Al Sadiq as Organization Youth of Jafar Abad Thorchay

  • Home
  • Al Sadiq as Organization Youth of Jafar Abad Thorchay

Al Sadiq as Organization Youth of Jafar Abad Thorchay Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al Sadiq as Organization Youth of Jafar Abad Thorchay, Youth Organization, Jafar Abad Thourca Bilamic Roundu Gilgit Baltistan Pakistan, .

خطبہ جمعہ جامع مسجد علی ابن ابی طالبؑ جعفر آباد تھورسے بلامک روندو گلگت بلتستان سے اقتباسات۔خطیب : حاج علامہ شیخ علی نقی...
19/07/2025

خطبہ جمعہ جامع مسجد علی ابن ابی طالبؑ جعفر آباد تھورسے بلامک روندو گلگت بلتستان سے اقتباسات۔
خطیب : حاج علامہ شیخ علی نقی حیدری،قاضی محکمہ شرعیہ گلگت۔
خطبہ اول:
معاشرتی اصلاح اذ نظر قرآن و حدیث:۔
اس خطبہ میں قبلہ محترم نے قرآن کی رو سے اصلاح معاشرہ بیان کرتے ہوئے آیات قرآنی و سنت نبویؑ کی روشنی میں معاشرے میں ہمیشہ سچ گوئی، عدل و انصاف اور سچوں کے ساتھ دینے کی ضرورت و اہمیت کو بیان کیا،جبکہ اخلاقی اور معاشرتی برائیوں جن سے قرآن مجید اور سنت نبویؑ میں روکا گیا ہے سے اجتناب کرنے کی تلقین فرماتے ہوئے ان برائیوں کی انسانی زندگی اور معاشرے میں تباہ کاریوں سے آگاہ فرمایا۔
خطبہ دوم:
علاقائی مسائل پر بات کرتےہوئے چند چیدہ نکات کی ضرورت و اہمیت پر زور دے کر حکومت اور عوامی نمائندے سے ان کے فوری حل کا مطالبہ فرمایا جن کا عوام نے بھر پور تائید کیا۔
1:سڑک:
تھورسہ بلامک کی سڑک جو کہ اس وقت خستہ حال ہوچکی ہے جس پر سفر کرنا انتہائی مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ سڑک کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے کم وقت کا سفر انتہائی طولانی اور مضر صحت ثابت ہو رہی ہے،لہذا حکومت وقت سے پرزور مطالبہ ہے کہ اس روڈ کی مرمت سمیت توسیع کا کام کریں ،خاص کر تھورسے سمرفو سے آگے کا سڑک خوشحال پاکستان فنڈز سے پرانی مقامی گلی کوچوں پر تعمیر ہوئی ہیں جس کی وجہ سے سڑک کے کنارے نکاسی اور آبی نہریں نہیں ہیں جو موجب بنتی ہے کہ لوگ کھیتوں کو پانی اسی سڑک سے گزار کر لے جائیں جس سے سڑک پر ہر جگہ ریت اور پتھر نکلے ہوئے ہیں جو مشینری سمیت انسانوں کو اذیت کا موجب ہے لہذا اس کا یا تو متبادل سڑک دیں یا اسی سڑک کو کشادہ کریں، اور اس پر اب تک صفائی کرنے والے نہ ہونے کی وجہ سے بھی یہ سڑک کبھی صاف یا مرمت نہ ہوئی لہذا فی الفور اس شہراہ پرپر بھی لیبر بھرتی کیا جائے ۔
2:صحت:
تھورسے بلامک جیسا وسیع و عریض علاقہ جس میں کم و بیش دس سے بارہ ہزار نفوس آباد ہیں میں مقامی سطح پر صرف ایک فرسٹ کلاس ڈسپنسری کی سہولت موجود ہے جس میں زیادہ تر ڈیوٹی نرس ادا کرتے ہیں جبکہ یہاں پر کم سے کم ایک میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر اور کئی فرسٹ ایڈ کی ڈسپنسریز معقول مسافت پر مکمل فعال ہونے چاہئے تاکہ اس وسیع اور ہارٹ ائیریا (Hot Area)کے لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولت گھر کے قریب میسر آئیں۔
