28/07/2026
ضلع دیر لوئر اور اپر خیبر پختون خواہ میں کام نہ ہونے اور بڑے بڑے پروجیکٹ کے ناکام ہونے یا ابھی تک سالوں بعد مکمل نہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں ؟ کیا منتخب نمائندے اس کی زمہ دار ہیں ؟ یا ضلع دیر کے عوام کہ جنھوں نے نا اہل نمائندگان کو ووٹ دیکر اسمبلی بھیجا۔
کیا اس موضوع پر ایک گرینڈ سیاسی diolog ہونا ضروری ہے ؟
یہ سوال صرف سیاسی نہیں بلکہ انتظامی، سماجی اور ترقیاتی پہلوؤں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر مقصد مسئلے کی حقیقی وجوہات سمجھنا ہے تو اس کا جواب کسی ایک فریق کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے مختلف عوامل کو دیکھ کر دینا چاہیے۔
ضلع دیر لوئر اور اپر میں ترقیاتی منصوبے سست کیوں ہیں؟
گزشتہ کئی برسوں سے دیر لوئر اور دیر اپر میں متعدد اہم منصوبے یا تو تاخیر کا شکار رہے ہیں یا ابھی تک مکمل نہیں ہوئے۔ ان میں سڑکیں، بائی پاس، پل، ہسپتال، تعلیمی ادارے، واٹر سپلائی، سیاحت اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔
اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
1. منتخب نمائندوں کی کارکردگی
یہ ایک اہم عنصر ہے۔
اگر ایم این اے اور ایم پی اے:
اسلام آباد اور پشاور میں مؤثر انداز میں فنڈز نہ لا سکیں،
منصوبوں کی مسلسل نگرانی نہ کریں،
متعلقہ محکموں پر عملدرآمد کے لیے دباؤ نہ ڈالیں،
تو منصوبے برسوں تک التوا کا شکار رہ سکتے ہیں۔
تاہم دوسری عوامل جو بلواسطہ منتخب نمائندوں کی نااہلی کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ درجہ ذیل ہیں ۔
2. سرکاری بیوروکریسی
اکثر منصوبے ان وجوہات سے بھی رک جاتے ہیں:
فائلوں میں تاخیر
ٹینڈر کے مسائل
زمین کے حصول میں مشکلات
کنٹریکٹرز کی کمزور کارکردگی
فنڈز کی قسطوں میں تاخیر
یہ مسائل منتخب نمائندوں کے اختیار سے باہر بھی ہو سکتے ہیں، لیکن مؤثر نمائندے ان پر دباؤ ڈال کر رفتار بہتر بنا سکتے ہیں۔
3. سیاسی عدم استحکام
جب حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں تو:
ترجیحات بدل جاتی ہیں،
بعض منصوبے روک دیے جاتے ہیں،
نئے منصوبے شروع کر دیے جاتے ہیں جبکہ پرانے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ لیکن ضلع دیر میں بلا شرکت غیرے ۱۵ سال سے صرف پی ٹی آئی ہی کی حکومت چلی آرہی ہے۔ سو یہ بہانہ نہیں چل سکتا۔۔
4. فنڈز کی کمی
خیبر پختونخوا کے پہاڑی اضلاع میں تعمیراتی لاگت زیادہ ہوتی ہے۔ ایک سڑک یا پل کی لاگت میدانی علاقوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ آ سکتی ہے، اس لیے منصوبے مرحلہ وار مکمل کیے جاتے ہیں۔
5. عوام کا کردار
جمہوریت میں ووٹر بھی اہم کردار رکھتے ہیں۔
اگر عوام:
امیدوار کی کارکردگی کے بجائے برادری، شخصیت یا جماعت کی بنیاد پر ووٹ دیں،
منتخب نمائندوں سے پانچ سال تک جواب طلبی نہ کریں،
تو کمزور احتساب کی وجہ سے کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام ذمہ داری عوام پر ہے، لیکن ووٹر کی ذمہ داری بھی جمہوری نظام کا حصہ ہے۔
کیا صرف عوام ذمہ دار ہیں؟
نہیں۔
ذمہ داری مختلف سطحوں پر تقسیم ہوتی ہے:
منتخب نمائندے
صوبائی حکومت
وفاقی حکومت
سرکاری محکمے
کنٹریکٹرز
عوام اور سول سوسائٹی
ترقی یا تاخیر عموماً انہی عوامل کے مجموعے کا نتیجہ ہوتی ہے۔
کیا ایک "گرینڈ سیاسی ڈائیلاگ" ضروری ہے؟
میرے خیال میں اگر اس کا مقصد سیاسی الزام تراشی کے بجائے ترقیاتی اصلاحات ہو تو ایسا مکالمہ مفید ہو سکتا ہے۔
اس ڈائیلاگ میں شامل ہونے چاہئیں:
تمام سیاسی جماعتیں
موجودہ اور سابق ارکان اسمبلی
ضلعی انتظامیہ
کاروباری برادری
نوجوان
خواتین
صحافی
انجینئرز اور ماہرینِ منصوبہ بندی
سول سوسائٹی
ڈائیلاگ کے ممکنہ مقاصد !!!!!
گزشتہ 20–25 سال کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ۔
کون سے منصوبے مکمل ہوئے اور کون سے زیر التوا ہیں؟
تاخیر کی اصل وجوہات کیا تھیں؟
آئندہ ہر منصوبے کے لیے واضح ٹائم لائن۔
عوام کے سامنے سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرنا۔
منصوبوں کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ عوامی مانیٹرنگ فورم قائم کرنا۔
نتیجہ
دیر جیسے وسائل سے مالا مال ضلع میں ترقی کی رفتار اس کی صلاحیت کے مطابق نہیں رہی۔ اس کی ذمہ داری کسی ایک فرد یا ادارے پر ڈالنا مناسب نہیں؛ منتخب نمائندوں، حکومتوں، بیوروکریسی، کنٹریکٹرز اور عوام—سب کا ایک نہ ایک کردار بنتا ہے۔ اگر ترقیاتی منصوبوں کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے، شفاف احتساب ہو، اور باقاعدہ عوامی و سیاسی مکالمہ شروع کیا جائے، تو دیر لوئر اور دیر اپر کی ترقی کی رفتار نمایاں طور پر بہتر ہو سکتی ہے۔
وقت کے ضرورت ہے کہ
"�دیر گرینڈ پولیٹیکل ڈائیلاگ 2026" کے عنوان سے ایک جامع پالیسی دستاویز تیار کیا جائے ، جس میں تمام بڑے منصوبوں، ان کی موجودہ صورتحال، تاخیر کی وجوہات، ذمہ دار اداروں اور عملی سفارشات کو تفصیل سے شامل کیا جائے۔
وما علینا الاالبلاغ
Senator Zahid Khan
Siraj ul Haq
Malak Shafi Ullah Khan
Deputy Commissioner Lower Dir
Jamat e Islami Official
PTI Khyber Pakhtunkhwa Maidan Table Talk (MTT) ✅ Timergara News Network
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa
Timergara,Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan