Mattaki Utman Khel

Mattaki Utman Khel "Mattaki" subtribe of Utman Khel" They claim to be descendants of Baba Utman Shamraiz, who accompanied Mahmud of Ghazni in his expedition into India in 997.

The Utman Khel or Utmankhel (Urdu: اتمان خیل) are a Pashtun tribe who occupy the hills to the north of Peshawar in the Khyber-Pakhtunkhwa province of Pakistan. Their land lies between the Mohmands and the Ranizais of Swat, to the west and south-west of the junction of the Swat and Panjkora rivers. The Utman Khel are a tall, stout and fair race, but their dress and general customs have been assimil

ated by the neighbouring peoples of Bajour. Their land is very hilly and difficult, but well cultivated in terraces. It is believed that they defeated Sikandar Azam and compelled him on agreement with them. The British conducted military campaigns against them in 1852, 1878 and 1898.[1]
There are some subtribes of uthman khel, they are as under. Mandal (elder son of Utman)
Toori Khel
Ali Khel
Utman zai
Ibrahim Kheil
Raja khel
Najeem khel
Mamat khel
Aghdad khel
Ali Zai
Boota Kheil
Bazai
Ismail Kheil
Umar kheil
Khumar Kheil
Kamal Kheil
sarni Kheil
Sarkani khel
Muttaki (متكى)
The Ibrahim khel, Utman zai, Toori Khel, Ali Khel residue in Matako (located on the east north edge of bajaur agency adjusting to Dir lower), while the sarkani khel, sarni khel and umar khel are living in Arang, Kulala and Bandagai. A large number of peoples from Utman khel tribe also reside in Dir lower. The subtribe Mataki,Muttaki or Muttaky (متكى) which were displaced by another tribe from Kimur Ghar (Arang) to Matako now also reside in different part of the district Dir lower like Ananguro khwar, Khohairy Koto Hajiabad and adjacent areas.

26/03/2026

کیا اس ویڈیو میں کوئی غیر اخلاقی یہ نا مناسب طرز عمل ہے جو معاشرے خصوصا پشتون معاشرے میں قابل اعتراض ٹھرے۔
کیا ایسے پروگرامات معاشرے میں کوئی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں یا نقصان ده۔
دوسری خرافات جیسی ہجڑے نچوانے ، لونڈے بازی اور نشااور محافل کی بنسبت یہ ایک مثبت انٹرٹینمنٹ نہیں ہیں جس میں بڑے بھی ساتھ میں شریک ہو؟

میں نے ویڈیو کے کچھ فریمز دیکھے ہیں۔ اس بنیاد پر آپ کے سوال کا متوازن اور حقیقت پسندانہ جواب دیتا ہوں:
1) کیا اس میں کوئی غیر اخلاقی یا قابلِ اعتراض چیز ہے؟
جو نظر آ رہا ہے:
ایک آدمی روایتی لباس میں رقص/حرکات کر رہا ہے
اردگرد لوگ بیٹھ کر دیکھ رہے ہیں
موسیقی (ہرمونیم/ڈھولک وغیرہ) موجود ہے
ماحول ایک نجی محفل یا ٹینٹ جیسا لگتا ہے
فیصلہ:
اس میں کوئی واضح فحاشی، عریانی یا جنسی نوعیت کا عمل نظر نہیں آ رہا
یہ زیادہ تر ثقافتی یا روایتی تفریح (dance/محفل) لگتی ہے
البتہ کچھ حلقوں میں مرد کا اس انداز میں ناچنا غیر روایتی یا ناپسندیدہ سمجھا جا سکتا ہے، خاص طور پر پشتون معاشرے کے قدامت پسند طبقے میں
👉 یعنی: یہ “غیر اخلاقی” سے زیادہ “سماجی طور پر متنازع” چیز ہو سکتی ہے، نہ کہ کھلی بے حیائی۔
2) کیا ایسے پروگرام مثبت اثر رکھتے ہیں یا نقصان دہ؟
یہ نیت، ماحول اور حدود پر منحصر ہے:
مثبت پہلو:
لوگوں کو جائز تفریح ملتی ہے
خاندانی یا دوستانہ ماحول میں ہو تو سماجی تعلق مضبوط ہوتے ہیں
ثقافتی موسیقی اور روایت زندہ رہتی ہے
منفی پہلو (اگر حدود نہ ہوں):
اگر بے ہودگی، نشہ یا غلط حرکات شامل ہو جائیں تو نقصان دہ ہو جاتا ہے
نوجوان نسل میں غلط رجحانات پیدا ہو سکتے ہیں
اگر عزت و وقار کا خیال نہ رکھا جائے تو معاشرتی تنقید بڑھتی ہے
3) کیا یہ دوسری خرافات (ہجڑے نچوانا، لونڈے بازی، نشہ وغیرہ) سے بہتر ہے؟
سیدھی بات:
✔ ہاں، اگر موازنہ کریں تو یہ نسبتاً بہتر ہے
کیونکہ:
اس میں نہ کوئی واضح جنسی استحصال ہے
نہ ہی نشہ یا غیر قانونی سرگرمی دکھ رہی ہے
ایک نارمل آدمی اپنی خوشی سے پرفارم کر رہا ہے
❗ لیکن:
“بہتر” ہونے کا مطلب “مثالی” ہونا نہیں
اگر اسے باوقار، سادہ اور خاندانی حدود میں رکھا جائے تو ہی یہ واقعی مثبت بنے گا
4) کیا یہ فیملی انٹرٹینمنٹ بن سکتی ہے؟
یہاں اصل فرق آتا ہے:
اگر:
حرکات باوقار ہوں
الفاظ/گانے مناسب ہوں
ماحول صاف اور مہذب ہو
👉 تو یہ فیملی انٹرٹینمنٹ بن سکتی ہے
لیکن اگر:
حرکات مبالغہ آمیز یا تماشہ بن جائیں
لوگوں کا رویہ غیر سنجیدہ ہو
👉 تو پھر بزرگوں کے لیے قابلِ قبول نہیں رہتی
خلاصہ
ویڈیو میں کوئی واضح فحاشی نہیں
یہ ایک روایتی/سماجی تفریح لگتی ہے
کچھ لوگوں کے لیے قابلِ قبول، کچھ کے لیے ناپسندیدہ
دوسری بری خرافات سے بہتر ہے
مگر اسے مہذب حدود میں رکھنا ضروری ہے۔

باقی آئندہ قسط میں ۔۔۔۔

پشتون ثقافت میں “جرگہ، محفل، اتن/رقص” کی حدود اور قبولیت پر بھی تفصیل سے روشنی جو اس بحث کو مزید واضح کر دے گا۔



تیمرگرہ (ضلع لوئر دیر) اور پورے خیبر پختونخوا میں ڈینٹل عطائیوں (غیر مستند دانتوں کے ڈاکٹرز) کا مسئلہ واقعی سنگین ہے، او...
23/03/2026