اسی طرح یہ علاقہ کیونکہ دیہی آبادی پر مشتمل ہے اس لئے یہاں مال مویشی بھی بہت زیادہ ہے جبکہ علاقہ میںویٹٹرنری (Veterinary Hospital )موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے بہت سے وبائی امراض سے جانور ضایع ہوجاتے ہیں خاص کر انہیں دنوں میں بھی ایف ایم ڈی وائرس (FMD Virus) سے جانوں میں کھر اور منہ کی بیماری پھیلی ہوئی ہے جس سے اہل علاقہ اپنی مدد آپ کے تحت لڑ رہے ہیں۔لہذا اس علاقہ میں کم سے کم ایک جانوروں کا ہسپتال ہونا چاہئے۔
3:تعلیم:
دس سے بارہ ہزار نفوس کی آبادی پر مشتمل اس علاقہ میں اب تک کوئی ہائی سکول نہیں ہے ،تھورسے پرائیمری سکول پچھلے پنتالیس 45 برس سے ٹوٹل دو کمروں کے ساتھ چل رہا ہے جبکہ اس کو ابتک مڈل سکول کا درجہ ملنا چاہئے ، بلامک مڈل سکول بھی کئی سالوں سے اسی حالت میں چل رہا ہے اس میں چار سو 400 طلباء کے لئے صرف تین اساتذہ موجود ہیں جس سے سکول کی ابتری کا آپ خود بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں ،لہذا ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ علاقہ یں کئی پرائمری سطح کی اسکولز اور ہائی سکول کی سہولت فراہم کیا جائیں تاکہ اس غریب اور دور افتادہ علاقہ کے طلبہ و طالبات اپنے گھروں میں بیٹھ کر میٹرک سطح تک کی تعلیم بآسانی مکمل کر سکیں۔۔
4:پانی:
پورا علاقہ میں صاف ستھرا پانی کی قلت ہے جس کی وجہ سےلوگ گدھلا اور مضر صحت پانی کے استعمال پر مجبور ہیں ، اس کی وجہ سے پچھلے کئی سالوں سے ہونے والے اکثر اموات آنتوں اور میدہ کی کینسر سے ہوئی ہیں ،اس کے علاوہ اپینڈکس(Appendix) اور گردوں کے امراض میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،لہذا پانی کی ضرور کو فوری حل کیا جائیں خاص کر تھورسے سطح پر جنگل سے ڈھیڑ کروڑ روپے لگا کر ادھورا رکھا گیا پائیپ کو مکمل کیا جائیں۔
آخر میں یہ بات انتہائی مایوس کن ہے کہ پورا روندو سطح پر بنیادی انسانی سہولیات نہ ہونے کے باوجود بھارئ رقم کو اصطبل بنانے پر خرچ کرنے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس رقم کو بنیادی سہولیات جیسے صحت، تعلیم یا ٹرانسپورٹ وغیرہ پر خرچ کیا جاتا ، لہذا ہم حکومتی نمائدے سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں اس غریب علاقہ کے فنڈز کو بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خرچ کریں ،جس کی لوگوں کو سخت ضرورت ہے ، اور اصطبل بنانے پر اتنی رقم کے خرچ کی ہم شدید مخالفت اور مذمت کرتے ہیں۔ کل بروز قیامت اللہ کے سامنے ہم سب جوابدہ ہوں گے لہذا ہم نے اپنا فرض ادا کیا ہے اب نمائدہ اپنا فرض نہائیں۔
تائید کندگان:
عمائدین ،علماء عوام و نوجوانان تھورسے بلامک روندو گلگت بلتستان۔
محرر: ساجد علی ملک پی ایچ ڈی اسکالر۔

بمناسبت عالمی یومِ علی اصغر ع ۸ محرم الحرام بمطاق 4 جولائی  کو امام بار گاہ الصادقؑ میں کربلا کا شیر خوار شش ماہا باب ال...
03/07/2025

بمناسبت عالمی یومِ علی اصغر ع ۸ محرم الحرام بمطاق 4 جولائی کو امام بار گاہ الصادقؑ میں کربلا کا شیر خوار شش ماہا باب الحوائج حضرت علی اصغر الرضیعؑ کی شہادت کے سلسلہ میں خصوصی مجلس عزاء کا اہتمام کیا گیا ہے جس سے علامہ الشیخ علی نقی حیدری قاضی محکمہ شرعیہ گلگت خطاب فرمائیں گے آپ تمام مومنات اپنے شیر خوار بچوں کے ساتھ شرکت فر ما کر ثواب دارین حاصل کریں
الداعی الی الخیر:الداعی الی الخیر: نوجوانان تنظیم الصادقؑ جعفر آباد, تھورسے، بلامک روندو بلتستان

انتقالِ پر ملال إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَقابلِ صد احترام جناب حاجی علی ابن نورجان مرحوم و مغفور علالت...
20/01/2025

انتقالِ پر ملال
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
قابلِ صد احترام جناب حاجی علی ابن نورجان مرحوم و مغفور علالت کے بعد19 جنواری 2025 کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔
مرحوم و مغفور کے خانودہ کےساتھ غم میں برابر کے شریک اور تعزیت پیش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل اور مرحوم و مغفور کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطاء فرمائے۔آپ تمام احباب سے مرحوم کی ایصال ثواب کے لئے سورہ فاتحہ کی تلاوت کی اپیل ہے۔
شریک غم:نوجوانان تنظیم الصادق ؑجعفر آباد تھورسے

انا للّٰہ وانا الیہ راجعونانتہائی افسوس خبر حاجی علی ولد نورجان جعفرآباد تھورسے اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اللّٰہ تعالی...
20/01/2025

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

انتہائی افسوس خبر حاجی علی ولد نورجان جعفرآباد تھورسے اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے۔
اللّٰہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔
غم کی اس گھڑی میں ہم مرحوم کے گھر والوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور آپ تمام لوگوں سے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔
اللّہ تعالیٰ مرحوم کوجنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاءفرمائے (آمین)

تعزیت و تسلیت بخدمت حجۃ الاسلام و المسلمین حضرت آیت اللہ الشیخ محمد تقی جعفری دام ظلہ العالیہ۔محترمہ عابدہ المغفورہ دختر...
15/11/2024

تعزیت و تسلیت بخدمت حجۃ الاسلام و المسلمین حضرت آیت اللہ الشیخ محمد تقی جعفری دام ظلہ العالیہ۔
محترمہ عابدہ المغفورہ دختر نیک اختر حجۃ الاسلام و المسلمین آیت اللہ الشیخ تقی جعفری رضاء الہی سے اس دار فانی سے کوچ کر گئی۔
غم کی اس گڑی میں ہم اپنے عظیم مربی و معلم حاج آیت اللہ الشیخ تقی جعفری کے ساتھ برابر شریک اور آپ کی خدمت اقدس میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ شیخ بزرگوارو لواحقین کو صبر جمیل اور مرحومہ و مغفورہ کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطاء فرمائے۔
آپ تمام احباب سے مرحومہ کی ایصال ثواب کے لئے سورہ فاتحہ کی تلاوت کی اپیل ہے۔
شریک غم:نوجوانان تنظیم الصادق ؑجعفر آباد تھورسے

23/10/2024
مولا علیؑ نے فرمایاخَالِطُوا النَّاسَ مُخَالَطَةً اِنْ مِّتُّمْ مَّعَهَا بَكَوْا عَلَیْكُمْ، وَ اِنْ عِشْتُمْ حَنُّوْا ا...
30/09/2024

مولا علیؑ نے فرمایا
خَالِطُوا النَّاسَ مُخَالَطَةً اِنْ مِّتُّمْ مَّعَهَا بَكَوْا عَلَیْكُمْ، وَ اِنْ عِشْتُمْ حَنُّوْا اِلَیْكُمْ.
*لوگوں سے اس طریقہ سے ملو کہ اگر مر جاؤ تو تم پر روئیں، اور زندہ رہو تو تمہارے مشتاق ہوں۔*
•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱••┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•
‎‏For online Quran classes please contact us.
+923485875671
Website
https://alsadiqquranacademy.com

بدلا نہ تیرے بعد بھی موضوع گفتگوتو جا چکا ہے پھر بھی میری محفلوں میں ہےآج مرحوم و مغفور چچا جان حاج شیخ والایت علی زاہدی...
22/09/2024

بدلا نہ تیرے بعد بھی موضوع گفتگو
تو جا چکا ہے پھر بھی میری محفلوں میں ہے

آج مرحوم و مغفور چچا جان حاج شیخ والایت علی زاہدیؒ کی دوسری برسی ہے۔
آپ تمام مومنین سے مرحوم و مغفور کی ایصالِ ثواب کے لئے سورہ فاتحہ کی تلاوت کی اپیل ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے۔

ان دونوں بعض صاحبانِ ممبر جان بوجھ کر لوگوں میں قیام حسینیؑ کا مقصد کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہین ایسے میں ہم...
15/09/2024

