Mattaki Utman Khel

Mattaki Utman Khel "Mattaki" subtribe of Utman Khel" They claim to be descendants of Baba Utman Shamraiz, who accompanied Mahmud of Ghazni in his expedition into India in 997.

The Utman Khel or Utmankhel (Urdu: اتمان خیل) are a Pashtun tribe who occupy the hills to the north of Peshawar in the Khyber-Pakhtunkhwa province of Pakistan. Their land lies between the Mohmands and the Ranizais of Swat, to the west and south-west of the junction of the Swat and Panjkora rivers. The Utman Khel are a tall, stout and fair race, but their dress and general customs have been assimil

ated by the neighbouring peoples of Bajour. Their land is very hilly and difficult, but well cultivated in terraces. It is believed that they defeated Sikandar Azam and compelled him on agreement with them. The British conducted military campaigns against them in 1852, 1878 and 1898.[1]
There are some subtribes of uthman khel, they are as under. Mandal (elder son of Utman)
Toori Khel
Ali Khel
Utman zai
Ibrahim Kheil
Raja khel
Najeem khel
Mamat khel
Aghdad khel
Ali Zai
Boota Kheil
Bazai
Ismail Kheil
Umar kheil
Khumar Kheil
Kamal Kheil
sarni Kheil
Sarkani khel
Muttaki (متكى)
The Ibrahim khel, Utman zai, Toori Khel, Ali Khel residue in Matako (located on the east north edge of bajaur agency adjusting to Dir lower), while the sarkani khel, sarni khel and umar khel are living in Arang, Kulala and Bandagai. A large number of peoples from Utman khel tribe also reside in Dir lower. The subtribe Mataki,Muttaki or Muttaky (متكى) which were displaced by another tribe from Kimur Ghar (Arang) to Matako now also reside in different part of the district Dir lower like Ananguro khwar, Khohairy Koto Hajiabad and adjacent areas.

ضلع دیر لوئر اور اپر خیبر پختون خواہ میں کام نہ ہونے اور بڑے بڑے پروجیکٹ کے ناکام ہونے یا ابھی تک سالوں بعد مکمل نہ ہونے...
28/07/2026

ضلع دیر لوئر اور اپر خیبر پختون خواہ میں کام نہ ہونے اور بڑے بڑے پروجیکٹ کے ناکام ہونے یا ابھی تک سالوں بعد مکمل نہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں ؟ کیا منتخب نمائندے اس کی زمہ دار ہیں ؟ یا ضلع دیر کے عوام کہ جنھوں نے نا اہل نمائندگان کو ووٹ دیکر اسمبلی بھیجا۔
کیا اس موضوع پر ایک گرینڈ سیاسی diolog ہونا ضروری ہے ؟

یہ سوال صرف سیاسی نہیں بلکہ انتظامی، سماجی اور ترقیاتی پہلوؤں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر مقصد مسئلے کی حقیقی وجوہات سمجھنا ہے تو اس کا جواب کسی ایک فریق کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے مختلف عوامل کو دیکھ کر دینا چاہیے۔
ضلع دیر لوئر اور اپر میں ترقیاتی منصوبے سست کیوں ہیں؟
گزشتہ کئی برسوں سے دیر لوئر اور دیر اپر میں متعدد اہم منصوبے یا تو تاخیر کا شکار رہے ہیں یا ابھی تک مکمل نہیں ہوئے۔ ان میں سڑکیں، بائی پاس، پل، ہسپتال، تعلیمی ادارے، واٹر سپلائی، سیاحت اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔
اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
1. منتخب نمائندوں کی کارکردگی
یہ ایک اہم عنصر ہے۔
اگر ایم این اے اور ایم پی اے:
اسلام آباد اور پشاور میں مؤثر انداز میں فنڈز نہ لا سکیں،
منصوبوں کی مسلسل نگرانی نہ کریں،
متعلقہ محکموں پر عملدرآمد کے لیے دباؤ نہ ڈالیں،
تو منصوبے برسوں تک التوا کا شکار رہ سکتے ہیں۔
تاہم دوسری عوامل جو بلواسطہ منتخب نمائندوں کی نااہلی کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ درجہ ذیل ہیں ۔
2. سرکاری بیوروکریسی
اکثر منصوبے ان وجوہات سے بھی رک جاتے ہیں:
فائلوں میں تاخیر
ٹینڈر کے مسائل
زمین کے حصول میں مشکلات
کنٹریکٹرز کی کمزور کارکردگی
فنڈز کی قسطوں میں تاخیر
یہ مسائل منتخب نمائندوں کے اختیار سے باہر بھی ہو سکتے ہیں، لیکن مؤثر نمائندے ان پر دباؤ ڈال کر رفتار بہتر بنا سکتے ہیں۔
3. سیاسی عدم استحکام
جب حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں تو:
ترجیحات بدل جاتی ہیں،
بعض منصوبے روک دیے جاتے ہیں،
نئے منصوبے شروع کر دیے جاتے ہیں جبکہ پرانے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ لیکن ضلع دیر میں بلا شرکت غیرے ۱۵ سال سے صرف پی ٹی آئی ہی کی حکومت چلی آرہی ہے۔ سو یہ بہانہ نہیں چل سکتا۔۔
4. فنڈز کی کمی
خیبر پختونخوا کے پہاڑی اضلاع میں تعمیراتی لاگت زیادہ ہوتی ہے۔ ایک سڑک یا پل کی لاگت میدانی علاقوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ آ سکتی ہے، اس لیے منصوبے مرحلہ وار مکمل کیے جاتے ہیں۔
5. عوام کا کردار
جمہوریت میں ووٹر بھی اہم کردار رکھتے ہیں۔
اگر عوام:
امیدوار کی کارکردگی کے بجائے برادری، شخصیت یا جماعت کی بنیاد پر ووٹ دیں،
منتخب نمائندوں سے پانچ سال تک جواب طلبی نہ کریں،
تو کمزور احتساب کی وجہ سے کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام ذمہ داری عوام پر ہے، لیکن ووٹر کی ذمہ داری بھی جمہوری نظام کا حصہ ہے۔
کیا صرف عوام ذمہ دار ہیں؟
نہیں۔
ذمہ داری مختلف سطحوں پر تقسیم ہوتی ہے:
منتخب نمائندے
صوبائی حکومت
وفاقی حکومت
سرکاری محکمے
کنٹریکٹرز
عوام اور سول سوسائٹی
ترقی یا تاخیر عموماً انہی عوامل کے مجموعے کا نتیجہ ہوتی ہے۔
کیا ایک "گرینڈ سیاسی ڈائیلاگ" ضروری ہے؟
میرے خیال میں اگر اس کا مقصد سیاسی الزام تراشی کے بجائے ترقیاتی اصلاحات ہو تو ایسا مکالمہ مفید ہو سکتا ہے۔
اس ڈائیلاگ میں شامل ہونے چاہئیں:
تمام سیاسی جماعتیں
موجودہ اور سابق ارکان اسمبلی
ضلعی انتظامیہ
کاروباری برادری
نوجوان
خواتین
صحافی
انجینئرز اور ماہرینِ منصوبہ بندی
سول سوسائٹی
ڈائیلاگ کے ممکنہ مقاصد !!!!!
گزشتہ 20–25 سال کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ۔
کون سے منصوبے مکمل ہوئے اور کون سے زیر التوا ہیں؟
تاخیر کی اصل وجوہات کیا تھیں؟
آئندہ ہر منصوبے کے لیے واضح ٹائم لائن۔
عوام کے سامنے سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرنا۔
منصوبوں کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ عوامی مانیٹرنگ فورم قائم کرنا۔
نتیجہ
دیر جیسے وسائل سے مالا مال ضلع میں ترقی کی رفتار اس کی صلاحیت کے مطابق نہیں رہی۔ اس کی ذمہ داری کسی ایک فرد یا ادارے پر ڈالنا مناسب نہیں؛ منتخب نمائندوں، حکومتوں، بیوروکریسی، کنٹریکٹرز اور عوام—سب کا ایک نہ ایک کردار بنتا ہے۔ اگر ترقیاتی منصوبوں کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے، شفاف احتساب ہو، اور باقاعدہ عوامی و سیاسی مکالمہ شروع کیا جائے، تو دیر لوئر اور دیر اپر کی ترقی کی رفتار نمایاں طور پر بہتر ہو سکتی ہے۔
وقت کے ضرورت ہے کہ
"�⁠دیر گرینڈ پولیٹیکل ڈائیلاگ 2026" کے عنوان سے ایک جامع پالیسی دستاویز تیار کیا جائے ، جس میں تمام بڑے منصوبوں، ان کی موجودہ صورتحال، تاخیر کی وجوہات، ذمہ دار اداروں اور عملی سفارشات کو تفصیل سے شامل کیا جائے۔
وما علینا الاالبلاغ
Senator Zahid Khan
Siraj ul Haq