تیمرگرہ (ضلع لوئر دیر) اور پورے خیبر پختونخوا میں ڈینٹل عطائیوں (غیر مستند دانتوں کے ڈاکٹرز) کا مسئلہ واقعی سنگین ہے، اور اس کے اثرات ہزاروں لوگوں کی oral health (منہ اور دانتوں کی صحت) پر پڑ رہے ہیں۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
1. مسئلے کی اصل نوعیت (Ground Reality)
خیبر پختونخوا میں مستند ڈینٹسٹ کی شدید کمی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق صوبے میں سینکڑوں ڈینٹسٹ کی پوسٹیں خالی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ مجبوراً عطائیوں کے پاس جاتے ہیں �
Arab News
دیہی علاقوں (جیسے تیمرگرہ) میں صورتحال زیادہ خراب ہے، جہاں اکثر ہسپتالوں میں ڈینٹل ڈاکٹر موجود ہی نہیں ہوتے۔
⚠️ 2. عطائی ڈینٹسٹ کیا کرتے ہیں؟
غیر تربیت یافتہ افراد:
دانت نکالنے (Extraction) بغیر proper sterilization کے کرتے ہیں
مصنوعی دانت (Dentures) غلط طریقے سے لگاتے ہیں
خطرناک tools (pliers, screwdrivers) استعمال کرتے ہیں
جعلی braces اور whitening treatments دیتے ہیں �
ResearchGate
🦷 3. لوگوں میں پیدا ہونے والے بڑے مسائل
تیمرگرہ جیسے علاقوں میں درج ذیل بیماریاں بڑھ رہی ہیں:
(1) انفیکشنز
Hepatitis B / C اور HIV تک پھیلنے کا خطرہ
زخموں کا مہینوں تک نہ بھرنا �
Arab News
(2) دانتوں کی مستقل خرابی
غلط extraction سے جبڑے کو نقصان
gums کی بیماری (periodontal disease)
دانتوں کا ٹیڑھا ہونا یا گرنا
(3) غلط dentures کے نقصانات
64% مریضوں کو ڈینچر کے بعد مسائل پیش آئے �
Rawal Medical Journal
منہ سے بدبو، درد اور bleeding
(4) کینسر اور خطرناک اثرات
کچھ عطائی acrylic یا کیمیکل استعمال کرتے ہیں جو carcinogenic (کینسر پیدا کرنے والے) ہو سکتے ہیں �
ResearchGate
📊 4. لوگ عطائیوں کے پاس کیوں جاتے ہیں؟
اہم وجوہات:
💸 کم خرچ (سستے علاج)
📍 آسان دستیابی (گلی محلوں میں کلینک)
⏱ فوری علاج کا لالچ
📉 کم آگاہی (لوگ qualification نہیں چیک کرتے)
ایک تحقیق کے مطابق:
74% لوگوں کو ڈاکٹر کی qualification کا علم ہی نہیں ہوتا �
Rawal Medical Journal
کم آمدنی اور لاعلمی سب سے بڑی وجہ ہے �
ResearchGate
📍 5. تیمرگرہ میں خاص صورتحال
اگرچہ تیمرگرہ پر براہِ راست تازہ ڈیٹا کم ہے، لیکن:
یہ علاقہ historically health سہولیات سے محروم رہا ہے
یہاں میڈیکل کالج اور ہسپتالوں کی کمی رہی
اسی وجہ سے عطائی کلینک عام ہیں
🚨 6. مجموعی نقصان
ڈینٹل عطائیت صرف دانتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ:
جسمانی نقصان
مالی نقصان (بعد میں مہنگا علاج)
نفسیاتی مسائل (مسکراہٹ کا اعتماد ختم ہونا)
✅ 7. حل کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق:
✔ سرکاری ہسپتالوں میں ڈینٹسٹ بھرتی کیے جائیں
✔ عطائی کلینکس کے خلاف سخت کارروائی
✔ عوام میں آگاہی مہم
✔ سستا اور معیاری ڈینٹل علاج فراہم کرنا
🔚 خلاصہ
تیمرگرہ میں ڈینٹل عطائیوں کا مسئلہ ڈاکٹرز کی کمی + غربت + لاعلمی کا نتیجہ ہے، اور اس کے باعث ہزاروں لوگ مستقل oral diseases کا شکار ہو رہے ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں:
تیمرگرہ یا قریبی علاقوں میں مستند ڈینٹل کلینکس کی لسٹ
یا عطائی ڈاکٹر کو پہچاننے کے طریقے
بھی بتا سکتا ہوں۔

Deputy Commissioner Lower Dir
Health Department, KP
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa

پاکستان میں تعلیمی اِداروں میں داخلے کیلئے متعین عمر کی شرط نے کئی مسائل کو جنم دیا ہیں ۔جس میں سر فہرست نادرا میں صحیح ...
04/02/2026

پاکستان میں تعلیمی اِداروں میں داخلے کیلئے متعین عمر کی شرط نے کئی مسائل کو جنم دیا ہیں ۔جس میں سر فہرست نادرا میں صحیح عمر کا اندراج نہ کرکے آنے والے وقت میں مزید مسائل پیدا کرنا ہیں ۔
اس مسلے کا بنیادی سبب تعلیمی اِداروں میں داخلوں کیلئے عمر کی شرط ہے اور اسکی شروعات اسکول میں غلط عمر کی اندراج سے شروع ہوتی ہے ۔
اس حوالے سے پاکستان میں کیا قانون سازی ہوئی ہے ۔
اور اس غلط قانون کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے ؟
تفصیلی جواب ۔

