Awaz-e-Haq Community Ghazi

Awaz-e-Haq Community Ghazi ​� Awaz-e-Haq Community Ghazi: The Journey of Awareness, Reform, and Social Justice!

30/06/2026
16/06/2026

پاکستان لاکھ برا صحیح لیکن پاکستان ہے تو ہم ہیں اگر یہ قائم ہے تو ہماری عزت اور ہمارا نام بھی قائم ہے۔ دنیا میں ہماری جو بھی پہچان ہے وہ صرف اور صرف ہمارے اس وطن کی وجہ سے ہے پاکستان کی مضبوطی ہی اصل میں ہماری اپنی طاقت ہے جو ہمیں پوری دنیا میں ایک باعزت قوم بناتی ہے وطن کی مٹی سے یہ رشتہ نہ کبھی ٹوٹا ہے اور نہ کبھی ٹوٹ سکتا ہے یہی ہمارا فخر ہے اور یہی ہماری بقا پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد 🇵🇰


عوام کا مستقبل سو راہا ہے 😂🤦🏻‍♂️تنخواہ میں 600 فیصد اضافہ، بنیادی پے 5 لاکھ 19 ہزار، اوپر سے مفت پٹرول، بجلی، گیس، ہوائی...
13/06/2026

عوام کا مستقبل سو راہا ہے 😂🤦🏻‍♂️

تنخواہ میں 600 فیصد اضافہ، بنیادی پے 5 لاکھ 19 ہزار، اوپر سے مفت پٹرول، بجلی، گیس، ہوائی جہاز کے ٹکٹ، پارلیمنٹ لاجز میں فری فلیٹ اور مفت علاج!
​اتنی شاہانہ عیاشیوں کے بعد ہی تو یہ اتنی محنت اور سکون سے اسمبلیوں میں عوام کے لیے سوتی ہے۔

معذرت کے ساتھ اگر میری بات کسی کو بری لگے تو بات جب آئین اور حلف کی اتی ہے تو بڑے بڑے لیکچر دیے جاتے ہیں، لیکن ذرا گریبا...
13/06/2026

معذرت کے ساتھ اگر میری بات کسی کو بری لگے تو بات جب آئین اور حلف کی اتی ہے تو بڑے بڑے لیکچر دیے جاتے ہیں، لیکن ذرا گریبان میں جھانک کر یہ بھی دیکھا جائے کہ اپنے حق کے نام پر ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا، ملکی پرچم کی بے حرمتی کرنا اور ملک کے اندر انتشار پھیلانا کون سا انصاف ہے؟
​یہ جو غداری کے دھبے کو دھونے کے لیے مظلومیت کا لبادہ اوڑھا جاتا ہے، اس کی حقیقت اب کسی سے چھپی نہیں
ہتھیار اٹھانا حق نہیں، غداری ہے دنیا کا کوئی قانون، کوئی آئین اور کوئی اخلاقیات اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ آپ اپنے مطالبات یا حقوق کے نام پر اپنی ہی ریاست، اپنی ہی فوج اور اپنے ہی ملک کے خلاف بندوق اٹھا لیں۔ جب آپ ہتھیار اٹھا کر ریاست کو چیلنج کرتے ہیں، تو آپ احتجاج نہیں کر رہے ہوتے بلکہ آپ غداری کی آخری حد عبور کر رہے ہوتے ہیں۔
​پرچم کی بے حرمتی اور احسان فراموشی یہ کیسی سیاست اور کیسا نظریہ ہے کہ جس پاکستان نے کشمیر کے مقدمے کے لیے اپنی معیشت، اپنی خارجہ پالیسی اور اپنے جوانوں کا لہو قربان کر دیا، اسی کے پرچم کو تھامنے سے انکار کیا جائے؟ جو ہاتھ پاکستانی پرچم کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ کشمیریوں کے سچے خیر خواہ نہیں بلکہ دشمن کے آلہ کار ہیں۔
حقوق کا مطالبہ پرامن آئینی دائرے میں ہوتا ہے۔ جب احتجاج کا راستہ چھوڑ کر توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور بغاوت کا راستہ چنا جائے اس خاص طبقے اور ان کے ہمنواؤں کے اس عمل نے کشمیر کی حقیقی تحریکِ آزادی کو سب سے بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ جب آپ پاکستان کے اندر بیٹھ کر پاکستان ہی کی جڑیں کاٹیں گے، تو آپ مظلوم کشمیریوں کی آواز نہیں بن رہے، بلکہ آپ اس دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں جو ستر سال سے یہی چاہتا ہے۔
​

