𝐆𝐈𝐋𝐆𝐈𝐓 𝐁𝐀𝐋𝐓𝐈𝐒𝐓𝐀𝐍 𝐒𝐓𝐔𝐃𝐄𝐍𝐓𝐒 𝐔𝐍𝐈𝐎𝐍

  • Home
  • Pakistan
  • Gilgit
  • 𝐆𝐈𝐋𝐆𝐈𝐓 𝐁𝐀𝐋𝐓𝐈𝐒𝐓𝐀𝐍 𝐒𝐓𝐔𝐃𝐄𝐍𝐓𝐒 𝐔𝐍𝐈𝐎𝐍

𝐆𝐈𝐋𝐆𝐈𝐓 𝐁𝐀𝐋𝐓𝐈𝐒𝐓𝐀𝐍 𝐒𝐓𝐔𝐃𝐄𝐍𝐓𝐒 𝐔𝐍𝐈𝐎𝐍 Gilgit Baltistan Students Union(GBSU)
ایک غیر سیاسی طلبہ تنظیم ہے۔
ہمار?

برادر زاہد علی صدر این ایس ایف اور برادر ثقلین عباس کی بڑی کامیابی پر این ایس ایف سمیت پوری قوم مبارک باد عرض ہے۔ دونوں ...
18/09/2024

برادر زاہد علی صدر این ایس ایف اور برادر ثقلین عباس کی بڑی کامیابی پر این ایس ایف سمیت پوری قوم مبارک باد عرض ہے۔ دونوں برادران نے ایک ایسا جدید الیکٹرک سائیکل تیار کیا ہے جو ایک دفعہ چارج کرنے پر 60 کلومیٹر تک چلتی ہے اور ساتھ ہی پیڈل لگانے سے خود کار طریقے سے دوبارہ چارج بھی ہوتی ہے۔
کراچی یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹکنالوجی نمائش میں دوسری پوزیشن حاصل کرکے سب کی توجہ کا مرکز بنے۔
Gilgit Baltistan Students Union- GBSU

محکمہ تعلیم کو جلد تعلیم دشمن پالیسیز ختم کرنا چاہئے اور طلبہ کے جائز مطالبات اور حقوق فراہم کرے۔اس ناقابل معافی غفلتی ک...
08/03/2023

محکمہ تعلیم کو جلد تعلیم دشمن پالیسیز ختم کرنا چاہئے اور طلبہ کے جائز مطالبات اور حقوق فراہم کرے۔
اس ناقابل معافی غفلتی کی ہم پرزور مزمت کرتے ہیں۔
Gilgit Baltistan Students Union- GBSU

07/10/2022

ماوں اور بہنوں کی ترقی صرف کھیل کھود میں نہیں ہے۔
تعلیم کو آسان اور عام کیا جائے۔

07/10/2022

یوم اساتذہیقینا معاشرے کی کنجی اساتذہ ہیں۔عروج و ترقی کا راز اساتذہ ہیں۔
07/10/2022

یوم اساتذہ
یقینا معاشرے کی کنجی اساتذہ ہیں۔
عروج و ترقی کا راز اساتذہ ہیں۔

ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز  قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت  بلتستان مورخہ:15جون2022قوموں کی تعمیر کی کنجی تعلیم ہے۔تع...
16/06/2022

ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز
قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت بلتستان
مورخہ:15جون2022
قوموں کی تعمیر کی کنجی تعلیم ہے۔تعلیم کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی کے اہداف حاصل نہیں کر سکتی۔۔ صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان
قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت بلتستان میں سستی اور معیاری اعلیٰ تعلیم و تحقیق تک رسائی میں گیم چینجر کے طور پر کام کر رہی ہے۔۔ وائس چانسلر
گلگت (پ ر)صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت بلتستان ڈاکٹر عارف علوی نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے دسویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ
تعلیم ایک قوم کی تعمیر کی کنجی ہے۔ تعلیم کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی کے اہداف حاصل نہیں کر سکتی۔ ملک کے بہترین تخلیقی ازہان اور ہنر یافتہ نوجوان روزگار کی تلاش میں بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک سے برین ڈرین تشویش کا باعث ہے، ان باصلاحیت نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو ملک کے وسیع تر مفاد میں بروئے کار لانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی کے دسویں تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے اس موقع پر فارغ التحصیل طلباء کو اپنے تعلیمی مرحلے کا اہم سنگ میل عبور کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی کامیابی کو اساتذہ اور والدین کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے کی جانیوالی کاوشوں کا منطقی نتیجہ قرار دیا۔اس موقع پرصدر مملکت نے مزیدکہا کہ اساتذہ اور والدین نے تعلیم اور تعلم کے ذریعے طلباء کے تابناک مستقبل کی راہ متعین کر دی ہے، اب وہ اپنی صلاحیتوں کے بہترین استعمال کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں۔ صدر مملکت نے مزیدکہا کہ ہمیں اس امر کا ادراک کرنا ہوگا کہ ہم اربوں روپے خرچ کر کے باصلاحیت نوجوان تیار کر کے دوسرے ممالک کو سونپ رہے ہیں۔ پاکستان سیاسی اور نوے کی دہائی میں بیرون ممالک منتقل ہونے والے نوجوان آج ان ممالک کی معاشی ترقی میں ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آج جب کہ انٹرنیٹ کے ذریعے گھر میں بیٹھ کر فری لانسنگ اور دیگر کاروبار کے ذریعے پیسے کمائے جا سکتے ہیں، تو حکومت کو آئی ٹی صنعت سے وابستہ افراد کو بہترین سہولیات فراہم کرنی ہونگی تاکہ ای کامرس اور فری لانسنگ کے فروغ سے برین ڈرین کا عمل روکا جا سکے اور ان نوجوانوں کی صلاحیتوں سے کماحقہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔ صدر مملکت و چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی نے کہاکہ فارغ التحصیل طالبات کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ وہ صنف نازک، کمزور اور مظلوم عورت کے لیبل اتار پھینکیں اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا سیکھیں۔ خواتین اپنی اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر مختلف شعبہ ہائے نظام زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ مساوی کردار ادا کرنے اور فیصلہ سازی کے عمل میں شرکت یقینی بنانے کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ انہوں نے طالبات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اعلی تعلیم حاصل کرکے خود کو محض خانہ داری کے امور تک محدود نہ رکھیں بلکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق معاشی خودکفالت کی راہ اپنائیں، حکومت خواتین کو روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرنے اور ذاتی کاروبار کیلیے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کیلئے اقدامات کر رہی ہے، لہذا ان سہولیات سے فائدہ اٹھا کر انفرادی اور اجتماعی ترقی کیلئے وہ اپنا حصہ ڈالیں۔ صدر مملکت نے طلباء کو مصنوعی ذہانت سمیت جدید علوم حاصل کر کے ملک کو اوج کمال تک پہنچانے پر بھی زور دیا۔صدر و چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی نے کہا کہ پاکستان اور بالخصوص گلگت بلتستان بہترین مواقع کی سرزمین ہے اور ہمارے پاس اعلی پائے کی صلاحیتوں سے مالامال افرادی قوت ہے۔اگر ہم اجتماعی مفاد سامنے رکھ کر اپنا کردار ادا کریں تو کوئی بعید نہیں ہے کہ ملک جلد ہی معاشی خودکفالت کی راہ پر گامزن ہوگا۔ صدرو چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی نے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی اور معدنی وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور مستقبل میں ان وسائل کو قومی ترقی اور خوشحالی کے لیے بروئے کار لانے کیلئے ہنر مند افرادی قوت کی ضرورت پڑے گی۔ لہذا طلباء خود میں احساس ذمہ داری پیدا کریں اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ علوم اورمہارتیں سیکھ کر اپنے خطے کے وسائل کے ملک کے وسیع تر مفاد میں بہتر استعمال کو یقینی بنائیں۔ صدر وچانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی نے کہاکہ نوجوان گریجویٹس خطے اور ملک میں ترقی کے نئے مستقبل کے رہنما ہوں گے۔فارغ التحصیل طلبا آپ اپنی زندگی اہم مرحلے میں داخل ہورہے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ علمی مہارتوں اور رویو ں سے ملک عزیز کی تعمیروترقی میں اپنا کردار ادا کرینگے۔ صدر وچانسلر قراقرم یونیورسٹی نے کہاکہ فارغ التحصیل طلبا کے عزم اور امنگوں سے بھرے ہوئے روشن چہروں کو دیکھ کر مجھے اپنے ملک کے روشن مستقبل کی امید پیدا ہوتی ہے۔صدر وچانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی نے فارغ التحصیل گریجویٹس اور ان کے اہل خانہ کے لیے مبارکبادپیش کی اور قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر، فیکلٹی اور عملے کو اس کامیاب کانوؤ کیشن کے انعقاد اور اعلیٰ تعلیم وتحقیق کے حوالے سے دی جانے والی خدمات پر مبارکباد پیش کیا۔ان سے قبل افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے وائس چانسلر قراقرم یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے کہاکہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت بلتستان میں سستی اور معیاری اعلیٰ تعلیم و تحقیق تک رسائی میں گیم چینجر کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اب تک 12000 سے زائد طلباء اس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوچکے ہیں۔جو کہ خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بھر پور کردار ادا کررہے ہیں۔وائس چانسلر نے کہاکہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ہنزہ، غذر اور دیامر کے ذیلی کیمپسز کے ذریعے گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں تک سستی اور قابل رسائی معیاری اعلیٰ تعلیم و تحقیق کو یقینی بنایا ہے۔ ہم نے حال ہی میں نگر میں ایک اور کیمپس کے لیے فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کے لیے کمیٹی بنائی ہے۔ ہم اعادہ کرتے ہیں کہ ہمارے چار کیمپسز، 22 سے زیادہ شعبہ جات، 59 پلس انڈر گریجویٹ پروگرامز اور 20 گریجویٹ پروگرامز، دانشوروں اور انتظامیہ کی سرشار ٹیم کے ساتھ ہم اپنے 8000 سے زیادہ طلبا کو بامعنی اور جدید ترین علم فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔وائس چانسلر نے کہا کہ ہم توقع کر رہے ہیں کہ اگلے سال BS سے PhD تک ہمارے طلبا کی تعداد 11000 ہو جائے گی۔ وائس چانسلر نے کہاکہKIU فیملی فکری تکثیریت کے اصولوں کو برقرار رکھنے، معیاری اعلیٰ تعلیم کے حصول اور شواہد پر مبنی تحقیقی سرگرمیوں میں مشغول ہونے کے لیے پرعزم ہے۔ ہمارا تعلیمی ماسٹر پلان گلگت بلتستان اور اس سے باہر کے سماجی، سیاسی، اقتصادی اور ماحولیاتی مناظر کے تیزی سے بدلتے ہوئے نمونوں اور تبدیلیوں کے مشاہدے اور مطالعہ کی بنیادوں پر تیار کیا گیا ہے۔وائس چانسلر نے کہاکہ یونیورسٹی گلگت بلتستان کے وسائل اور خطے کو درپیش چینلجز کو حل کرنے کے لیے اپنے خدمات سرانجام دی رہی ہے اس کے علاوہ وغیر دریافت شدہ نباتات اور حیوانات ہوں یا پھر ثقافت، تمام اقدامات روایتی حکمت اور جدید طریقوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے بھی بھرپور کام کررہی ہے۔جن میں انٹرنیٹ اور آئی ٹی سہولیات کی ابھرتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، KIU اور اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) نے KIU میں بزنس انکیوبیشن سینٹر تیار کیا ہے۔ یہ سنٹر جی بی کے طلباء، محققین کو تکنیکی اور آئی ٹی سہولیات فراہم کر رہا ہے، اور یہ ای کامرس، ای-بزنس اور الیکٹرانک پلیٹ فارم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا تاکہ دیگر شعبوں کو فائدہ ہو۔ وائس چانسلر نے کہاکہ اس وقت 15 کمپنیاں سیاحت اور مہمان نوازی، ٹیک انکیوبیشن، ایڈونچر ٹورازم، ویمن ڈویلپمنٹ، ایگرو بزنس وغیرہ کے مختلف شعبوں پر کام کر رہی ہیں۔اب تک تقریباً 75 طلباء فارغ ہوچکے ہیں اور تقریباً 200 طلباء فری لانس پروگراموں جیسے ویب ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائن، مواد کی تحریر وغیرہ میں تربیت حاصل کررہے ہیں۔وائس چانسلر نے کہاکہ قراقرم گریجویٹ اسکول کا افتتاح خطے کے چیلنجوں پر توجہ مرکوز کرنے اور تحقیق پر مبنی اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ایک کامیاب اقدام بن گیا ہے۔ فی الحال تقریباً 21 ایم ایس/پی ایچ ڈی پروگرامز پیش کیے جاتے ہیں جہاں 600 سے زائد طلباء داخلہ لے چکے ہیں۔وائس چانسلر نے کہاکہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی نے چائنا اسٹڈی سینٹر کا،قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے آفس برائے ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) کا بھی قیام عمل میں لاگیاہے۔ جس کے ذریعے نوجوان گریجویٹس کے لیے ابھرتے ہوئے معاشی مواقع کو سمجھ سکیں اور پورے خطے کے لیے فوائد حاصل کر سکیں۔وائس چانسلر نے کہاکہ وفاقی حکومت اور چانسلر آفس کی جانب سے یونیورسٹی فراہم کردہ بہترین سرپرستی کے لیے بے حد مشکور ہیں۔وائس چانسلر نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت کے تعاون سے تعلیمی اور تحقیقی شعبے کی مضبوطی کے لیے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے مجوزہ میگا پروجیکٹ کو اگلے مالی سال میں پبلک سیکٹر کے ترقیاتی منصوبوں کے تحت GB پیکیج میں شامل کیا جائے گا۔ وائس چانسلر نے KIU کے فنانشل ایڈ آفس کے ذریعے طلباء کو ریکارڈ تعداد میں اسکالرشپس جن میں وزیر اعظم کے احساس پروگرام،یوایس ایڈ سمیت دیگر سکالر شپ کے ذریعے طلبہ وطالبات کو فراہم کردہ سکالر شپ کے بارے میں بھی ذکر کیا۔