ان دونوں بعض صاحبانِ ممبر جان بوجھ کر لوگوں میں قیام حسینیؑ کا مقصد کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہین ایسے میں ہماری او؛لین زمہ داری یہ بنتی ہے کہ ہم خود مولا حسینؑ اور ائمہ معصومین کے خطبات و احادیث کی جانب رجوع کریں اور دیکھیں کہ قیام حضرت امام حسینؑ کا مقصد کیا تھا؟ یہ پوسٹ اگرچہ طویل ضرور ہے مگر آپ کو مولا حسینؑ کی زبانی قیام حسینی کا مقصد کو سمجھنے میں مدد دے گی لہذا ایک بار ضرور پڑہیں۔

امام حسین علیہ السلام کے مقصد و فلسفہ قیام کو جاننے کے لئے سب سے بہترین اور سب سے مطمئن سند خود آپ کے یا دیگر ائمہ معصومینؑ کے ارشادات اور بیانات ہیں۔ آپ کے سارے خطبات، ارشادات، خطوط، وصیت نامے جو کہ آپ کے قیام کے اغراض و مقاصد کے سلسلہ میں ہیں نیز ائمہ معصومینؑ کی جانب سے امام حسین علیہ السلام کے لئے وارد زیارت ناموں میں بھی آپ کے قیام کے اغراض و مقاصد کو بیان کیا گیا ہے ذیل میں ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے:
۱۔ امام حسین علیہ السلام نے مکہ مکرمہ میں عالم اسلام کے مختلف علاقوں کے علماء و دانشوروں کے اجتماع میں ایک ولولہ انگیز اور دندان شکن خطبہ ارشاد فرمایا اور آپ نے اس خطبہ میں دین اور مسلمانوں کے عقائد کے تحفظ کے لئے علماء اوربزرگان شہر و دیار کی عظیم ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی نیز بنی امیہ کے مظالم کے سامنے ان کی خاموشی اور اموی حکمرانوں کی دین دشمن سیاست کے مقابلہ میں ان کے سکوت پر ان کی سرزنش اور تنقید کی۔ نیز بنی امیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون اور صلح و مصالحت کو ناقبل بخشش گناہ قرار دیا۔ امام علیہ السلام نے ظالم حاکم نظام کے خلاف اپنے اقدامات جو کہ چند برس بعد ایک انقلاب کی شکل میں سامنے آئے، کے مقصد کا اعلان اس طرح فرماتے ہیں:
خدایا! تو جانتا ہے کہ ہم جو کچھ انجام دے رہے ہیں (جیسے اموی حکمرانوں کے خلاف خطبے اور اقدامات) یہ سب حکومت اور دنیا کی ناچیز متاع میں سبقت کی خاطر نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ ہم تیرے دین کی نشانی لوگوں کو دکھا دیں (برپا کریں) اور تیری سرزمین پر اصلاح کو ظاہرو آشکار کریں۔ میں چاہتا ہوں کے تیرے ستم رسیدہ بندے امن و امان میں رہیں اور تیرے احکام و قوانین پر عمل کیا جائے۔
(تحف العقول،ص ۲۳۹)
ان جملات میں غور و فکر سے یزید کے دور میں امام حسینؑ کے اقدامات کے چار اصل مقصد سامنے آتے ہیں:
الف: حقیقی اسلام کی نشانیوں کو زندہ کرنا۔
ب: اسلامی مملکت کے لوگوں کی حالت کی اصلاح و بہبودی۔
ج: ستم رسیدہ لوگوں کے لئے امن و امان کی فراہمی۔
د: احکام و واجبات الٰہی پر عمل کے لئے مناسب مواقع فراہم کرنا۔
۲۔ امام حسینؑنے مدینہ سے رخصتی کے وقت اپنے بھائی محمد حنفیہ کے نام ایک وصیت نامہ تحریر فرمایا اور اس میں اپنے قیام کے مقصد کو اس طرح تحریر فرمایا:
میں نے نہ تو سر مستی اور گستاخی کی خاطر اور نہ ہی فتنہ و فساد اور ظلم و زیادتی کی خاطر قیام کیا ہے بلکہ میں صرف اپنے جد کی امت کی اصلاح کے لئے نکلا ہوں۔
میں تو امر بالمعروف، نہی عن لمنکر کرنا چاہتا ہوں اور اپنے جد اور اپنےوالد علی ابن ابی طالب ؑ کی سیرت پر چلنا چاہتا ہوں(عمل کرنا چاہتا ہوں)
(کتاب الفتوح، ابن اعثم کوفی ج۵ ص۲۱)
ایک دوسرے مقام پرفرماتے ہیں: خدایا! مجھے معروف(نیکی) سے محبت ہے اور میں منکر (برائی) کو ناپسند کرتا ہوں۔
(مقتل الحسین، خوارزمی، ج۱،ص۱۸۶)
ائمہ معصومین علیہم السلام کی زبانی امام حسین علیہ السلام کی مختلف زیارتوں میں یہ تعبیر بکثرت مشاہدہ کی جاتی ہے :
اَشْهَدُ اَنَّکَ قَدْ اَقَمْتَ الصَّلوهَ وَآتَیْتَ الزَّکوهَ وَاَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنْ الْمُنْکَرِ۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی،نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا ۔
