Buraq Foundation

Buraq Foundation Healing Humanity with Heart and Hope.

400 کی قید سے 150 کی آزادی ۔۔ حقیقت یا ایک جاگتی آنکھوں کا خواب؟زندگی رک سی گئی تھی۔گھر میں خاموشی بولتی تھی۔انسولین جار...
27/04/2026

400 کی قید سے 150 کی آزادی ۔۔ حقیقت یا ایک جاگتی آنکھوں کا خواب؟
زندگی رک سی گئی تھی۔
گھر میں خاموشی بولتی تھی۔
انسولین جاری تھی۔
مگر شوگر بے قابو تھی۔
300… 350… کبھی 400۔
یہ صرف اعداد نہ تھے۔
یہ خوف تھا۔
پھر ایک دن…
حالت بگڑی۔
آنکھوں میں سوال تھے۔
دل میں بے بسی۔
ڈاکٹر اویس صاحب…
خود ڈاکٹر… مگر اس لمحے ایک بے بس شوہر۔
ہر دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔
ہر راستہ آزمایا گیا۔
پھر ایک راستہ ملا۔
رابطہ ہوا Ramzan Medical Center سے۔
یہاں بات مختلف تھی۔
یہاں صرف دوا نہیں تھی۔
یہاں شعور تھا۔اور علاج بالغذا کا یقین دلایا گیا۔یہ سب کچھ ان لائن رابطے سے ممکن ہوا
رمضان میڈیکل سینٹر…
ماہر ڈاکٹر پر مشتمل ایک مرکز۔
جہاں ہر علاج
ڈاکٹرز کی نگرانی بلا معاوضہ ہوتا ہے۔
ایک نیا آغاز ہوا۔
باقاعدہ غذائی پلان دیا گیا۔
جسم کو سہارا ملا۔
ساتھ مخصوص خوراک۔
ہر قدم نگرانی میں رکھا گیا۔
پھر…
آہستہ آہستہ
کہانی بدلنے لگی۔
وہ شوگر…
جو 400 کی قید میں تھی…
150 کی حد تک آ گئی۔
یہ صرف کمی نہ تھی۔
یہ زندگی کی واپسی تھی۔
انسولین ختم نہیں ہوئی۔
بلکہ ڈاکٹرز کی نگرانی میں
اس کی مقدار بہتر کی گئی۔
ڈاکٹر اویس صاحب کی آنکھوں میں اب شکر تھا:
یہ صرف علاج نہیں… ایک رہنمائی تھی۔
اور یہی حقیقت ہے۔
Ramzan Medical Center کا پیغام واضح ہے:
غذا اہم ہے۔
احتیاط ضروری ہے۔
اور علاج… ہمیشہ ڈاکٹر کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔
مزید یہ کہ…تمام افراد کے لیے
مفت مشاورت اور علاج کی سہولت بھی موجود ہے۔
تاکہ امید…
صرف لفظ نہ رہے۔
حقیقت بن جائے۔
اہم حقیقت
ٹائپ ون شوگر میں انسولین بنیادی ضرورت ہے۔
اسے ترک کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
ہر تبدیلی… صرف ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔
کبھی کبھی…
زندگی بدلنے کے لیے
ایک درست رہنمائی ہی کافی ہوتی ہے۔

24/04/2026

On 23rd April 2026, Buraq Foundation successfully organized a Free Skin Medical Camp under the Ramzan Medical Centre initiative. The camp was led by expert dermatologist Dr Rashid, who provided professional consultations, skin examinations, and valuable advice on various skin conditions. This camp was arranged to promote health awareness and provide accessible quality healthcare services to the community. Buraq Foundation remains committed to serving humanity through impactful welfare and medical initiatives.

