11/06/2026
ریاست کشمیر یا ریاست پاکستان ؟
آج اس موضوع پر لکھتے ہوئے دل انتہائی مایوس ہے۔ میں نے کبھی سوچا نہ تھا کہ پاکستان پر ایسا وقت بھی آئے گا جب سیاسی جماعتیں اور مفاد پرست عناصر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے زہر آلود بیانیے کا سہارا لیں گے، اور عام عوام کو آپس میں لڑوا کر ملک کو انتشار کی طرف دھکیل دیں گے۔ راولاکوٹ اور آزاد کشمیر کے حالیہ حالات اسی سیاسی مینیپولیشن کا شاخسانہ ہیں، جس نے ہر دردِ دل رکھنے والے پاکستانی کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
مظاہرین کی طرف سے پیش کیے گئے 38 مطالبات کو سن کر ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان میں کوئی تیل کے ذخائر نکل آئے ہیں اور ملک معاشی طور پر دودھ اور شہد کی نہریں بہا رہا ہے۔ پاکستان اس وقت جن شدید معاشی حالات اور دباؤ سے گزر رہا ہے، ان میں اس طرح کے مطالبات رکھنا اور پھر انہیں منوانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرنا کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے 35 مطالبات پورے کیے جانے کے باوجود، صرف تین مطالبات پر اتنا بڑا ہنگامہ کھڑا کیا گیا جو صاف بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر ایسے ریلیف اور مطالبات ہمارے اپنے صوبے کو مل جائیں، تو وہاں کے عوام خوشی سے جھوم اٹھیں۔ پرامن احتجاج ہر پارٹی اور شہری کا بنیادی حق ہے، لیکن احتجاج کی آڑ میں ریاست کو بلیک میل کرنا سراسر ناانصافی ہے۔
اس پورے ہنگامے میں پاکستان کا بلوچستان اور "ہمارا کشمیر" جیسے نفرت پیدا کرنے والے الفاظ استعمال کیے گئے، جو کہ انتہائی نامناسب اور خطرناک ہیں۔ وہ سیاستدان جو آج کشمیر پر اپنی دعویداری قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پتا نہیں جس وقت جنگیں ہوتی ہیں تو وہ کہاں چھپ جاتے ہیں۔ جب کشمیر کے لیے جانیں دینے کی باری آتی ہے، جب کشمیر کی مٹی کو اپنا خون دینے کی باری آتی ہے، اس وقت تو شاید یہ سیاستدان اپنے محفوظ گھروں میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ اس وقت صرف اور صرف پاکستان فوج کا جوان ہوتا ہے جو سرحدوں پر کھڑا ہو کر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر رہا ہوتا ہے۔ اس وقت کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ گولی کھانے والا جوان پنجاب سے ہے، خیبر پختونخوا سے ہے، سندھ سے ہے یا بلوچستان سے۔ وہ صرف ایک پاکستانی ہوتا ہے جو اپنا خون دیتا ہے۔ لیکن افسوس، آج اپنے سیاسی مفادات کے لیے اس سچائی کو بلایا جا رہا ہے۔
اپنے حقوق منوانے کے لیے طاقت کا راستہ اختیار کرنا اور اس کے لیے معصوم عوام اور نوجوانوں کو استعمال کرنا ہرگز درست نہیں ہے۔ ہماری بیچاری عوام سیاستدانوں کے زہر آلود نعروں، جھوٹے دلاوسوں اور سیاسی مینیپولیشن پر یقین کر کے ان کے پیچھے کھڑی ہو جاتی ہے، انہیں اپنا ہمدرد سمجھ لیتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ سیاستدان عوام کو صرف اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کی جنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
میں یہ مانتا ہوں کہ ہر ادارے کی طرح پاکستان آرمی کے اندر بھی کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو کرپٹ ہوں گے یا جن کے فیصلے غلط ہوں گے، کیونکہ انسان خطا کا پتلا ہے۔ لیکن چند ایسے لوگوں کی وجہ سے پورے ادارے کو برا بھلا کہنا، اسے نشانہ بنانا اور اس کی لازوال قربانیوں کو بھول جانا بہت بڑی زیادتی اور ناشکری ہوگی۔ بہت سارے لوگ سوشل میڈیا پر یا سڑکوں پر کھڑے ہو کر پاک فوج پر تنقید کرتے ہیں تو مجھے بڑا افسوس ہوتا ہے۔ ہم ان کے شہداء کی قربانیوں اور ان کے خون کا قرض اتارنے کے بجائے، الٹا ان کے خون کو رائیگاں جانے دے رہے ہیں جو انہوں نے اس ملک اور اس کی عوام کی خاطر دیا ہے۔ اگر ہم نے اپنے محافظوں کی عزت نہ کی، تو کل قیامت کے دن ہم ان شہداء کو کیا منہ دکھائیں گے جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل کے لیے قربان کر دیا؟ یہ سوچ کر ہی دل مایوسی اور خوف سے بھر جاتا ہے۔
راولاکوٹ اور آزاد کشمیر کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ انتشار پھیلانے والے عناصر کو پہچانا جائے، سازشوں کو ناکام بنایا جائے اور جذبات کے بجائے ہوشمندی سے کام لے کر ملک کی سلامتی کو اول ترجیح دی جائے۔سیاستدانوں کے پیچھے اندھا دھند چلنے کے بجائے انسان کو اپنی عقل اور شعور کا استعمال کرنا چاہیے.
#راولاکوٹ #شعور