اس عبارت کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے قیام کے مندرجہ ذیل مقاصد ہو سکتے ہیں:
الف:امت رسولؐکی امور کی اصلاح
ب: امر بالمعروف
ج:نہی عن المنکر
د:رسول خدا ؐاور امیرالمومنین علیہ السلام کی سیرت پر عمل کرنا جیسے نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا۔
۳۔ امام حسین علیہ السلام نے مکہ میں قیام کے دوران اہل کوفہ کے خطوط کے جواب میں جو خط تحریر فرمایا تھااس خط میں اپنے قیام کے مقصد کو اس طرح تحریر فرمایاتھا:
میری جان کی قسم ! حاکم وہی ہے جو کتاب خدا پر عمل کرے ، عدل و انصاف کو قائم کرے، حق پر عقیدہ وایمان رکھے اور اپنے آپ کو راہ خدا میں وقف کر دے والسلام۔
(تاریخ طبری، ج۵،ص۳۵۳)
امام علیہ السلام اس خط میں قیام کا مقصد ایک ایسی حکومت کےقیام کے لئے کوشش قرار دیتے ہیں کہ جس کا حاکم و پیشوا مندرجہ ذیل صفات و خصوصیات کا حامل ہو:
الف: کتاب خدا کے مطابق حکومت کرے۔
ب:معاشرہ میں عدل و انصاف قائم کرے۔
ج:دیندار اور دین خدا پر عقیدہ و ایمان رکھنے والاہو۔
د: اپنےاآپ کو خدا اور مقاصد الٰہیہ کے لئے وقف کر دے۔
۴۔ امام حسینؑ نے اپنی مدد اور تعاون کی خاطر بصرہ کے بزرگوں کو ایک خط لکھا اور اسی میں اپنے قیام کا مقصد اس طرح تحریر فرمایا:
میں تمھیں کتاب خدا اور سنت رسولؐ خداکی طرف بلاتا ہوں اس لئے کہ سنت کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہےا ور بدعت کو زندہ کر دیا گیا ہے۔
(تاریخ طبری ج۵ص ۳۵۷)
امام؈ عبداللہ بن مطیع کے جواب میں فرماتے ہیں:
کوفیوں نے میرے پاس خط لکھا ہے اور مجھ سے درخواست کی ہے کہ میں ان کے پاس جائوں اس لئے کہ انھیں امید ہے کہ میری قیادت میں حق کی نشانیاں زندہ اور بدعتیں نیست و نابود ہوں گی۔
(الاخبار الطوال ص ۳۶۴)
امام حسین ؈نے بصرہ کے شیعوں کے نام ایک خط میں تحریر فرمایا:
میں تمھیں حق کی نشانیوں کو زندہ کرنے اور بدعتوں کو نیست و نابود کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔
(الاخبار الطوال ص ۳۴۲)
امام؈نے ان خطوط اور جوابت کی روشنی میں قیام عاشورا کے مندرجہ ذیل اغراض و مقاصد کا علم حاصل ہوتا ہے:
الف: خدا کی کتاب اور رسولؐخدا کی سنت کی طرف دعوت اوراس پر عمل
ب: ان بدعتوں کو نیست و نابود کرنا جو احکام الٰہی اور سنت نبوی کی جگہ بیٹھ گئی ہیں۔
ج: رسول خدا؈ کی نابود سنت کو زندہ کرنا اور حق و حقیقت کی نشانیوں کو قائم کرنا۔
۵۔ امام حسینؑ نے منزل بیضہ میں حر بن یزید ریاحی کےلشکر سے روبرو ہونے کے بعد ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور آپ نے اس خطبہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ارشاد کو دلیل بناتے ہوئے مقصد قیام کو اس طرح بیان فرمایا ہے:
اے لوگو! جو شخص کسی ظالم حاکم کو دیکھے جو کہ حرام خدا کو حلال کر رہا ہو، خدا کے عہد و پیمان کو توڑ رہا ہو، رسول خداؐکی سنت کی خلاف ورزی کر رہا ہو اور بندگان خدا کے ساتھ ظلم و زیادتی کا برتائو کر رہا ہو لیکن وہ شخص اس کے خلاف قول و فعل کے ذریعہ اٹھ کھڑا نہ ہو تو خدا پر ہے کہ اسے بھی اس ستمگر کے ٹھکانے تک پہونچا دے۔ اے لوگو! جان لو کہ ان لوگوں نے شیطان کی فرمانبرداری کو قبول کر لیا ہے اور ان فرمان الٰہی کی اطاعت سے آزاد ہو گئے ہیں ، فساد کو ظاہر کیا ہے اور حدود الٰہی کو معطل کر دیا ہے اور مسلمانوں کے بیت المال کو اپنے آپ سے مخصوص کر دیا ہے، حرام خدا کو حلال اور حلال خدا کو حرام کر دیا ہےاور میں مسلمانوں کے امور میں تبدیل لانے کے لئے سب سے لائق انسان ہو۔
(تاریخ طبری ج ۵ص ۴۰۳)
اس خطبہ سے سید الشہداء؈کے قیام کا مقصد یہ سمجھا جاتا ہے کہ بنی امیہ کے حکمرانوں بالخصوص یزید ملعون نے اسلام کے خلاف قدم اٹھائے تھے او وہ مندرجہ ذیل ہیں:
الف: شیطان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا اور خدا کی فرمانبردار کو بالائے طاق رکھنا۔
