DIN PUR

DIN PUR DIN PUR is a 200 years old Village, one kilometer distance away from Dera Ismail Khan City.

09/09/2024

اناللہ واناالیہ راجعون..
اسلم بلوچ المعروف چیئرمین اور اخترسلیم بلوچ ایڈوکیٹ(نوٹری پبلک)کے چھوٹے بھائی ،کریانہ مرچنٹ اظہر سلیم عرف زری دین پور(دھپ سڑی کے رہائشی)بقضائے الہی وفات پا چکے ہیں.ان کی نماز جنازہ آج 9ستمبر 2024 بروز سوموار دن 11:30بجے زکوڑی شریف قبرستان میں ادا کی جائے گی احباب شرکت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں ۔

28/06/2024
01/05/2024

إِنّا لِلَّهِ وَإِنّاإِلَيهِ رٰجِعونَ
*ہائی الرٹ*

تازہ ترین خبر:

پہلے یہ صرف 13 منٹ کا ٹریلر یوٹیوب پر جاری کیا گیا تھا لیکن اب پوری 74 منٹ کی اسلام مخالف فلم "دی انوسنٹ پیغمبر" کو یوٹیوب پر ریلیز کر دیا گیا ہے اور دنیا بھر کے 2 ارب مسلمانوں کے اس کے خلاف احتجاج اور 100 سے زائد افراد کے احتجاج کے بعد بھی اسے آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہلاک ہو گئے تھے.
یا اللہ یا رحیم۔

الرٹ: السلام علیکم بھائیوں اور بہنوں ایک بہت ہی اہم خبر علماء کرام نے دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ آج سے اور 3 دن کے لیے گوگل اور یوٹیوب کا استعمال نہ کریں کیونکہ گوگل نے اعلان کیا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والی فلم کو بلاک نہیں کریں گے۔ انہیں 210 ملین ڈالر سے زیادہ کے نقصان میں لے جانا، کیونکہ دنیا میں تقریباً ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں جو انہیں استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ مسلمان ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین ہیں تو آپ اس احتجاج کا حصہ بن سکتے ہیں۔

بانٹیں

اس میسج کو شیئر کرنے یا آگے بڑھانے میں 2 منٹ سے بھی کم وقت لگائیں تاکہ ہم اللہ سبحانہ وتعالی کو جواب دے سکیں جب وہ ہم سے پوچھے کہ جب آپ کے پیارے (ص) کی توہین کی گئی تو ہم نے کیا اقدام کیا؟ امریکہ ہار رہا ہے؛

براہ کرم اس پیغام کو اپنے ہوم پیجز/ان باکس میں رکنے نہ دیں۔

یہ صرف ایک چھوٹی سی کوشش ہے، کچھ نہ ہونے سے کچھ بہتر ہے۔

جاؤ... جاؤ... جاؤ... اور شیئرنگ پر جاؤ۔

اناللہ واناالیہ راجعون..ہارون برکی کے بڑے بھائی ،عبداللہ برکی کے والد اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمود جان بیٹنی کے سس...
12/04/2024

اناللہ واناالیہ راجعون..
ہارون برکی کے بڑے بھائی ،عبداللہ برکی کے والد اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمود جان بیٹنی کے سسر دین پور(دھپ سڑی کے رہائشی)ریٹائرڈ ایس پی ڈاول خان برکی داؤد خیل ، ولد، حاجی لیلک (مرحوم) وفات پا چکے ہیں.ان کی نماز جنازہ اج
بمورخہ 12 اپریل, عصر 15 : 5 بجے, مدرسہ نعمانیہ علاؤالدین صاحب آڑہ روڈ ڈی ائی خان میں ادا کیا جائے گا.

