ڈوگہ ویلفیئر ٹرسٹ DWT

ڈوگہ ویلفیئر ٹرسٹ DWT ہمارا مقصد اللہ کی رضاء کے لیے لوگوں کی خدمت

05/05/2026
سردیوں میں آندھی یا بارش کے ساتھ ہی سب سے پہلی آواز یہ آتی کہ لالٹین کا تیل دیکھو، اگر نہیں تو بھاگ کر نکڑ والی دکان سے ...
12/07/2025

سردیوں میں آندھی یا بارش کے ساتھ ہی سب سے پہلی آواز یہ آتی کہ لالٹین کا تیل دیکھو، اگر نہیں تو بھاگ کر نکڑ والی دکان سے آٹھ آنے کا تیل ڈلوا لاؤ۔

بانس کی پرانی چھڑی کے ساتھ چلنے والے بابے موچی نے گھی والے کنستر میں مٹی کا تیل رکھا ہوتا تھا سردیوں میں لالٹین میں تیل ڈلواتا اور دوبارہ گھر کی طرف دوڑ لگا دیتا۔ ہم دو بھائی اور ایک بہن ایک کمرے میں سوتے تھےاکثر اس بات پر جھگڑا ہوتا کہ لالٹین کس کے قریب رکھی جائے گی کیونکہ سبھی اسکول جاتے تھے اور کسی نہ کسی کو اپنا ہوم ورک کرنا ہوتا تھا۔

ہماری لالٹین اسی چھوٹی شیلف پر رکھی جاتی تاکہ روشنی سارے کمرے میں جائے۔ میں کبھی کبھار لالٹین کا فیتہ زیادہ اوپر کر دیتا تو فوراً امی جی کی آواز آتی:’’نیچے کرو، ورنہ لالٹین کا شیشہ دھوئیں سے کالا ہو جائے گا۔‘‘
کبھی کبھار رات گئے لالٹین کا فیتہ ختم ہو جاتا تو ہم فوراً کسی پیالی یا چراغ میں سرسوں کا تیل ڈالتے، خود ہی روئی کا ایک فیتہ بناتے اور لالٹین کا متبادل تیار کر لیتے لیکن اس میں مسئلہ یہ تھا کہ سیاہ دھوئیں کے نشانات دیوار پر لگ جاتے اور یہ نشان تب تک رہتے جب تک دوبارہ چونے سے تیار ہونے والا رنگ (کلی) نہ اُس پر پھیر دیا جاتا۔

عید وغیرہ پر چونے میں نیل ڈال کر دیواروں پر رنگ کیا جاتا۔ اسی طرح پیتل کے برتنوں کو بھی خاص تہواروں کی مناسبت سے نئے سرے سے پالش کیا جاتا تھا۔
میں اکثر اپنی تختی سونے سے پہلے لکھتا تھا۔ آپی ہمیشہ اس وجہ سے ڈانٹتی کہ یہ بدتمیز اپنا اسکول کا کام صبح کے وقت کیوں نہیں کرتا۔
میں آپی کے ہر روز کے احتجاج کے باوجود لالٹین نیچے زمین پر رکھتا، تھیلے نما بستے میں سے قلم اور دوات نکالتا اور لکڑی سے بنی تختی پر سبق لکھنا شروع کر دیتا۔ اس وقت یہی کُل متاع ہوتی تھی: قلم، سیاہی، دوات، سلیٹ اور سکہ وغیرہ۔ مَیں تختی پر لائنیں لگانے کے لیے سکہ ہمیشہ کسی ریڈیو کی بیٹری توڑ کر ہی نکالا کرتا تھا۔

اس وقت موم بتیاں بھی تھیں لیکن مٹی کا تیل سستا ہونے کی وجہ سے ہم لالٹین اور دیا ہی استعمال کرتے رہتے۔ کبھی کبھار ہم موم بتی بھی لے آتے۔
جس دن بھی بارش تیز یا مسلسل ہوتی تو چھت سے پانی ٹپکنا شروع ہو جاتا۔ جہاں جہاں سے پانی ٹپکنا شروع ہوتا، ہم بہن بھائی اس کے نیچے برتن، بالٹی یا پرات وغیرہ رکھتے جاتے تاکہ پانی اس میں جمع ہو۔ میں رضائی سے منہ نکال کر یہ اندازہ لگاتا رہتا کہ چھت سے ٹپکنے والا اگلا قطرہ کس برتن میں گرے گا۔ لالٹین کی مدھم روشنی، تیز ہوا کی سرسراہٹ، لحاف کے اندر خود کو گرم رکھنے کی کوشش، بارش کی رم جھم، کچی چھت پر گرتی اور رقص کرتی بارش کی بوندوں کی آواز، بادلوں کی گھن گرج اور چھت سے ٹپکتے قطرے ایک جادوئی ماحول پیدا کر دیتے تھے۔ لیکن تب مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ میں آٹو ہیٹڈ کمروں، نرم گداز صوفوں، قالینوں اور جرمن میڈ رضائیوں کے ہوتے ہوئے بھی ان کی چاہت کروں گا، وہ کاغذ کی یاد کروں گا وہ بارش کا پانی یاد کروں گا۔

میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور ڈر بھی مجھے ہی سب سے زیادہ لگتا تھا۔ بھائی بہن بھی میری اس عادت سے تنگ تھے۔ کمرے کے باہر کھلا صحن تھا اور اس کے بعد ٹوائلٹس آتے تھے۔ سردیوں میں مَیں اکیلا وہاں تک جانے سے ڈرتا تھا اور جب تک کوئی لالٹین پکڑ کر دروازے تک ساتھ نہیں جاتا تھا، میں ضد لگا کر بیٹھا رہتا تھا۔
ہمارے گھر روئی ہمیشہ اس وجہ سے بھی رہتی کہ نانا جی نے آٹا پیسنے کی مشین کے ساتھ ساتھ روئی دھننے کی مشین ( پینجہ) بھی لگا رکھی تھی۔ ان کے گھر رضائیاں بھروانے والوں کا ہمیشہ تانتا بندھا رہتا تھا اور امی بھی دن کے وقت ادھر ہی رہتیں اور کرائے کے طور پر لی جانے والی روئی میں سے کچھ گھر لے آتیں۔

ہم چھوٹے چھوٹے تھے تو نانا جی کے گھر امی جی سوت خود کاتتی تھیں۔ میں بھی ایک باریک چھڑی (کانے) کی مدد سے روئی کی پونیاں بنا کر انہیں دیتا رہتا اور وہ اُسے چرخے کے کتلے پر چڑھا کر اس سے دھاگا بناتیں۔ مجھے سب سے زیادہ مزہ چرخہ چلانے میں آتا کیوں کہ وہ ٹائر کی طرح گھومتا جاتا اور ایک سیٹی کی سی مخصوص آواز پیدا ہوتی جاتی۔
جرمنی کی یخ بستہ راتوں میں جب بھی کبھی رات کو موسلا دھار بارش ہوتی ہے یا تیز ہوا مخصوص آوازیں پیدا کرتی ہے تو مجھے بے ساختہ اپنا ماضی، ٹپکتی ہوئی چھت، لالٹین، دیا، تختی، امی جی کا چرخہ اور کوہ قاف کی کہانیاں یاد آنا شروع ہو جاتی ہیں۔

مجھے پہلی جماعت کا وہ قاعدہ یاد آ جاتا ہے، جس کی سب سے مشہور نظم بلبل کا بچہ تھی۔ اب مجھے لگتا ہے کہ وہ بلبل کا بچہ میں تھا، جو کھاتا تھا کھچڑی، پیتا تھا پانی، اک دن اڑایا، واپس نہ آیا..!

**امریکہ نے "ایٹمی جنگ" کو روکا، ٹرمپ نے کہا، لیکن… کچھ اور غلط ہو گیا۔**(صرف اُن لوگوں کے لیے جو سیزفائر کی کہانی کا دو...
15/05/2025

**امریکہ نے "ایٹمی جنگ" کو روکا، ٹرمپ نے کہا، لیکن… کچھ اور غلط ہو گیا۔**
(صرف اُن لوگوں کے لیے جو سیزفائر کی کہانی کا دوسرا رخ جاننا چاہتے ہیں)

تو امریکہ کا اس انڈیا/پاکستان کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں تھا، ٹھیک؟ کم از کم شروعات میں یہی کہا گیا جیسا کہ جی ڈی وینس نے دعویٰ کیا۔ لیکن پھر کچھ بدل گیا۔ اچانک ٹرمپ نے مداخلت کی، بحران کو ختم کیا، اور فوری سیزفائر کا اعلان کر دیا، جس کے نتیجے میں بھارت عالمی سطح پر شرمندہ ہوا اور اپنی ساکھ کھو بیٹھا۔

**سوال یہ ہے… آخر غلط کیا ہوا؟**
کچھ ایسا ہوا جس نے مغرب کو ہلا کر رکھ دیا اور میرا ماننا ہے کہ دو بڑی چیزیں ان کے لیے خطرہ بن گئیں:

