03/08/2026
ملکی تقدیر ہمارے ہاتھوں میں!
اپنے آپ کو مایوسی سے بچائیں۔ تنقید آسان ہے، امید مشکل کام ہے۔ مہنگائی، مسائل اور سماجی دباؤ کے دور میں، "ہم ابھی بھی اسے ٹھیک کر سکتے ہیں" اچھی سوچ کا انتخاب, کمزوریوں کو دور کرنا حماقت نہیں ہے، یہ عبادت ہے۔
اپنے دائرے میں مثبت انداز میں کام کریں۔ پاکستان کو 240 ملین ہیروز کی ضرورت نہیں۔ اسے 240 ملین لوگوں کی ضرورت ہے جو اپنا چھوٹا کام ایمانداری سے کریں۔ ایک درزی ایمانداری کے ساتھ کپڑے سیئے، نوجوان اپنا وقت برباد نہ کریں تعمیری کام سوچ سمجھ کے کریں،ایک YouTuber صاف مواد تیار کرے، دودھ بیچنے والا جالی دودھ نہ بنائے, تولنے والا کم نہ تولے، مزدور کام چوری اور نقصان نہ کرے، ڈاکٹر اپنے پیشے کو غلط طریقے سے کمانے کا ذریعہ نہ سمجھے، وکیل دوسری پارٹی سے پیسے لے کے غلط قیس نہ لڑے, ملاوٹ کرنے والے ملاوٹ نہ کریں، انصاف دینے والا سب کا ساتھ دے، ٹھیکدار اپنے کام دیانتداری کے ساتھ کریں، رشوت لینے والے رشوت سے پرھیز کریں، پاکستان کا حرام کا کمایہ ہوا سرمایہ باھر منتقل نہ کریں، جھوٹ سے پرھیز کیا جائے، حکمران ملکی اور عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پہ حل کریں، مقتدرہ اپنے کاموں پہ توجہ دے، وغیرہ ۔
یہ سب منفی انبار ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔
یاد رکھیں: ہمارا ملک ایک بہترین صورتحال پر نہیں بنا تھا۔ یہ ایک مثبت سوچ پر بنایا گیا تھا جس کا مقصد اپنی زندگی قرآن پاک کے عین مطابق گزار سکیں۔ جب ساری دنیا کہہ رہی تھی کہ یہ ناممکن ہے۔ وہ سوچ خاموش نہیں تھی، اسی لیے پاکستان وجود میں آیا۔
اگر آج ہم اس مثبت سوچ کو خاموش رہنے دیتے تو آج ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مودی کے ظلم برداشت کر رہے ہوتے۔
اپنی مثبتیت عمل اور سوچ کو خاموش نہ ہونے دیں۔ معاشرہ آپ کا عمل دیکھ اور بات سن رہا ہے۔
انسان اپنی اوقات اور بسات کے مطابق ہی بہتر کام سر انجام دے سکتا ہے۔
واقعہ کربلا آپ کے سامنے ہے حضرت امام حسین اور ان کے رفقاء نے بہت مشکل حالات میں بھی حق کا ساتھ نہیں چھوڑا مسلمان کا شیوا بھی یہی ہونا چاہیئے یہی ہماری اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔
ملک پاکستان ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کا صلہ ہے ہم نے مل کے اس کے مسائل حل کرنے ہیں اور ہر میلی آنکھ اور آستین کے سانپوں کو کچل کے اس کی باگ دوڑ ان لوگوں کے ہاتھوں میں دینی ہے جو اس کے نہ صرف حقدار ہیں بلکہ عوامی مسائل کو سمجھنے کے قابل انہیں حل کرنے اور اسلام کا جھنڈا بلند رکھنے کی صلاحیت سے مزین ہیں۔
دعاگو!
محمد شکیل کمبوہ