Drosh Public Voice

Drosh Public Voice Drosh Information Bank

08/09/2026
اکثر چترالی لوگوں کے مطابق، قدیم الایام یعنی چترال اسٹیٹ سے لے کر آج تک پورے چترال میں، لواری ٹاپ سے لے کر سور لاسپور او...
08/09/2026

اکثر چترالی لوگوں کے مطابق، قدیم الایام یعنی چترال اسٹیٹ سے لے کر آج تک پورے چترال میں، لواری ٹاپ سے لے کر سور لاسپور اور بروغیل تک، پولو کی دنیا میں سب سے بے شرافت اور بد اخلاق خاندان عمرا خان لال کا ہے۔

عمرا خان لال بھی اپنے زمانے کا سب سے بد اخلاق پولو پلیئر تھا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا مظفر علی خان، پھر اس کا بیٹا مقبول علی خان، اور پھر اس کا بیٹا اظہر علی خان پیدا ہوا۔

عمرا خان لال اور اس کا بیٹا مظفر علی بھی اپنے اپنے دور میں پولو کے دوران جب انہیں شکست ہونے کا شک ہوتا تو کسی نہ کسی بہانے شر پیدا کرکے پولو میچ میں خلل ڈالتے رہتے تھے۔ ان کے بعد مقبول علی بھی اسی طرح، جب شکست ہونے کا یقین ہوتا، بد اخلاقی شروع کر دیتا تھا۔ ہم نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

اب ان کا بیٹا اظہر علی، جو ایک تماشائی کی حیثیت سے پولو گراؤنڈ میں پہنچا، اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ریٹائرڈ صوبیدار محمد اسماعیل کے بیٹے عظمت اللہ کو، جو ایک انتہائی شریف پولو پلیئر ہے، زمین پر گرا کر مارا۔ اس واقعے کی صرف چترال ہی نہیں بلکہ پورے چترال اور گلگت میں مذمت کی جا رہی ہے۔

یہ لوگ انسان نہیں ہیں، یہ کتوں کی طرح ہیں۔

پشتو کا ایک مثل ہے:

عمرا خان دې واغېم، مظفر علی خان دې واغېم، مقبول علی خان دې واغېم او اظہر علی خان دې واغېم۔

03/09/2026
ضلع ایجوکیشن آفیسر (خواتین)، لوئر چترال، محترمہ مہرون نساء کو لوئر دیر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکی...
27/08/2026

ضلع ایجوکیشن آفیسر (خواتین)، لوئر چترال، محترمہ مہرون نساء کو لوئر دیر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین)، اپر دیر، محترمہ زبیدہ خانم کو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین)، لوئر چترال مقرر کیا گیا ہے۔

محترمہ زبیدہ خانم ایک نوجوان، منصف مزاج، شفاف اور انتہائی قابل افسر ہیں۔ سرکاری محکمہ تعلیم میں شمولیت سے قبل وہ آغا خان ایجوکیشن سروس، پاکستان، چترال میں ایجوکیشن مینیجر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ اس وقت پورے خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم میں شاید ہی کوئی ایسا افسر ہو جس کے پاس ان سے زیادہ متعلقہ تجربہ ہو۔

ہمیں امید ہے کہ نئی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، محترمہ زبیدہ خانم، گرلز سکولوں میں اساتذہ کی باقاعدہ حاضری اور ڈیوٹی کو یقینی بنائیں گی اور طالبات کے بہترین مفاد میں خواتین اساتذہ کے تمام غیر قانونی تبادلہ احکامات، عارضی تعیناتی، ڈیٹیلمنٹ اور اسٹاپ گیپ انتظامات کو منسوخ کریں گی۔ ہمیں امید ہے کہ وہ لوئر چترال کو پورے صوبے میں تعلیم کے حوالے سے ایک مثالی ضلع بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں گی۔

گزشتہ کئی برسوں سے لوئر چترال میں طالبات کی تعلیم مبینہ طور پر ایک منظم طریقہ کار کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے، جس میں خواتین ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کی جانب سے اساتذہ سے مبینہ طور پر رقم لے کر انہیں ان کے گھروں کے قریب اسٹیشنوں پر عارضی یا ڈیٹیل بنیادوں پر تعینات کیا جاتا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس طرزِ عمل نے لوئر چترال میں طالبات کی تعلیم کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ یہ مبینہ بدعنوان طریقے سابق خواتین ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کی جانب سے ایک سینئر کلرک، عابد کمال، کے ذریعے انجام دیے جاتے رہے ہیں۔ مذکورہ کلرک مبینہ طور پر 2018 سے خواتین کے محکمہ تعلیم کے دفتر میں تعینات ہے اور اس پر غیر قانونی رقوم وصول کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بی بی حلیمہ نذیر کے دور میں مبینہ طور پر مذکورہ کلرک خواتین اساتذہ سے تبادلے کروانے کے لیے تقریباً 50 ہزار روپے وصول کرتا تھا۔ جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مہرون نساء کے دور میں مبینہ طور پر تبادلے کے لیے تقریباً 30 ہزار روپے اور ڈیٹیلمنٹ یا عارضی ایڈجسٹمنٹ کے لیے ماہانہ 5 ہزار روپے وصول کیے جاتے رہے۔

