Bustan Uwaisiya Welfare Forum

Bustan Uwaisiya Welfare Forum https://www.youtube.com/
Serving human beings This forum is created to cheers Up the GIS Professionals in every field of life.

I hope all of you will put yours contributions through this forum by sharing yours ideas and helping each other in order to make it Great Discipline among all Sciences...

19/04/2026

159 likes. "مجھے دعا میں یاد رکھیں"

10/11/2025
22/05/2024
May Allah Kareem Protect innocent humans
08/05/2024

May Allah Kareem Protect innocent humans

کلام - - واصف علی واصف افسردہ ہیں افلاک و زمیں ، عید مبارکآزردہ مکان اور مکیں ، عید مبارکنمناک ندامت سے جبیں ، عید مبارک...
09/04/2024

کلام - - واصف علی واصف

افسردہ ہیں افلاک و زمیں ، عید مبارک
آزردہ مکان اور مکیں ، عید مبارک

نمناک ندامت سے جبیں ، عید مبارک
یہ عید کوئی عید نہیں ، عید مبارک

یہ صبحِ مسّرت ہے کہ ہے شامِ غریباں
رنجیدہ و دلگیر و حزیں ، عید مبارک

ملّت کے جواں قید ہیں پابندِ سلاسل
پردیس میں کیمپوں کے مکیں ، عید مبارک

چھلنی کیا کفّار نے تاریخ کا سینہ
دل کو نہیں ہستی کا یقیں ، عید مبارک

توحید پرستی ہی فقط جُرم تھا میرا
گہنائی ہے کیوں عظمتِ دیں، عید مبارک

کچھ بھول ہوئی ہم سے یہ کہنا ہی پڑیگا
بے وجہ یہ اُفتاد نہیں ، عید مبارک

افسوس تو یہ آج بھی ہم ایک نہیں ہیں
اِک نظرِ کرم بانیٔ ﷺ دیں ! عید مبارک

بھٹکی تو ہے یہ قوم رہِ راست سے لیکن
اس قوم کا ثانی ہے کہیں ، عید مبارک

پہنچائے اسیروں کو صبا ، عید مبارک
گو دیر ہے اندھیر نہیں ، عید مبارک

محبوس جوانوں کے عزیزوں سے یہ کہنا
مولا ہے نگہباں و امیں ، عید مبارک

یہ بات قلندر کی قلندر ہی کہے گا
گو بات یہ کہنے کی نہیں ، عید مبارک

"ہے جُرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات"
رُکتے ہیں کہیں پائے یقیں ، عید مبارک

پِھر نعرۂ تکبیر سے گونجیں گی فضائیں
آ پہنچا ہے وہ وقت قریں ، عید مبارک

مومن کبھی مایوس نہیں رحمتِ حق سے
مومن کا ہے دل عرشِ بریں، عید مبارک

آنے کو ہے اب دور ترا میرِ عساکر
کہتی ہے تُجھے فتحِ مبیں ، عید مبارک

ملّت سے شہیدوں کا لہو کہتا ہے واصف
دُنیا کے عوض بیچ نہ دیں ، عید مبارک

( واصف علی واصف)

09/04/2024

Eid festivities muted for Gazan survivors of Israeli attacks, there are currently 9,400 Palestinians prisoners in Israeli jails, according to the Palestinian Prisoner's Society.

06/04/2024

یوم الاقصی کے پس منظر میں لکھی گئی ابن انشاء کی نظم
دیوارِ گریہ

ایک دیوار گریہ بناؤ کہیں
یا وہ دیوار گریہ ہی لاؤ یہیں
اب جو اس پار بیت المقدس میں ہے
تاکہ اس سے لپٹ
اردن و مصر کے، شام کے
ان شہیدوں کو یکبار روئیں
ان کے زخموں کو اشکوں سے دھوئیں
وہ جو غازہ میں لڑ کر
وه جو سینائی کے دشت میں بے اماں
وحشی دشمن کی توپوں کا ایندھن بنے

جن پہ گِدھوں کے لشکر جھپٹتے رہے
وہ جو مرتے رہے وہ جو کٹتے رہے
نعرہ تکبیر کا اپنے لب پر لیے
کلمۂ طیبہ کا وظیفہ کیے

