Punial Ki Awaz

Punial Ki Awaz Raising voice for Punial, real issues, real people.

15/05/2026

ناجی صاحب خود فرماتے ہیں کہ ہماری قوم اُن لوگوں کو پسند کرتی ہے جو لمبی لمبی چھوڑتے ہیں، بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، اور پھر ہم ہی انہیں منتخب کرکے یونین کونسل یا اسمبلی تک پہنچا دیتے ہیں۔ اگر اس بات کو غور سے دیکھا جائے تو اس میں ایک تلخ سچائی چھپی ہوئی ہے۔ کیونکہ اگر واقعی ہماری ترجیح صرف جذباتی تقاریر اور کھوکھلے وعدے ہیں، تو پھر اس سے بڑھ کر لمبی لمبی چھوڑنے والا خود ناجی صاحب سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ اور شاید یہی وجہ ہے کہ پچھلی تین مرتبہ ہماری عوام نے انہیں اسمبلی کا رکن بنایا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہم ایسی قوم ہیں؟
کیا ہم اپنے ووٹ کی طاقت کو صرف جذباتی نعروں اور وقتی جوش کے حوالے کر دیتے ہیں؟
کیا ہماری ترجیح صرف وہ شخص ہے جو اسٹیج پر کھڑے ہو کر دلکش انداز میں باتیں کرے، چاہے اُس کے پاس عملی کام کا کوئی ثبوت نہ ہو؟

آج وقت آ چکا ہے کہ ہم خود سے یہ سوال کریں۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم جذبات کے پیچھے چلنے والی بھیڑ ہیں یا ایک باشعور قوم۔

ایک باشعور قوم وہ ہوتی ہے جو نعروں سے نہیں، کردار سے فیصلہ کرتی ہے۔
وہ وعدوں سے نہیں، کارکردگی سے متاثر ہوتی ہے۔
وہ باتوں سے نہیں، عمل سے امید رکھتی ہے۔

ہمیں ایسے نمائندے کی ضرورت ہے جو شاید خوبصورت تقاریر نہ کر سکے، جو شاید بڑے بڑے دعوے نہ کرے، لیکن وہ خاموشی سے، سنجیدگی سے، اور خلوص کے ساتھ اپنی عوام کے مستقبل کے لیے کام کرے۔ جو ترقی کے لیے منصوبہ بنائے، خوشحالی کے لیے محنت کرے، اور اپنے علاقے کو واقعی آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
ہم نے اگر آج بھی صرف جذبات میں آ کر ووٹ دیا، تو آنے والے سال بھی ایسے ہی گزر جائیں گے—باتیں، وعدے، اور مایوسی۔

لیکن اگر ہم نے ہوش مندی، شعور اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا،
تو یہی ووٹ ہماری تقدیر بدل سکتا ہے۔

اُٹھو، سوچو، اور اپنے ووٹ کی قدر پہچانو۔
کیونکہ ایک باشعور فیصلہ ہی ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے

08/05/2026
45 سال کی سیاست کا نعرہ لگانے والوں سے یہ بھی پوچھ لینا چاہیے کہ بُبُر، سلپی اور شیرقِلعہ کے RCC پل آخر کس نے بنوائے؟جس ...
05/05/2026

45 سال کی سیاست کا نعرہ لگانے والوں سے یہ بھی پوچھ لینا چاہیے کہ بُبُر، سلپی اور شیرقِلعہ کے RCC پل آخر کس نے بنوائے؟

جس پل پر آج BNF کا جھنڈا لگا کر سیاست کی جا رہی ہے، وہ دراصل پیر صاحب کے ADP کا حصہ تھا، اور اسے Mehdi Shah نے اپنے دورِ حکومت میں شامل کیا تھا۔

تاریخ کو نظر انداز کر کے صرف نعرے لگانے سے حقیقت نہیں بدل سکتی!

یہ تصویر ہمیں ایک گہرا پیغام دیتی ہے —جب آنکھوں پر پٹی بندھی ہو تو حقیقت نظر نہیں آتی۔وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے ...
02/05/2026

یہ تصویر ہمیں ایک گہرا پیغام دیتی ہے —
جب آنکھوں پر پٹی بندھی ہو تو حقیقت نظر نہیں آتی۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے حالات کو خود دیکھیں، سمجھیں اور شعور کے ساتھ فیصلے کریں۔
ترقی، تعلیم اور بہتری کے لیے ضروری ہے کہ ہم سوال کریں، سچ کو پہچانیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔

ووٹ صرف ایک حق نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے۔
اپنے علاقے کی ترقی، نوجوانوں کے مستقبل اور بہتر تعلیم کے لیے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔

آنکھیں کھولیں، شعور اپنائیں —
کیونکہ ایک باخبر ووٹر ہی ایک مضبوط معاشرہ بناتا ہے

🚫 عوامِ غذر حلقہ 1 کا دوٹوک فیصلہ — اب نہیں مزید دھوکہ!عوامِ غذر حلقہ نمبر 1 اب بیدار ہو چکی ہے۔BNF اور ناجی کی سیاست سے...
30/04/2026

🚫 عوامِ غذر حلقہ 1 کا دوٹوک فیصلہ — اب نہیں مزید دھوکہ!

عوامِ غذر حلقہ نمبر 1 اب بیدار ہو چکی ہے۔
BNF اور ناجی کی سیاست سے لوگ مایوس ہی نہیں، بلکہ تنگ آ چکے ہیں۔ ایک ایک کر کے لوگ ان جماعتوں کو چھوڑ رہے ہیں کیونکہ اب سب کو اپنے علاقے کی بہتری عزیز ہے۔

گزشتہ تقریباً 15 سالوں میں، تین بار منتخب ہونے کے باوجود، زمین پر کارکردگی صفر رہی۔ نہ ترقی، نہ بنیادی سہولیات، نہ عوام کے مسائل کا حل۔ صرف وعدے، دعوے اور وقت کا ضیاع۔

اب عوام نے فیصلہ کر لیا ہے:
بس بہت ہو گیا — اب مزید نہیں!