یہ بھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ جب بھی اساتذہ یا عام شہری کسی کام کے سلسلے میں ڈی ای او فیمیل آفس چترال جاتے تھے تو مذکورہ کلرک اکثر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محترمہ مہرون نساء کی کرسی کے ساتھ بیٹھا ہوا پایا جاتا تھا۔ مقامی شکایات کے مطابق، بعض اوقات ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سے سوال کیے جانے پر مذکورہ کلرک خود جواب دینا شروع کر دیتا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا کہ وہ دفتر کے معاملات میں غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

یہ الزامات بھی سامنے آئے ہیں کہ مذکورہ کلرک تبادلوں کے نام پر خواتین اساتذہ کو مبینہ طور پر دھمکاتا یا خوف زدہ کرتا اور ان سے رقم طلب کرتا تھا۔ یہ انتہائی سنگین الزامات ہیں اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ ان کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کروائیں۔

تحصیل دروش میں متعدد گرلز سکولوں، جن میں جی جی ایم ایس ارندو، جی جی پی ایس دومیل، جی جی پی ایس ارسون، شیشی کوہ، مدک لشٹ اور دروش کے دیگر گرلز سکول شامل ہیں، کے اساتذہ کو مبینہ طور پر ان کے گھروں یا گھروں کے قریب عارضی طور پر ایڈجسٹ کیا گیا ہے۔ مقامی والدین کے مطابق اس صورتحال نے تحصیل دروش اور تحصیل چترال میں طالبات کی تعلیم کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

سب ڈویژنل ایجوکیشن آفس (خواتین)، دروش میں دو اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کے بارے میں بھی الزام ہے کہ وہ دروش میں اپنی باقاعدہ ذمہ داریاں انجام دینے یا اسکولوں کا دورہ کرکے اساتذہ کی نگرانی کرنے کے بجائے اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔ مزید یہ بھی الزام ہے کہ گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول دروش کی ایک ٹیچر، محترمہ ملکہ فرحین، کو عارضی طور پر سب ڈویژنل ایجوکیشن آفس (خواتین)، دروش میں ایڈجسٹ کیا گیا ہے، جہاں ان سے دفتری امور انجام لیے جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول دروش میں طالبات کو پڑھانے کے لیے اساتذہ کی کمی پیدا ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ محترمہ مہرون نساء کو دوبارہ کبھی چترال میں تعینات نہ کرے۔ ہم دروش کے رہائشی ہیں اور یہاں کے لوگوں کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ انہیں ماضی میں تحصیل ناظم فرید جان کی مبینہ مداخلت کے ذریعے بجاول سے چترال لایا گیا اور اس سلسلے میں مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔ اس مرتبہ بھی یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ فرید جان کی مبینہ وساطت سے مالی معاملات کے ذریعے اپنے تبادلے کا حکم منسوخ کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دروش اور چترال کے والدین اور مقامی باشندے پُرزور امید رکھتے ہیں کہ نئی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین)، محترمہ زبیدہ خانم، ان تمام الزامات کی مکمل تحقیقات کروائیں گی اور دفتر اور سکول کی سطح پر پائی جانے والی کسی بھی بے ضابطگی یا بدعنوانی کے خلاف قانون کے مطابق مناسب کارروائی کریں گی۔

ہمیں پوری امید ہے کہ نئی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) تعلیمی نظام کو بہتر بنانے، اساتذہ کی باقاعدہ حاضری یقینی بنانے، طالبات کے مفادات کا تحفظ کرنے اور ایسی تمام مبینہ بدعنوان یا غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کریں گی جو لوئر چترال میں طالبات کی تعلیم کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

والدین، تحصیل دروش

اس ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خاتون) کا تبادلہ کیا جانا چاہیے۔ ان کا ایک بھی کام درست نظر نہیں آتا۔ اپنی ڈی ای او کی پوسٹ بچ...
17/06/2026

اس ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خاتون) کا تبادلہ کیا جانا چاہیے۔ ان کا ایک بھی کام درست نظر نہیں آتا۔ اپنی ڈی ای او کی پوسٹ بچانے کے لیے یہ کچھ بھی کر سکتی ہیں۔ تمام ڈبل شفٹ اسکولز، مثلاً جی جی ایم ایس تر شیشی، جی جی ایم ایس پوتونیاندہ، جی جی ایم ایس عاشیرات، جی جی ایچ ایس دروش اور جی جی ایم ایس جنجیرات سمیت پورے لوئر چترال میں بھرتیاں میرٹ کے مطابق نہیں کی گئیں۔