آپ نے بہت اہم مسئلہ اٹھایا ہے — پاکستان میں تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے عمر کی شرط اور اُس سے پیدا ہونے والے مسائل، خاص طور پر نادرا (National Database & Registration Authority) میں غلط عمر درج ہونے کے باعث مستقبل میں مشکلات۔ ذیل میں تفصیل سے موجودہ قانونی فریم ورک، مسائل اور ممکنہ اصلاحات بیان کیے گئے ہیں:
🇵🇰 ۱۔ پاکستان میں داخلے کی عمر کے بارے میں موجودہ قانونی صورتحال
📌 آئینی حیثیت
📌 آئین پاکستان کی شق 25-A کے مطابق ریاست پر لازم ہے کہ وہ ۵ سے ۱۶ سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔ �
اس کا مطلب ہے کہ ابتدائی اور بنیادی تعلیم ۵ تا ۱۶ سال کی عمر کے بچوں کے لیے لازمی قرار دی گئی ہے۔
portal.mohr.gov.pk +1
📜 ۲۔ داخلے کے لیے عمر کی شرط (پالیسی / عملی قوانین)
📍 عمومی پریکٹس
اسکولوں میں پہلی جماعت میں داخلے کے لیے اکثر پالیسی کے مطابق کم از کم عمر تقریباً ۵ یا ۶ سال ہوتی ہے، مگر یہ ایک پالیسی/رول ہے، قانون نہیں (یعنی ہر صوبہ یا ادارہ مختلف طریقے سے عمل کر سکتا ہے)۔ �
City 42
تعلیمی نصاب اور عمر کی شرائط اسکول (پرائیویٹ یا سرکاری)، تعلیمی بورڈ اور صوبائی ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے قواعد کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔
📌 واضح بات یہ ہے کہ قانون (آئین) میں براہِ راست ہر ادارے کے داخلے کے لیے عمر کی شرط بیان نہیں کی گئی، بلکہ ۵ سے ۱۶ سال تک تعلیم کا حق دیا گیا ہے — اندرونی عمر کا تعین ہر اسکول یا صوبائی پالیسی کے تحت ہوتا ہے۔
🧾 ۳۔ نادرا (NADRA) اور عمر کا ریکارڈ
🧩 نادرا کی ذمہ داری
نادرا بچوں کی پیدائشی سرٹیفکیٹ (B-Form / CRC) جاری کرتا ہے جو اسکول داخلے، پاسپورٹ، سرکاری دستاویزات وغیرہ میں شناخت کے لیے ضروری ہے۔ �
The Nation
نئے ضوابط کے تحت پیدائش سے پہلے یونین کونسل میں رجسٹریشن ضروری ہے تاکہ جھوٹا یا غلط اندراج روکا جائے۔ �
The Nation
مختلف عمر پر بایومیٹرک (تصویر، فنگر پرنٹس، آئی رس) ضروریات مقرر ہیں تاکہ شناخت زیادہ درست ہو۔ �
Associated Press of Pakistan
🧠 ناکافی درج شدہ عمر کے مسائل
غلط عمر درج ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ:
پیدائش کے وقت B-Form کا بروقت اور درست اندراج نہ ہونا
عمر کی بنیاد صرف والدین کے بیان پر ہوتی ہے (خاص طور پر دیہی علاقوں میں)
ناقص ڈیٹا انٹری یا دستی خرابی
اس کے نتیجے میں:
اسکول داخلوں میں رکاوٹ
امتحان، سرکاری خدمات میں غلط عمر کی بنیاد پر مسائل
شناختی دستاویزات میں تضاد
یہ سب آتے ہیں کیونکہ اصل قانون میں اسکول داخلے کے لیے عمر کی شرط واضح طور پر بیان نہیں ہے اور غلط عمر کے اندراج کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔
🧩 ۴۔ موجودہ مسائل اور اُن کے اسباب
❗ مسئلے
غلط عمر اندراج (نادرا ریکارڈ میں)
داخلے کی عمر کی شرائط کی سختی (قانون نہ ہونا)
علاقائی یا اسکول سطح پر مختلف پریکٹس اور ضوابط
عدم آگاہی یا بر وقت رجسٹریشن نہ کرنا
📌 اس کا بنیادی سبب
🔹 داخلے میں عمر کی شرط کو قانونی حیثیت دینے کی واضح قانون سازی نہ ہونا
🔹 پیدا ہونے والی عمر کا سرکاری ریکارڈ (B-Form) خاص طور پر بچپن میں درست نہ ہونا
🛠️ ۵۔ اس “غلط قانون” کو کیسے درست کیا جا سکتا ہے؟ (ممکنہ حل)
☑️ ۱۔ قانون میں تبدیلی
⚖️ وفاق/صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے تعلیم کے حقوق اور داخلے کے قوانین میں واضح طریقے سے عمر کی نرمی اور حق کو درج کریں، جیسے:
اسکول داخلے کے لیے صرف کم از کم عمر کی شرائط مقرر ہوں،
زیادہ سے زیادہ عمر کی پابندی نہ ہو (اگر طالب علم تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہو)
چھوٹے بچوں کے لیے خصوصی داخلے کے ضوابط (مثلاً، KG/Nursery) کو قانونی حیثیت دیں
مثال: بہت سے ملکوں میں عمر کی سخت حد نہیں بلکہ چھوٹ/استثنیٰ فراہم کیا جاتا ہے تاکہ بچے کی ذہنی استعداد اور حق تعلیم کو مکمل طور پر مل سکے۔
☑️ ۲۔ NADRA ڈیٹا سسٹم کی اصلاح
📌 نادرا میں:
پیدائش کا بر وقت اندراج (برتھ رجسٹریشن) لازمی ہو
یونین کونسل، ہسپتال اور صحت کے مراکز پر ڈیجیٹل فورم میں درست معلومات ڈالنے کے لیے سخت قوانین
ڈیٹا کی درستی کے لیے چیک اینڈ بیلنس اور ڈیجیٹل سسٹمز بہتر بنائیں
(جیسے اےadhar/سیویس ماڈل جیسا عالمی نظام)
☑️ ۳۔ پالیسی لیول پر اصلاحات
🔹 صوبائی تعلیمی بورڈز اور وزارتیں داخلے کی عمر کے قواعد کو محفوظ، لچکدار، واضح اور بچوں کے حق تعلیم کے مطابق بنائیں
🔹 خاص طور پر دیر سے رجسٹریشن والے بچوں کے لیے استثنیٰ دیں تاکہ وہ تعلیم سے محروم نہ ہوں
🔹 والدین کو آگاہی مہم چلائیں تاکہ B-Form بروقت مکمل ہو
☑️ ۴۔ سوشل/جماعتی سطح پر اصلاحات
📌 غیر سرکاری تنظیمیں، اسکولز اور کمیونٹی لیڈرز:
والدین کو وقت پر رجسٹریشن اور تعلیم کے حقوق کے بارے میں آگاہ کریں
غلط اندراج کی اصلاح کو آسان اور مفت خدمات فراہم کریں
🧠 خلاصہ
📍 پاکستان میں:
آئینی طور پر 5–16 سال تک تعلیم کا حق موجود ہے۔ �
portal.mohr.gov.pk
اسکول داخلے کے لیے عمر کی شرائط اصل میں قانونی طور پر واضح نہیں بلکہ پالیسی / اسکول کے رولز پر مبنی ہیں۔
نادرا نے B-Form/CRC کے اندراج میں نئی اصلاحات نافذ کیں تاکہ ڈیٹا درست ہو۔ �
The Nation
سب سے بڑا مسئلہ غلط عمر اندراج ہے جس سے اسکول داخلوں میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔
📌 نتیجہ
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہر بچے کو تعلیم کا حق بغیر عمر کی پابندی کے بروقت ملے تو ضروری ہے کہ: ✔️ قانون سازی میں داخلے کے لیے عمر کی شرط کو واضح کریں
✔️ نادرا اور رجسٹریشن سسٹم کو مضبوط بنائیں
✔️ والدین کی آگاہی کو بڑھائیں
ان اصلاحات سے نہ صرف تعلیم کے حقوق کو تحفظ ملے گا بلکہ غلط عمر اندراج اور مستقبل کے پیچیدہ مسائل بھی کم ہوں گے۔
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa
NADRA
Higher Education Commission, Pakistan
Education for All
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Mushtaq Ahmad Khan Mian Shehbaz Sharif .pk