Malak Shafi Ullah Khan
Deputy Commissioner Lower Dir
Jamat e Islami Official
PTI Khyber Pakhtunkhwa Maidan Table Talk (MTT) ✅ Timergara News Network
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa

Timergara,Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan

کیا کوئی اس شخص جیسا بہادر اور حق پرست ہوسکتا ہے؟؟ سب سے زیادہ مخالفت اُن کی سابقہ پارٹی کے کارکنان (لیڈران نہیں) کیوں ہ...
23/07/2026

کیا کوئی اس شخص جیسا بہادر اور حق پرست ہوسکتا ہے؟؟
سب سے زیادہ مخالفت اُن کی سابقہ پارٹی کے کارکنان (لیڈران نہیں) کیوں ہیں ؟

الیکشن نہیں سلیکشن، انتخاب نہیں فراڈ۔۔۔

تجویز نمبر 1 (کم لاگت اور فوری حل)اگر مستقبل قریب میں فلائی اوور ممکن نہیں تو سب سے قابل عمل حل ایک Turbo Roundabout ہے۔...
28/06/2026

تجویز نمبر 1 (کم لاگت اور فوری حل)

اگر مستقبل قریب میں فلائی اوور ممکن نہیں تو سب سے قابل عمل حل ایک Turbo Roundabout ہے۔
1۔ راؤنڈ اباؤٹ
قطر تقریباً 45 سے 55 میٹر
درمیان میں خوبصورت یادگار (Shaheed Monument)
چاروں اطراف Raised Splitter Islands
2 لین کا راؤنڈ اباؤٹ
ہر سمت Slip Lane جہاں ممکن ہو
گاڑیاں کس طرح چلیں گی؟
فرض کریں چار راستے ہیں۔
بائی پاس (مالاکنڈ)
پل/بلامبٹ روڈ
تیمرگرہ بازار
دیر بالا روڈ
اگر بائی پاس ملاکنڈ سے پل بلامبٹ جانا ہو
➡ بائیں لین میں آکر راؤنڈ اباؤٹ میں داخل ہوں۔
پہلا Exit لیں۔
اگر بائی پاس سے بازار جانا ہو
راؤنڈ اباؤٹ میں داخل ہوں۔
تین چوتائی چکر لگائیں۔
تیسرا Exit۔
اگر بائی پاس سے دیر بالا جانا ہو
راؤنڈ اباؤٹ میں داخل ہوں۔
آدھا چکر۔
دوسرا Exit۔
اگر پل سے بائی پاس جانا ہو
راؤنڈ اباؤٹ میں داخل ہوں۔
تیسرا Exit۔
اگر بازار سے پل جانا ہو
راؤنڈ اباؤٹ میں داخل ہوں۔
آدھا چکر۔
Exit۔ سیدھا
اگر دیر بالا سے بازار جانا ہو
راؤنڈ اباؤٹ میں داخل ہوں۔
پہلا Exit۔

پیدل چلنے والوں کیلئے
ہر بازو سے تقریباً 25 میٹر پہلے
Zebra Crossing
Traffic Signal
Pedestrian Refuge Island
بڑے ٹرک
مرکزی جزیرے کے گرد Truck Apron بنایا جائے تاکہ لمبے ٹرالر آسانی سے مڑ سکیں۔

تجویز نمبر 2 (مستقبل کا مستقل حل)
اگر اگلے 20 سے 30 سال کی ٹریفک کو مدنظر رکھا جائے تو بہتر حل یہ ہوگا:
بائی پاس روڈ پر 4 لین فلائی اوور
نیچے خوبصورت راؤنڈ اباؤٹ
پل اور بازار کی تمام ٹریفک نیچے سے
بائی پاس کی Through Traffic بغیر رکے فلائی اوور سے گزرے
اس سے تقریباً 60–70٪ ٹریفک فلائی اوور پر منتقل ہو جائے گی اور شہید چوک پر دباؤ بہت کم ہوگا۔
خوبصورتی
شہید چوک کو صرف ٹریفک پوائنٹ نہیں بلکہ شہر کی پہچان بنایا جا سکتا ہے۔
درمیان میں
شہداء کی یادگار
پاکستان کا بلند پرچم
فوارہ (اگر پانی کی دستیابی ہو)
رنگ برنگے پھول
رات کیلئے LED Lighting
اطراف
Decorative Street Lights
Palm یا مقامی درخت
پتھریلی لینڈ اسکیپنگ
Timergara لکھا ہوا خوبصورت سائن
ٹریفک کنٹرول
Smart Traffic Signals
CCTV
Speed Camera
Lane Markings
Reflective Cat Eyes
Direction Boards (دیر، چترال، پشاور، بازار)
فوائد
تقریباً 40–60٪ تک جام میں کمی۔
حادثات میں 30–50٪ کمی۔
ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کو فوری راستہ۔
بازار میں کاروباری سرگرمی بہتر ہوگی۔
ایندھن اور سفر کے وقت کی بچت۔
شہر کی خوبصورتی اور سیاحتی کشش میں اضافہ۔
مستقبل کی ٹریفک کو سنبھالنے کی بہتر صلاحیت۔
اندازاً لاگ
آپشن 1: صرف جدید راؤنڈ اباؤٹ
زمین کی محدود توسیع
ڈرینیج
لین مارکنگ
سٹریٹ لائٹس
لینڈ اسکیپنگ
سگنلز
تقریباً 20 سے 40 کروڑ روپے
آپشن 2: راؤنڈ اباؤٹ + فلائی اوور
350 سے 500 میٹر فلائی اوور
چار لین
راؤنڈ اباؤٹ
لینڈ اسکیپنگ
یوٹیلیٹی شفٹنگ
تقریباً 120 سے 180 کروڑ روپے (زمین کے حصول کے بغیر)
اگر زمین کے حصول، بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلیٹیز کی منتقلی بھی شامل ہو تو لاگت 180 سے 250 کروڑ روپے تک جا سکتی ہے۔
میری اضافی تجویز
اس منصوبے کو صرف ایک چوک تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ "تیمرگرہ انٹیگریٹڈ ٹریفک امپروومنٹ پلان" کے طور پر تیار کیا جائے، جس میں:
شہید چوک کی ازسرِنو تعمیر،
بائی پاس پر مستقبل کا فلائی اوور،
بازار کے لیے سروس روڈ،
پارکنگ ایریاز،
اور دریائے پنجکوڑہ کے کنارے ایک خوبصورت ریور فرنٹ شامل ہوں۔
اس طرح شہید چوک نہ صرف ٹریفک کے مسئلے کا حل بنے گا بلکہ تیمرگرہ کی جدید شناخت بھی بن سکتا ہے۔
Deputy Commissioner Lower Dir
Malak Shafi Ullah Khan
Health Department, KP

8 سال کا تجربہ ہار گیا، سفارش ، پیسے جیت گئی!!میں ایک BDS ڈینٹل سرجن ڈاکٹر سلمان احمد ہوں۔ میرا تعلق تحصیل جنڈولہ ضلع ٹا...
26/06/2026

8 سال کا تجربہ ہار گیا، سفارش ، پیسے جیت گئی!!
میں ایک BDS ڈینٹل سرجن ڈاکٹر سلمان احمد ہوں۔ میرا تعلق تحصیل جنڈولہ ضلع ٹانک سے ہے
سب سے سینئر امیدوار تھا۔ انٹرویو بھی اچھا گیا۔

لیکن KPK میں ڈینٹل سرجن کی بھرتی میں میں ریجیکٹ ہو گیا۔
کیوں؟ کیونکہ میرے پاس "فون" نہیں تھا۔ "سفارش" نہیں تھی۔ "لفافہ" نہیں تھا۔

وہ سلیکٹ ہو گئے جو مجھ سے جونیئر تھے۔ جن کا کلینک کا تجربہ صفر تھا۔
صرف اس لیے کہ وہ "کسی کے بندے" تھے۔

8 سال میں نے یونیورسٹی، ہاؤس جاب، پرائیویٹ کلینک میں لگا دیے۔
کیا یہی میری غلطی تھی کہ میں میرٹ پر یقین رکھتا تھا؟

KP کے نوجوان ڈاکٹروں سے پوچھتا ہوں: کیا ہم ملک چھوڑ دیں؟
یا پھر نوکری کے لیے کسی سیاستدان کے ڈیرے پر حاضری دیں؟

*میں چیف سیکرٹری KP، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، اور KPPSC سے اپیل کرتا ہوں:*
اس بھرتی کی شفاف انکوائری کی جائے۔ انٹرویو مارکس + اکیڈمک سکور + تجربہ کی تفصیل پبلک کی جائے۔
اگر میں غلط ہوں تو ثابت کریں۔ اگر میرٹ کا قتل ہوا ہے تو انصاف دیں۔

میں نوکری نہیں، *اپنے 8 سال کا حساب مانگ رہا ہوں۔*

ہمارے سارے ڈاکٹرز صرف دو مطالبہ!!!