پی ٹی آئی ڈیرہ اسماعیل خان کی زیرسرپرستی یونین کونسل کوئلہ سیدان کے انتخابات جیتنے والے صلاح الدین زیر عتاب
26/02/2024

پی ٹی آئی ڈیرہ اسماعیل خان کی زیرسرپرستی یونین کونسل کوئلہ سیدان کے انتخابات جیتنے والے صلاح الدین زیر عتاب

راہ سیاست کی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی ایک یادگار فیملی تصویر قارئین کی نظر
03/02/2024

راہ سیاست کی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی ایک یادگار فیملی تصویر قارئین کی نظر

نیب ،محتسب اعلی ، چیف جسٹس آف پاکستان ،چیک اینڈ بیلنس رکھنے والے سرکاری اداروں  سمیت کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والے س...
19/01/2024

نیب ،محتسب اعلی ، چیف جسٹس آف پاکستان ،چیک اینڈ بیلنس رکھنے والے سرکاری اداروں سمیت کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والے سرکاری محکموں سے سپرنٹنڈنگ انجینئر اسلم گنڈہ پور اور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں تعینات دیگر تمام واپڈا سپرنٹنڈنٹس کے دوران ملازمت بنائے گئے کروڑوں کے اثاثہ جات ،جائیدادوں و ذاتی و فیملی بنک بیلنس اور FBR کو دیئے گئے ٹیکسوں کی اعلی سطحی فوری تحقیقات کی جائے اور واپڈا کے پاکستان بھر میں موجود ملازمین کو عوام کے ٹیکسوں سے فراہم تمام فری یونٹس سمیت حاصلہ تمام سہولیات کافوری خاتمہ کیا جائے اور اس عوام وسماج دشمن وفاقی سرکاری محکمہ کو پرائیویٹ کیا جائے ۔عوامی مطالبہ

24/12/2023

اہلیان دین پور کسی قیمت پر کرپٹ اسلم گنڈہ پور اور اس کے عملے کو بجلی فراہمی کیلئے لاکھوں روپے رشوت کبھی نہیں دیں گے اعلان مزاحمت

ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے عوام کی جانب سے سیاسی بنیادوں اور رقم کے لین دین کے عوض اپنے آبائی ضلع میں سرکاری قواعد و ضوابط ...
28/11/2023

ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے عوام کی جانب سے سیاسی بنیادوں اور رقم کے لین دین کے عوض اپنے آبائی ضلع میں سرکاری قواعد و ضوابط کے برخلاف فیڈرل بدترین کرپٹ ڈیپارٹمنٹ پیسکو واپڈا کے تمام اہلکاروں کو دوردراز علاقوں میں ٹرانسفر کر کے ان کی کرپشن کو فوری لگام دی جائےاور نگران حکومت اس ادارے کو جلد از جلد پرائیویٹ کرے

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے کرپٹ ترین محکمہ پیسکو کے بدعنوان اہلکاروں ،کہ جنہوں نے مختلف علاقوں میں ا...
27/11/2023

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے کرپٹ ترین محکمہ پیسکو کے بدعنوان اہلکاروں ،کہ جنہوں نے مختلف علاقوں میں اب منتھلی بنیادوں پر بھتہ لینا اپنا حق سمجھ لیا ہے اور 22 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کرنے کے باوجود صارفین پر ہزاروں روپے ناجائز جرمانے عائد کرنا ان کی غنڈہ گردی کا بین ثبوت ہے انتہائی حیرت کا مقام ہے کہ پیسکو ڈیرہ کے ادنی ملازم سے لے کر اعلی انتظامی حکام تک دوران ملازمت کروڑوں کے اثاثہ جات بنا چکے ہیں اور آگے بھی لوٹ مار کرنے میں نہ تو انہیں ایف آئی اے روک رہا ہے اور نہ ہی حکومت بلکہ یہ عوام دشمن محکمہ اور ان کے کرپٹ اہلکار عوام الناس کے اشتعال کو آواز دے کر ضلع بھر میں انارکی کو ہوا دے کر نگران حکومت کے خلاف بغاوت کرنے پر اکسانے کا باعث بن رہے ہیں عوام کا مطالبہ ہے کہ ضلع ڈیرہ میں ڈیوٹی کرنے والے تمام واپڈاپیسکو اہلکاروں کہ جنہیں کرپٹ ممبران اسمبلی اور سیاسی طالع آزماوں کی آشیرباد حاصل ہے کو فوری طور پر دور دراز اضلاع ٹرانسفر کیا جائے اور ایف آئی اے ڈیپارٹمنٹ و انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ اور چیک اینڈ بیلنس رکھنے والے دیگر تمام ادارے پیسکو واپڈا اہلکاروں کے دوران ملازمت بنائی گئی جائیدادوں ،بنک بیلنس اور خاندان بھر کے تمام افراد کے ذاتی اثاثہ جات کی مکمل چھان بین کر کے بہ حق سرکار ضبط کرے بہ صورت دیگر ان اداروں کے اہلکاروں کو اپنے فرائض کی عدم ادائیگی نہ کر سکنے کی بنیاد پر ان کے خاتمے کا اعلان کرے کیونکہ عوام کے ٹیکس کاپیسہ ان کی محنت اور خون پسینے کی کمائی کا ہے کہ جس سے چیک اینڈ بیلنس رکھنے اداروں کے اہلکاروں کو تنخواہیں دی جاتی ہیں ۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مہاجرین و انصار کو اخوت و بھائی چارے کی جو تلقین فرمائی تھی وہ دنیا بھر کے مسلمانوں...
18/10/2023

حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مہاجرین و انصار کو اخوت و بھائی چارے کی جو تلقین فرمائی تھی وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے قیامت تک کے برپا ہونے ایک نصیحت تھی مگر مسلمان وہ بھول گئے !جس کے نتائج انہیں 1995 میں لاشوں کی شکل دیکھنے کو ملے یہ
‏اٹھایئس سال قبل اگست 1995 کاواقعہ ھے
حکم ہوا تمام مردوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے فوجی شہر کے کونے کونے میں پھیل گئے۔ ماؤں کی گود سے دودھ پیتے بچے چھین لیے گئے۔ بسوں پر سوار شہر چھوڑ کر جانے والے مردوں اور لڑکوں کو زبردستی نیچے اتار لیا گیا۔ لاٹھی ہانکتے کھانستے بزرگوں کو بھی نہ چھوڑا گیا۔‏سب مردوں کو اکٹھا کر کے شہر سے باہر ایک میدان کی جانب ہانکا جانے لگا۔
ہزاروں کی تعداد میں لوگ تھے۔ عورتیں چلا رہی تھیں۔ گڑگڑا رہی تھیں۔ اِدھر اعلانات ہو رہے تھے:
"گھبرائیں نہیں کسی کو کچھ نہیں کہا جائے گا. جو شہر سے باہر جانا چاہے گا اسے بحفاظت جانے دیا جائے گا۔"
‏زاروقطار روتی خواتین اقوامِ متحدہ کے اُن فوجیوں کی طرف التجائیہ نظروں سے دیکھ رہی تھیں جن کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ شہر محفوظ ہاتھوں میں ہے لیکن وہ سب تماشائی بنے کھڑے تھے۔
شہر سے باہر ایک وسیع و عریض میدان میں ہر طرف انسانوں کے سر نظر آتے تھے۔ گھٹنوں کے بل سر جھکائے ‏زمین پر ہاتھ ٹکائے انسان. جو اس وقت بھیڑوں کا بہت بڑا ریوڑ معلوم ہوتے تھے۔ دس ہزار سے زائد انسانوں سے میدان بھر چکا تھا۔
ایک طرف سے آواز آئی فائر۔
سینکڑوں بندوقوں سے آوازیں بہ یک وقت گونجیں لیکن اس کے مقابلے میں انسانی چیخوں کی آواز اتنی بلند تھی کہ ہزاروں کی تعداد میں
‏برسنے والی گولیوں کی تڑتڑاہٹ بھی دب کر رہ گئی۔ ایک قیامت تھی جو برپا تھی۔ ماؤں کی گودیں اجڑ رہی تھیں۔ بیویاں آنکھوں کے سامنے اپنے سروں کے تاج تڑپتے دیکھ رہی تھیں۔ بیوہ ہو رہی تھیں۔ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھیں۔ سینکڑوں ایکڑ پر محیط میدان میں خون، جسموں کے چیتھڑے اور نیم مردہ ‏کراہتے انسانوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔ شیطان کا خونی رقص جاری تھا اور انسانیت دم توڑ رہی تھی۔
ان سسکتے وجودوں کا ایک ہی قصور تھا کہ یہ کلمہ گو مسلمان تھے۔
اس روز اسی سالہ بوڑھوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بیٹوں اور معصوم پوتوں کی لاشوں کو تڑپتے دیکھا۔ بے شمار ایسے تھے۔ ‏جن کی روح شدتِ غم سے ہی پرواز کر گئیں۔
شیطان کا یہ خونی رقص تھما تو ہزاروں لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے مشینیں منگوائی گئیں۔ بڑے بڑے گڑھے کھود کر پانچ پانچ سو، ہزار ہزار لاشوں کو ایک ہی گڑھے میں پھینک کر مٹی سے بھر دیا گیا۔ یہ بھی نہ دیکھا گیا کہ لاشوں کے اس ڈھیر میں کچھ ‏نیم مردہ سسکتے اور کچھ فائرنگ کی زد سے بچ جانے والے زندہ انسان بھی تھے۔