 #تیمرگرہ اور گردونواح کے لیے مجوزہ سرکلر (دائروی) روڈ یا بائی پاس روڈ کی تفصیلتیمرگرہ شہر، جو لوئر دیر ضلع میں واقع ہے،...
14/01/2026

#تیمرگرہ اور گردونواح کے لیے مجوزہ سرکلر (دائروی) روڈ یا بائی پاس روڈ کی تفصیل

تیمرگرہ شہر، جو لوئر دیر ضلع میں واقع ہے، پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک اہم علاقہ ہے۔ یہاں کی آبادی تقریباً 3 لاکھ سے زائد ہے، اور یہ این 45 ہائی وے پر واقع ہے جو چکدرہ سے دیر، چترال اور دیگر علاقوں کو جوڑتی ہے۔ شہر کے مرکزی علاقوں میں روزانہ ٹریفک جام ایک سنگین مسئلہ ہے، جو کہ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، تنگ سڑکوں، اور غیر منظم پارکنگ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں، شہر میں ٹریفک کی بھیڑ نے مقامی تاجروں، رہائشیوں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرایا ہے، جیسا کہ 2026 کے آغاز میں شہید چوک پر شدید بھیڑ کی رپورٹس سے ظاہر ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت نے حال ہی میں شہید چوک پر 1.61 ارب روپے کی لاگت سے فلائی اوور کا منصوبہ شروع کیا ہے، جو 17 مہینوں میں مکمل ہونے کی توقع ہے اور ٹریفک کی روانگی کو بہتر بنائے گا۔ اس کے علاوہ، موجودہ تیمرگرہ بائی پاس روڈ اور منڈہ بائی پاس جیسے منصوبے پہلے سے موجود ہیں، جو شہر کے مشرقی اور جنوب مغربی حصوں میں ٹریفک کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
تاہم، تصویر میں دکھائے گئے علاقے (جس میں تیمرگرہ بائی پاس روڈ، این 45، حاجی آباد، بلامبٹ، کالج ایریا، اور میدان لنک روڈ شامل ہیں) کو مدنظر رکھتے ہوئے، دریائے پنجکوڑا کی مغربی کنارے ایک مکمل سرکلر (دائروی) روڈ یا توسیعی بائی پاس روڈ کی ضرورت ہے تاکہ تیمرگرہ شہر کے گرد ایک مکمل دائرہ بنے، ٹریفک شہر کے مرکز یا مشرقی جانب سے ہٹ جائے، اور قریبی علاقوں جیسے بلامبٹ(مستقبل میں خزانہ تک)، کالج انڈھیرے، قاضی اباد اور حاجی آباد کوٹو میں پائیدار ترقی کو فروغ ملے۔ یہ روڈ نہ صرف ٹریفک جام کو کم کرے گا بلکہ شہری سہولیات جیسے نئی مارکیٹیں، ہسپتال، اور صنعتی زونز کی ترقی کو بھی ممکن بنائے گا، جس سے مقامی معیشت مضبوط ہوگی۔
مجوزہ سرکلر روڈ کی تفصیلات
میں ایک مفهومی (کنسیپچوئل) سرکلر روڈ کی تجویز پیش کر رہا ہوں، جو موجودہ انفراسٹرکچر (جیسے تیمرگرہ بائی پاس اور این اے پینتالیس اور مغربی جانب ایک نئے بائی پاس بلامبٹ تا اوڈیگرام پر مبنی ہے اور تصویر میں دکھائے گئے علاقے کو احاطہ کرتی ہے۔ یہ روڈ حالیہ تقریباً پندرا کلومیٹر لمبی ہوگی، چار حصوں میں تقسیم، اور دو لین کی ہوگی (توسیع کی گنجائش کے ساتھ)۔ لاگت کا تخمینہ تقریباً 5-7 ارب روپے ہو سکتا ہے (موجودہ منصوبوں جیسے فلائی اوور کی بنیاد پر)، اور اسے 2-3 سال میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ یہ روڈ پنچکوڑہ دریا کے مغربی کنارے پر شہر کو گھیرے گی، تاکہ سیلاب سے تحفظ اور ماحولیاتی استحکام کو یقینی بنایا جائے۔
شمالی سیکشن (تقریباً 4-5 کلومیٹر):
موجودہ تیمرگرہ بلامبٹ روڈ سے شروع ہو کر، بلامبٹ کے بعد انڈھیرے، انورآباد،حاجی آباد اور کوٹو کے قریب سے گزرے گی۔ یہاں نئی لنک روڈز قریبی دیہات(جیسے پرانے کوٹو حاجی آباد روڈ سے جڑی ہوئی ہیں) کو تیمرگرہ اور دیر چترال روڈ سے جوڑیں گی۔
فائدہ: شمالی علاقوں جیسے میدان، لاجبوک اور دیر چترال سے آنے والے ٹریفک کو شہر کے اندر داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
مشرقی سیکشن (تقریباً 5 کلومیٹر):
پنچکوڑہ دریا کے ساتھ ساتھ، موجودہ بائی پاس کو توسیع دے کر انڈھیری تک پل کذریعے لے جایا جائے گا۔
تصویر میں دکھائی گئی سرخ لائن (جو شمال میں اوڈیگرام سے جنوب میں بلامبٹ تک اشارہ کر رہی ہے) کو اس سیکشن کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہاں ایک نیا آر سی سی پل (جیسے موجودہ تیمرگرہ بائی پاس سے کنڈارو یا تیمرگرہ بائی پاس سے انڈھیری کالج تک) شامل کیا جائے۔ فائدہ: دریا کے مشرقی علاقوں (جیسے ملاکنڈ درا اور میدان) تک رسائی آسان ہوجائیگی ، اور پنجکورہ کے سیلاب زدہ علاقوں مثلاً کوٹو حاجی اباد اور شہزادی میں پائیدار ڈرینج سسٹم بنایا جا سکتا ہے۔یہ نیا روڈ (تقریباً 3-4 کلومیٹر):
حاجی آباد سے اوڈیگرام اور میدان لنک روڈ تک، این پینتالیس کو بائی پاس کرتے ہوئے یہ روڈ تیمرگرہ شہر پر ٹریفک دباؤ کو کم کریگا۔
فائدہ: مشرقی ٹریفک (چترال اور اپر دیر سے جس میں لاجبوك اور میدان کا ٹریفک بھی اوڈیگرام کی مقام پر شامل ہوجاتا ہے) کو شہر سے دور رکھا جائے گا، جس سے روزانہ کی بھیڑ کم ہوگی۔ مغربی علاقوں میں ترقی کو فروغ، جیسے نئی رہائشی کالونیاں اور زرعی مارکیٹیں۔
فوائد اور پائیدار ترقی کے پہلو
ٹریفک جام کا حل:
یہ روڈ شہر کے مرکز (جیسے گورگورئی اور شہید چوک تک ستر تا اسی فیصد ٹریفک کو ہٹا دے گی، جس سے شمال سے جنوب تک کا سفر بیس تا تیس منٹ کم ہوگا۔ حالیہ فلائی اوور منصوبہ اسے مزید موثر بنائے گا۔
پائیدار ترقی: روڈ کے ساتھ گرین بیلٹ، سائیکل ٹریکس، اور شمسی لائٹس لگائی جائیں تاکہ ماحولیاتی تحفظ ہو۔ قریبی علاقوں میں نئی انڈسٹری (جیسے ماربل پروسیسنگ) اور ٹورزم (دریا کے قریب پارکس) کو فروغ ملے گا، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
شہری سہولیات: روڈ کے ارد گرد نئی بسیں، پارکنگ، اور پبلک ٹرانسپورٹ سٹیشن بنائے جائیں۔ یہ لوئر دیر کے دیگر منصوبوں (جیسے کوٹو ہائیڈرو پاور اور دیر موٹر وے) سے جڑ کر علاقائی معیشت کو بڑھاوا دے گی۔
چیلنجز اور تجاویز: لاگت کو کم کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ
استعمال کی جائے۔ ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا جائے، خاص طور پر پنجکوڑہ دریا کے قریب۔ حکومت خیبر پختونخوا کے کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ (C&W) اسے ADP میں شامل کر سکتا ہے۔
نقشہ (میپ) کی نمائندگی
تیمرگرہ اور لوئر دیر کے تفصیلی روڈ میپس ذیل میں دکھائے گئے ہیں، جو موجودہ روڈ نیٹ ورک کو ظاہر کرتے ہیں۔ مجوزہ سرکلر روڈ کو ان میپس پر تصور کریں: شمالی اور مشرقی حصے موجودہ این پینتالیس اور بائی پاس پر، جنوبی اور مغربی حصے نئی توسیع کے طور پر۔ (یہ تصاویر ویب سے حاصل کی گئی ہیں اور اصل علاقے کی نمائندگی کرتی ہیں۔)
یہ تجویز مفهومی ہے اور تفصیلی سروے (جیسے گوگل میپس یا NHA کی مدد سے) کی بنیاد پر مزید بہتر کی جا سکتی ۔