فروری 2026 میں ڈبل شفٹ اسکول جی جی ایم ایس بیکر آباد کی ایک خالی آسامی پر انہوں نے اپنے ایک کلرک کی بہن، جو وی سی چومورکھون سے تعلق رکھتی تھیں، کو تعینات کیا۔ جب اس تقرری پر اعتراض کیا گیا تو بعد میں گاؤں جوغور سے ڈپٹی کمشنر لوئر چترال کے ڈرائیور کی اہلیہ، جو کم میرٹ پر تھیں، کو بھرتی کرنے کے لیے تین مرتبہ ڈیمو لیا گیا۔ چونکہ ڈپٹی کمشنر کے ڈرائیور کی اہلیہ کو سیاسی حمایت حاصل تھی، اس لیے آخرکار میرٹ نمبر 1 سے لے کر میرٹ نمبر 6 تک تمام امیدواروں کو ڈیمو میں ناکام قرار دے کر ڈرائیور کی اہلیہ کو 20 میں سے 20 نمبر دے کر تعینات کر دیا گیا۔

حالانکہ ڈی ایس ایس بیکر آباد میں وی یو بیکر آباد سے امیدوار کا تقرر ہونا چاہیے تھا۔ غالباً یہی سلوک اس بے چاری بیٹی مروہ زیب کے ساتھ بھی کیا گیا ہوگا۔ یہ ڈی ای او انتہائی منافق خاتون ہیں۔

یونین کونسل ارندو، عاشیرات اور شیشی کوہ کے تمام گرلز پرائمری اسکولوں میں استانیوں کو "نیڈ بیس" کے نام پر کئی سالوں سے غیر قانونی طور پر ان کے گھروں کے قریب اسکولوں میں تعینات رکھا گیا ہے، جبکہ متعدد گرلز اسکولوں میں گزشتہ دو سے تین سال سے صرف ایک ہی استانی خدمات انجام دے رہی ہے۔ ان بے چاری استانیوں کی مجبوری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ہی استادہ کس طرح چھ جماعتوں کے طلبہ کو سنبھالے اور تعلیم دے۔

ان تمام معاملات کے پیچھے ان کے دفتر میں موجود ایک منشی (کلرک) عابد کا ہاتھ ہے۔ جو بھی شخص اپنے جائز کام کے لیے ڈی ای او فیمیل آفس لوئر چترال جاتا ہے، وہ اس منشی کو ہمیشہ ڈی ای او کے ساتھ بیٹھا ہوا پاتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنا جائز مسئلہ ڈی ای او کے سامنے پیش کرتا ہے تو اکثر یہ منشی خود ہی پہلے جواب دینا شروع کر دیتا ہے۔

نہ دفتر میں کوئی نظم و ضبط ہے اور نہ ہی اس خاتون افسر کی کوئی عملی حیثیت نظر آتی ہے۔ انہیں بات کرنے، گفتگو کا سلیقہ اور دفتری آداب تک معلوم نہیں۔ یہ منشی (کلرک) گزشتہ چھ سال سے اسی دفتر میں تعینات ہے۔ پہلے یہ سابق ڈی ای او حلیمہ نذیر کے ساتھ مل کر بدعنوانی میں ملوث رہا اور اب اسی طرح موجودہ ڈی ای او کے ساتھ بیٹھا رہتا ہے۔ دفتر میں اس کا کوئی اور کام نظر نہیں آتا سوائے منشی گیری کے۔

تمام کلرک وقتاً فوقتاً تبادلے کا شکار ہوتے رہتے ہیں، مگر اس کلرک کا تبادلہ کبھی نہیں کیا جاتا۔ مجھے یقین ہے کہ مروہ زیب کے ساتھ بھی یقیناً حق تلفی ہوئی ہوگی۔

لہٰذا ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ محمد ہاشم سے پُرزور اپیل ہے کہ اس خاتون امیدوار کی اپیل کے حوالے سے ایک آزاد اور غیر جانبدار انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے اور میرٹ لسٹ کا ازسرِنو جائزہ قواعد و ضوابط اور پالیسی کے مطابق لیا جائے۔

اس کے علاوہ جی جی ایم ایس کلکٹ میں بھی یہ ڈی ای او اور ان کا عملہ میرٹ کو نظر انداز کرکے سفارش کی بنیاد پر میرٹ لسٹیں تیار کرتے ہیں۔ جب امیدوار دفتر جا کر میرٹ لسٹ طلب کرتے ہیں تو نہ انہیں دکھائی جاتی ہے اور نہ ہی اس کی نقل فراہم کی جاتی ہے۔