لاشیں اتنی تھیں کہ مشینیں کم پڑ گئیں۔ بے شمار لاشوں کو یوں ہی کھلا چھوڑ دیا گیا اور پھر رُخ کیا گیا غم سے نڈھال ان مسلمان عورتوں کی جانب جو میدان کے چہار جانب ایک دوسرے کے قدموں سے لپٹی رو رہی تھیں۔‏انسانیت کا وہ ننگا رقص شروع ہوا کہ درندے بھی دیکھ لیتے تو شرم سے پانی پانی ہو جاتے۔ شدتِ غم سے بے ہوش ہو جانے والی عورتوں کا بھی ریپ کیا گیا۔ خون اور جنس کی بھوک مٹانے کے بعد بھی چین نہ آیا۔ اگلے کئی ہفتوں تک پورے شہر پر موت کا پہرہ طاری رہا۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اقوامِ متحدہ کے ‏پناہ گزیں کیمپوں سے بھی نکال نکال کر ہزاروں لوگوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ محض دو دن میں پچاس ہزار نہتے مسلمان زندہ وجود سے مردہ لاش بنا دیے گئے۔
یہ تاریخ کی بدترین نسل کشی تھی۔ ظلم و بربریت کی یہ کہانی سینکڑوں ہزاروں سال پرانی نہیں، نہ ہی اس کا تعلق وحشی قبائل یا ‏دورِ جاہلیت سے ہے۔ یہ 1995 کی بات ہے جب دنیا اپنے آپ کو خودساختہ مہذب مقام پر فائز کیے بیٹھی تھی۔ یہ مقام کوئی پس ماندہ افریقی ملک نہیں بلکہ یورپ کا جدید قصبہ سربرینیکا تھا۔ یہ واقعہ اقوامِ متحدہ کی نام نہاد امن فورسز کے عین سامنے بلکہ ان کی پشت پناہی میں پیش آیا۔
‏اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ مبالغہ آرائی ہے تو ایک بار سربرینیکا واقعے پر اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کا بیان پڑھ لیجیے جس نے کہا تھا کہ یہ قتلِ عام اقوامِ متحدہ کے چہرے پر بدنما داغ کی طرح ہمیشہ رہے گا
نوے کی دہائی میں یوگوسلاویہ ٹوٹنے کے بعد بوسنیا کے مسلمانوں
‏نے ریفرنڈم کے ذریعے سے اپنے الگ وطن کے قیام کا اعلان کیا۔ بوسنیا ہرزیگوینا کے نام سے قائم اس ریاست میں مسلمان اکثریت میں تھے جو ترکوں کے دورِ عثمانی میں مسلمان ہوئے تھے اور صدیوں سے یہاں آباد تھے۔ لیکن یہاں مقیم سرب الگ ریاست سے خوش نہ تھے۔ انہوں نے سربیا کی افواج کی مدد سے ‏بغاوت کی۔ اس دوران میں بوسنیا کے شہر سربرینیکا کے اردگرد سرب افواج نے محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ کئی سال تک جاری رہا۔
اقوامِ متحدہ کی امن افواج کی تعیناتی کے ساتھ ہی باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ اب یہ علاقہ محفوظ ہے۔ لیکن یہ اعلان محض ایک جھانسا ثابت ہوا۔ کچھ ہی روز بعد سرب افواج ‏نے جنرل ملادچ کی سربراہی میں شہر پر قبضہ کر لیا اور مسلمانوں کی نسل کشی کا وہ انسانیت سوز سلسلہ شروع کیا جس پر تاریخ آج بھی شرمندہ ہے۔ اس دوران نیٹو افواج نے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی۔ کیونکہ معاملہ مسلمانوں کا تھا۔