آج جب چار دن چار راتوں کے بعد
ایک خونخوار سورج
صبحِ فردا کا سورج لبِ بام آیا
تو یہ آنکھوں نے دیکھا ............
وہ جو آنکھوں نے دیکھا
بھول جاؤ اسے بھول جاؤ کہیں
ایک دیوار گریہ بناؤ کہیں

وہ یہودی کہ مقھور و مغضوب ہو کر
اتنی صدیوں سے آواره و بے وطن تھا
رونے آتا تھا دیوارِ گریہ کے نیچے
دھونے آتا تھا اشکوں سے دامانِ ماضی
آج اس کے قلمرو
شہرِ حیفہ سے تاراسِ تیران ہے
اسی کی افواج تیز
صورتِ رست خیز
خیمہ زن برسویز

- اور اہل عرب
جن کے اجداد نے
شرق سے غرب تک
شہسواری بھی کی، تاجداری بھی کی
شہر و صحرا میں آواره و بے وطن ہیں
حیفہ و جافہ و ناصره کے مکیں
سالہا سال سے ہے مکاں سرفشاں
دشت بھی غیر کا ، شہر بھی غیر کا
بحر بھی غیر کا

اے خداوندِ افلاکیاں خاکیاں
کیا عرب کو بھی آوارہ ہونا پڑے گا
یعنی صدیوں تلک
یونہی دیوار گریہ پر رونا پڑے گا؟

۲
ایک دیوارِ گریہ بناؤ کہیں
آج یاروں کو روؤ رلاؤ کہیں
اپنے دشمن تو ملعون و ناخوب ہیں
ہم تو یاروں کی یاری سے محجوب ہیں
ایک بھبکی سے دشمن کی جو ڈھیر ہیں
وہ اگر شیر ہیں کاغذی شیر ہیں

ایک جانب وہ طیارہ بردار تھے
جن پہ مغرب کے بمبار اسوار تھے
وہ تو اڑتے رہے اور جھپٹتے رہے
آگے بڑھتے رہے پیچھے ہٹتے رہے
روکا یاروں کو اک فکرِ انجام نے
بیڑے یاروں کے دیکھا کیے سامنے

آئے بمبار جو کارواں کارواں
ان کی یلغار سے تھا سیاه آسماں
ان کی زد میں عرب کے سجیلے جواں
جن کے نیزوں نے جیتا تھا آدھا جہاں
جن کی تاریخ فتحیں سرافرازیاں
کوئی دم میں ہوئے اس طرح بے نشاں
سینۂ دشت تھا خون اور ہڈیاں
وہ بھی جھلسا دیا نارِ نیپام نے
بیڑے یاروں کے دیکھا کیے سامنے

جن سے دل کو وفا کی امیدیں بہت
جن کے وعدے بہت تھے وعیدیں بہت
بیٹھے لفظوں کے راکٹ چلایا کیے
یا بیانوں کے بم آزمایا کیے
دھمکیوں کے میزائل اڑایا کیے
کوئی گِرتوں کو آیا مگر تھامنے؟
بیڑے یاروں کے دیکھا کیے سامنے

۳
آج سینائی کی مسجدیں بے ازاں
آج سینائی میں عیدِ صیہونیاں
روحِ قبلہ تپاں درد کی آگ میں
ہو رہا ہے چراغاں سناگاگ میں

مضطرب مضطرب روحِ جبریل ہے
سوق در سوق غولِ سرائیل ہے
جورِ دجال ہے، شورِ فریاد ہے
یہ قیامت ہے یا محض افتاد ہے؟

کوئی دن کے لیے
قاہرہ کے شبینہ کلب کے حسینو!
اپنے جلوے نہ اتنے نمایاں کرو

کوئے بیروت و بصرہ کے بے آستینو!
اپنے غمزوں کو اتنا نہ ارزاں کرو

شیخِ عالی مقام!
باز کچھ روز کنجِ قفس میں رہیں

شاہِ ذی احترام!
تجھ کو ناموسِ امت کی قسمیں رہیں

اے عرب کے عوام!
ہاں رقابت کے جذبات بس میں رہیں

ورنہ قطرہ یہ آلِ سرائیل کا
بحرِ ظلمات بن کر بپھر جائے گا
ایک عالم کو غرقاب کر جائے گا