اور KIU کے پسماندہ لیکن ہونہار طلباء کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں اسکالرشپ فراہم کرنے کے لیے چانسلر کے تعاون کے لیے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔وائس چانسلر نے کہاکہ COVID-19 کے سخت حالات میں تعلیم وتحقیق کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیےKIU کی پرعزم ٹیم نے اسٹیٹ آف دی آرٹ لرننگ مینجمنٹ سسٹم (LMS) تیار کیا، جہاں 5000 سے زائد طلباء کو تعلیم جاری رکھنے کے لیے 7/24 آن لائن رسائی دی گئی۔اور تمام تدریسی اور سیکھنے کا مواد، تشخیص اور دیگر تعلیمی وسائل آن لائن دستیاب ہیں۔ دور دراز علاقوں کے لیے جہاں آن لائن رابطہ ممکن نہیں تھا، 40 آف لائن مطالعاتی مراکز قائم کیے گئے۔ اس تجربے کی بنیاد پر، ہم ایچ ای سی کی رہنمائی میں اوپن اور ڈسٹنس لرننگ میں قدم رکھ رہے ہیں۔وائس چانسلر نے فارغ التحصیل طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ڈگری آپ کی قابلیت اور لگن کا ثبوت ہے اور آپ کے انتخاب کے میدان میں حقیقی فضیلت کا ایک معیار ہے۔ وائس چانسلر نے تمام طلبا کومسلسل محنت اور عزم کے ثمر کے طور پراہم کامیابی پر تہہ دل سے مبارکباد پیش کیا۔
قراقرم یونیورسٹی کا دسویں کانووکیشن کامیابی کے ساتھ منعقد، 599 ڈگریاں اور 65 گولڈ میڈلرز سمیت سلور میڈلزتقسیم
گلگت(پ ر ) قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت کا دسویں کانوکیشن کامیابی کے ساتھ منعقد ہوگیا۔دسویں کانووکیشن میں 599 ڈگریاں اور 65گولڈ میڈلز سمیت سلور میڈلزطلبہ و طالبات میں تقسیم کی گئیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز کے مطابق چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی و صدر اسلامی جمہوریہ ڈاکٹر عارف علوی نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کی دسویں کانوکیشن میں طلباء و طالبات میں گولڈ میڈل تقسیم کئے۔ جبکہ سلور میڈل اور ڈگریاں وائس چانسلر پر وفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے تقسیم کئے۔یونیورسٹی کے سینئرانتظامی وتدریسی آفیسران نے ڈگریاں تقسیم کرنے میں وائس چانسلر کو معاونت فراہم کی۔
قراقرم یونیورسٹی کے دسویں کانووکیشن میں صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خصوصی شرکت،
کانووکیشن میں وزیراعلیٰ،سپیکر،ممبران اسمبلی،وائس چانسلر ز KIU،یونیورسٹی سینٹ کے ممبران سمیت سیاسی،سول و عسکری آفیسران،طلباء اور ان کی والدین کی بھی بھرپور شرکت
گلگت (پ ر) قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے دسویں کانووکیشن میں صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چا نسلر قراقرم یونیورسٹی ڈاکٹر عارف علوی،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید احمد خان،سپیکر گلگت بلتستان سید امجد زیدی،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ،چیف سیکرٹری گلگت بلتستان محی الدین وانی کے علاوہ صوبائی اسمبلی کے ممبران، سیاسی، سماجی، عسکر ی،عدالتی، انتظامی افسران، یونیورسٹی کے سینئر منیجمنٹ آفیسران، فیکلٹی ممبرا اور گریجویٹس کے والدین نے شرکت کی۔ کانوکیشن کی تقریب میں رجسٹرارکے آئی یوعبدالحمید لون نے مخصوص انداز میں یونیورسٹی کا جھنڈا اٹھائے فیکلٹی ممبران اور گریجویٹس کے ہمراہ پنڈال میں داخل ہوئے۔کانووکیشن میں اسسٹنٹ پر وفیسرثمینہ خان اورلیکچرار اسماء رمضان نے بہترین انداز میں نظامت کے فرائض انجام دئیے۔جبکہ طالب علم شہاب الدین غوری نے تلاوت کی اور طلبا کی نمائندیگی کرتے ہوئے شعبہ بیالوجیکل سائنسز کی گریجویٹ طالبہ مریم محمود نے خطاب کی۔