بروز ہفتہ صبح 11 بج کر 30 منٹشہید چوک فلائی اوور کا باقاعدہ سنگِ بنیاد رکھا جائے گا۔پروگرام کے مہمانِ خصوصی رکنِ صوبائی ...
08/01/2026

بروز ہفتہ صبح 11 بج کر 30 منٹ
شہید چوک فلائی اوور کا باقاعدہ سنگِ بنیاد رکھا جائے گا۔
پروگرام کے مہمانِ خصوصی رکنِ صوبائی اسمبلی
ملک شفیع اللہ خان ہوں گے۔
لیکن یہ بھی بتائیں کہ 2019 میں تیمرگرہ بیوٹیفکیشن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا جو آج تک کنڈرات کی شکل میں پڑا ہے۔
دسمبر 2021 میں تیمرگرہ ٹو کنڈرو پل افتتاح کیاتھا 5سال گزرنے کے باجود کچھ بھی نہیں
اسی طرح تیمرگرہ میڈیکل کالج کا تین بار افتتاح کیا گیا، مگر دس سال گزرنے کے باوجود آج تک کلاسز کا آغاز نہیں ہو سکا۔
تالاش بائی پاس کا افتتاح بھی کئی بار کیا گیا، لیکن یہ منصوبہ اب تک مکمل نہیں ہوا—

دیر یونیورسٹی، دیر موٹروے، کنڈرو پل اور حاجی آباد پل کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا، مگر ان منصوبوں کا آج تک کوئی واضح وجود نظر نہیں آتا۔
تحصیل تالاش کا نوٹیفیکیشن بھی کئی بار جاری کیا گیا، لیکن آج تک تحصیل کا عملی وجود سامنے نہیں آیا۔
اسی طرح تالاش گرلز/بوائز کالجز کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا، مگر آج تک اس کا کوئی پتہ نہیں۔
میرا خلوص کے ساتھ مشورہ ہے کہ پہلے عملی کام مکمل کریں، پھر افتتاح کریں۔تب ہم بھی ضرور آئیں گے۔
RRHP+V27, ByPass Road, Timergara, Pakistan

مجوزہ جگہ کیلئے بہترین ٹریفک پلان اور حل اخیر کیا ہے ؟
کیا فلائی اوور سے مسئلہ حل ہوگا ؟ یا یہ بھی بھاری بھر کم کمیشن بنانے اور میگا کرپشن کیلئے ایک نیا گیم ہے۔
کیا بہترین ٹریفک سگنل یا جدید ٹریفک رولز لاگو کرکے ٹریفک کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ہے؟
ذیل میں چند تجاویز پیش خدمت ہیں ۔

کیونکہ کسی بھی فلائی اوور کی کامیابی سیمنٹ اور سریے سے نہیں بلکہ درست ٹریفک پلان سے ہوتی ہے۔

میں آپ کو شہید چوک (RRHP+V27) کیلئے حقیقی انجینئرنگ بنیاد پر بہترین حل پیش کر رہا ہوں:

---

شہید چوک Timergara — اصل مسئلہ کیا ہے؟

یہ چوک تین بڑے ٹریفک فلو کا ملاپ ہے:

1. بلامبٹ / کنڈرو تا گوگوری چوک روڈ

2. دیر چترال سائیڈ بائ پاس

3. پشاور / مینگورہ سائیڈ بائ پاس روڈ

اصل مسئلہ یہ ہے:

• بے ہنگم یو ٹرن
• غلط پارکنگ
• گاڑیوں اور رکشوں کا بے قابو اسٹاپ
• سگنل کا نہ ہونا
• لین ڈسپلن نہ ہونا
• پیدل افراد کیلئے راستہ نہ ہونا

👉 یعنی یہ انجینئرنگ سے زیادہ مینجمنٹ کا مسئلہ ہے۔

---

کیا فلائی اوور ضروری ہے؟

سچائی:

> ❌ موجودہ ٹریفک والیوم فلائی اوور کا تقاضا نہیں کرتا
❌ فلائی اوور صرف اوپر گاڑی گزارے گا، نیچے پھر بھی رش رہے گا
❌ 3–4 ارب کا منصوبہ صرف "نمائش" بنے گا، مسئلہ حل نہیں کرے گا

---

اصل حل: Smart Signalized Junction

فلائی اوور سے پہلے یہ سسٹم لگایا جائے تو 80% مسئلہ ختم ہو جاتا ہے:

---

1. AI Based Smart Traffic Signals

چار طرفہ اسمارٹ سگنلز:

لین گرین ٹائم

دیر → تالاش 40 سیکنڈ
تالاش → دیر 40 سیکنڈ
بلامبٹ بازار→ گورگوری ی 30 سیکنڈ
سیکنڈ گرگوری چوک → بلامبٹ 30