*Line 1:*
`Medical Officer + Dental Surgeon
کی ساری پوسٹس صرف اور صرف NTS کے ذریعے ہونا چاہییں`

*Line 2:*
`سفارش نہیں، قابلیت چلے۔ مقامی حق دار کو اس کا حق ملے 🩺`

بھرتی صرف میرٹ کے ذریعے ہو مقامی ڈاکٹر کو ترجیح ملے

داروڑہ، دیر بالا میں پل کی فوری تعمیر: عوامی ضرورت اور ترقیاتی تقاضاضلع دیر بالا کے علاقے داروڑہ میں ایک ایسا بنیادی عوا...
07/06/2026

داروڑہ، دیر بالا میں پل کی فوری تعمیر: عوامی ضرورت اور ترقیاتی تقاضا

ضلع دیر بالا کے علاقے داروڑہ میں ایک ایسا بنیادی عوامی مسئلہ موجود ہے جس کے حل کے لیے بڑے مالی وسائل یا پیچیدہ منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف حکومتی توجہ اور عملی اقدام درکار ہے۔ قدرتی طور پر دو سڑکیں ایک دوسرے کے انتہائی قریب واقع ہیں اور ان کے درمیان فاصلہ چند میٹر سے زیادہ نہیں، لیکن مناسب پل یا رابطہ گزرگاہ نہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی کو روزانہ 3 سے 4 کلومیٹر اضافی سفر کرنا پڑتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف آمدورفت کی دشواری تک محدود نہیں بلکہ وقت، ایندھن، معیشت اور عوامی سہولت سے بھی براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

موجودہ صورتحال

داروڑہ میں موجود دونوں سڑکیں علاقے کے مختلف دیہات اور آبادیوں کو آپس میں ملاتی ہیں۔ قدرتی رکاوٹ یا نالے کی وجہ سے براہِ راست آمدورفت ممکن نہیں۔ نتیجتاً مقامی لوگوں، طلبہ، مریضوں، تاجروں اور سرکاری ملازمین کو مختصر فاصلے کے باوجود کئی کلومیٹر لمبا چکر لگا کر اپنی منزل تک پہنچنا پڑتا ہے۔

علاقے کے مکینوں کے مطابق اگر اس مقام پر ایک مختصر پل تعمیر کر دیا جائے تو:

- 3 سے 4 کلومیٹر اضافی سفر ختم ہو سکتا ہے۔
- روزانہ سینکڑوں افراد کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
- وقت اور ایندھن کی نمایاں بچت ممکن ہوگی۔
- ہنگامی طبی حالات میں مریضوں کی بروقت منتقلی آسان ہوگی۔
- طلبہ و طالبات کی تعلیمی اداروں تک رسائی بہتر ہوگی۔
- مقامی تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

عوامی اور معاشی فوائد

1. وقت کی بچت

روزانہ ہزاروں منٹ ضائع ہونے کے بجائے عوام مختصر وقت میں اپنی منزل تک پہنچ سکیں گے۔

2. ایندھن کی بچت

اضافی فاصلہ طے کرنے کی ضرورت کم ہونے سے موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی آئے گی۔

3. تعلیمی سہولت

طلبہ کو سکول، کالج اور دیگر تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں آسانی ہوگی، جس سے حاضری اور تعلیمی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔

4. طبی سہولت

ہنگامی صورتحال میں چند منٹ بھی قیمتی ہوتے ہیں۔ پل کی تعمیر مریضوں کو بروقت ہسپتال پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

5. مقامی ترقی

سڑکوں کا مؤثر رابطہ علاقے میں کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور مجموعی ترقی کے لیے مثبت کردار ادا کرے گا۔

منتخب نمائندوں کی ذمہ داری

عوام نے اپنے مسائل کے حل کے لیے نمائندوں کو منتخب کیا ہے۔ داروڑہ کے اس بنیادی مسئلے کا حل کسی بڑے میگا پراجیکٹ کا متقاضی نہیں بلکہ ایک نسبتاً کم لاگت والا ترقیاتی منصوبہ ہے جس کے فوائد طویل المدت اور وسیع ہوں گے۔

علاقے کے عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ:

- متعلقہ محکمہ فوری فنی سروے کرے۔
- منصوبے کی لاگت کا تخمینہ تیار کیا جائے۔
- سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اس منصوبے کو شامل کیا جائے۔
- ایم این اے، ایم پی اے اور ضلعی انتظامیہ اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں۔

عوامی مطالبہ

داروڑہ کے عوام حکومتِ خیبر پختونخوا، متعلقہ محکموں اور منتخب نمائندوں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔ ترقی صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ دور افتادہ علاقوں کے عوام کو بھی بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

یہ پل صرف کنکریٹ اور لوہے کا ڈھانچہ نہیں ہوگا بلکہ عوامی سہولت، معاشی ترقی اور بہتر معیارِ زندگی کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

اختتامیہ

داروڑہ میں چند میٹر کے فاصلے پر موجود دو سڑکوں کو ایک مختصر پل کے ذریعے جوڑ کر ہزاروں افراد کی روزمرہ زندگی آسان بنائی جا سکتی ہے۔ یہ منصوبہ کم لاگت، زیادہ فائدہ اور فوری عوامی اثرات کا حامل ہے۔ امید ہے کہ متعلقہ حکام اور منتخب نمائندے اس جائز عوامی مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے جلد عملی اقدامات کریں گے۔
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa

Deputy Commissioner Lower Dir

تیمرگرہ میڈیکل کالج (TMC) Lower Dir، خیبر پختونخوا میں 2015 میں قائم ہوا تھا (PTI دور میں Imran Khan اور Pervez Khattak ...
31/05/2026

