Gilgit Baltistan Television

Gilgit Baltistan Television Media GB news channel
(2)

15/08/2026
15/08/2026

دینیور عبادت گاہ سے گھرجاتی خاتون سے موبائل چھیننےکا واقعہ افسوسناک اورالارمنگ ہے ملزم کی گرفتاری پولیس کی اولین ترجیح ہونی چاہیے

  Gahkuch Punial Ghizer Ghizer Ki Awaz Assistant Commissioner SDM Punial Ishkoman  #غذر کے  #ہیڈ  #کوارٹر  #گاہکوچ میں ل...
14/08/2026


Gahkuch Punial Ghizer
Ghizer Ki Awaz
Assistant Commissioner SDM Punial Ishkoman

#غذر کے #ہیڈ #کوارٹر #گاہکوچ میں لاٹری کے نام پر جواء، انتظامیہ خاموش گاہکوچ بازار میں لاٹری کے نام پر غیر قانونی جواء کا سلسلہ سرعام جاری ہے۔ذرائع کے مطابق گاہکوچ بازار میں ایک شخص نے ڈھائی لاکھ روپے مالیت کی موٹر سائیکل پر لاٹری کے ذریعے 10 لاکھ روپے سے زائد کا منافع کمایابازار میں اسی طرح درجنوں موٹر سائیکلیں کھڑی کر کے سادہ لوح عوام اور نوجوانوں کو لاٹری کے جال میں پھنسایا جا رہا ہے، جس سے نوجوان نسل تباہی کی طرف جا رہی ہے۔عوامی و سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر غذر اور ایس پی غذر سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر قانونی کام کے خلاف فوری کارروائی کر کے ان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

 #ضلع  #غذر کے  #تعلیمی  #انقلاب کا  #معمارتحریر: دردانہ شیرگلگت بلتستان کا خوبصورت ترین خطہ، ضلع غذر، برف پوش پہاڑوں، ب...
14/08/2026