چاند کی نرم روشنی آپ کے گھر کو سکون دے۔عید کی خوشبو آپ کے دل کو خوشی دے۔آپ نے ہمت کی۔آپ نے نیا سفر شروع کیا۔آپ نے مجاہدہ...
20/03/2026

چاند کی نرم روشنی آپ کے گھر کو سکون دے۔
عید کی خوشبو آپ کے دل کو خوشی دے۔
آپ نے ہمت کی۔
آپ نے نیا سفر شروع کیا۔
آپ نے مجاہدہ شروع کر دیا۔
شوگر کے خلاف قدم اٹھایا۔
موٹاپے کے خلاف کوشش شروع کی۔
یورک ایسڈ، فیٹی لیور اور معدے کے مسائل کے خلاف جدوجہد جاری ہے۔
یہ ایک دن کی جیت نہیں۔
یہ مسلسل کوشش کی کہانی ہے۔
آپ ہر دن بہتر ہو رہے ہیں۔
آپ ہر دن آگے بڑھ رہے ہیں۔
آپ کی صحت ایک امانت ہے۔
آپ اسے سنوار رہے ہیں۔
ہر نوالہ سوچ سمجھ کر کھائیں۔
ہر خوشی میں اعتدال اختیار کریں۔
TEAM RMC کو یاد رکھیں۔
ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
آپ کی مسکراہٹ ہماری خوشی ہے۔
آپ کی کوشش ہمارا فخر ہے۔
چاند رات مبارک۔
عید مبارک۔
دعا ہے آپ کا یہ سفر جاری رہے۔
اور ہر دن آپ کو مزید طاقت اور کامیابی دے۔

مسلسل ہائی شوگر… ایک خاموش قاتل!یہ آہستہ آہستہ آپ کے جسم کو اندر سے کھوکھلا کرتی ہے… سب سے پہلے نشانہ بنتے ہیں آپ کے گرد...
19/03/2026

مسلسل ہائی شوگر… ایک خاموش قاتل!
یہ آہستہ آہستہ آپ کے جسم کو اندر سے کھوکھلا کرتی ہے… سب سے پہلے نشانہ بنتے ہیں آپ کے گردے۔
گردوں کی باریک نالیاں تباہ ہونا شروع ہو جاتی ہیں… خون صحیح طرح صاف نہیں ہوتا… زہریلے مادے جسم میں جمع ہونے لگتے ہیں…
اور پھر؟
پیشاب میں پروٹین آنا شروع… جسم میں سوجن… کمزوری…
اور ایک دن اچانک ڈاکٹر کہتا ہے: گردے کمزور ہو چکے ہیں!
طبی تحقیق چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ دنیا بھر میں گردوں کے فیل ہونے کی سب سے بڑی وجہ ذیابیطس ہے۔
لیکن افسوس… زیادہ تر لوگوں کو اس کا احساس تب ہوتا ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
مگر… یہاں ایک چونکا دینے والی خوشخبری ہے!
اگر آپ آج فیصلہ کر لیں…
شوگر کو کنٹرول کریں
ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کم کریں
روزانہ واک اور ہلکی ورزش شروع کریں
قدرتی اور متوازن غذا اپنائیں
تو نہ صرف گردوں کو بچایا جا سکتا ہے بلکہ شوگر کو ریورس بھی کیا جا سکتا ہے!
رمضان میڈیکل سنٹر، کوٹ ادو آپ کے لیے لے کر آیا ہے
100 دن کا شوگر ریورسل چیلنج
جہاں:
شوگر، موٹاپہ، فیٹی لیور، یورک ایسڈ، بلڈ پریشر، بواسیر اور معدہ کے تمام امراض کا مکمل علاج کیا جاتا ہے
قابل ترین ماہر ڈاکٹرز کی زیر نگرانی علاج ہوتا ہے
ادویات کو مرحلہ وار کم کر کے ختم کروایا جاتا ہے
آپ کو ایک نئی، صحت مند زندگی دی جاتی ہے
اور سب سے حیران کن بات…
یہ تمام علاج بغیر کسی معاوضہ کے کیا جاتا ہے!
یہ موقع ضائع نہ کریں…
کل نہیں، آج فیصلہ کریں… کیونکہ شوگر انتظار نہیں کرتی!
📞 مزید معلومات کے لیے ابھی واٹس ایپ پر رابطہ کریں
03336004887
03457209447

13/03/2026

شوگر کے خوف کی دیواریں گر رہی ہیں
برسوں تک شوگر کے مریضوں کو خوف میں رکھا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ بیماری کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ دوائیاں لو، انسولین لگاؤ اور عمر بھر مریض بن کر رہو۔ یہی کہانی دہائیوں تک سنائی جاتی رہی۔
لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔ لوگ سوال پوچھ رہے ہیں، تحقیق کر رہے ہیں اور اپنی صحت کا اختیار واپس لے رہے ہیں۔ انہیں سمجھ آ رہی ہے کہ مسئلہ صرف شوگر نہیں بلکہ غلط طرزِ زندگی اور غلط غذائی عادات ہیں۔ جب شعور بیدار ہوتا ہے تو بڑے بڑے نظام ہل جاتے ہیں۔ آج یہی شعور شوگر کے خوف کی اس مصنوعی دیوار کو گرا رہا ہے۔ لوگ جان رہے ہیں کہ درست خوراک، سادہ طرزِ زندگی اور مستقل مزاجی کے ساتھ شوگر کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ یہ صرف ایک تبدیلی نہیں بلکہ ایک نئی سوچ کا آغاز ہے۔
اسی شعوری بیداری کو عملی شکل دینے کے لیے قصبہ گرمانی، کوٹ ادو میں قائم رمضان میڈیکل سینٹر خدمت کا ایک خوبصورت نمونہ بن کر سامنے آیا ہے۔ یہاں آنے والے ہر مریض کا علاج فی سبیل اللہ کیا جاتا ہے۔ کوئی فیس نہیں لی جاتی اور نہ ہی کوئی معاوضہ طلب کیا جاتا ہے۔ مریضوں کی رہنمائی تجربہ کار ڈاکٹرز کی نگرانی میں کی جاتی ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ صحیح غذا کیا ہے، شوگر کو قدرتی طریقوں سے کیسے قابو کرنا ہے، وزن کیسے کم کرنا ہے اور صحت مند زندگی کیسے اپنانی ہے۔
یہ صرف علاج نہیں بلکہ ایک خدمت کا مشن ہے۔ اسی مقصد کے تحت رمضان میڈیکل سینٹر میں 100 دن کا شوگر ریورسل چیلنج بھی متعارف کرایا گیا ہے جہاں مریضوں کو متوازن غذائی پروگرام، قدرتی طریقہ علاج اور مسلسل رہنمائی فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ دوبارہ ایک صحت مند اور بااعتماد زندگی کی طرف واپس آ سکیں۔ یہ سب کچھ فی سبیل اللہ کیا جاتا ہے کیونکہ جب نیت خدمت کی ہو تو علاج صرف جسم کا نہیں بلکہ امید اور حوصلے کا بھی ہوتا ہے۔

