Youth Seerat Club

Youth Seerat Club learning with innovations is basic requirement of this era

30/05/2026

زمانہ عقل کو سمجھا ہُوا ہے مشعلِ راہ
کسے خبر کہ جُنوں بھی ہے صاحبِ ادراک

اس شعر میں علامہ اقبال دورِ جدید کی اُس سوچ پر تنقید کر رہے ہیں جس میں صرف "عقل" کو ہی زندگی کے تمام مسائل کا حل اور ترقی کا واحد ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔موجودہ زمانہ عقل کو مشعلِ راہ یعنی روشنی کا ذریعہ، رہنمائی کا وسیلہ مانتا ہے، اور جذبات، عشق یا دیوانگی (جُنوں) کو بے وقوفی یا پاگل پن سمجھ کر رد کر دیتا ہے۔لیکن اقبال اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ "جُنوں بھی صاحبِ ادراک ہے" یعنی جنون، جو کہ عشقِ حقیقی یا سچے جذبے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، وہ بھی شعور رکھتا ہے، وہ بھی ایک فہم و بصیرت کی شکل ہے۔یہاں "جُنوں" سے مراد وہ خالص جذبہ ہے جو کسی اعلیٰ مقصد، سچائی یا خدا کی تلاش میں انسان کو تمام دنیاوی رکاوٹوں سے بے نیاز کر دیتا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیمؑ، حضرت امام حسینؓ، اور دیگر اہلِ حق کی زندگیوں میں نظر آتا ہے۔اقبال اس شعر میں عقل و عشق کی کشمکش میں عشق کو ایک معتبر، باشعور قوت قرار دے رہے ہیں اور انسانی ترقی، قربانی اور حقیقت کی تلاش میں "جُنوں" کی اہمیت کو اُجاگر کر رہے ہیں۔ عقل راہ دِکھاتی ہے، لیکن جُنوں منزل تک پہنچاتا ہے۔

غزل: ہُوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک
کتاب: بالِ جبریل

30/05/2026
29/05/2026

کیا تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونینز ہونی چاہییں ؟
اپنے جواب کو تھوڑا منطقی انداز میں بیان کریں۔

13/05/2026

یوتھ سیرت کلب کا بنیادی اور اہم پیش نظر رہنے والا مقصد معاشرے کے نوجوانوں کو باکردار بنانا ہے ۔۔

برہنہ سر ہے تو عزمِ بلند پیدا کریہاں فقط سرِ شاہیں کے واسطے ہے کُلاہ فرہنگ:(۱) برہنہ سر: ننگے سر، مراد غلامی(۲) عزمِ بلن...
09/04/2026

برہنہ سر ہے تو عزمِ بلند پیدا کر
یہاں فقط سرِ شاہیں کے واسطے ہے کُلاہ

فرہنگ:
(۱) برہنہ سر: ننگے سر، مراد غلامی
(۲) عزمِ بلند: بلند ارادہ، بلند ہمت
(۳) سرِ شاہین: شاہین کا سر، مراد مردِ مومن کا سر
(۴) کلاہ: ٹوپی، مراد حکمرانی کا تاج

تشریح:
اگر تیرا سر ننگا ہے اور تو اس پر حکمرانی کا تاج رکھنے کا خواہاں ہے تو اپنے ارادے اور ہمتیں بلند کر۔ اس دنیا میں تاج صرف شاہیں کے سر کے لیے زیبا ہے جو بلند ہمت ہوتا ہے۔
(شرح غلام رسول مہر)