ب: روئے زمین پر فتنہ و فساد برپا کرنا۔
ج: حدود الٰہی کو معطل کرنا۔
د: بیت المال کو اپنی جاگیر بنالینا۔
ھ: حلال خدا کو حرام اور حرام خدا کو حلال کرنا۔
اسی لئے ہم امام حسینؑ کی زیارت میں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے احکام الٰہیہ اور سنت رسول خدا و امیر المومنین صلوات اللہ علیہما وآلہماکو نافذ و قائم فرمایا ہے۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے حلال خدا کو حلال اور حرام خدا کو حرام کیا۔ نماز قائم کی، زکات ادا کی، نیکیوں کا حکم دیا، برائیوں سے روکا اور مسلمانوں کو وعظ و نصیحت کے ذریعہ اپنے دین و آئین کی طرف دعوت دی۔
نیز عرض کر تے ہیں:ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم دیا اور مسلمانوں کو ان دونوں چیزوں کی طرف دعوت دی۔
۶۔ امام حسینؑ نے منزل ذُو حُسَم پر اپنے قیام کے مقصد کو اس طرح بیان فرمایا :
کیاتم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا ہے اور باطل سے روکا نہیں جا رہا ہے؟! ایسے حالات میں تو مرد مومن کو دیدار الٰہی کا خواہاں ہوناچاہئے۔ میں ایسی موت کو صرف شہادت جانتا ہوں اور ظالمین کے ساتھ زندگی کو ننگ و عار کے علاوہ کچھ اور نہیں سمجھتا۔
امام ؈ذلت برداشت نہ کرنے کو قیام کے ایک دوسرے مقصد کے تحت مختلف خطبات میں بیان فرمایا ہے منجملہ جیسا عبیداللہ ابن زیاد نے امام حسینؑ کے سامنے دو راستے رکھے تھے یا شہادت یا بیعت یزید، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ذلت ہم سے دور ہے اور خدا، رسول خداؐاور صاحبان ایمان نے ایسے ننگ و عار کو ہمارے لئے ذرہ برابر بھی پسند نہیں کیا ہے۔
(اثبات الوصیہ، ص ۱۶۶)
نیز فرمایا: ذلت و رسوائی قبول کرنا ہم میں سے بہت دور ہے اس لئے کہ خدا و رسول نے اس سے انکار فرمایا ہے۔
(مقتل الحسینؑ خوارزمی ج۲ص۷)
اس حصہ میں قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ امام حسینؑنے ذلت کو قبول نہ کرنے کی نسبت امر خدا، رسول اکرمؐاور صا حبان ایمان کی جانب دیا ہے اس لئے کہ حقیقی صاحب ایمان حکم خدا اور سنت نبوی ؐ کی پیروی کی بنا پر کبھی بھی ذلت قبول نہیں کرےگا۔
امام حسینؑ نے ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے:
خدا کی قسم میں بیعت کے عنوان سے ذلیل و خوار آدمی کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دوں گا اور نہ ہی غلاموں کی طرح فرار اختیار کروں گا۔
(الارشاد ج۲ص۹۸)
نیزارشادفرمایا:
مَوتٌ فِی عِزٍّ خَیْرٌ مِنْ حَیَاۃٌ فِی ذُلّ۔
عزت کے ساتھ مرجانا ذلت کےساتھ زندگی بسر کرنے سے بہتر ہے۔
(مناقب ابن شہر آشوب ج۴ص ۷۵)
امام؈کے ان ارشادات سے ان اغراض و مقاصد کا علم ہوتا ہے:
الف: حق کو رائج کرنا اور اس پر عمل کرنا۔
ب: باطل کو رائج ہونے سے روکنا اور اس پر عمل کرنے سے بازرکھنا۔
ج: دنیا کی ذلت وخواری والی زندگی کو قبول نہ کرنا اور آخرت کی سعادت مند زندگی کو منتخب کرنا۔
امام جعفر صادق؈ زیارت اربعین میں قیام حسینی کے مقصد کو اس طرح بیان فرماتے ہیں:
وَبَذَلَ مُهْجَتَهُ فیکَ لِیَسْتَنْقِذَ عِبادَکَ مِنَ الْجَهالَةِ، وَحَیْرَةِ الضَّلالَةِ۔
(تہذیب الاحکام، ج۶،ص۱۲۶)
امام حسین بن علی علیہما السلام نے تیری راہ میں اپنی جان فدا کر دی تاکہ تیرے بندوں کو نادانی اور گمراہی کی سر گردانی و حیرانی سے نجات دلائیں۔
امام صادق؈ کے ارشاد کی روشنی میں سید الشہداء کے مقصد قیام کو مندرجہ ذیل اغراض و مقاصدمیں پیش کیا جا سکتا ہے:
الف: مسلمانوں کو خدا کے احکام اور اپنے فرائض کی بے خبری سے نجات دلانا۔
ب: بندگان خدا کو گمراہی سے نجات دلانا، انھیں دین کے حقیقی رہنمائوں کی اطاعت و پیروی کے لازم ہونے سے آگاہ کرنا۔
نتیجہ اور ماحصل
