09/06/2026
پریس ریلیز
گلگت بلتستان ہیومن رائٹس کونسل
گلگت بلتستان ہیومن رائٹس کونسل 12 سالہ بچی فریال افضل کے مبینہ اغوا اور اس سے متعلق سامنے آنے والے بیانات پر گہری تشویش اور شدید اضطراب کا اظہار کرتی ہے۔
فریال افضل کے بیان کے مطابق اسے اسکول کے باہر اپنے والد کا انتظار کرتے ہوئے اغوا کیا گیا، زبردستی گاڑی میں بٹھایا گیا، اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی، منہ بند کیا گیا اور اسے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ مزید یہ کہ بچی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر اور اسلحہ دکھا کر مخصوص ویڈیو بیان دینے پر مجبور کیا گیا۔
اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف ایک سنگین فوجداری جرم ہے بلکہ بچوں کے بنیادی انسانی حقوق، آزادی اور تحفظ کے خلاف بھی ایک انتہائی خطرناک عمل ہے۔ گلگت بلتستان ہیومن رائٹس کونسل اس واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ تمام حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
کونسل حکومت، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ تحقیقاتی حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ کیس کے ہر پہلو، اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی، سہولت کاروں، ملزمان کے روابط اور بچی کو مبینہ طور پر منتقل کیے گئے مقام سمیت تمام حقائق کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
ہم اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ فریال افضل اور اس کے اہل خانہ کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ کسی دباؤ، خوف یا دھمکی کے بغیر انصاف کے حصول کے لیے اپنا قانونی حق استعمال کر سکیں۔
گلگت بلتستان ہیومن رائٹس کونسل اس حساس معاملے پر مسلسل نظر رکھے گی اور انصاف، شفافیت اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔
جاری کردہ:
گلگت بلتستان ہیومن رائٹس کونسل
انصاف، انسانی وقار اور بچوں کے حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔
Sajid Ali Government of Gilgit Baltistan Shabbir Mir Shina UN Geneva Human Rights Council of Azad Jammu & Kashmir United Nations Human Rights Amnesty International South Asia Human Rights Watch
Gilgit-Baltistan Police