نہ BNF، نہ ناجی —
اب وقت ہے حقیقی تبدیلی کا،
اب وقت ہے ترقی کا،
اب وقت ہے اپنے غذر کو آگے لے جانے کا۔

آئیں مل کر ایک نیا راستہ چنیں،
جہاں باتیں نہیں، کام ہو۔
جہاں وعدے نہیں، نتائج ہوں۔

غذر کا مستقبل اب عوام خود لکھے گی۔ ✊

بریکنگ نیوزحلقہ نمبر 1 غذر کے لیےہاتون سے شاہ خالداور دَیین سے عظیمالیکشن 2026 کے لیے نااہل قرار
28/04/2026

بریکنگ نیوز

حلقہ نمبر 1 غذر کے لیے
ہاتون سے شاہ خالد
اور دَیین سے عظیم

الیکشن 2026 کے لیے نااہل قرار

سید جلال علی شاہ وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان کے لیے ایک مضبوط اور باصلاحیت امیدوار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔حلقہ 1 غذر کے ...
28/04/2026

سید جلال علی شاہ وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان کے لیے ایک مضبوط اور باصلاحیت امیدوار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

حلقہ 1 غذر کے عوام کے لیے یہ صرف ایک ووٹ نہیں، بلکہ اپنے مستقبل، اپنے حق اور اپنی شناخت کا فیصلہ ہے۔ برسوں سے ہم بہتر نمائندگی اور حقیقی ترقی کی امید رکھتے آئے ہیں—اب وقت آ گیا ہے کہ ہم وہ فیصلہ کریں جو ہمارے آنے والے کل کو بدل سکے۔

سید جلال علی شاہ اپنی مضبوط تعلیمی بنیاد، واضح وژن اور عوامی مسائل کی گہری سمجھ کے ساتھ ایک ایسی قیادت کے طور پر سامنے آتے ہیں جو صرف باتیں نہیں بلکہ عملی تبدیلی لا سکتی ہے۔ ان میں وہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ غذر کی آواز کو مضبوط کریں اور پورے گلگت بلتستان میں ایک مؤثر قیادت فراہم کریں۔

آج غذر ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک درست فیصلہ نہ صرف حلقہ 1 بلکہ پورے علاقے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آواز سنی جائے، ہماری نمائندگی مضبوط ہو اور ہمارا مستقبل محفوظ ہو، تو ہمیں سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔

یہ وقت ہے ایک نئے فیصلہ کا، ایک نئی سمت کا، اور ایک مضبوط قیادت کا۔

الیکشن محض ایک رسمی عمل نہیں بلکہ ایک امانت ہے، ایک بڑی ذمہ داری ہے، اور وہ موقع ہے جہاں ہم اپنی آواز کو حقیقی طاقت میں ...
26/04/2026

الیکشن محض ایک رسمی عمل نہیں بلکہ ایک امانت ہے، ایک بڑی ذمہ داری ہے، اور وہ موقع ہے جہاں ہم اپنی آواز کو حقیقی طاقت میں بدل سکتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ہم یہ طے کرتے ہیں کہ ہمارے علاقے کی ترقی کس کے ہاتھ میں ہوگی، ہمارے مسائل کون حل کرے گا، اور ہماری آنے والی نسلیں کس نظام میں پروان چڑھیں گی۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم ووٹ دینے سے پہلے صرف نعروں اور جذباتی تقاریر سے متاثر نہ ہوں، بلکہ اپنے ضمیر کی آواز سنیں۔ امیدوار کی صلاحیت، کردار، وژن اور عملی کارکردگی کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ یہ دیکھیں کہ کون واقعی عوام کے مسائل کو سمجھتا ہے اور ان کے حل کے لیے مخلص اور سنجیدہ ہے—نہ کہ وہ لوگ جو صرف باتوں سے کام چلاتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کھل کر یہ فیصلہ کریں: جو لوگ پچھلے 15 سالوں سے عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں، جھوٹے وعدے کر رہے ہیں اور صرف جذباتی تقریروں سے لوگوں کو بہلا رہے ہیں—ان سے اب جان چھڑائیں۔ انہیں مزید موقع دینا دراصل اپنے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے برابر ہے۔
ہمیں ایسے لوگوں کو آگے لانا ہوگا جو صرف باتیں نہیں بلکہ عمل بھی کرتے ہوں، جو دیانتدار ہوں، اہل ہوں اور واقعی اپنے علاقے اور عوام کی بہتری کے لیے کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں۔
یاد رکھیں، ایک باشعور ووٹر ہی ایک مضبوط اور خوشحال معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے ووٹ کا درست استعمال کیا تو نہ صرف ہمارا آج بہتر ہوگا بلکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی ایک روشن، محفوظ اور مستحکم مستقبل کی وارث بنیں گی۔ لیکن اگر ہم نے دوبارہ وہی غلطی دہرائی تو نقصان ہماری آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔
لہٰذا آج فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے — کیا آپ اپنے ووٹ کو ایک رسمی عمل سمجھ کر ضائع کریں گے، یا اسے ایک طاقتور ہتھیار بنا کر پرانی، ناکام قیادت سے جان چھڑا کر ایک نئے اور بہتر مستقبل کی بنیاد رکھیں گے؟

Address

Punial, Ghizer
Gilgit Baltistan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Punial Ki Awaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share