Pedestrian 20 سیکنڈ

(کیمرہ گاڑیوں کی تعداد دیکھ کر خود وقت ایڈجسٹ کرے گا)
---
2. Channelized Lanes (سائنسی لین ڈیزائن)

ہر سائیڈ پر:

• الگ Left Turn Lane
• الگ Straight Lane
• الگ Right Turn Lane
• Concrete separators
• Slip Lanes for free left turns

---

3. رکشہ و لوڈنگ بے کی علیحدہ جگہ

چوک سے 200 میٹر دور:

• رکشہ اسٹینڈ
• ویگن اسٹاپ
• لوڈنگ/ان لوڈنگ پوائنٹ
(چوک کے اندر کوئی اسٹاپ مکمل بند)
---

4. /پیدل افراد کیلئے انڈر پاس یا فلائی اوور
• Zebra + Raised Pedestrian Underpass
• بازار سائیڈ سے بلامبٹ تک محفوظ راستہ
---
5. سخت نفاذ (Enforcement)
• No Parking 300m زون
• کیمرہ چالان
• فکس پولیس پوسٹ
---
اگر یہ سب ہو جائے تو:
حل نتیجہ
Smart signals 40% رش کم
لین چینلائزیشن 25% کم
رکشہ زون 15% کم
پیدل انڈر پاس 10% کم
نفاذ 10% کم
کل کمی 100% تک مسئلہ حل
---
فلائی اوور کب ضروری ہوگا؟

جب روزانہ ٹریفک والیوم 45,000+ گاڑیاں ہو جائیں۔
اس وقت Timergara ابھی 18,000–22,000 پر ہے۔
---
نتیجہ
> فلائی اوور ابھی مہنگا، غیر ضروری اور نمائشی منصوبہ ہے
اصل حل Smart Junction + Discipline + Enforcement ہے۔

---
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa
Deputy Commissioner Lower Dir Siraj ul Haq Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa

31/12/2025

پاکستان میں سیاسی انقلاب کیلئے بہترین راستہ کیا ہے؟
ملک گیر احتجاج اور بیداری یا
ضلع سطح پر منظم جدوجھد ، نیا لیڈرشپ اور عوامی مسائل کا حل ۔
ہر ایک کا تفصیلی خاکہ پیش خدمت ہے۔

پاکستان میں حقیقی سیاسی انقلاب صرف “ضلع سطح پر منظم عوامی جدوجہد + نئی دیانت دار قیادت + مسائل کے عملی حل” سے ہی آ سکتا ہے۔

ملک گیر احتجاج صرف وقتی دباؤ تو پیدا کرتا ہے، نظام نہیں بدلتا۔
میں دونوں راستوں کا خالص زمینی اور سسٹم لیول پر موازنہ پیش کر رہا ہوں:
1️⃣ ملک گیر احتجاج و بیداری
(Emotion-based Revolution)
طریقہ کار
جلسے
لانگ مارچ
دھرنے
سوشل میڈیا ٹرینڈ
حکومت گرانے کی کوشش
حاصل کیا ملتا ہے؟
فائدہ
حقیقت
عوامی غصہ ظاہر ہوتا ہے
ہاں
✔️
میڈیا پر دباؤ بنتا ہے
ہاں
✔️
حکومتیں ہلتی ہیں
ہاں
✔️
نظام بدلتا ہے؟
نہیں

کرپٹ اشرافیہ ختم ہوتی ہے؟
نہیں

عوام کو اختیار ملتا ہے؟
نہیں

کیوں ناکام ہوتا ہے؟
احتجاج کے بعد وہی پرانے چہرے اقتدار میں آ جاتے ہیں
بیوروکریسی، پولیس، عدلیہ، سرمایہ دار وہی رہتے ہیں
عوام صرف استعمال ہوتے ہیں، شریک نہیں بنتے
📌 نتیجہ:
یہ دباؤ پیدا کرتا ہے، انقلاب نہیں۔

2️⃣ ضلع سطح پر منظم جدوجہد
(System-building Revolution)

یہ اصل انقلاب کا راستہ ہے۔
بنیادی ستون
1. ہر ضلع میں "عوامی قیادت کی نرسری"

10–20 ایماندار نوجوان
انہیں سیاست، قانون، بجٹ، بلدیات سکھائی جائیں
یہی لوگ اگلے 5 سال کے امیدوار ہوں
2. مقامی مسائل کا حل = عوامی اعتماد

مثلاً:
-------مسئلہ حل کا طریقہ
پانی کمیونٹی واٹر اسکیم
تعلیم رضاکار اساتذہ نیٹ ورک
علاج فری کلینک
انصاف لیگل ایڈ سیل
لوگ دیکھتے ہیں:
یہ لوگ حکومت سے پہلے کام کر رہے ہیں — تو حکومت میں جا کر کیا کریں گے!
3. مقامی فنڈنگ

ہر محلے سے ماہانہ 200–300 روپے
بیرون ملک پاکستانی سپورٹ
اس سے:
میڈیا
مہم
خدمت کے منصوبے
امیدواروں کی تیاری
4. ضلع → صوبہ → مرکز (Power Pipeline)
لیول
ہدف
ضلع
بلدیات
تحصیل
تحصیل چیئرمین
صوبہ
ایم پی اے
مرکز
ایم این اے
ہر قدم پر صرف ٹیسٹ پاس قیادت اوپر جائے۔
کیوں یہی کامیاب ہوگا؟
وجہ
نتیجہ
قیادت نیچے سے تیار ہوگی
بلیک میل نہیں ہوگی
عوام شریک ہوں گے
استعمال نہیں ہوں گے
فنڈنگ عوامی ہوگی
سرمایہ دار کنٹرول نہیں کریں گے
نظام متوازی طور پر بنے گا
اسٹیبلشمنٹ بائی پاس ہو جائے گی
مختصر فارمولا
احتجاج دباؤ ہے
تنظیم انقلاب ہے
خدمت بنیاد ہے
قیادت حل ہے۔
آپ کونسی ضلع کیلئے ایک ۱۲ مہینے والاعملی پلان پسند کریں گے؟؟

ضلع دیر
ملاکنڈ
پشاور
مردان
کرک
بنوں

Siraj ul Haq Mushtaq Ahmad Khan Imran Khan Bilawal Bhutto Zardari Jamaat -e- Islami Pakistan Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa ISF - pti Hafiz Naeem ur Rehman Maryam

کیا موجودہ حالات میں کوئی دوسری پارٹی عوام میں مقبول عام ہوسکتی ہے؟اگر ہاں تو کونسی لائحہ عمل اختیار کرکے ۔ کوئی سوشل ڈی...
19/12/2025

کیا موجودہ حالات میں کوئی دوسری پارٹی عوام میں مقبول عام ہوسکتی ہے؟
اگر ہاں تو کونسی لائحہ عمل اختیار کرکے ۔ کوئی سوشل ڈیموکریٹ والا یہ اسلامی نظام والا ۔
تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی ناراض کارکنان کو کیسے ایک شخص یا تنظیم کے ذریعے اکٹھا کیا جاسکتا ہے؟