تیمرگرہ میڈیکل کالج (TMC) Lower Dir، خیبر پختونخوا میں 2015 میں قائم ہوا تھا (PTI دور میں Imran Khan اور Pervez Khattak نے افتتاح کیا)۔ اب تک (مئی 2026) کلاسز کا باقاعدہ آغاز نہیں ہوا ہے، حالانکہ دسمبر 2025 میں فیکلٹی انٹرویوز مکمل ہونے اور appointments کے بعد 2026 میں پہلا بیچ (تقریباً 50 طلبہ) داخل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔c68daef1e462
موجودہ صورتحال (مئی 2026 تک)
کالج کی عمارت مکمل ہے (تقریباً 2.4 ارب روپے خرچ ہو چکے) اور DHQ Hospital Timergara کو teaching hospital قرار دیا جا چکا ہے۔
Principal Prof. Dr. S. Abrar Lakhkar Khan (نومبر 2025 میں چارج سنبھالا) نے فیکلٹی بھرتی، PMDC/KMU کی ضروریات پوری کرنے اور CM کو پیشکش دی تھی۔ دسمبر 2025 میں walk-in interviews ہوئے اور faculty migration کا عمل چل رہا تھا۔a6092b
مارچ 2026 تک Health Department فنانس سے grants کا انتظار کر رہا تھا (لیبز، skills lab، forensic museum، لائبریری وغیرہ کے لیے Rs20.5 million)۔f23f15
آفیشل ویب سائٹ (tmc.ac.pk) پر فروری 2026 تک emblem committee meetings اور staff meetings کی خبریں ہیں، لیکن کلاسز شروع ہونے کی تصدیق نہیں۔ PMDC inspection کی حتمی منظوری اور KMU affiliation کا عمل ابھی مکمل نہیں لگتا۔c000ff
سوشل میڈیا اور حالیہ رپورٹس میں اب بھی تاخیر کی شکایات ہیں؛ کچھ لوگ 2026 میں شروع ہونے کی امید رکھتے ہیں مگر شکوک موجود ہیں۔
خلاصہ: 2026 کے جاری سیشن میں کلاسز شروع ہونے کا امکان ہے اگر grants جاری ہوں، PMDC inspection پاس ہو اور faculty join کر جائے۔ مگر ماضی کے وعدوں (2022، 2024-25) کی طرح یہ بھی ڈیلے ہو سکتا ہے۔
تاخیر کی وجوہات (سب سے بڑی رکاوٹیں)
PMDC/KMU معیار پورا نہ کرنا: Faculty کی کمی (خاص طور پر clinical subjects)، انفراسٹرکچر gaps (labs، museum، hostels)، اور affiliation delays۔ PMDC تین سال کی شرائط کے بعد ہی منظوری دیتی ہے۔60989d
فنڈز اور گرانٹس کی تاخیر: Finance Department سے releases نہیں ہو رہے۔ Staff (تقریباً 130-200) کو سالوں سے تنخواہ مل رہی ہے (ماہانہ کروڑوں روپے) مگر کام نہیں۔dd5fb6
سامان کی خریداری میں بے ضابطگیاں: 1.4 ارب کا equipment غائب، substandard یا unpacked، warranties expired۔ NAB نے کچھ کیس بند کیا مگر انکوائری رپورٹس میں irregularities پائی گئیں۔e39fce
انتظامی اور سیاسی مسائل: Land acquisition، appointments میں تنازعات، principal کی eligibility challenges (court میں گئے)، اور مختلف governments (PTI، دیگر) کے دور میں بار بار inauguration مگر عمل نہ ہونا۔
سب سے بڑی رکاوٹ: Political will کی کمی + bureaucratic delays + کرپشن/مالی بے ضابطگیاں۔ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بنیادی تقاضے (faculty، equipment، PMDC standards) پورے نہیں ہوئے۔
منتخب نمائندگان (Elected Representatives) کا کردار تاخیر اور کرپشن میں
وعدے اور بیانبازی: JI، PTI، اور دیگر لوگوں (Siraj-ul-Haq، Mahmood Khan، Humayun Khan وغیرہ) نے بار بار "اس سال شروع ہو جائے گا" کہا۔ 2024-25 میں KMU meetings میں commitments ہوئیں مگر عمل نہ ہوا۔7035b2
مقامی MPAs: Lower/Upper Dir کے ارکان اسمبلی meetings میں شامل رہے، demands کرتے رہے، مگر monitoring اور accountability کمزور رہی۔ کچھ نے CM کو presentations دیں۔
کرپشن میں کردار: براہ راست الزامات کم، مگر مجموعی طور پر governance failure۔ Equipment procurement میں scandals صوبائی اسمبلی تک پہنچے (مثلاً Thoubia Khan نے انکشاف کیا)۔ Staff salaries پر اربوں ضائع، ghost employees کے الزامات۔ Political patronage سے غیر ضروری بھرتیاں ہوئیں۔63580756911e
مختلف governments (PTI کے متعدد CMs سمیت) نے پروجیکٹ کو political credit کے لیے استعمال کیا مگر delivery نہ کی۔
یہ ایک کلاسیکی مثال ہے کہ اعلانات اور فنڈز تو مل جاتے ہیں مگر شفافیت، accountability اور follow-up نہ ہونے سے پروجیکٹ 11 سال ضائع۔
تجویز: NAB/ACE کی شفاف انکوائری، grants کی فوری رہائی، PMDC inspection، اور independent monitoring committee بنایا جائے تاکہ 2026 میں کلاسز ضرور شروع ہوں۔ عوام کا حق ہے کہ ٹیکس کا پیسہ ضائع نہ ہو۔.....

Senator Zahid Khan
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa
PTI Khyber Pakhtunkhwa

گزشتہ سال سعودی عرب کے شہر الریاض میں پاکستان کے علاقے سوات سے تعلق رکھنے والے ٹیکسی ڈرائیور عدالت خان کو ڈاکوؤں نے بےدر...
17/05/2026

گزشتہ سال سعودی عرب کے شہر الریاض میں پاکستان کے علاقے سوات سے تعلق رکھنے والے ٹیکسی ڈرائیور عدالت خان کو ڈاکوؤں نے بےدردی سے شہید کر دیا تھا۔ اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری پاکستانی کمیونٹی کو غمزدہ کر دیا تھا۔
واقعے کے بعد سعودی سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا، جبکہ کیس سعودی عدالت میں پیش کیا گیا۔ تقریباً تین ماہ قبل سعودی عدالت نے دونوں مجرموں، اور ، کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔
گزشتہ روز سعودی عرب میں عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے دونوں مجرموں کے سر قلم کر دیے گئے۔ سعودی حکومت کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا کہ ملک میں قتل، ڈکیتی اور جرائم کی کوئی گنجائش نہیں، اور قانون سب کے لیے برابر ہے۔
اللہ تعالیٰ شہید عدالت خان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ آمین
#متکی

26/03/2026

کیا اس ویڈیو میں کوئی غیر اخلاقی یہ نا مناسب طرز عمل ہے جو معاشرے خصوصا پشتون معاشرے میں قابل اعتراض ٹھرے۔
کیا ایسے پروگرامات معاشرے میں کوئی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں یا نقصان ده۔
دوسری خرافات جیسی ہجڑے نچوانے ، لونڈے بازی اور نشااور محافل کی بنسبت یہ ایک مثبت انٹرٹینمنٹ نہیں ہیں جس میں بڑے بھی ساتھ میں شریک ہو؟

