورت کسی مرد کو پسند کرتی ہے اور دونوں اسلامی حدود (جیسے زنا سے بچنا، ولی کی رضامندی حاصل کرنا وغیرہ) کا لحاظ رکھتے ہوئے نکاح کرنا چاہتے ہیں، تو ایسی شادی جائز ہے۔
والدین کی رضامندی بہتر ہے لیکن اگر وہ کسی ناجائز یا غیر شرعی بنیاد پر رکاوٹ ڈالیں (مثلاً ذات برادری، مال و دولت)، تو لڑکی کو شریعت اجازت دیتی ہے کہ وہ قاضی یا شرعی عدالت کے ذریعے اپنا نکاح کروا سکتی ہے۔.