07/10/2026
ورلڈ پولٹری ایکسپو کے لیے روانہ ہونے والے DVM طلباء کے ساتھ یہ سلوک کیوں؟
گزشتہ ایک ہفتے سے DVM ڈیپارٹمنٹ گومل یونیورسٹی کے طلباء ورلڈ پولٹری ایکسپو لاہور میں شرکت کے لیے انتظامیہ سے رابطے میں تھے۔ اس سلسلے میں تمام ضروری کاغذی کارروائی مکمل کی گئی درخواستیں جمع کروائی گئیں اور متعلقہ دستاویزات پر دستخط بھی کروائے گئے۔ اس کے باوجود طلباء کو آخری وقت تک شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
آج طلباء نے اپنے جائز مطالبے کے لیے سٹی کیمپس کے گیٹ پر تقریباً رات 12 بجے تک پُرامن احتجاج کیا۔ بعد ازاں انتظامیہ کی جانب سے ڈاکٹر ضیاء الرحمن اور دیگر ذمہ داران آئے اور طلباء کو یقین دہانی کروائی گئی کہ ایک بس اور ایک ویگن فراہم کی جائے گی اور سفر کے تمام اخراجات یونیورسٹی انتظامیہ برداشت کرے گی۔
طلبہ یقین دہانی پر بس اور ویگن میں سوار ہو کر روانہ ہوئے لیکن افسوس کہ قریشی موڑ پہنچنے کے بعد صورتحال دوبارہ سنگین ہوگئی۔
اس وقت رات کے تقریباً 3 بجنے والے ہیں اور ہم گزشتہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے سے یہاں کھڑے ہیں۔ بس ڈرائیور کا کہنا ہے کہ ڈیزل کے پیسے طلباء دیں گے اور دیگر اخراجات بھی طلباء کے ذمہ ہیں۔ ویگن ڈرائیور بھی یہی مطالبہ کر رہا ہے کہ اس کے اخراجات اور ایندھن کے پیسے بھی طلباء ادا کریں۔
سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ رات 12 بجے سٹی کیمپس سے روانگی کے بعد ہم مسلسل انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ڈائریکٹر سٹی کیمپس ڈاکٹر نور محمد مروت، رجسٹرار اور دیگر متعلقہ ذمہ داران میں سے کوئی بھی اس وقت ہماری کال وصول نہیں کر رہا۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ طلباء نے کسی ذاتی فائدے کے لیے یہ سفر نہیں کیا بلکہ یونیورسٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک تعلیمی اور پیشہ ورانہ سرگرمی میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔
ہم حکومتِ خیبر پختونخوا، گورنر خیبر پختونخوا، وائس چانسلر گومل یونیورسٹی اور یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے۔
طلباء کو رات کے اس پہر سڑک پر بے یار و مددگار چھوڑ دینا جبکہ پہلے یونیورسٹی کی جانب سے تمام اخراجات برداشت کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
ہم کسی تصادم یا غیرضروری کشیدگی کے خواہاں نہیں۔ ہمارا احتجاج پُرامن ہے اور رہے گا لیکن ہم اپنے جائز حقوق اور عزتِ نفس پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
ہمیں صرف اپنا جائز حق اور فوری حل چاہیے۔