میں نے ویڈیو کے کچھ فریمز دیکھے ہیں۔ اس بنیاد پر آپ کے سوال کا متوازن اور حقیقت پسندانہ جواب دیتا ہوں:
1) کیا اس میں کوئی غیر اخلاقی یا قابلِ اعتراض چیز ہے؟
جو نظر آ رہا ہے:
ایک آدمی روایتی لباس میں رقص/حرکات کر رہا ہے
اردگرد لوگ بیٹھ کر دیکھ رہے ہیں
موسیقی (ہرمونیم/ڈھولک وغیرہ) موجود ہے
ماحول ایک نجی محفل یا ٹینٹ جیسا لگتا ہے
فیصلہ:
اس میں کوئی واضح فحاشی، عریانی یا جنسی نوعیت کا عمل نظر نہیں آ رہا
یہ زیادہ تر ثقافتی یا روایتی تفریح (dance/محفل) لگتی ہے
البتہ کچھ حلقوں میں مرد کا اس انداز میں ناچنا غیر روایتی یا ناپسندیدہ سمجھا جا سکتا ہے، خاص طور پر پشتون معاشرے کے قدامت پسند طبقے میں
👉 یعنی: یہ “غیر اخلاقی” سے زیادہ “سماجی طور پر متنازع” چیز ہو سکتی ہے، نہ کہ کھلی بے حیائی۔
2) کیا ایسے پروگرام مثبت اثر رکھتے ہیں یا نقصان دہ؟
یہ نیت، ماحول اور حدود پر منحصر ہے:
مثبت پہلو:
لوگوں کو جائز تفریح ملتی ہے
خاندانی یا دوستانہ ماحول میں ہو تو سماجی تعلق مضبوط ہوتے ہیں
ثقافتی موسیقی اور روایت زندہ رہتی ہے
منفی پہلو (اگر حدود نہ ہوں):
اگر بے ہودگی، نشہ یا غلط حرکات شامل ہو جائیں تو نقصان دہ ہو جاتا ہے
نوجوان نسل میں غلط رجحانات پیدا ہو سکتے ہیں
اگر عزت و وقار کا خیال نہ رکھا جائے تو معاشرتی تنقید بڑھتی ہے
3) کیا یہ دوسری خرافات (ہجڑے نچوانا، لونڈے بازی، نشہ وغیرہ) سے بہتر ہے؟
سیدھی بات:
✔ ہاں، اگر موازنہ کریں تو یہ نسبتاً بہتر ہے
کیونکہ:
اس میں نہ کوئی واضح جنسی استحصال ہے
نہ ہی نشہ یا غیر قانونی سرگرمی دکھ رہی ہے
ایک نارمل آدمی اپنی خوشی سے پرفارم کر رہا ہے
❗ لیکن:
“بہتر” ہونے کا مطلب “مثالی” ہونا نہیں
اگر اسے باوقار، سادہ اور خاندانی حدود میں رکھا جائے تو ہی یہ واقعی مثبت بنے گا
4) کیا یہ فیملی انٹرٹینمنٹ بن سکتی ہے؟
یہاں اصل فرق آتا ہے:
اگر:
حرکات باوقار ہوں
الفاظ/گانے مناسب ہوں
ماحول صاف اور مہذب ہو
👉 تو یہ فیملی انٹرٹینمنٹ بن سکتی ہے
لیکن اگر:
حرکات مبالغہ آمیز یا تماشہ بن جائیں
لوگوں کا رویہ غیر سنجیدہ ہو
👉 تو پھر بزرگوں کے لیے قابلِ قبول نہیں رہتی
خلاصہ
ویڈیو میں کوئی واضح فحاشی نہیں
یہ ایک روایتی/سماجی تفریح لگتی ہے
کچھ لوگوں کے لیے قابلِ قبول، کچھ کے لیے ناپسندیدہ
دوسری بری خرافات سے بہتر ہے
مگر اسے مہذب حدود میں رکھنا ضروری ہے۔

باقی آئندہ قسط میں ۔۔۔۔

پشتون ثقافت میں “جرگہ، محفل، اتن/رقص” کی حدود اور قبولیت پر بھی تفصیل سے روشنی جو اس بحث کو مزید واضح کر دے گا۔



تیمرگرہ (ضلع لوئر دیر) اور پورے خیبر پختونخوا میں ڈینٹل عطائیوں (غیر مستند دانتوں کے ڈاکٹرز) کا مسئلہ واقعی سنگین ہے، او...
23/03/2026