ڈی ای او فیمیل مہر النساء لوئر چترال کے لیے ایک مسئلہ بن چکی ہیں، لہٰذا ان کا اور ان کے منشی/کلرک عابد کا فوری تبادلہ کیا جانا چاہیے۔ Deputy Commissioner Lower ChitralKP Elementary & Secondary Education Department Directorate E&SED Khyber Pakhtunkhwa PeshawarDistrict Education Office-Female Lower Chitral Drosh Public School & Degree College _Official_ آواز چترال Voice Of Chitral

گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول کوڑ بروز میں ڈی ایس ایس ٹیچر کی بھرتی کا عمل تنازع کا شکار ہو گیا۔ امیدوار مروہ زیب نے محکمہ تعلیم پر میرٹ لسٹ میں ردوبدل اور انتقامی کاررو....

08/06/2026

پی ٹی آئی پارٹی لوئر چترال کے سینئر کارکنان نے کلاس فور (چوکیدار، نائب قاصد، سویپر) کی آسامیوں پر میرٹ اور شفاف طریقے سے تقرریوں کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (مردانہ) اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) کے ساتھ ملاقات کرکے پریس ریلیز جاری کی ہے۔ اس اقدام کو ہم تمام چترالی شہری سراہتے ہیں، کیونکہ ہم نے بھی انصاف کے لیے عمران خان کے نام پر ایم پی اے پی کے-2 مہتر علی ناصر، ایم پی اے/سینیٹر ثریا بی بی پی کے-1 اور ایم این اے عبداللطیف کو ووٹ دے کر کامیاب بنایا تھا۔

مگر افسوس کہ ایم پی اے/سینیٹر ثریا بی بی نے اپنے رشتہ داروں کو نوازنے اور مبینہ طور پر پیسے لے کر غریب اور حقدار لوگوں کا حق چھین لیا اور ان کے ساتھ ناانصافی کی۔ اپر چترال کی ڈی ای او فیمیل غزالہ بی بی نے بھی کلاس فور بھرتیوں میں اپنا الگ کردار ادا کیا۔ مبینہ طور پر انہوں نے ثریا بی بی کے ساتھ معاملات طے کرکے دوبارہ اپر چترال میں اپنی ٹرانسفر کروائی۔ اپر چترال کے گرلز سکولوں کے تقریباً ایک کروڑ روپے کے اسٹیشنری اور مرمت کے بجٹ، جو پرائیویٹ ٹیچرز کونسل اکاؤنٹس میں دیے گئے تھے، ان معاملات کی وجہ سے ان کا تبادلہ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب لوئر چترال کے ایم پی اے فتح علی ناصر (مہتر) کے پرسنل سیکریٹری نوید کوہکن اور شاہد نے لوئر چترال کے ڈی ای او مفتاح الدین (بی پی ایس-19) کے ساتھ کلاس فور آسامیوں پر تقرریوں کے حوالے سے معاملات طے نہ ہونے پر ان کا تبادلہ کروایا اور شاہد حسین، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (بی پی ایس-18) کے ساتھ مبینہ طور پر باقاعدہ ڈیل کرکے انہیں غیر قانونی طور پر ڈی ای او (بی پی ایس-19) کی پوسٹ پر لوئر چترال تعینات کروایا۔

اب کلاس فور کی آسامیوں پر تقرری کے لیے ہر امیدوار سے 9 لاکھ روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جو مبینہ طور پر مہتر فتح علی ناصر ایم پی اے کی اہلیہ کے پاس جمع کروائے جا رہے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے نوید کوہکن اور شاہد، ایم پی اے کی اہلیہ کو بھی بدنام کر رہے ہیں۔ ہمیں مہتر علی ناصر ایم پی اے پر مکمل یقین ہے کہ وہ کبھی رشوت جیسے گھٹیا کام نہ کریں گے اور نہ ہی اس کا تصور کرسکتے ہیں۔ یہ صرف ایم پی اے کے سیکریٹری نوید کوہکن اور شاہد ہیں جو مہتر صاحب اور ان کی اہلیہ کا نام استعمال کرکے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔

اس صورتحال کی وجہ سے بعض امیدوار بینکوں سے قرض لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خیر فرمائے، یہ دونوں افراد مہتر چترال، ان کی اہلیہ اور عمران خان کے وژن کو بدنام کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

