08/06/2026
KP Elementary & Secondary Education Department Directorate E&SED Khyber Pakhtunkhwa Peshawar District Education Office Male Chitral Official District Education Office-Female Lower Chitral Deputy Deputy Commissioner Lower Chitral Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa !
پی ٹی آئی پارٹی لوئر چترال کے سینئر کارکنان نے کلاس فور (چوکیدار، نائب قاصد، سویپر) کی آسامیوں پر میرٹ اور شفاف طریقے سے تقرریوں کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (مردانہ) اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) کے ساتھ ملاقات کرکے پریس ریلیز جاری کی ہے۔ اس اقدام کو ہم تمام چترالی شہری سراہتے ہیں، کیونکہ ہم نے بھی انصاف کے لیے عمران خان کے نام پر ایم پی اے پی کے-2 مہتر علی ناصر، ایم پی اے/سینیٹر ثریا بی بی پی کے-1 اور ایم این اے عبداللطیف کو ووٹ دے کر کامیاب بنایا تھا۔
مگر افسوس کہ ایم پی اے/سینیٹر ثریا بی بی نے اپنے رشتہ داروں کو نوازنے اور مبینہ طور پر پیسے لے کر غریب اور حقدار لوگوں کا حق چھین لیا اور ان کے ساتھ ناانصافی کی۔ اپر چترال کی ڈی ای او فیمیل غزالہ بی بی نے بھی کلاس فور بھرتیوں میں اپنا الگ کردار ادا کیا۔ مبینہ طور پر انہوں نے ثریا بی بی کے ساتھ معاملات طے کرکے دوبارہ اپر چترال میں اپنی ٹرانسفر کروائی۔ اپر چترال کے گرلز سکولوں کے تقریباً ایک کروڑ روپے کے اسٹیشنری اور مرمت کے بجٹ، جو پرائیویٹ ٹیچرز کونسل اکاؤنٹس میں دیے گئے تھے، ان معاملات کی وجہ سے ان کا تبادلہ کیا گیا تھا۔
دوسری جانب لوئر چترال کے ایم پی اے فتح علی ناصر (مہتر) کے پرسنل سیکریٹری نوید کوہکن اور شاہد نے لوئر چترال کے ڈی ای او مفتاح الدین (بی پی ایس-19) کے ساتھ کلاس فور آسامیوں پر تقرریوں کے حوالے سے معاملات طے نہ ہونے پر ان کا تبادلہ کروایا اور شاہد حسین، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (بی پی ایس-18) کے ساتھ مبینہ طور پر باقاعدہ ڈیل کرکے انہیں غیر قانونی طور پر ڈی ای او (بی پی ایس-19) کی پوسٹ پر لوئر چترال تعینات کروایا۔
اب کلاس فور کی آسامیوں پر تقرری کے لیے ہر امیدوار سے 9 لاکھ روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جو مبینہ طور پر مہتر فتح علی ناصر ایم پی اے کی اہلیہ کے پاس جمع کروائے جا رہے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے نوید کوہکن اور شاہد، ایم پی اے کی اہلیہ کو بھی بدنام کر رہے ہیں۔ ہمیں مہتر علی ناصر ایم پی اے پر مکمل یقین ہے کہ وہ کبھی رشوت جیسے گھٹیا کام نہ کریں گے اور نہ ہی اس کا تصور کرسکتے ہیں۔ یہ صرف ایم پی اے کے سیکریٹری نوید کوہکن اور شاہد ہیں جو مہتر صاحب اور ان کی اہلیہ کا نام استعمال کرکے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔
اس صورتحال کی وجہ سے بعض امیدوار بینکوں سے قرض لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خیر فرمائے، یہ دونوں افراد مہتر چترال، ان کی اہلیہ اور عمران خان کے وژن کو بدنام کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
لہٰذا مہتر علی ناصر ایم پی اے چترال سے گزارش ہے کہ وہ اپنے سیکریٹری نوید کوہکن (مہتر جیو) باکامک اور شاہد مستاجپندہ سے پوچھیں کہ وہ دونوں ان کے اور ان کی اہلیہ کے نام پر کلاس فور کی آسامیوں کے لیے 9 لاکھ روپے کیوں وصول کر رہے ہیں۔ اس لیے پہلے کلاس فور بھرتی کے عمل کو روکا جائے اور ان دونوں کو سیکریٹری کی حیثیت سے ڈی نوٹیفائی کرنے کے بعد میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں۔
شاہد حسین، ڈپٹی ڈی ای او، مبینہ طور پر ان دونوں سے معاملات طے کر چکے ہیں اور وعدہ کر چکے ہیں کہ تمام تقرریاں ان کی مرضی کے مطابق کی جائیں گی۔
ان کے علاوہ لوئر چترال کے محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، محکمہ آبپاشی، پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ ورکس اینڈ سروسز (سی اینڈ ڈبلیو) میں بھی نوید کوہکن اور شاہد، ایم پی اے اور ان کی اہلیہ کا نام استعمال کرکے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث ہیں، خصوصاً ترقیاتی کاموں اور ملازمین کے تبادلوں و تعیناتیوں کے معاملات میں۔
چونکہ محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی تعداد زیادہ ہے، اس لیے یہ لوگ مبینہ طور پر اساتذہ سے 50 ہزار روپے لے کر ڈی ای اوز (مردانہ و خواتین) سے سفارش کرکے ان کے تبادلے کرواتے ہیں۔
مہتر علی ناصر ایم پی اے سے پُرزور درخواست ہے کہ وہ نوید کوہکن اور شاہد کو اپنی سیکریٹری کی پوزیشن سے ضرور ہٹا دیں۔ یہ دونوں انتہائی مشکوک کردار کے حامل افراد ہیں، ورنہ یہ آپ، آپ کی اہلیہ اور آپ کے پورے خاندان کی عزت کو نقصان پہنچائیں گے اور آئندہ آپ چترال میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
والسلام
پی ٹی آئی ینگ ایسوسی ایشن تحصیل دروش، لوئر چترال
میرٹ کی پامالی ہرگز قبول نہیں، سینئر کارکنان پی ٹی آئی
چترال (چترال ٹائمز رپورٹ) صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینئر کارکنان نے وزیر تعلیم سمیت محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام پر واضح کردیا ہے کہ اگر سکولوں میں خالی کلاس فور کی اسامیوں کی بھرتی میں کسی امیدوار کے ساتھ ناانصافی،بے ضابطگی یا غیر شفاف طرز عمل اختیار کیا گیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ ڈی ای او پر عائدہوگی کیونکہ پی ٹی آئی کے کارکن کسی کے ساتھ ناانصافی ہونے نہیں دیں گے۔
اتوار کے روز پارٹی کے سینئر کارکن اور رہنماؤں سلطان محمد شیر، تقدیرہ رضاخیل، فوزیہ بی بی، زاہدہ سیرنگ، اعجاز احمد، محمد حسام، میر ولی، ثاقب، عرفان الملک، محمد عرفان، یعقوب خان، اظہار نبی، سجاد احمد، سجادپرتوی، نیاز حاجی، شفیق الرحمن، ابوبکر اور دوسروں کی طرف سے جار ی کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم میں کلاس فور کی اسامیوں کے لئے حال ہی میں ہونے والی انٹرویوز کے حوالے سے عوامی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ڈی ای او میل اور فیمل سے ان کے دفاتر میں ملاقات کرکے بھرتی کے عمل کی شفافیت کے ساتھ انجام دینے کے لئے مطالبہ کیا گیاتھاکہ کلاس فور کی اسامیوں میں میرٹ کو جانچنے کے لئے تعلیمی قابلیت سمیت کوئی خاص میکانزم موجود نہ ہونے کی وجہ سے متعلقہ ویلج کونسل کی سکونتی اہل امیدواروں کے درمیاں قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ کیا جائے جو سب کو قابل قبول ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ دونوں ڈی ای اوز نے اس بات کے ساتھ اصولی طور پر اتفاق کیا تھاکہ امیدواروں کی جسمانی فٹنس اور سکونت کو جانچنے کے بعد اہل امیدواروں میں قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا جبکہ ڈی ای او (فیمل) نے چنداسامیاں زمین مالکان کو دینے اور باقی ماندہ اسامیاں قرعہ اندازی میں شامل کرنے کی بات کی تھی۔ پی ٹی آئی کے کارکنان نے اس بات کی مزید وضاحت کردی ہے کہ چترال کے ایم این اے اور لویر چترال کے ایم پی اے صاحبان کسی مخصوص امیدواروں کے حق میں سفارش نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ شفافیت چاہتے ہیں تاکہ حقدار کو اس کا حق مل سکے۔