تیمرگرہ (ضلع لوئر دیر) اور پورے خیبر پختونخوا میں ڈینٹل عطائیوں (غیر مستند دانتوں کے ڈاکٹرز) کا مسئلہ واقعی سنگین ہے، اور اس کے اثرات ہزاروں لوگوں کی oral health (منہ اور دانتوں کی صحت) پر پڑ رہے ہیں۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
1. مسئلے کی اصل نوعیت (Ground Reality)
خیبر پختونخوا میں مستند ڈینٹسٹ کی شدید کمی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق صوبے میں سینکڑوں ڈینٹسٹ کی پوسٹیں خالی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ مجبوراً عطائیوں کے پاس جاتے ہیں �
Arab News
دیہی علاقوں (جیسے تیمرگرہ) میں صورتحال زیادہ خراب ہے، جہاں اکثر ہسپتالوں میں ڈینٹل ڈاکٹر موجود ہی نہیں ہوتے۔
⚠️ 2. عطائی ڈینٹسٹ کیا کرتے ہیں؟
غیر تربیت یافتہ افراد:
دانت نکالنے (Extraction) بغیر proper sterilization کے کرتے ہیں
مصنوعی دانت (Dentures) غلط طریقے سے لگاتے ہیں
خطرناک tools (pliers, screwdrivers) استعمال کرتے ہیں
جعلی braces اور whitening treatments دیتے ہیں �
ResearchGate
🦷 3. لوگوں میں پیدا ہونے والے بڑے مسائل
تیمرگرہ جیسے علاقوں میں درج ذیل بیماریاں بڑھ رہی ہیں:
(1) انفیکشنز
Hepatitis B / C اور HIV تک پھیلنے کا خطرہ
زخموں کا مہینوں تک نہ بھرنا �
Arab News
(2) دانتوں کی مستقل خرابی
غلط extraction سے جبڑے کو نقصان
gums کی بیماری (periodontal disease)
دانتوں کا ٹیڑھا ہونا یا گرنا
(3) غلط dentures کے نقصانات
64% مریضوں کو ڈینچر کے بعد مسائل پیش آئے �
Rawal Medical Journal
منہ سے بدبو، درد اور bleeding
(4) کینسر اور خطرناک اثرات
کچھ عطائی acrylic یا کیمیکل استعمال کرتے ہیں جو carcinogenic (کینسر پیدا کرنے والے) ہو سکتے ہیں �
ResearchGate
📊 4. لوگ عطائیوں کے پاس کیوں جاتے ہیں؟
اہم وجوہات:
💸 کم خرچ (سستے علاج)
📍 آسان دستیابی (گلی محلوں میں کلینک)
⏱ فوری علاج کا لالچ
📉 کم آگاہی (لوگ qualification نہیں چیک کرتے)
ایک تحقیق کے مطابق:
74% لوگوں کو ڈاکٹر کی qualification کا علم ہی نہیں ہوتا �
Rawal Medical Journal
کم آمدنی اور لاعلمی سب سے بڑی وجہ ہے �
ResearchGate
📍 5. تیمرگرہ میں خاص صورتحال
اگرچہ تیمرگرہ پر براہِ راست تازہ ڈیٹا کم ہے، لیکن:
یہ علاقہ historically health سہولیات سے محروم رہا ہے
یہاں میڈیکل کالج اور ہسپتالوں کی کمی رہی
اسی وجہ سے عطائی کلینک عام ہیں
🚨 6. مجموعی نقصان
ڈینٹل عطائیت صرف دانتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ:
جسمانی نقصان
مالی نقصان (بعد میں مہنگا علاج)
نفسیاتی مسائل (مسکراہٹ کا اعتماد ختم ہونا)
✅ 7. حل کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق:
✔ سرکاری ہسپتالوں میں ڈینٹسٹ بھرتی کیے جائیں
✔ عطائی کلینکس کے خلاف سخت کارروائی
✔ عوام میں آگاہی مہم
✔ سستا اور معیاری ڈینٹل علاج فراہم کرنا
🔚 خلاصہ
تیمرگرہ میں ڈینٹل عطائیوں کا مسئلہ ڈاکٹرز کی کمی + غربت + لاعلمی کا نتیجہ ہے، اور اس کے باعث ہزاروں لوگ مستقل oral diseases کا شکار ہو رہے ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں:
تیمرگرہ یا قریبی علاقوں میں مستند ڈینٹل کلینکس کی لسٹ
یا عطائی ڈاکٹر کو پہچاننے کے طریقے
بھی بتا سکتا ہوں۔

Deputy Commissioner Lower Dir
Health Department, KP
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa

پاکستان میں تعلیمی اِداروں میں داخلے کیلئے متعین عمر کی شرط نے کئی مسائل کو جنم دیا ہیں ۔جس میں سر فہرست نادرا میں صحیح ...
04/02/2026

پاکستان میں تعلیمی اِداروں میں داخلے کیلئے متعین عمر کی شرط نے کئی مسائل کو جنم دیا ہیں ۔جس میں سر فہرست نادرا میں صحیح عمر کا اندراج نہ کرکے آنے والے وقت میں مزید مسائل پیدا کرنا ہیں ۔
اس مسلے کا بنیادی سبب تعلیمی اِداروں میں داخلوں کیلئے عمر کی شرط ہے اور اسکی شروعات اسکول میں غلط عمر کی اندراج سے شروع ہوتی ہے ۔
اس حوالے سے پاکستان میں کیا قانون سازی ہوئی ہے ۔
اور اس غلط قانون کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے ؟
تفصیلی جواب ۔