لہٰذا مہتر علی ناصر ایم پی اے چترال سے گزارش ہے کہ وہ اپنے سیکریٹری نوید کوہکن (مہتر جیو) باکامک اور شاہد مستاجپندہ سے پوچھیں کہ وہ دونوں ان کے اور ان کی اہلیہ کے نام پر کلاس فور کی آسامیوں کے لیے 9 لاکھ روپے کیوں وصول کر رہے ہیں۔ اس لیے پہلے کلاس فور بھرتی کے عمل کو روکا جائے اور ان دونوں کو سیکریٹری کی حیثیت سے ڈی نوٹیفائی کرنے کے بعد میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں۔

شاہد حسین، ڈپٹی ڈی ای او، مبینہ طور پر ان دونوں سے معاملات طے کر چکے ہیں اور وعدہ کر چکے ہیں کہ تمام تقرریاں ان کی مرضی کے مطابق کی جائیں گی۔

ان کے علاوہ لوئر چترال کے محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، محکمہ آبپاشی، پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ ورکس اینڈ سروسز (سی اینڈ ڈبلیو) میں بھی نوید کوہکن اور شاہد، ایم پی اے اور ان کی اہلیہ کا نام استعمال کرکے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث ہیں، خصوصاً ترقیاتی کاموں اور ملازمین کے تبادلوں و تعیناتیوں کے معاملات میں۔

چونکہ محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی تعداد زیادہ ہے، اس لیے یہ لوگ مبینہ طور پر اساتذہ سے 50 ہزار روپے لے کر ڈی ای اوز (مردانہ و خواتین) سے سفارش کرکے ان کے تبادلے کرواتے ہیں۔

مہتر علی ناصر ایم پی اے سے پُرزور درخواست ہے کہ وہ نوید کوہکن اور شاہد کو اپنی سیکریٹری کی پوزیشن سے ضرور ہٹا دیں۔ یہ دونوں انتہائی مشکوک کردار کے حامل افراد ہیں، ورنہ یہ آپ، آپ کی اہلیہ اور آپ کے پورے خاندان کی عزت کو نقصان پہنچائیں گے اور آئندہ آپ چترال میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔

والسلام

پی ٹی آئی ینگ ایسوسی ایشن تحصیل دروش، لوئر چترال

KP Elementary & Secondary Education Department Directorate E&SED Khyber Pakhtunkhwa Peshawar District Education Office M...
08/06/2026

KP Elementary & Secondary Education Department Directorate E&SED Khyber Pakhtunkhwa Peshawar District Education Office Male Chitral Official District Education Office-Female Lower Chitral Deputy Deputy Commissioner Lower Chitral Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa !
پی ٹی آئی پارٹی لوئر چترال کے سینئر کارکنان نے کلاس فور (چوکیدار، نائب قاصد، سویپر) کی آسامیوں پر میرٹ اور شفاف طریقے سے تقرریوں کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (مردانہ) اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) کے ساتھ ملاقات کرکے پریس ریلیز جاری کی ہے۔ اس اقدام کو ہم تمام چترالی شہری سراہتے ہیں، کیونکہ ہم نے بھی انصاف کے لیے عمران خان کے نام پر ایم پی اے پی کے-2 مہتر علی ناصر، ایم پی اے/سینیٹر ثریا بی بی پی کے-1 اور ایم این اے عبداللطیف کو ووٹ دے کر کامیاب بنایا تھا۔

مگر افسوس کہ ایم پی اے/سینیٹر ثریا بی بی نے اپنے رشتہ داروں کو نوازنے اور مبینہ طور پر پیسے لے کر غریب اور حقدار لوگوں کا حق چھین لیا اور ان کے ساتھ ناانصافی کی۔ اپر چترال کی ڈی ای او فیمیل غزالہ بی بی نے بھی کلاس فور بھرتیوں میں اپنا الگ کردار ادا کیا۔ مبینہ طور پر انہوں نے ثریا بی بی کے ساتھ معاملات طے کرکے دوبارہ اپر چترال میں اپنی ٹرانسفر کروائی۔ اپر چترال کے گرلز سکولوں کے تقریباً ایک کروڑ روپے کے اسٹیشنری اور مرمت کے بجٹ، جو پرائیویٹ ٹیچرز کونسل اکاؤنٹس میں دیے گئے تھے، ان معاملات کی وجہ سے ان کا تبادلہ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب لوئر چترال کے ایم پی اے فتح علی ناصر (مہتر) کے پرسنل سیکریٹری نوید کوہکن اور شاہد نے لوئر چترال کے ڈی ای او مفتاح الدین (بی پی ایس-19) کے ساتھ کلاس فور آسامیوں پر تقرریوں کے حوالے سے معاملات طے نہ ہونے پر ان کا تبادلہ کروایا اور شاہد حسین، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (بی پی ایس-18) کے ساتھ مبینہ طور پر باقاعدہ ڈیل کرکے انہیں غیر قانونی طور پر ڈی ای او (بی پی ایس-19) کی پوسٹ پر لوئر چترال تعینات کروایا۔