13/06/2026

The Law of Retaliation
For every action, there is an equal and opposite reaction... plus a 20% interest rate depending on how petty the other person is

11/06/2026

ریاست کشمیر یا ریاست پاکستان ؟

آج اس موضوع پر لکھتے ہوئے دل انتہائی مایوس ہے۔ میں نے کبھی سوچا نہ تھا کہ پاکستان پر ایسا وقت بھی آئے گا جب سیاسی جماعتیں اور مفاد پرست عناصر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے زہر آلود بیانیے کا سہارا لیں گے، اور عام عوام کو آپس میں لڑوا کر ملک کو انتشار کی طرف دھکیل دیں گے۔ راولاکوٹ اور آزاد کشمیر کے حالیہ حالات اسی سیاسی مینیپولیشن کا شاخسانہ ہیں، جس نے ہر دردِ دل رکھنے والے پاکستانی کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
​مظاہرین کی طرف سے پیش کیے گئے 38 مطالبات کو سن کر ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان میں کوئی تیل کے ذخائر نکل آئے ہیں اور ملک معاشی طور پر دودھ اور شہد کی نہریں بہا رہا ہے۔ پاکستان اس وقت جن شدید معاشی حالات اور دباؤ سے گزر رہا ہے، ان میں اس طرح کے مطالبات رکھنا اور پھر انہیں منوانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرنا کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے 35 مطالبات پورے کیے جانے کے باوجود، صرف تین مطالبات پر اتنا بڑا ہنگامہ کھڑا کیا گیا جو صاف بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر ایسے ریلیف اور مطالبات ہمارے اپنے صوبے کو مل جائیں، تو وہاں کے عوام خوشی سے جھوم اٹھیں۔ پرامن احتجاج ہر پارٹی اور شہری کا بنیادی حق ہے، لیکن احتجاج کی آڑ میں ریاست کو بلیک میل کرنا سراسر ناانصافی ہے۔
​اس پورے ہنگامے میں پاکستان کا بلوچستان اور "ہمارا کشمیر" جیسے نفرت پیدا کرنے والے الفاظ استعمال کیے گئے، جو کہ انتہائی نامناسب اور خطرناک ہیں۔ وہ سیاستدان جو آج کشمیر پر اپنی دعویداری قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پتا نہیں جس وقت جنگیں ہوتی ہیں تو وہ کہاں چھپ جاتے ہیں۔ جب کشمیر کے لیے جانیں دینے کی باری آتی ہے، جب کشمیر کی مٹی کو اپنا خون دینے کی باری آتی ہے، اس وقت تو شاید یہ سیاستدان اپنے محفوظ گھروں میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ اس وقت صرف اور صرف پاکستان فوج کا جوان ہوتا ہے جو سرحدوں پر کھڑا ہو کر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر رہا ہوتا ہے۔ اس وقت کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ گولی کھانے والا جوان پنجاب سے ہے، خیبر پختونخوا سے ہے، سندھ سے ہے یا بلوچستان سے۔ وہ صرف ایک پاکستانی ہوتا ہے جو اپنا خون دیتا ہے۔ لیکن افسوس، آج اپنے سیاسی مفادات کے لیے اس سچائی کو بلایا جا رہا ہے۔
​اپنے حقوق منوانے کے لیے طاقت کا راستہ اختیار کرنا اور اس کے لیے معصوم عوام اور نوجوانوں کو استعمال کرنا ہرگز درست نہیں ہے۔ ہماری بیچاری عوام سیاستدانوں کے زہر آلود نعروں، جھوٹے دلاوسوں اور سیاسی مینیپولیشن پر یقین کر کے ان کے پیچھے کھڑی ہو جاتی ہے، انہیں اپنا ہمدرد سمجھ لیتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ سیاستدان عوام کو صرف اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کی جنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
​میں یہ مانتا ہوں کہ ہر ادارے کی طرح پاکستان آرمی کے اندر بھی کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو کرپٹ ہوں گے یا جن کے فیصلے غلط ہوں گے، کیونکہ انسان خطا کا پتلا ہے۔ لیکن چند ایسے لوگوں کی وجہ سے پورے ادارے کو برا بھلا کہنا، اسے نشانہ بنانا اور اس کی لازوال قربانیوں کو بھول جانا بہت بڑی زیادتی اور ناشکری ہوگی۔ بہت سارے لوگ سوشل میڈیا پر یا سڑکوں پر کھڑے ہو کر پاک فوج پر تنقید کرتے ہیں تو مجھے بڑا افسوس ہوتا ہے۔ ہم ان کے شہداء کی قربانیوں اور ان کے خون کا قرض اتارنے کے بجائے، الٹا ان کے خون کو رائیگاں جانے دے رہے ہیں جو انہوں نے اس ملک اور اس کی عوام کی خاطر دیا ہے۔ اگر ہم نے اپنے محافظوں کی عزت نہ کی، تو کل قیامت کے دن ہم ان شہداء کو کیا منہ دکھائیں گے جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل کے لیے قربان کر دیا؟ یہ سوچ کر ہی دل مایوسی اور خوف سے بھر جاتا ہے۔
​راولاکوٹ اور آزاد کشمیر کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ انتشار پھیلانے والے عناصر کو پہچانا جائے، سازشوں کو ناکام بنایا جائے اور جذبات کے بجائے ہوشمندی سے کام لے کر ملک کی سلامتی کو اول ترجیح دی جائے۔سیاستدانوں کے پیچھے اندھا دھند چلنے کے بجائے انسان کو اپنی عقل اور شعور کا استعمال کرنا چاہیے.