امام حسین ؈کے بیانات و ارشادات سے نکالے گئے اغراض و مقاصد میں مختصر غور وفکر کرکے یہ دیکھاجا سکتا ہے کہ آپ اپنے قیام کا مقصد اور علت اسلامی معاشرہ میں کثیر تعداد میں پھیلے منکرات اور برائیوں کا مقابلہ کرنا اور مسلمانوں کےد رمیان معروف اور نیکیوں کو رائج کرنا ہے۔ لہٰذا آپ کے قیام کے اصلی فلسفہ کو ایک جامع ہدف و مقصد میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے او روہ حقیقی اسلام کو زندہ کرنا اور اپنے جد کے دین سے بدعتوں اور تحریفوں کو نکال باہر کرنا ہے۔ البتہ امام؈نے اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو وسیلہ قرار دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے بھائی محمد حنفیہ کے نام وصیت نامہ میں تحریر فرمایا تھا:
اُرِیْدُاَن آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ اَنْھَی عَنِ الْمُنْکَر۔
اور جیسا کہ بیان کیا گیا امام حسین علیہ السلام کی زیارتوں میں آیا ہے:
اَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنْ الْمُنْکَرِ۔
وضاحت: اگر امام حسینؑ اپنے قیام کا مقصد وعلت بدعتوں کے رواج، کتاب خدا کی مخالفت، حلال و حرام خدا، سنت نبوی کی نابودی، شیطان کو محور بنانا اور اہلبیت کو چھوڑنا، فساد، ظلم و زیادتی، بے انصافی، اسلامی معاشرہ میں بدامنی، دور الٰہی کو معطل کرنا اور بیت المال کو اپنی ملکیت بنا لینا وغیرہ قرار دیتے ہیں تو یہ تمام چیزیں اس بات کی نشاندہی کر تی ہیں کہ معاشرہ میں منکرات حد سے زیادہ پھیل چکے تھے کہ آپ نے اپنا فریضہ نہی عن المنکر قرار دیا۔ نیز اگر امام حسینؑاسلامی معاشرہ کو کتاب خدا، سنت نبوی پر عمل، حق کی نشانیوں کو زندہ کرنا، امن و امان پیدا کرنا، امت کے امور کی اصلاح کرنا وغیرہ کی جانب دعوت دیتے ہیں تو یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معروف نامی چیز سماج سے رخصت ہو گئی تھی یا کم ازکم نابود کے دہانے پر تھی۔اسی لئے اگر امام حسینؑ نے بیعت یزید سے انکار کر دیا اور آپ نے ایسا کرکے ایک طرف تو اپنے آپ کو شہادت اور حکومت یزید کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنے کا اعلان کر دیا تو دوسری جانب یزید کی حکومت کو سرنگوں کرنے اور اسلامی حکومت کے قیام کے لئے سعی و کوشش فرمائی۔
درحقیقت انکار بیعت، نہی عن المنکر، معروف کو رائج کرنے، بنی امیہ کی بدعتوں اور مظالم کے سامنے خاموشی کی حرمت کے سلسلہ میں مسلمانوں پر اتمام حجت کرنے کے معنی میں ہے۔ جیسا کہ ایسی حکومت کی بیعت کرنا یا اس کے سامنے خاموشی اختیار کرنا منکر کو رائج کرنے اور معروف سے مقابلہ کرنے کے علاوہ عام لوگوں کے لئے اموی حکمرانوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے عذر وبہانہ بنتا تھا۔
دوسرے لفظوں میں امام معصوم ہونے کے محاظ سے امام حسینؑ کی سیرت میں جو بات مسلم اور ناقابل انکار نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ جیسی شخصیت اس بات کے لئے تیار نہیں تھی کہ وہ یزید جیسے آدمی کی بیعت کرے اور اس کی حکومت کو قانونی حکومت تسلیم کرے۔ اس لئے کہ آپ معاویہ کے دور حکومت اس کے بعد یزید کے دور حکومت میں امت مسلمہ کی گمراہی کی گہرائی دیکھ کر اس نتیجہ تک پہونچے تھے کہ اب وعظ و نصیحت اور پر جوش خطبوں کے ذریعہ اس انحراف و گمراہی کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے جو اسلامی معاشرہ نیز حکومت کے سیاسی اور اعتقادی بنیادوں میں رچ بس چکی ہے۔ لہٰذا اب امام؈ کی نظرمیں امت مسلمہ کی واحد راہ علاج اور نجات ایک ہمہ گیر قیام ہے کہ جس کا عکس العمل اور وسعت نہ صرف یہ کہ مکان سے محدود نہ رہی بلکہ زمانہ کے حدود کو بھی پار کر گئی اور ہر دور کے آزادی خواہ انسانوں کے لئے ایک نمونہ بن گئی۔ البتہ مد مقابل یزید ملعون بھی کوئی ایسا آدمی نہیں تھا جو امام؈ سے بیعت لئے بغیر سکون سے بیٹھ جاتا اس لئے کہ امام حسینؑ جیسے افراد کا یزید کی حکومت کو قانونی نہ ماننا اس کی حکومت کی مشروعیت کو رد کرنے اور ٹھکرانے اور حکومت سے جنگ کرنےکے معنی میں تھا اور یزید اس بات سے اچھی طرح واقف تھا۔