09/03/2026

کیا شوگر واقعی لاعلاج ہے؟ یا علاج کے نام پر ایک نہ ختم ہونے والا چکر؟
جب کسی انسان کو پہلی بار Diabetes کا بتایا جاتا ہے تو وہ خوف اور پریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسی لمحے سے ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں مریض اکثر ساری زندگی الجھ کر رہ جاتا ہے۔
پہلے مرحلے میں کہا جاتا ہے:
HbA1c کرواؤ، کولیسٹرول چیک کرواؤ، گردوں کا ٹیسٹ کرواؤ، یورک ایسڈ چیک کرواؤ۔ رپورٹس لے کر دوبارہ آؤ۔
پھر اگلے وزٹ پر نسخہ بنتا ہے:
کوئی گولی شروع ہو جاتی ہے، پھر دوسری، پھر تیسری۔ کبھی Metformin دی جاتی ہے، کبھی Glimepiride، کبھی کوئی اور دوا شامل ہو جاتی ہے۔
مریض کو کہا جاتا ہے:
“کھانے پینے کی فکر نہ کرو، بس دوائیاں باقاعدگی سے لیتے رہو۔”
مہینے گزرتے جاتے ہیں۔
شوگر قابو میں نہیں آتی، مگر دوائیوں کی فہرست لمبی ہوتی جاتی ہے۔
پھر آہستہ آہستہ جسم سگنل دینے لگتا ہے:
پاؤں جلنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں سن ہونے لگتے ہیں، معدہ خراب رہنے لگتا ہے، پیشاب میں جلن شروع ہو جاتی ہے۔
کچھ عرصہ بعد بیماری مزید آگے بڑھتی ہے۔
گردوں پر اثر پڑتا ہے اور معاملہ Chronic Kidney Disease تک پہنچ سکتا ہے۔ بعض مریضوں کو آخرکار Dialysis جیسے مشکل مرحلے کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
یہ سب دیکھ کر ایک سوال دل میں پیدا ہوتا ہے:
کیا واقعی شوگر کا یہی انجام ہے؟
حقیقت کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ شوگر صرف ایک “دوائیوں سے دبانے والی بیماری” نہیں بلکہ طرزِ زندگی اور خوراک سے جڑی ہوئی کیفیت ہے۔ اگر خوراک، وزن، جسمانی سرگرمی اور روزمرہ عادات کو درست کیا جائے تو بہت سے مریضوں میں شوگر کو مؤثر طور پر قابو میں لایا جا سکتا ہے۔
اسی سوچ اور خدمت کے جذبے کے ساتھ پاکستان میں ایک فلاحی ادارہ Ramzan Medical Center امید کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔
امید کی ایک نئی روشنی
رمضان میڈیکل سینٹر میں ایک منفرد پیغام دیا جاتا ہے:
“بیماری کو صرف دوائیوں سے نہیں، بلکہ غذا اور طرزِ زندگی کی اصلاح سے سمجھو اور سنبھالو۔”
یہاں ٹیم آر ایم سی مریضوں کو بتاتی ہے کہ:
متوازن اور سادہ غذا کس طرح شوگر کو قابو میں لا سکتی ہے
وزن کم کرنا کیوں ضروری ہے
روزمرہ عادات میں چھوٹی تبدیلیاں کس طرح بڑے نتائج دے سکتی ہیں
یہاں بہت سے لوگ ایسے بھی آئے جو سالوں سے شوگر کے ساتھ جدوجہد کر رہے تھے، مگر جب انہوں نے اپنی غذا اور طرزِ زندگی کو بدلا تو انہیں اپنی صحت میں حیرت انگیز بہتری محسوس ہوئی۔
اصل خوشخبری
سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ انسان اگر اپنی غذا، عادات اور زندگی کے انداز کو درست کر لے تو شوگر کے ساتھ ایک صحت مند اور متوازن زندگی گزارنا ممکن ہے۔
رمضان میڈیکل سینٹر کا پیغام سادہ مگر طاقتور ہے:
“صحت کا راستہ دوا کی بوتل سے نہیں، بلکہ شعور، متوازن غذا اور درست طرزِ زندگی سے نکلتا ہے۔”
اللہ تعالیٰ ہمیں صحت کی نعمت عطا فرمائے اور ہمیں ایسی عادات اختیار کرنے کی توفیق دے جو ہمیں بیماریوں سے بچائیں۔۔۔

09/03/2026

پیشاب میں جھاگ آنا اکثر لوگوں کے نزدیک ایک معمولی سی بات ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ بعض اوقات ایک اہم طبی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر جب یہ مسئلہ بار بار ظاہر ہو تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
طبّی ماہرین کے مطابق اگر جسم میں شوگر زیادہ ہو جائے تو یہ کیفیت Diabetes کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں گردوں پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور وہ خون کو مؤثر انداز میں فلٹر نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً بعض اوقات خون میں موجود پروٹین پیشاب کے ذریعے خارج ہونے لگتی ہے، جسے طبّی زبان میں Proteinuria کہا جاتا ہے۔ یہی پروٹین پیشاب میں جھاگ پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
اگر کسی شخص کو بار بار جھاگ والا پیشاب آئے، ساتھ ہی زیادہ پیاس لگے، بار بار پیشاب آئے، جسم میں کمزوری محسوس ہو یا وزن میں غیر معمولی تبدیلی ہو تو یہ علامات صرف شوگر ہی نہیں بلکہ گردوں کی خرابی یعنی Chronic Kidney Disease کی ابتدائی نشانی بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ ایسی علامات ظاہر ہوتے ہی شوگر اور پیشاب کے ضروری ٹیسٹ کروا لیے جائیں۔ بروقت تشخیص انسان کو بڑی پیچیدگیوں سے بچا سکتی ہے۔
اسی شعور اور خدمت کے جذبے کے ساتھ پاکستان میں ایک فلاحی ادارہ Ramzan Medical Center لوگوں کی رہنمائی اور علاج کے میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ شوگر کے مریضوں کو صرف دوائیوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں غذا، طرزِ زندگی اور قدرتی اصولوں کے ذریعے صحت مند زندگی کی طرف واپس لایا جائے۔
رمضان میڈیکل سینٹر میں ماہرین کی ٹیم، جسے محبت سے ٹیم آر ایم سی کہا جاتا ہے، مریضوں کو متوازن غذا، سادہ مگر مؤثر غذائی منصوبہ، اور صحت مند طرزِ زندگی کے اصول سکھاتی ہے۔ یہاں آنے والے بہت سے افراد نے اپنی غذا کو درست کر کے، وزن کو متوازن بنا کر اور روزمرہ عادات کو بہتر کر کے نہ صرف شوگر کو قابو میں کیا بلکہ ایک نئی اور صحت مند زندگی کا آغاز کیا۔
یہ ادارہ صرف علاج ہی نہیں بلکہ آگاہی اور امید بھی فراہم کرتا ہے۔ ٹیم آر ایم سی کا پیغام یہی ہے کہ اگر انسان اپنی غذا اور طرزِ زندگی کو درست کر لے تو بہت سی بیماریاں ابتدائی مرحلے میں ہی قابو میں آ سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحت کی نعمت عطا فرمائے..