سوال بہت بنیادی اور حقیقت پسندانہ ہے۔ مختصر جواب یہ ہے کہ ہاں، موجودہ حالات میں ایک نئی یا متبادل سیاسی قوت عوام میں مقبول ہوسکتی ہے—لیکن نہ خالص “سوشل ڈیموکریسی” کے نعرے سے اور نہ ہی صرف “نفاذِ اسلامی نظام” کے روایتی بیانیے سے۔ عوام اس وقت ایک قابلِ عمل، دیانت دار اور طاقت کے مراکز سے نسبتاً آزاد سیاسی منصوبہ ڈھونڈ رہے ہیں۔
میں بات کو تین حصوں میں واضح کرتا ہوں:
1️⃣ کیا واقعی سیاسی خلا موجود ہے؟
جی ہاں، واضح خلا ہے:
تحریکِ انصاف کے لاکھوں ناراض، مایوس مگر سیاسی طور پر زندہ کارکن
جماعتِ اسلامی کے نظریاتی مگر انتخابی طور پر بددل کارکن
خاموش اکثریت: مہنگائی، بیروزگاری اور ناانصافی سے تنگ عام شہری
یہ سب کسی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوسکتے ہیں
بشرطیکہ:

وہ پلیٹ فارم طاقت کا مہرہ نہ ہو
محض احتجاج نہیں بلکہ حکمرانی کا واضح منصوبہ رکھتا ہو-

2️⃣ سوشل ڈیموکریسی یا اسلامی نظام؟ اصل حل کیا ہے؟
پاکستان میں کامیاب بیانیہ Hybrid Model ہوگا:
⭕ نظریاتی بنیاد:
اسلامی اقدار + فلاحی ریاست + جمہوری عمل
یعنی:
اسلامی اخلاقیات (عدل، دیانت، احتساب)
سوشل ڈیموکریٹ پالیسیز (صحت، تعلیم، روزگار، ٹیکس انصاف)
آئینی و پارلیمانی جدوجہد (انقلاب کے نعرے نہیں)
یہ ماڈل:
مذہبی ووٹر کو بھی مطمئن کرتا ہے
نوجوان، متوسط طبقہ اور مزدور کو بھی
اسٹیبلشمنٹ کیلئے “ناقابلِ قبول” بھی نہیں بنتا
-
3️⃣ PTI اور جماعت اسلامی کے ناراض کارکنان کو اکٹھا کیسے کیا جائے؟

🔴 سب سے بڑی شرط: “غیر متنازع قیادت”
نہ خاندانی سیاست نہ پرانے چہرے
نہ اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار
قیادت کی خصوصیات:
متوسط طبقے سے
صاف ماضی
میڈیا پر معقول، جارح نہیں
مذہبی بھی ہو مگر فرقہ وارانہ نہ ہو
> ایک “سیاسی لیڈر” سے زیادہ
ایک “قومی کوآرڈینیٹر” ہو-
🟢 عملی لائحہ عمل (Step by Step)
مرحلہ 1: “نظریاتی اتحاد” (پارٹی نہیں)
نام: عوامی فلاح فورم / پاکستان جسٹس موومنٹ
مقصد: کرپشن، مہنگائی، انصاف، خودمختاری
PTI / JI کا نام استعمال نہ کیا جائے
مرحلہ 2: ڈیجیٹل آرگنائزنگ
WhatsApp، Telegram، X پر غیر جذباتی مگر دلیل پر مبنی مواد

“نفرت مخالف بیانیہ”

مقامی ایشوز پر فوکس (بجلی، گیس، تھانے، اسپتال)

مرحلہ 3: مقامی قیادت ابھارنا

ہر ضلع سے:

وکیل

استاد

ڈاکٹر

چھوٹا تاجر

الیکشن بعد میں، ساکھ پہلے

مرحلہ 4: جماعت اسلامی کے کارکنان کیلئے

ان کے اخلاقی بیانیے کو عزت دی جائے

انہیں بتایا جائے کہ:

> “اسلامی نظام صرف نعروں سے نہیں، قابلِ حکومت اداروں سے آتا ہے”

مرحلہ 5: PTI کے کارکنان کیلئے

عمران خان کے نام سے فاصلہ بھی

اُس کے “کرپشن مخالف وژن” سے رشتہ بھی

جذبات نہیں، نیا طریقہ جدوجہد
-
4️⃣ کیا ایک شخص یا تنظیم یہ سب کرسکتی ہے؟

تنظیم زیادہ مؤثر ہوگی، ایک شخص نہیں
ایک شخص کو توڑا جاسکتا ہے
ایک نیٹ ورک کو نہیں
لیکن:
علامتی رہنما (Symbolic Face) ہونا ضروری ہے
جو جلسوں کا نہیں، تنظیم کا آدمی ہو
-
5️⃣ سب سے بڑی غلطی جس سے بچنا ہوگا
❌ قبل از وقت پارٹی بنانا
❌ فوری الیکشن کی بات
❌ اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے کا جذباتی انداز
❌ فرقہ وارانہ یا اینٹی-ریاستی زبان
--
خلاصہ (Bottom Line)

✔ عوام تیار ہیں
✔ ناراض کارکن موجود ہیں
✔ نظریاتی امتزاج ممکن ہے
❌ مگر روایتی سیاست سے نہیں

Mushtaq Ahmad Khan
Imran Khan



18/12/2025

الریاض سعودی عرب میں سال کی پہلی بارش۔ موسم خوشگوار ۔

11/12/2025

مزاد علني علي طريق الحائر

11/12/2025

مزاد علني
حادثہ کے شکار گاڑیوں کی #بولی
طریق ہائر #الریاض

08/12/2025

فیسبوک پر آج ہماری موجودگی کے ۱۱ سال مکمل ہوگئے ہیں۔🙏🤗🎉

⭐ کیا جماعت اسلامی بغیر اسٹیبلشمنٹ کی مہربانی سیاسی طاقت بن سکتی ہے؟مختصر جواب: ہاں — مگر صرف اسی صورت میں جب وہ خود کو ...
03/12/2025

⭐ کیا جماعت اسلامی بغیر اسٹیبلشمنٹ کی مہربانی سیاسی طاقت بن سکتی ہے؟
مختصر جواب: ہاں — مگر صرف اسی صورت میں جب وہ خود کو مکمل طور پر "گراس روٹس–ڈرائیون عوامی سیاسی قوت" میں تبدیل کرے۔
پاکستان میں وہ جماعتیں ہی مستقل مقام لیتی ہیں جو:
عوام کے اندر جڑیں مضبوط کریں،
منظم تنظیمی ڈھانچہ رکھیں،
قابِل، جوان، نظریاتی مگر جدید سیاسی شعور رکھنے والی قیادت پیدا کریں،
غیر مرئی طاقتوں پر کم سے کم انحصار کریں۔
جماعت کے پاس تنظیمی اسٹرکچر، دیانت دار کارکن اور نظریاتی بنیاد پہلے سے موجود ہیں—مسئلہ صرف سیاسی حکمتِ عملی کا ہے۔
---
⭐ چند تجاویز اور ان کی روشنی میں ایک مکمل عملی پلان