#ضلع #غذر کے #تعلیمی #انقلاب کا #معمار
تحریر: دردانہ شیر
گلگت بلتستان کا خوبصورت ترین خطہ، ضلع غذر، برف پوش پہاڑوں، بلند و بالا وادیوں اور خوبصورت دریاؤں کے درمیان بسا ایک حسین خطہ ہے۔ آج غذر کو تعلیم کے حوالے سے بھی ایک نمایاں مقام حاصل ہے، مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک وقت تھا جب اس ضلع میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ ایسے حالات میں اگر کسی ایک شخص نے دور دراز علاقوں کے نوجوانوں تک تعلیم کی روشنی پہنچانے کے لیے عملی جدوجہد کی تو وہ محترم استاد #بخت #علی #خان ہیں۔یہ صرف ایک استاد کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسے خدائی خدمت گار کی داستان ہے جس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ علم کے فروغ کے لیے وقف کردیا۔ جن نوجوانوں اور بچیوں کے لیے میٹرک کے بعد تعلیم کا سفر مالی مشکلات کے باعث رک جاتا تھا، بخت علی خان نے ان کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں سے ضلع غذر کے ہزاروں طلبہ و طالبات نے بی اے، ایم اے، بی ایڈ، ایم فل اور دیگر پروگراموں کے ذریعے اپنی تعلیمی قابلیت میں اضافہ کیا۔1972ء سے قبل ضلع غذر میں تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر تھے۔ پورے ضلع میں گاہکوچ میں ایک ہائی اسکول موجود تھا، جہاں محدود تعداد میں طلباء کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا تھا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے ضلع سے باہر جانا پڑتا تھا، جو عام آدمی کے لیے مالی اعتبار سے تقریباً ناممکن تھا۔
ایسے حالات میں میٹرک پاس کرنے والے ہزاروں نوجوان اپنی تعلیم کا سفر جاری نہ رکھ سکے اور گھروں میں بیٹھنے پر مجبور ہوگئے۔ خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔
یہی وہ وقت تھا جب #بخت #علی #خان میدان میں آئے۔گھر بیٹھے اعلیٰ تعلیم کا راستہ کھولا بخت علی خان نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے فاصلاتی نظامِ تعلیم کو ضلع غذر کے دور دراز علاقوں تک پہنچانے کے لیے انتھک محنت کی۔ انہوں نے صرف دفتر میں بیٹھ کر ذمہ داری ادا نہیں کی بلکہ غذر کے کونے کونے میں پہنچے، لوگوں کو یونیورسٹی کے تعلیمی پروگراموں سے آگاہ کیا اور نوجوانوں کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے قائل کیا۔1988ء میں انہوں نے اس تعلیمی پروگرام کے ساتھ بطور اعزازی کارکن اپنی خدمات کا آغاز کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ مشن ان کی زندگی کا مقصد بن گیا۔
وہ ان علاقوں تک بھی پہنچے جہاں آمدورفت کے ذرائع محدود تھے۔ گاؤں گاؤں، دفتر دفتر اور گھر گھر جا کر نوجوانوں کو بتایا کہ غربت ان کی تعلیم کی راہ میں حتمی رکاوٹ نہیں۔ اگر باقاعدہ یونیورسٹی میں داخلہ ممکن نہیں تو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ذریعے گھر بیٹھے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔
ہزاروں گھروں میں علم کا چراغ روشن ہوا
بخت علی خان کی مسلسل محنت اور رہنمائی کے نتیجے میں غذر کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے پروگراموں میں داخلہ لیا۔ ان میں صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ سرکاری ملازمین اور وہ افراد بھی شامل تھے جو ملازمت کے ساتھ اپنی تعلیمی قابلیت بڑھانا چاہتے تھے۔کسی نے انٹرمیڈیٹ مکمل کیا، کسی نے بی اے کیا، کسی نے بی ایڈ، ایم اے اور ایم فل تک تعلیم حاصل کی۔ یوں ایک ایسا تعلیمی سفر شروع ہوا جس نے نہ صرف افراد کی زندگی بدلی بلکہ پورے معاشرے پر اپنے مثبت اثرات مرتب کیے۔
خصوصاً خواتین کے لیے یہ مواقع کسی نعمت سے کم نہیں تھے۔ وہ خواتین جو معاشرتی، مالی یا سفری مشکلات کے باعث دور جا کر تعلیم حاصل نہیں کرسکتی تھیں، انہیں اپنے گھروں سے تعلیم جاری رکھنے کا موقع ملا۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اتنی طویل، مخلصانہ اور بے لوث خدمات انجام دینے والے اس گمنام ہیرو کی سرکاری سطح پر وہ پذیرائی نہیں ہوئی جس کے وہ مستحق ہیں۔
ہمارے معاشرے میں بعض اوقات معمولی نوعیت کی کارکردگی پر بھی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے، لیکن ایک ایسا شخص جس نے اپنی ذاتی دلچسپی، محنت اور خلوص سے غذر کے ہزاروں نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولے، وہ آج بھی کسی بڑے سرکاری اعزاز کا منتظر ہے۔
یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ اگر ہزاروں نوجوانوں کو میٹرک کے بعد گھروں میں بیٹھنے سے نکال کر بی اے، ایم اے اور دیگر اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں تک پہنچانے والے شخص کی خدمات بھی قابلِ اعتراف نہیں تو پھر خدمت اور قومی کردار کی تعریف کیا ہے؟حکومت پاکستان اور حکومت گلگت بلتستان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ استاد بخت علی خان کی کئی دہائیوں پر محیط تعلیمی خدمات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ ان کی خدمات کو محض ایک استاد کی ذمہ داری سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ انہیں ایک ایسے تعلیمی خدمت گار کے طور پر تسلیم کیا جائے جس نے بغیر کسی لالچ کے غذر کے کونے کونے میں علم کی روشنی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
ایسے افراد قوموں کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ انہیں زندگی میں عزت اور حوصلہ افزائی ملے تو یہ نہ صرف ان کے لیے اعزاز ہوتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک پیغام ہوتا ہے کہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔
استاد بخت علی خان کو صدارتی ایوارڈ یا کسی مناسب قومی و صوبائی اعزاز سے نوازنا ان کی خدمات کا مکمل صلہ تو نہیں ہوسکتا، تاہم یہ ان کی کئی دہائیوں پر محیط تعلیمی جدوجہد کا ایک باوقار اعتراف ضرور ہوگا۔
غذر کے اس خاموش مجاہد نے کسی تخت و تاج کی خواہش نہیں کی، کسی عہدے کے پیچھے نہیں بھاگے، نہ کسی ذاتی مفاد کے لیے یہ سفر اختیار کیا۔ انہوں نے صرف ایک مقصد سامنے رکھا: علم کی روشنی ہر گھر تک پہنچے۔
اور شاید یہی کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی خدمت ہے۔استاد بخت علی خان واقعی ضلع غذر کے تعلیمی انقلاب کے معماروں میں سے ایک ہیں۔ اب ذمہ داری حکومت کی ہے کہ وہ اس گمنام ہیرو کو تلاش کرے، اس کی خدمات کو تسلیم کرے اور اسے وہ عزت دے جس کا وہ برسوں سے مستحق ہے۔

13/08/2026

I got over 360 reactions on one of my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

وزیر اعلی گلگت بلتستان امجد حسین سے نمبرداروں کا وفد ملاقات کر رہا ہے۔Amjad Hussain Advocate
08/08/2026

وزیر اعلی گلگت بلتستان امجد حسین سے نمبرداروں کا وفد ملاقات کر رہا ہے۔
Amjad Hussain Advocate

Address

Gilgit

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gilgit Baltistan Television posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Gilgit Baltistan Television:

Shortcuts

Share