07/03/2026

Treatment Of Sugar

ذہنی دباؤ اور بڑھتا ہوا وزن۔۔ ایک خاموش تعلقاکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ وزن صرف زیادہ کھانے سے بڑھتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہی...
05/03/2026

ذہنی دباؤ اور بڑھتا ہوا وزن۔۔ ایک خاموش تعلق
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ وزن صرف زیادہ کھانے سے بڑھتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
جب انسان مسلسل اسٹریس میں رہتا ہے تو جسم میں کارٹیسول ہارمون بڑھ جاتا ہے۔
یہی ہارمون بھوک میں اضافہ کرتا ہے، خاص طور پر میٹھی اور چکنی چیزوں کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آہستہ آہستہ پیٹ کے گرد چربی جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
ذہنی دباؤ کے دوران بہت سے لوگ “ایموشنل ایٹنگ” کا شکار ہو جاتے ہیں۔
وہ بھوک کی وجہ سے نہیں بلکہ پریشانی، اداسی یا غصے کی وجہ سے کھاتے ہیں۔
کھانا وقتی طور پر سکون تو دیتا ہے،
مگر بعد میں وزن بڑھنے اور احساسِ جرم کا نیا دباؤ پیدا ہو جاتا ہے۔
یوں ایک خطرناک چکر شروع ہو جاتا ہے۔
اس مسئلے کو نیند کی کمی مزید بڑھا دیتی ہے۔
اسٹریس نیند خراب کرتا ہے اور کم نیند بھوک بڑھانے والے ہارمونز کو تیز کر دیتی ہے۔
اس طرح ذہنی دباؤ آہستہ آہستہ موٹاپے، شوگر اور دیگر بیماریوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
یاد رکھیں!
وزن کم کرنے کے لیے صرف ڈائٹ کافی نہیں، ذہنی سکون بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
اس چکر کو توڑنے کے لیے چند آسان عادات اپنائیں:
• روزانہ 20 سے 30 منٹ واک
• گہری سانسوں کی مشق
• ذکر یا میڈیٹیشن
• مثبت گفتگو اور اچھی صحبت
• مناسب اور مکمل نیند
رمضان میڈیکل سینٹر میں ہم صرف بیماری کا علاج نہیں کرتے بلکہ آپ کو صحت مند طرزِ زندگی کی طرف رہنمائی بھی فراہم کرتے ہیں۔
اگر آپ وزن، شوگر یا ذہنی دباؤ کے مسائل سے پریشان ہیں تو بروقت رہنمائی حاصل کریں۔
رمضان میڈیکل سینٹر
صحت مند زندگی کی جانب ایک قدم

Address

Bus Stop
Gurmani
34050

Opening Hours

Monday 08:00 - 12:30
Tuesday 08:00 - 12:30
Wednesday 08:00 - 12:30
Thursday 08:00 - 12:30
Saturday 08:00 - 12:30
Sunday 08:00 - 12:30

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Buraq Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share