1) “دوہری حکمتِ عملی” — تنظیم الگ، سیاست الگ
آپ کی پہلی تجویز نہایت قابلِ عمل ہے:
✔ A: جماعت اسلامی بطور تنظیم و تحریک (دعوتی + تربیتی) برقرار رہے
یعنی JI اپنی اصل جگہ: دعوت، تربیت، خدمت پر فوکس کرے۔
یہاں شدت پسند یا سیاسی شہرت پسند عناصر خود بخود دور ہوں گے۔
اس پلیٹ فارم پر اخلاقی، فکری اور نظریاتی تیاری ہوگی۔
✔ B: اس کے ساتھ ایک الگ جدید سیاسی جماعت کا قیام
مثلاً:
"حقیقی اسلامی جمہوری پارٹی" یا “اسلامی سوشل ڈیموکریٹک موومنٹ”
یہ جماعت ہوگی:
مکمل عوامی،
اندرونی انتخابات پر مبنی،
نوجوان اور شہری طبقات دوست،
جدید سیاسی زبان بولنے والی،
نظریاتی مگر سخت گیر خطابات سے پاک،
گراس روٹس سے ابھرنے والے لیڈرز والی۔
ترکی کی AKP، تیونس کی النہضہ، مراکش کی PJD، ملائیشیا کی AMANAH — یہ سب ماڈل اسی فارمولے پر کامیاب ہوئیں۔
---
2) نئی قیادت = آدھی جیت

✔ لوکل، ناکارہ، دقیانوسی اور “پوسٹ ہولڈر مافیا” سے جان چھڑانا
جماعت اسلامی کی سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ:
ضلعی امراء دہائیوں تک نہیں بدلتے
نوجوان آگے نہیں آتا
عوامی سیاست کا شعور کم ہے
سیاسی زبان پر عبور نہیں
مزاج مذہبی ہے مگر سیاسی نہیں
اس وجہ سے عوام مسلم لیگ، پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی کی زبان سمجھ لیتے ہیں، جماعت کی نہیں۔

✔ نئی پارٹی کی نئی قیادت کا ماڈل

70% قیادت یوتھ سے ہو

20% ٹیکنوکریٹس، پروفیشنلز، پڑھے لکھے شہری طبقات سے

10% پرانی جماعت کی قابل، فعال اور عوامی شخصیات سے
---
3) اسلامی جمعیت طلبہ—لیڈرشپ انکیوبیٹر

> “جمعیت بہترین لیڈرشپ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے”
لیکن اسے سیاسی تربیت + عوامی تربیت + سوشل ورک کی طرف لانا ہوگا:

✔ جمعیت کے نوجوانوں کو یہ تربیت دی جائے:

سیاسی بیانیہ کیسے بنایا جاتا ہے

میڈیا ہینڈلنگ

مزاکرات، Pressure Groups کے ساتھ رابطہ

لوکل گورنمنٹ سیاست

ووٹر مینجمنٹ

عوامی رابطہ مہمیں

جدید “ڈیجیٹل پولٹکس”

جمعیت کے نوجوان بہتر شہادتیں، خدمات، قربانیاں اور اخلاقی کھڑا پن رکھتے ہیں — یہی نئی سیاسی قوت کا اصل سرمایہ ہے۔
---
⭐ قابلِ عمل سیاسی روڈ میپ
مرحلہ 1 — ری برانڈنگ (0–12 ماہ)
ملک میں نئی سیاسی جماعت کا باقاعدہ اعلان
جے آئی براہ راست اس کا "سیاسی بازو" نہ بنے بلکہ نظریاتی بنیاد دے

نیا بیانیہ:
“نظریاتی مگر جدید — اسلامی مگر جمہوری — دیانت دار مگر پاپولر”
---
مرحلہ 2 — گراس روٹس طاقت (12–24 ماہ)

ہر یونین کونسل میں 20–25 نوجوانوں کی تنظیم

یوتھ کنونشن، اسٹوڈنٹ پارلیمنٹ، محلہ کمیٹیاں

شہری علاقوں خصوصاً لاہور، کراچی، پشاور، اسلام آباد پر فوکس

سوشل میڈیا پر مضبوط پریزنس — مختصر ویڈیوز کا محاصرہ
---
مرحلہ 3 — مقامی حکومتوں میں کامیابی (2–4 سال)
یہ سب سے اہم قدم ہے۔
پاکستان میں نئی سیاسی جماعتیں لوکل گورنمنٹ سے اٹھتی ہیں۔
وارڈ کونسلر
میونسپل کمیٹیاں
ٹاؤن چیئرمین
میئر شپ
جماعت اس میں بہترین صلاحیت رکھتی ہے — صرف چہرے بدلنے کی ضرورت ہے۔
---
مرحلہ 4 — پارلیمانی سیاست میں انٹری (4–8 سال)
15 سے 30 ایسی نشستوں پر فوکس جو شہری، پڑھا لکھا، نوجوان ووٹ رکھتی ہوں
وہاں نوجوان، دیانت دار، مقبول لیڈرز کھڑے کیے جائیں
پرانے مذہبی سیاسی اسلوب سے دور رہیں
سوشل پروجیکٹس (شفافیت، صفائی، تعلیم، ریلیف، ٹیکنالوجی) کے ذریعے عوامی اعتماد پیدا کریں
---
⭐ نئی جماعت کی پہچان اور برتری
یہ جماعت پاکستان کی سیاست میں وہ خلا بھرے گی جو ابھی تک خالی ہے:
نظریاتی + جدید
دیانت دار + عوامی
اسلامی + جمہوری
نوجوان + عملی
خدمت + سیاسی حکمت
---
⭐ خلاصہ (Core Strategy)

1) جماعت اسلامی = تحریک و تربیت کی ماں
2) نئی پارٹی = سیاسی جنگ لڑنے والی فوج
3) جمعیت = لیڈرشپ بنانے والا کارخانہ
4) نئی قیادت = عوامی رابطے والا، جوان اور جدید مزاج
5) لوکل گورنمنٹ = اصل میدانِ جنگ
6) 5–7 سالہ مسلسل جدوجہد = پارلیمنٹ میں مضبوط انٹری
---
اگر آپ چاہیں تو
اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹ میں کرسکتے ہیں۔
اگرچہ جماعت کے کاردران پرداز اور عقل کل ان تجاویز کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے پر "اپنی آواز اٹھائینگے جہاں تک پہنچے"
ہاں ایک "شخص" میں یہ خوي بغاوت اور انقلاب کی چنگاری دیکھی ہے۔

لیکن

وما علينا الي البلاغ

Siraj ul Haq Mushtaq Ahmad Khan Hafiz Naeem ur Rehman Jamaat -e- Islami Pakistan Imran Khan Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa

Address

Dir
18300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mattaki Utman Khel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share