A huge respect and endless appreciation to the daughter of Nagar Kulsoom Shafa hailing from Asqurdas Nagar whose idea of...
11/06/2022

A huge respect and endless appreciation to the daughter of Nagar Kulsoom Shafa hailing from Asqurdas Nagar whose idea of digital start up achieved Second position in Kamiyab Jawan Startup Exhibiton 2022.

This is just a start of your life. Learn, grow and shine, the Nagar is proud of you.

فرزند گلگت بلتستان آغا محمد داود (جس کا تعلق ہوپر نگر سے ہے) نے Central University of Finance and Economic Chinaسے پی ای...
15/05/2022

فرزند گلگت بلتستان آغا محمد داود (جس کا تعلق ہوپر نگر سے ہے) نے
Central University of Finance and Economic China
سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کامیابی سے حاصل کی ہے جس پر ہم برادر عزیز سمیت انکے والدین اور تمام اہل علاقہ کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ نیز امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی بھرپور صلاحیتوں سے مذید علاقے کا نام روشن کرینگے۔

   چیری گلگت بلتستان کے اہم برآمدات میں سے ایک ہے جن کے زریعے لوگ بہت فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑھ رہ...
13/05/2022



چیری گلگت بلتستان کے اہم برآمدات میں سے ایک ہے جن کے زریعے لوگ بہت فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑھ رہا ہے کہ چیری جتنا فائدہ دے رہی ہے اس سے کہی زیادہ نقصان بھی دے رہی ہے شاید اس کا اندازہ کیا ہوگا۔ آج چیری کے نام پر ہمارے گھروں سے ہر چھوٹا بچہ نکلتا ہے اور محنت اور مذدوری کا نعرہ لگاتے ہوئے اس آگ میں کوتا ہے جو بظاہر گلزار نظر آرہی ہے درحقیقت آگ ہے۔ جو انکے مستقبل، عادات اطوار اور طور طریقوں کے علاوہ والدین کے تربیتی زہمات کو جلا دیتی ہے۔
چیری کے نام پر ایک مخصوص طبقہ منشیات فروش کرتا ہے اور پیکنگ کرنے والے بچوں کو منشات کا عادی بناتے ہیں درحقیقت یہ اور یہ ایک قسم کی پلاننگ اور سازش طے تحت ہورہی ہے۔(جس کا زکر کرنا یہاں مقصود نہیں)یہی وجہ ہے کہ آج ہر دوسرا بچہ( طالب علم ) سگریٹ کا عادی ہے۔
ایک ریسرچ کے مطابق گلگت میں %80 بچے منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔
افسوس صد افسوس کہ ہر گھر میں والدین کو پتا نہیں ہوتا کہ ان کا لاڑلا بیٹا کہاں؟ اور کیا کررہا ہے؟
یہ خیال نہیں کرتا ہے کہ اس وقت ایک بچی کی سب سے زیادہ ضرورت پڑھائی ہے۔
اس عمر میں اگر ایک بچہ سکول بیک کے بجائے چیری کا کاٹن لیکرمزدوری کے پیچھے لگ جاٸے تو اس بچے کے مستقبل کاکیا ہوگا؟
تمام والدین متوجہ ہو اس وقت پیسوں سے زیادہ آپ کے بچے اہم ہے ان کا مستقبل اہم ہے۔ آج کا بچہ کل کا زمہ دار ہے اور مستقبل انکی ہاتھوں میں ہونا ہے۔
دست بستہ گزارش کی جاتی ہے کہ اپنے بچوں کے مستقبل کا خیال کرے اور تاخر برادران سے بھی اپیل ہے کہ معاشرے میں اصل مزدوری کرنے والے حقدار فکر معاش میں دسفگرداں ہے۔ اور یہی سوچتے رہتے ہیں کہ آج بچوں کا پیٹھ کیسے بھروں ؟ اور انکے تعلیمی اخراجات کہاں سے پورا کروں؟
مزدور والدین کو جب کہی مزدوری کا موقع نہیں ملتا ہے تو آخر کار اپنے بچے کو اس کام پر لگا دیتے ہے اور گھر کا چولا جلانے کی کوشش کررہیں ہوتے ہیں درحقیقت چولا کے بجائے بچے کا مستقبل جل رہا ہوتا ہے۔
عرض خدمت یہی ہے کہ بچوں سے زیادہ انکے والدین کو مزدوری کےمواقع فراہم کرے اس سے معاشرہ خوش حال اور مستقبل روشن ہوگا۔ آج کا بچہ کل کے مستقبل کا چراغ ہے خدا کیلٸے اس چراغ کو اہمیت دے اور مت بُجھاٸے۔
آخر میں ایک بار پھر میں والدین سمیت، انتظامیہ اور بلخصوص حکومتی ذمہ داران سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ چیری کے سیزن میں خاص اقدامات کیے جاٸیں اور بچوں کو منشیات کی لت اور آوارگردی سے روکے۔
والدین اور معاشرے کے مزدور طبقے کے حقوق کا خیال رکھے۔ اور20 سال سے کم عمر بچوں کےپر پابندی لگا دی جاۓ۔