اب کلاس فور کی آسامیوں پر تقرری کے لیے ہر امیدوار سے 9 لاکھ روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جو مبینہ طور پر مہتر فتح علی ناصر ایم پی اے کی اہلیہ کے پاس جمع کروائے جا رہے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے نوید کوہکن اور شاہد، ایم پی اے کی اہلیہ کو بھی بدنام کر رہے ہیں۔ ہمیں مہتر علی ناصر ایم پی اے پر مکمل یقین ہے کہ وہ کبھی رشوت جیسے گھٹیا کام نہ کریں گے اور نہ ہی اس کا تصور کرسکتے ہیں۔ یہ صرف ایم پی اے کے سیکریٹری نوید کوہکن اور شاہد ہیں جو مہتر صاحب اور ان کی اہلیہ کا نام استعمال کرکے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔

اس صورتحال کی وجہ سے بعض امیدوار بینکوں سے قرض لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خیر فرمائے، یہ دونوں افراد مہتر چترال، ان کی اہلیہ اور عمران خان کے وژن کو بدنام کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

لہٰذا مہتر علی ناصر ایم پی اے چترال سے گزارش ہے کہ وہ اپنے سیکریٹری نوید کوہکن (مہتر جیو) باکامک اور شاہد مستاجپندہ سے پوچھیں کہ وہ دونوں ان کے اور ان کی اہلیہ کے نام پر کلاس فور کی آسامیوں کے لیے 9 لاکھ روپے کیوں وصول کر رہے ہیں۔ اس لیے پہلے کلاس فور بھرتی کے عمل کو روکا جائے اور ان دونوں کو سیکریٹری کی حیثیت سے ڈی نوٹیفائی کرنے کے بعد میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں۔

شاہد حسین، ڈپٹی ڈی ای او، مبینہ طور پر ان دونوں سے معاملات طے کر چکے ہیں اور وعدہ کر چکے ہیں کہ تمام تقرریاں ان کی مرضی کے مطابق کی جائیں گی۔

ان کے علاوہ لوئر چترال کے محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، محکمہ آبپاشی، پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ ورکس اینڈ سروسز (سی اینڈ ڈبلیو) میں بھی نوید کوہکن اور شاہد، ایم پی اے اور ان کی اہلیہ کا نام استعمال کرکے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث ہیں، خصوصاً ترقیاتی کاموں اور ملازمین کے تبادلوں و تعیناتیوں کے معاملات میں۔

چونکہ محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی تعداد زیادہ ہے، اس لیے یہ لوگ مبینہ طور پر اساتذہ سے 50 ہزار روپے لے کر ڈی ای اوز (مردانہ و خواتین) سے سفارش کرکے ان کے تبادلے کرواتے ہیں۔

مہتر علی ناصر ایم پی اے سے پُرزور درخواست ہے کہ وہ نوید کوہکن اور شاہد کو اپنی سیکریٹری کی پوزیشن سے ضرور ہٹا دیں۔ یہ دونوں انتہائی مشکوک کردار کے حامل افراد ہیں، ورنہ یہ آپ، آپ کی اہلیہ اور آپ کے پورے خاندان کی عزت کو نقصان پہنچائیں گے اور آئندہ آپ چترال میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔

والسلام

پی ٹی آئی ینگ ایسوسی ایشن تحصیل دروش، لوئر چترال

میرٹ کی پامالی ہرگز قبول نہیں، سینئر کارکنان پی ٹی آئی

چترال (چترال ٹائمز رپورٹ) صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینئر کارکنان نے وزیر تعلیم سمیت محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام پر واضح کردیا ہے کہ اگر سکولوں میں خالی کلاس فور کی اسامیوں کی بھرتی میں کسی امیدوار کے ساتھ ناانصافی،بے ضابطگی یا غیر شفاف طرز عمل اختیار کیا گیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ ڈی ای او پر عائدہوگی کیونکہ پی ٹی آئی کے کارکن کسی کے ساتھ ناانصافی ہونے نہیں دیں گے۔

