19/06/2025
داورِ حشر مجھے تیری قسم
تمام عمر میں نے عبادت کی ہے
تو میرا نامہء اعمال تو دیکھ
میں نے انساں سے محبت کی ہے
احمد ندیم قاسمی
معاشرے میں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو شہرت یا تعریف کے متلاشی نہیں ہوتے، بلکہ انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں۔ جن کا کام بولتا ہے، اور جنہیں ان کے خلوص اور جذبے کے باعث ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے۔۔ اصلاح ویلفیئر سوسائٹی کی انتظامیہ سے قریبی تعلق کے بعد میرا مشاہدہ ہے کہ اس کے اصل محرک اور روح رواں، اویس بھائی ہیں۔
سب لوگ اپنی اپنی جگہ قابلِ تحسین کام کر رہے ہیں، مگر جس جذبے اور خلوص سے اویس بھائی خدمت انجام دے رہے ہیں، وہ واقعی بے مثال ہے۔چاہے بات اسپتال کی تعمیر کی ہو، اسکول کے قیام کی، ایمبولینس سروس شروع کرنے کی، یا کسی مستحق کی مالی امداد کی—اویس بھائی ہر نیکی کے کام میں ہمیشہ صفِ اول میں نظر آتے ہیں۔
سب سے مشکل مرحلہ وہ ہوتا ہے جب فلاحی مقاصد کے لیے مالی معاونت درکار ہو، اور انسان کو صاحب حیثیت افراد سے مدد کی درخواست کرنی پڑے۔ مگر اویس بھائی نے کبھی اپنی انا کو آڑے نہیں آنے دیا۔ وہ ہر در پر دستک دیتے ہیں، مگر اپنی ذات کے لیے نہیں، بلکہ انسانوں کی تکلیف کو کم کرنے کے لیے۔
اویس بھائی ہمیشہ پسِ پردہ رہ کر کام کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک نہ تعریف کی خواہش ہے، نہ شہرت کی طلب—بس اللہ کی رضا اور انسانیت کی خدمت ہی ان کا مشن ہے۔
جیسا کہ قرآنِ مجید میں فرمایا گیا ہے:
> ﴿إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا﴾
"(اور کہتے ہیں کہ) ہم تم کو خالص خدا کے لیے کھلاتے ہیں۔ نہ تم سے عوض چاہتے ہیں، نہ شکرگزاری کے طلبگار ہیں" (الإنسان: 9)
یہی آیت ان کی زندگی کا عملی نمونہ ہے۔
دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، خوشحالی، اور سکون والی طویل زندگی عطا فرمائے، اور ان کی کاوشوں کو مزید برکت اور قبولیت نصیب کرے۔ کیونکہ معاشروں کی اصل طاقت ایسے ہی مخلص اور بے لوث افراد ہوتے ہیں۔
بقلم محمد زین العابدین