05/04/2026

عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سہمی صحابی آپ کو رومی کافروں نے قید کر لیا، اور اپنے بادشاہ کے پاس پہنچا دیا، بادشاہ نے آپ سے کہا کہ تم نصرانی بن جاؤ، میں تمہیں اپنے راج پاٹ میں شریک کیے لیتا ہوں، اور اپنی شاہزادی کو تمہارے نکاح میں دیتا ہوں، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ تو کیا، اگر تو اپنی تمام بادشاہت مجھے دیدے، اور تمام عرب کا راج بھی مجھے سونپ دے اور یہ چاہے کہ میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اپنے دین محمدی ﷺ سے پھر جاؤں، تو یہ بھی ناممکن ہے، بادشاہ نے کہا پھر تجھے قتل کردوں گا، حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ نے جواب دیا کہ ہاں یہ تجھے اختیار ہے، چنانچہ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا، اور انہیں صلیب پر چڑھا دیا، اور تیر اندازوں نے قریب سے بحکم بادشاہ ان کے ہاتھ پاؤں اور جسم چھیدنا شروع کیا، باربار کہا جاتا، کہ اب بھی نصرانیت قبول کر لو، اور آپ پورے صبر و استقلال سے فرماتے جاتے تھے، کہ ہرگز نہیں، آخر بادشاہ نے حکم دیا، کہ اسے سولی سے اتار لو، اور پیتل کی بنی ہوئی دیگ خوب تپا کر آگ بنا کر لائی جائے، چنانچہ وہ پیش ہوئی، بادشاہ نے ایک اور مسلمان قیدی کی بابت حکم دیا، کہ اسے اس میں ڈال دو، اسی وقت حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ کی موجودگی میں آپ کے دیکھتے ہوئے اس مسلمان قیدی کو اس میں ڈال دیا گیا، وہ مسکین صحابی اسی وقت چر مر ہو کر رہ گئے گوشت پوست جل گیا اور ہڈیاں چمکنے لگیں رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
پھر بادشاہ نے حضرت عبداللہ ؓ سے کہا: کہ دیکھو اب بھی بات مان لو، ا ور ہمارا مذہب قبول کر لو، ورنہ اسی آگ کی دیگ میں اسی طرح تمہیں بھی ڈال کر جلا دیا جائیگا، آپ نے پھر بھی اپنے ایمانی جوش سے کام لیکر فرمایا: کہ ناممکن ہے، کہ میں خدا کے دین کو چھوڑ دوں، اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا، کہ انہیں چرخی پر چڑھا کر اس میں ڈال دو، جب یہ اس آگ کی دیگ میں ڈالے جانے کے لیے چرخی پر اٹھائے گئے تو بادشاہ نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں، اس وقت اس نے حکم دیا ، کہ رک جائیں، اور انہیں اپنے پاس بلالیا، اس لیے کہ اب اسے امید بندھ گئی تھی، کہ شاید اس عذاب کو دیکھ کر اب اس کے خیالات پلٹ گئے ہیں، میری مان لے گا، اور میرے مذہب کو قبول کر کے میری دامادی میں آکر میری سلطنت کا ساجھی بن جائے گا، لیکن بادشاہ کی یہ تمنا اور یہ خیال بے سود نکلا، حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: کہ میں صرف اس وجہ سے رویا تھا، کہ آہ آج ایک ہی جان ہے، جسے راہ خدا میں اس عذاب کے ساتھ میں قربان کر رہاہوں، کاش کہ میرے روئیں روئیں میں ایک ایک جان ہوتی، کہ آج میں سب جانیں راہ اللہ میں اسی طرح ایک ایک کر کے فدا کر دیتا۔
بعض روایتوں میں ہے، کہ آپ کو قید خانہ میں رکھا اور کھانا پینا بند کر دیا، کئی دن کے بعد شراب اور خنزیر کا گوشت بھیجا، لیکن آپؓنے اس بھوک پر بھی اس کی طرف توجہ تک نہ فرمائی، بادشاہ نے آپؓکو بلوا بھیجا، اور اسے نہ کھانے کا سبب دریافت کیا، تو آپؓنے جواب دیا، کہ اس حالت میں یہ میرے لیے مباح تو ہو گیا ہے ، لیکن میں تجھ جیسے دشمن کو اپنے بارے میں خوش ہونے کا موقع دینا چاہتا ہی نہیں، اب بادشاہ نے کہا کہ اچھا تو میرے سر کا بوسہ لے لو، تو میں تمہیں اور تمہارے ساتھ کے اور تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کر دیتا ہوں آپؓنے اسے قبول فرما لیا، اور اس کے سر کا بوسہ لے لیا، اور بادشاہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا، آپ کو اور آپ کے تمام ساتھیوں کو چھوڑ دیا، جب حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ یہاں سے آزاد ہو کر حضرت عمر فاروقؓ کے پاس پہنچے، تو آپؓ نے فرمایا: کہ ہر مسلمان پر حق ہے، کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا ماتھا چومے اور میں ابتدا کرتا ہوں، یہ فرما کر پہلے آپؓنے ان کے سر کا بوسہ لیا۔💞💞💞💞 واللہ اعلم و رسُول اعلم ۔
ان عظیم لوگوں کی عظیم قربانیوں کو آج نئی نسل نہیں جانتی آئیں مل کے اس کو عام کرتے ہیں جتنا ہو سکے دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔❣️

لکھنے میں کوئی غلطی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے آمین ۔

حوالا۔۔۔(ابن کثیر)

05/04/2026

👍❣️

Address

Dajal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Youth Seerat Club posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share