مہینہ كی پہلی تاریخ کی نمازمستحب نمازوں میں ایک نماز ہر ہجری (اسلامی) مہینے کی پہلی تاریخ کو دو رکعت نماز پڑھنا ہے کہ جس...
05/09/2024

مہینہ كی پہلی تاریخ کی نماز
مستحب نمازوں میں ایک نماز ہر ہجری (اسلامی) مہینے کی پہلی تاریخ کو دو رکعت نماز پڑھنا ہے کہ جسے اول ماہ کی نماز کہا جاتا ہے جس کے انجام دینے کا طریقہ یہ ہے :
نماز گزار اس نماز کی پہلی رکعت میں سورہٴ حمد کے بعد تیس مرتبہ "قل هو الله احد" اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد تیس مرتبہ "انا انزلناه فی لیلة القدر" پڑھے اور نماز کے بعداپنی مالی وسعت کے مطابق صدقہ دے اور اس نماز کو مہینے کی پہلی تاریخ کو دن میں کسی بھی وقت پڑھا جا سکتا ہے۔
پھر اس نماز کے بعد مندرجہ ذیل آیات کا پڑھنا مستحب شمار کیا گیا ہے:
•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱••┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•
‎‏For online Quran classes please contact us.
+923485875671
Website
https://alsadiqquranacademy.com

Address

Jafar Abad Thourca Bilamic Roundu Gilgit Baltistan Pakistan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Sadiq as Organization Youth of Jafar Abad Thorchay posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Al Sadiq as Organization Youth of Jafar Abad Thorchay:

  • Want your organization to be the top-listed Non Profit Organization?

Share