---

**پہلا، چین کی فوجی ٹیکنالوجی نے دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔**

جب پاکستان نے چینی ساختہ PL-15 میزائل اور JF-17 بلاک 3 طیارے استعمال کر کے بھارتی رافیلز کو مار گرایا، تو چینی ڈیفنس اسٹاکس میں دھماکہ ہو گیا! JF-17 اور J-10C بنانے والی کمپنی AVIC Chengdu Aircraft Corporation کے شیئرز صرف دو دن میں 36% بڑھ گئے۔

عالمی سرمایہ کاروں نے سمجھ لیا کہ چین کی ہتھیار سازی مغربی ٹیکنالوجی کے مقابلے میدانِ جنگ میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی اور اسرائیلی اسلحہ ساز معاہدوں کو عالمی سطح پر خطرہ لاحق ہو گیا۔

یہ جنگ صرف پاکستان بمقابلہ بھارت نہیں تھی، یہ چینی بمقابلہ مغربی فوجی ٹیکنالوجی بھی تھی۔

**نتیجہ؟**
پاکستان نے، اپنے قریبی اتحادی چین کے لیے، دنیا کو ایک لائیو ڈیمو دے دیا — اور وہ کامیاب رہا۔

دوسری طرف، اسرائیل نے بھارت کی حمایت کی، اور بھارت نے پاکستانی اہداف کے خلاف اسرائیلی 77 ہاروپ ڈرونز استعمال کیے۔ یہ ڈرونز نہ صرف خبروں کی زینت بنے بلکہ مسلمان دنیا میں اسرائیل مخالف جذبات کو بھی بھڑکایا — خاص طور پر کشمیر اور پاکستان میں۔

یوں ایک پاک-بھارت جنگ نے ایک اور رنگ پکڑا: "ہندو-یہودی اتحاد" بمقابلہ مسلمان۔
یہ مغرب کے لیے دوہرا خطرہ تھا:

1. چین کی فوجی طاقت دنیا کی توجہ حاصل کر گئی
2. اسرائیل کی ساکھ خطرے میں آ گئی، جسے امریکہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔

---

**دوسرا دھچکا امریکہ کو تب لگا جب پاکستان نے ایک چالاک قدم اٹھایا۔**

اندرونی ذرائع کے مطابق، پاکستان کے جنگی ہیڈکوارٹر سے جان بوجھ کر ایک مخصوص میٹنگ کی تفصیل لیک کی گئی، جس میں یہ بحث کی گئی کہ چونکہ بھارت کو اسرائیل کی حمایت حاصل ہے، اس لیے پاکستان کو اسرائیل کے خلاف براہ راست کارروائی کا حق حاصل ہے۔

یعنی پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے، چین کے سائے میں، اسرائیل کو ہدف بنانے کی بات کھلے عام کرنے لگا۔

**یہ وہ "ریڈ لائن" تھی جو امریکہ نہیں چھو سکتا تھا۔**
انہیں فوری طور پر کشیدگی کم کرنی پڑی، اور یہی انہوں نے کیا — یہ کہتے ہوئے کہ دنیا کو "ایٹمی جنگ" نہیں چاہیے۔

---

**تو پھر امریکہ نے سیزفائر کے فوراً بعد کیا کیا؟**
جب دنیا کی توجہ سیزفائر اور سوشل میڈیا پر تھی، ایک اہم میٹنگ جنیوا میں ہوئی۔ اچانک امریکہ اور چین تجارتی مذاکرات میں بیٹھ گئے اور صرف چند گھنٹوں میں:

1. امریکہ نے ٹیرف 145% سے کم کر کے 30% کر دیے
2. چین نے ٹیرف 125% سے کم کر کے 10% کر دیے
3. 600 ارب ڈالر کی تجارتی پابندیاں ختم ہو گئیں

---

**اب آپ سمجھ گئے؟**
یہ سب کچھ اس لیے ہوا کیونکہ پاکستان نے میدانِ جنگ میں نہ صرف خود کو ثابت کیا بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

پاکستان نے صرف ایک جنگ نہیں جیتی، اس نے دنیا کو یاد دلایا کہ وہ اب بھی میز پر موجود ہے۔
اسی لیے، بھارت کے تمام دعووں، سیاسی انتشار، اور معاشی بحران کے باوجود —

**پاکستان اب بھی اہم ہے۔
پاکستان ہمیشہ اہم رہے گا۔
پاکستان زندہ باد
Copied.

Address

Doga

Telephone

+923008503411

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ڈوگہ ویلفیئر ٹرسٹ DWT posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share