نائب صدر ہوپر فاؤنڈیشن
سینئر نائب صدر NSF
جنرل سیکرٹری GBSU
صداقت حسین عابدی نگری

گلگت:قراقرم یونیورسٹی نگر کیمپس کے قیام کے لیے فیزیبلیٹی کا جائزہ لینے کے لیے ڈاکٹر سجاد کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی...
11/05/2022

گلگت:
قراقرم یونیورسٹی نگر کیمپس کے قیام کے لیے فیزیبلیٹی کا جائزہ لینے کے لیے ڈاکٹر سجاد کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی۔
جلد سفارشات مرتب کرنے کے ہدایت۔

12/04/2022

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم نگر کے طلباء و طالبات شدید مشکلات سے دوچار،

گلگت: (نگر نیوز) قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی مین کمپس گلگت میں زیر تعلیم نگر کے طلباء و طالبات بنیاد سہولیات پک اینڈ ڈراپ اور ہاسٹل سروس سے محروم ،
نگر سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کا نگر نیوز سے گفتگوں کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گلگت مضافاتی علاقے چھلت تا غلمت سے آنے والے طلباء و طالبات کے لیے پک ڈراپ سروس اور ہاسٹل میں سیٹیں فراہم کرنے کے لیے زمہ داروں کو کئی دفعہ درخواستیں دینے کے باوجود نت نئے بہانے اور تاخیر حربے استعمال کررہے جس کی وجہ سے آنے والے طلباء خاص کر طالبات کو شدید ترین مشکلات کا سامنے کرنا پڑھ رہا ہے،
انہوں وائس چانسلر سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹ سروس اور ہاسٹل میں سیٹیوں کی فراہمی یقینی بنائے اور ساتھ ساتھ صوبائی وزیر خزانہ جناب جاوید علی منوا، ممبر اسمبلی جناب ایوب وزیری اور منسٹر ایریگیشن جناب باقر شیخ اور دیگر قائدین سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ درج بالا مسائل کو حل کرنے اپنا کردار ادا کرے،
طلبا کا مزید کہنا تھا کہ درج بالا مطالبات کو فوری طور حل نہ کرنے صورت میں شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے۔




Five candidates from Gilgit-Baltistan have cleared CSS exam 2021: 1. Syed Danial Hassan, Chorbut Ghanche (PSP)2. Kamil H...
19/02/2022

Five candidates from Gilgit-Baltistan have cleared CSS exam 2021:
1. Syed Danial Hassan, Chorbut Ghanche (PSP)
2. Kamil Hussain, Sikandarabad Nagar (OMG)
3. Malaieka Noor, Hunza (IRS)
4. Sahiba Chand, Phander Ghizer (IG)
5. Syed Mujtaba Rizvi, Skardu (Post)

Address

Gilgit Baltistan
Gilgit

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝐆𝐈𝐋𝐆𝐈𝐓 𝐁𝐀𝐋𝐓𝐈𝐒𝐓𝐀𝐍 𝐒𝐓𝐔𝐃𝐄𝐍𝐓𝐒 𝐔𝐍𝐈𝐎𝐍 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share