20/11/2025
چلا گیا وہ چراغ جو صدیوں دلوں میں اجالا کرتا رہے گا،
مولانا لال محمد بانیاں رخصت ہوئے، مگر اُن کی روشنی ابھی باقی ہے
مولانا لال محمد بانیاں کے انتقال کی خبر دلی رنج و افسوس کا باعث بنی۔
وہ ایک ایسے سیاسی رہنما تھے جو اپنی نرم گفتاری، شاندار یادداشت، تاریخ پر غیر معمولی دسترس اور عوامی حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
انہوں نے اپنی پوری زندگی ظلم، ناانصافی اور غلط رویّوں کے خلاف ڈٹ کر مزاحمت میں گزاری۔ وہ ہر اُس مرحلے پر کھڑے رہے جہاں عوامی حق تلفی ہو رہی تھی، اور اپنے قول و فعل سے ثابت کیا کہ ایک سچا سیاسی کارکن کبھی اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔
مولانا لال محمد بانیاں صاحب نے نہ صرف سیاسی میدان میں جہدِ مسلسل کی بلکہ سماجی سطح پر بھی انسانیت، اخلاص اور خدمت کا ایک روشن باب رقم کیا۔ ان کی شخصیت میں وقار، بردباری، اصول پسندی اور اعلیٰ سیاسی شعور نمایاں تھا۔
ان کی پوری جدوجہد عوامی خدمت، اصولی سیاست اور تاریخی بصیرت کا ایسا امتزاج تھی جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔
مولانا لال محمد بانیاں کی وفات سے ہمیں ایک ایسے رہنما سے محرومی ہوئی ہے جو نہ صرف علم و تاریخ کا سرمایہ تھے بلکہ سیاسی اخلاقیات کی عملی مثال بھی تھے۔ ان کا کردار، خدمات اور جدوجہد ہمیشہ زندہ رہیں گی اور اُن کا نام خطے کی سیاسی تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھا جائے گا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مولانا لال محمد بانیاں کی طویل سیاسی جدوجہد نے آخرکار اپنا ثمر دیا۔ اُن کی اصولی سیاست، نظریاتی شفافیت اور عوامی حقوق کے لیے مسلسل کوششوں نے جس بیج کو بویا تھا، وہ آگے چل کر عملی صورت میں اُس وقت پھلا پھولا جب جاوید اقبال بڈھانوی جیسے باصلاحیت اور عوامی شعور رکھنے والے رہنما سامنے آئے۔
جاوید اقبال بڈھانوی کی سیاسی مضبوطی، عوام دوست طرزِ عمل اور خطے کی سیاست میں اُن کا نمایاں کردار دراصل مولانا لال محمد بانیاں کی اُس محنت، تربیت اور جدوجہد کا عملی تسلسل ہے جو انہوں نے برسوں پہلے شروع کی تھی۔
مولانا صاحب کا یہ سیاسی وارثانہ تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ اُن کی فکر زندہ ہے، اُن کے نظریات نے نئی نسلوں کو راستہ دکھایا ہے، اور اُن کے بوئے ہوئے اصولی سیاست کے پودے آج درخت بن کر عوام کو سایہ دے رہے ہیں۔
یقیناً جاوید اقبال بڈھانوی کی موجودگی اور سیاسی کامیابیاں مولانا لال بانیاں کی جدوجہد کا روشن ثمر اور اُن کی زندگی کی کاوشوں کا عملی ترجمان ہیں
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی سیاسی و سماجی خدمات کو قبول فرمائے، اور لواحقین و چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین
(زاکر زیشان بڈھانوی)