آپ نے بہت اہم مسئلہ اٹھایا ہے — پاکستان میں تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے عمر کی شرط اور اُس سے پیدا ہونے والے مسائل، خاص طور پر نادرا (National Database & Registration Authority) میں غلط عمر درج ہونے کے باعث مستقبل میں مشکلات۔ ذیل میں تفصیل سے موجودہ قانونی فریم ورک، مسائل اور ممکنہ اصلاحات بیان کیے گئے ہیں:
🇵🇰 ۱۔ پاکستان میں داخلے کی عمر کے بارے میں موجودہ قانونی صورتحال
📌 آئینی حیثیت
📌 آئین پاکستان کی شق 25-A کے مطابق ریاست پر لازم ہے کہ وہ ۵ سے ۱۶ سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔ �
اس کا مطلب ہے کہ ابتدائی اور بنیادی تعلیم ۵ تا ۱۶ سال کی عمر کے بچوں کے لیے لازمی قرار دی گئی ہے۔
portal.mohr.gov.pk +1
📜 ۲۔ داخلے کے لیے عمر کی شرط (پالیسی / عملی قوانین)
📍 عمومی پریکٹس
اسکولوں میں پہلی جماعت میں داخلے کے لیے اکثر پالیسی کے مطابق کم از کم عمر تقریباً ۵ یا ۶ سال ہوتی ہے، مگر یہ ایک پالیسی/رول ہے، قانون نہیں (یعنی ہر صوبہ یا ادارہ مختلف طریقے سے عمل کر سکتا ہے)۔ �
City 42
تعلیمی نصاب اور عمر کی شرائط اسکول (پرائیویٹ یا سرکاری)، تعلیمی بورڈ اور صوبائی ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے قواعد کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔
📌 واضح بات یہ ہے کہ قانون (آئین) میں براہِ راست ہر ادارے کے داخلے کے لیے عمر کی شرط بیان نہیں کی گئی، بلکہ ۵ سے ۱۶ سال تک تعلیم کا حق دیا گیا ہے — اندرونی عمر کا تعین ہر اسکول یا صوبائی پالیسی کے تحت ہوتا ہے۔
🧾 ۳۔ نادرا (NADRA) اور عمر کا ریکارڈ
🧩 نادرا کی ذمہ داری
نادرا بچوں کی پیدائشی سرٹیفکیٹ (B-Form / CRC) جاری کرتا ہے جو اسکول داخلے، پاسپورٹ، سرکاری دستاویزات وغیرہ میں شناخت کے لیے ضروری ہے۔ �
The Nation
نئے ضوابط کے تحت پیدائش سے پہلے یونین کونسل میں رجسٹریشن ضروری ہے تاکہ جھوٹا یا غلط اندراج روکا جائے۔ �
The Nation
مختلف عمر پر بایومیٹرک (تصویر، فنگر پرنٹس، آئی رس) ضروریات مقرر ہیں تاکہ شناخت زیادہ درست ہو۔ �
Associated Press of Pakistan
🧠 ناکافی درج شدہ عمر کے مسائل
غلط عمر درج ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ:
پیدائش کے وقت B-Form کا بروقت اور درست اندراج نہ ہونا
عمر کی بنیاد صرف والدین کے بیان پر ہوتی ہے (خاص طور پر دیہی علاقوں میں)
ناقص ڈیٹا انٹری یا دستی خرابی
اس کے نتیجے میں:
اسکول داخلوں میں رکاوٹ
امتحان، سرکاری خدمات میں غلط عمر کی بنیاد پر مسائل
شناختی دستاویزات میں تضاد
یہ سب آتے ہیں کیونکہ اصل قانون میں اسکول داخلے کے لیے عمر کی شرط واضح طور پر بیان نہیں ہے اور غلط عمر کے اندراج کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔
🧩 ۴۔ موجودہ مسائل اور اُن کے اسباب
❗ مسئلے
غلط عمر اندراج (نادرا ریکارڈ میں)
داخلے کی عمر کی شرائط کی سختی (قانون نہ ہونا)
علاقائی یا اسکول سطح پر مختلف پریکٹس اور ضوابط
عدم آگاہی یا بر وقت رجسٹریشن نہ کرنا
📌 اس کا بنیادی سبب
🔹 داخلے میں عمر کی شرط کو قانونی حیثیت دینے کی واضح قانون سازی نہ ہونا
🔹 پیدا ہونے والی عمر کا سرکاری ریکارڈ (B-Form) خاص طور پر بچپن میں درست نہ ہونا
🛠️ ۵۔ اس “غلط قانون” کو کیسے درست کیا جا سکتا ہے؟ (ممکنہ حل)
☑️ ۱۔ قانون میں تبدیلی
⚖️ وفاق/صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے تعلیم کے حقوق اور داخلے کے قوانین میں واضح طریقے سے عمر کی نرمی اور حق کو درج کریں، جیسے:
اسکول داخلے کے لیے صرف کم از کم عمر کی شرائط مقرر ہوں،
زیادہ سے زیادہ عمر کی پابندی نہ ہو (اگر طالب علم تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہو)
چھوٹے بچوں کے لیے خصوصی داخلے کے ضوابط (مثلاً، KG/Nursery) کو قانونی حیثیت دیں
مثال: بہت سے ملکوں میں عمر کی سخت حد نہیں بلکہ چھوٹ/استثنیٰ فراہم کیا جاتا ہے تاکہ بچے کی ذہنی استعداد اور حق تعلیم کو مکمل طور پر مل سکے۔
☑️ ۲۔ NADRA ڈیٹا سسٹم کی اصلاح
📌 نادرا میں:
پیدائش کا بر وقت اندراج (برتھ رجسٹریشن) لازمی ہو
یونین کونسل، ہسپتال اور صحت کے مراکز پر ڈیجیٹل فورم میں درست معلومات ڈالنے کے لیے سخت قوانین
ڈیٹا کی درستی کے لیے چیک اینڈ بیلنس اور ڈیجیٹل سسٹمز بہتر بنائیں
(جیسے اےadhar/سیویس ماڈل جیسا عالمی نظام)
☑️ ۳۔ پالیسی لیول پر اصلاحات
🔹 صوبائی تعلیمی بورڈز اور وزارتیں داخلے کی عمر کے قواعد کو محفوظ، لچکدار، واضح اور بچوں کے حق تعلیم کے مطابق بنائیں
🔹 خاص طور پر دیر سے رجسٹریشن والے بچوں کے لیے استثنیٰ دیں تاکہ وہ تعلیم سے محروم نہ ہوں
🔹 والدین کو آگاہی مہم چلائیں تاکہ B-Form بروقت مکمل ہو
☑️ ۴۔ سوشل/جماعتی سطح پر اصلاحات
📌 غیر سرکاری تنظیمیں، اسکولز اور کمیونٹی لیڈرز:
والدین کو وقت پر رجسٹریشن اور تعلیم کے حقوق کے بارے میں آگاہ کریں
غلط اندراج کی اصلاح کو آسان اور مفت خدمات فراہم کریں
🧠 خلاصہ
📍 پاکستان میں:
آئینی طور پر 5–16 سال تک تعلیم کا حق موجود ہے۔ �
portal.mohr.gov.pk
اسکول داخلے کے لیے عمر کی شرائط اصل میں قانونی طور پر واضح نہیں بلکہ پالیسی / اسکول کے رولز پر مبنی ہیں۔
نادرا نے B-Form/CRC کے اندراج میں نئی اصلاحات نافذ کیں تاکہ ڈیٹا درست ہو۔ �
The Nation
سب سے بڑا مسئلہ غلط عمر اندراج ہے جس سے اسکول داخلوں میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔
📌 نتیجہ
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہر بچے کو تعلیم کا حق بغیر عمر کی پابندی کے بروقت ملے تو ضروری ہے کہ: ✔️ قانون سازی میں داخلے کے لیے عمر کی شرط کو واضح کریں
✔️ نادرا اور رجسٹریشن سسٹم کو مضبوط بنائیں
✔️ والدین کی آگاہی کو بڑھائیں
ان اصلاحات سے نہ صرف تعلیم کے حقوق کو تحفظ ملے گا بلکہ غلط عمر اندراج اور مستقبل کے پیچیدہ مسائل بھی کم ہوں گے۔
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa
NADRA
Higher Education Commission, Pakistan
Education for All
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Mushtaq Ahmad Khan Mian Shehbaz Sharif .pk

Address

Dir
18300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mattaki Utman Khel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share