اتوار کے روز پارٹی کے سینئر کارکن اور رہنماؤں سلطان محمد شیر، تقدیرہ رضاخیل، فوزیہ بی بی، زاہدہ سیرنگ، اعجاز احمد، محمد حسام، میر ولی، ثاقب، عرفان الملک، محمد عرفان، یعقوب خان، اظہار نبی، سجاد احمد، سجادپرتوی، نیاز حاجی، شفیق الرحمن، ابوبکر اور دوسروں کی طرف سے جار ی کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم میں کلاس فور کی اسامیوں کے لئے حال ہی میں ہونے والی انٹرویوز کے حوالے سے عوامی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ڈی ای او میل اور فیمل سے ان کے دفاتر میں ملاقات کرکے بھرتی کے عمل کی شفافیت کے ساتھ انجام دینے کے لئے مطالبہ کیا گیاتھاکہ کلاس فور کی اسامیوں میں میرٹ کو جانچنے کے لئے تعلیمی قابلیت سمیت کوئی خاص میکانزم موجود نہ ہونے کی وجہ سے متعلقہ ویلج کونسل کی سکونتی اہل امیدواروں کے درمیاں قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ کیا جائے جو سب کو قابل قبول ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ دونوں ڈی ای اوز نے اس بات کے ساتھ اصولی طور پر اتفاق کیا تھاکہ امیدواروں کی جسمانی فٹنس اور سکونت کو جانچنے کے بعد اہل امیدواروں میں قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا جبکہ ڈی ای او (فیمل) نے چنداسامیاں زمین مالکان کو دینے اور باقی ماندہ اسامیاں قرعہ اندازی میں شامل کرنے کی بات کی تھی۔ پی ٹی آئی کے کارکنان نے اس بات کی مزید وضاحت کردی ہے کہ چترال کے ایم این اے اور لویر چترال کے ایم پی اے صاحبان کسی مخصوص امیدواروں کے حق میں سفارش نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ شفافیت چاہتے ہیں تاکہ حقدار کو اس کا حق مل سکے۔

اہم اعلانمحکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے لوئر چترال میں چند گورنمنٹ گرلز پرائمری سکولوں (GGPS) کو ڈبل شفٹ سکول بنا ...
24/04/2026

اہم اعلان
محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے لوئر چترال میں چند گورنمنٹ گرلز پرائمری سکولوں (GGPS) کو ڈبل شفٹ سکول بنا کر پرائمری سے مڈل کا درجہ دیا گیا ہے۔ اب ان ڈبل شفٹ سکولوں میں دوپہر کے بعد جماعت ششم سے جماعت ہشتم تک کلاسز چلیں گی۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کی طرف سے ان سکولوں کے لیے چند آسامیاں بھی منظور کی جا چکی ہیں۔ ہر ایک ڈبل شفٹ مڈل سکول میں کل 5 اساتذہ کی آسامیاں منظور ہیں:
(1) SST – 1 Post
(2) CT – 2 Post
(3) DM – 1 Post
(4) AT/TT – 1 Post
ہر ڈبل شفٹ مڈل سکول کے لیے کم از کم 30 سے 40 خواتین نے درخواست دی ہوگی۔ DSS اساتذہ کی بھرتی کے لیے موجودہ قواعد و پالیسی کے مطابق ان 5 اساتذہ کو بھرتی کرنے کی ذمہ داری متعلقہ سکول کی PTC کونسل پر عائد ہوتی ہے، جو تمام امیدواروں کی تعلیمی قابلیت اور ڈیمو کے 20 نمبرز کو ملا کر حتمی میرٹ لسٹ تیار کرتی ہے اور میرٹ کی بنیاد پر اساتذہ کی بھرتی کرتی ہے۔ نیز ڈیمو بھی اسی اسکول میں متعلقہ کمیٹی کے سامنے دینا لازمی ہوتا ہے۔
تاہم مہر النساء بیگم ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) لوئر چترال نے DSS قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور سفارش کی بنیاد پر اپنی مرضی سے ڈیمو نمبرز دینے کے لیے بے روزگاری اور مہنگائی کے اس دور میں تمام خواتین امیدواروں کو ڈیمو کے لیے چترال ٹاؤن بلایا ہے۔ کم از کم 500 خواتین امیدوار جب چترال ٹاؤن جا کر واپس اپنے گھروں کو پہنچیں گی تو ہر امیدوار پر تقریباً 10,000 روپے خرچ آئے گا، کیونکہ اکثر ایک خاتون امیدوار کے ساتھ ایک مرد کا جانا بھی ضروری ہوتا ہے اور ٹیکسی وغیرہ کا خرچ تقریباً 3000 روپے تک ہوتا ہے۔
اگر محکمہ کی طرف سے کوئی مانیٹرنگ درکار ہے تو ہر تحصیل میں SDEOs اور ASDEOs موجود ہیں، جو سرکاری گاڑیوں میں جا کر وہاں نگرانی کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ آفس سے DEO یا DDEO بھی اپنی سرکاری گاڑیوں کے ذریعے متعلقہ علاقوں کا دورہ کر سکتے ہیں۔
مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان افسران نے اس طریقہ کار کے ذریعے تمام بے روزگار خواتین اور ان کے والدین کو چترال ٹاؤن بلا کر شدید زیادتی کی ہے۔ ہم اس غیر قانونی عمل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور ڈپٹی کمشنر لوئر چترال، ڈائریکٹر اور سیکرٹری تعلیم سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس غیر قانونی اقدام کا نوٹس لے کر اسے فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور ہر DSS مڈل سکول میں ڈیمو کے انعقاد کے لیے علیحدہ شیڈول جاری کیا جائے تاکہ مہنگائی کے اس دور میں بے روزگار خواتین کو مزید مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔( ڈبل شفٹ اسکولوں کی فہرست منسلک ہے )