وہ تو فوجوں کے اڈے بنایا کریں
آپ رونق حرم کی بڑھایا کریں
ان کا مقصد جہانِ عرب پر حزن
آپ کی ترکتازی کی حد ہے یمن
وہ مسخر کریں ارض و افلاک کو
آپ کے مورچے ریڈیو ریڈیو
آپ تسبیح و جام و مئے ارغواں
وہ سپاہی، زن و بچہ، پیر و جواں
آپ اونٹوں پہ محمل سجاتے ہوئے
وہ نئے اسلحے آزماتے ہوئے
آپ سمجھے کہ یہ روز کا کھیل ہے
ان کی نظروں میں تو آپ کا تیل ہے

آپ کی کشت ہے
آپ کا شہر ہے
آپ کا دشت ہے
آپ کی نہر ہے

۴
دیکھ بیت المقدس کی پرچھائیاں
اجنبی ہو گئیں جس کی پہنائیاں
ہر طرف پرچمِ نجمِ داؤد ہے
راہ صخرا کے گنبد کی مسدود ہے
رفعتِ آخریں عالمِ پست کی
منزلِ اولیں تا سما جست کی
سجدہ گاہِ عمرؓ، مسجدِ پاک میں
آج خالی مصلے، اٹے خاک میں
ہر طرف فوجِ دجالِ ملعون ہے
منزل و سوق و بازار میں خون ہے

”میں نہ لوٹوں گا، مجھ کو نہ آواز دو
جب تلک ملک میرا نہ آزاد ہو“
قول ہارا تھا جس مردِ بےباک نے
ہاں اسے بھی پناہ دی تری خاک نے
وہ کہ جوہرؔ تھا شمشیرِ اسلام کا
ایک ہندی محمد علی نام کا
آج یوروشلم تو جو پامال ہے
روحِ آزاد کا اس کی کیا حال ہے؟

یا اخی! یا اخی!
رو چکا، اور کاہے کو روتا ہے تو
تیرے رب کا تو فرمان لا تقنطوا!
کس کی تاریخ ہے بے غم و ابتلا
کربلا بھی ترے دین کا مرحلا
جس جگہ دھوپ ہے، اس جگہ چھاؤں ہے
آ دکھائیں تجھے، تیری دلجوئی کو
دور مشرق میں احرارِ ہنوئی کو
ان کا دشمن شکستوں سے بے حال ہے
ان کو لڑتے ہوئے بیسواں سال ہے
یہ بھی ملحوظ رکھ، تو جو دل تنگ ہے
یہ بھی ان کی ہے، وہ بھی تری جنگ ہے

آج دشمن کو گر کامراں جانیے
اس کو اک عارضی امتحاں جانیے
جنگ میں گام دوگام ہٹتے بھی ہیں
آگے بڑھنے کو پیچھے پلٹتے بھی ہیں

آ کہ ان قاتلوں، وحشیوں مجرموں
غاصبوں، اور ان سب کے آقاؤں کو
وہ جو سونے کے بچھڑوں کی پوجا کریں
سات ساگر کے اس پار سے جو سدا
تار سازش کے بیٹھے ملایا کریں
ساری دنیا میں آشوب لایا کریں
ان کے اپنے گناہوں کے سنگِ گراں
کر کے زیبِ گلو
آج عقبہ کی کھاڑی میں غرقاب کر دیں

تاکہ عمان و مکہ بھی محفوظ ہوں
تاکہ لاہور و ڈھاکہ بھی محفوظ ہوں
تاکہ اور اہلِ دنیا بھی محفوظ ہوں

اور پھر ان کے پسماندگاں کے لیے
ایک دیوارِ گریہ بنائیں کہیں
جس پہ مل کے یہ آنسو بہائیں کہیں

17/02/2024

دل میں جس کےیاد خیرالانام ہے دوزخ کی آگ اس پہ حرام ہے

17/02/2024

Jis pr nazar huzor ki ik parr g*e woh khush naseeb phir sahi e iman ho gya

Address

Faisalabad
38000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bustan Uwaisiya Welfare Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Bustan Uwaisiya Welfare Forum:

Share