​ #راولاکوٹ #شعور

09/06/2026

سوشل میڈیا پر ایک منفی رجحان چل پڑا ہے کہ دوسروں کی تحاریر سے اصل مصنف کا نام ہٹا کر انہیں اپنے نام سے پوسٹ کر دیا جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ ایک لکھاری کی ذہنی صلاحیتوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
میری تمام بھائیوں سے مخلصانہ درخواست ہے کہ کسی کی سوچ اور تخلیق کو اپنا نام نہ دیں۔ آپ کو کسی کا کمنٹ یا تحریر پسند اتی ہے تو اسے بالکل آگے پہنچائیں، مگر اصل تخلیق کار کا نام ساتھ لکھ کر اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ کسی کی محنت کا صلہ اسے کریڈٹ کی صورت میں دینا ہی انصاف کا تقاضا ہے۔

08/06/2026

میرا تعلق اسی طبی شعبے سے ہے۔ شاید عام لوگ اس تلخ حقیقت سے واقف نہ ہوں، لیکن میں جانتا ہوں کہ پاکستان میں روزانہ کتنے ہی معصوم انسان صرف ڈاکٹروں کی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس غفلت کو 'قدرتی موت' کا کفن پہنا دیا جاتا ہے، اور ہمارے معصوم، ان پڑھ لوگ اسے اپنی تقدیر سمجھ کر صبر کر لیتے ہیں۔
​یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں، اور جو کوئی اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، اس کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟ کب تک یوں ہی معصوم جانیں ضائع ہوتی رہیں گی؟ اور کب تک ہم بے بس لاشوں کا تماشہ دیکھتے رہیں گے اور کچھ نہ کر پائیں گے؟ اب خاموشی بھی ایک جرم بن چکی ہے

03/06/2026

غازی ہسپتال میں انکوائری بٹھانے کا اعلان سن کر دل باغ باغ تو ہوا، لیکن یاد آیا کہ یہ وہی ہسپتال ہے۔ اب جتنا بھروسہ ہمیں وہاں کے علاج پر ہے، اتنا ہی اس انکوائری کی رپورٹ پر بھی ہے۔ آسان لفظوں میں یوں سمجھ لیں کہ وہاں مریض کا زندہ بچ جانا اگر ایک معجزہ ہے، تو اس انکوائری سے سچ کا زندہ سلامت باہر نکل آنا الہ دین کے چراغ سے کم نہیں

Address

Haripur
22860

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awaz-e-Haq Community Ghazi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share