اگست 1995 سے اگست 2023 تک اٹھائیس سال گذر گئے۔
‏آج بھی مہذب دنیا اس داغ کو دھونے میں ناکام ہے۔ یہ انسانی تاریخ کا واحد واقعہ ہے جس میں مرنے والوں کی تدفین آج تک جاری ہے۔ آج بھی سربرینیکا کے گردونواح سے کسی نہ کسی انسان کی بوسیدہ ہڈیاں ملتی ہیں تو انہیں اہلِ علاقہ دفناتے نظر آتے ہیں۔
جگہ جگہ قطار اندر قطار کھڑے
‏پتھر اس بات کی علامت ہیں کہ یہاں وہ لوگ دفن ہیں جن کی اور کوئی شناخت نہیں ماسوائے اس کے کہ وہ مسلمان تھے۔
گو کہ بعد میں دنیا نے سرب افواج کی جانب سے بوسنیائی مسلمانوں کی اس نسل کشی میں اقوامِ متحدہ کی غفلت اور نیٹو کے مجرمانہ کردار کو تسلیم کر لیا۔ کیس بھی چلے معافیاں بھی ‏مانگی گئیں۔ مگر ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا
اب تو یہ واقعہ آہستہ آہستہ یادوں سے بھی محو ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا کو جنگِ عظیم، سرد جنگ اور یہودیوں پر ہٹلر کے جرائم تو یاد ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا قتلِ عام یاد نہیں۔
غیروں سے کیا گلہ ہم میں سے کتنوں کو معلوم ہے کہ ایسا کوئی ‏واقعہ ہوا بھی تھا؟
پچاس ہزار مردوں اور بچوں کا قتل اتنی آسانی سے بھلا دیا جائے؟ یہ وہ خون آلود تاریخ ہے جسے ہمیں بار بار دنیا کو دکھانا ہو گا۔
جس طرح نائن الیون اور دیگر واقعات کو ایک گردان بنا کر رٹایا جاتا ہے۔ بعینہ ہمیں بھی یاد دلاتے رہنا ہو گا۔ نام نہاد مہذب معاشروں کو
‏ان کا اصل چہرہ دکھاتے رہنا ہو گا۔
اپنے دوستوں کو روزانہ پھول ضرور بھیجیں مگر خدارا ایسی تحریریں ضرور بھیجیں جس سے ھمارے ایمان اور عمل میں اضافہ ھوتا ھو .
آخری بات
اس واقعے میں ہمارے لیے ایک اور بہت بڑا سبق یہ بھی ہے کہ کبھی اپنے تحفظ کے لیے اغیار پر بھروسہ نہ کرو اور اپنی جنگیں اپنے ہی زورِ بازو سے لڑی جاتی ہیں آج فلسطین کے مسلمان دنیا بھر کے مسلمان بھائیوں کو اخوت و بھائی چارے کے نظریئے سے اپنی مدد کیلئے پکار رہے ہیں مگر بے غیرت و دور حاضر کے عیاش مسلمان حکمران اسے دوسرے خطے کی جنگ سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں یہ نہیں سمجھتے کہ یہ یہود جیسے اغیار کی ڈالی وہ چنگاری ہے جو دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو ایک روز خاکستر کر کے رکھ دے گی کیونکہ دراصل یہ گریٹر اسرائیل پلان کی جانب اغیار کی مسلمان امہ کے خلاف پرانی سازش ہے جسے تمام اخلاقی وسماجی برائیوں میں مبتلا ہو چکے مسلمانوں کے اس دور حاضر میں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جا رہی ھے۔

Address

Village & Post Office Din Pur
Dera
29100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DIN PUR posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to DIN PUR:

Share