نقل برائے اطلاع:
1. ڈپٹی کمشنر لوئر چترال
2. ڈائریکٹر ایجوکیشن خیبر پختونخوا، پشاور
3. سیکرٹری ایجوکیشن خیبر پختونخوا، پشاور
4. زیر تعلیم حکومت خیبر پختونخوا

07/04/2026

ڈپٹی کمشنر اپر چترال-
ڈپٹی کمشنر لوئر چترال-

موضوع: چترال میں SSC 2026 امتحانات کے دوران نقالی اور شفافیت کے مسائل کے حوالے سے فوری توجہ کی درخواست-

ضلع اپر چترال اور لوئر چترال میں تمام سرکاری اور نجی اسکولز اور کالجز، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا، پشاور کے ساتھ منسلک ہیں۔ پشاور بورڈ کی طرف سے چترال میں تمام امتحانی مراکز میں نقالی اور دھوکہ دہی اس دفعہ بھی SSC (Annual) Examination 2026 میں جاری ہے۔

چترال کالج آف ایجوکیشن (ڈیسنٹ کالج) میں تمام سپر وائزر اسٹاف اور سپرنٹنڈنٹ کو اس کالج کی پرنسپل کی پروپوزل کے مطابق، پشاور بورڈ کے کیمپ آفس چترال میں موجود کمپیوٹر آپریٹر ولی اللہ نے تعینات کر کے آرڈر جاری کیا ہے۔

اس طرح تمام میل اور فی میل امتحانی ہالز میں CC TV کیمرہ بند کر کے امتحان شروع کیا جاتا ہے تاکہ کوئی ریکارڈ چیک نہ کر سکے اور نقالی کروانے والے اسٹاف کے خلاف کوئی ثبوت نہ مل سکے۔

چترال لوئر میں صرف ایک امتحانی مرکز ہے: The Langland School and College Chitral، جس کے پرنسپل کری شیفیلڈ تمام CC TV کیمرے آن رکھتے ہیں اور بذات خود اپنے دفتر میں بیٹھ کر CC TV کیمرے کے ذریعے ہال کو کنٹرول کرتے ہیں تاکہ نقالی جیسا عمل روکا جا سکے۔

باقی تمام امتحانی سینٹرز کے پرنسپلز، ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹریس اپنے اسکول کے CC TV کیمرے بند رکھ کر طلبہ سے نقالی کرواتے ہیں، جس سے ٹیلنٹڈ اور ملٹی ٹیلنٹڈ طلبہ کے ساتھ شدید ناانصافی ہو رہی ہے۔

انسپکشن کے لیے بھی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے وہی ٹیچر کنٹریکٹر بھیجے جا رہے ہیں، جو خود نقل کرانا چاہتے ہیں تاکہ ان کے کولیگز کے سبجیکٹ رزلٹ خراب نہ ہو جائے۔

اس لیے گزارش ہے کہ اگر آپ واقعی تعلیم کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو:

بورڈ کے امتحانی نظام کو شفاف اور صاف کرنے کے لیے سخت حکمت عملی بنائیں۔
انسپیکشن کے لیے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ٹیچر کو ہٹا کر اسسٹنٹ کمشنر، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر (EMA) اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو تعینات کریں تاکہ وہ ذاتی طور پر چیک کر کے رپورٹ دیں کہ CC TV کیمرہ کیوں بند یا خراب رکھا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، پشاور بورڈ چترال کیمپ آفس میں موجود کمپیوٹر آپریٹر ولی اللہ کا اس آفس میں 8 سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے۔ ہر چیز اگر ایک ہی جگہ زیادہ عرصہ رہے تو اس پر زنگ لگ جاتا ہے، اس لیے ولی اللہ کو جلد از جلد پشاور منتقل کیا جائے۔

جب تک ولی اللہ کمپیوٹر آپریٹر چترال میں رہے گا، چترال میں امتحانی نظام درست نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی یہ شخص اکثر فی میل سرکاری ٹیچرز کو پرسنلی کال کر کے ان کے پسندیدہ سینٹرز میں لے جاتا ہے۔

ہم پوری چترالی قوم آپ دونوں کے شکر گزار اور ممنون رہیں گے۔

شکریہ،

Address

Sweer Tehsil Drosh District Lower Chitral
Chitral

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Drosh Public Voice posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share