03/10/2026
حفیظ اللہ امین کی گرفتاری، سوال ایک شخص کا نہیں، قانون کے یکساں اطلاق اور اہلِ قلم کے احترام کا ہے
چترال جیسے پُرامن، مہذب اور علم و ادب سے محبت رکھنے والے علاقے میں ایک شاعر اور ادیب کو مبینہ طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے اہلکاروں کی جانب سے بغیر کسی پیشگی اطلاع گرفتار کرکے پشاور لے جانے کی خبر نے اہلِ چترال، بالخصوص اہلِ قلم میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
حفیظ اللہ امین کوئی جرائم پیشہ شخص نہیں۔ وہ ایک شاعر، ادیب اور درویش صفت انسان ہیں۔ ان کی دنیا شعر و ادب ہے۔ وہ اپنے اشعار لکھتے ہیں، محفلوں میں لوگوں کو اپنی شاعری سے محظوظ کرتے ہیں اور اپنی تخلیقی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔
آج سوال یہ ہے کہ ایک شاعر کو اچانک گرفتار کرکے پشاور لے جانے کی نوبت کیوں آئی؟
اگر ان کی طرف سے شیئر کی گئی کسی پوسٹ میں کوئی قانونی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ہم قانون سے بالاتر کسی رعایت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ لیکن قانون کا تقاضا یہ بھی ہے کہ الزام، ثبوت، نیت اور اصل ذمہ داری کا تعین شفاف تحقیقات اور منصفانہ قانونی عمل کے ذریعے کیا جائے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ زیرِ بحث پوسٹ حفیظ اللہ امین کی اپنی تحریر نہیں بلکہ ان کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ تھی۔ اگر اس میں کوئی دعویٰ غلط یا بے بنیاد تھا تو اس کی تردید اور قانونی وضاحت کا حق متعلقہ فریق کو حاصل ہے۔ لیکن ایک پوسٹ شیئر کرنے کے معاملے میں گرفتاری تک پہنچنے سے پہلے یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا قانون کے تمام تقاضے پورے کیے گئے؟
NCCIA سے چند سیدھے سوالات
اگر سائبر کرائم کے ادارے کسی پوسٹ پر اتنی تیزی سے حرکت کر سکتے ہیں تو چترال کے ان شہریوں کی شکایات کا کیا بنا جو طویل عرصے سے سائبر کرائم پشاور میں درخواستیں دے کر بیٹھے ہیں؟
ایسے کئی معاملات ہیں جن میں چترال کے شہریوں نے مبینہ جعلی اکاؤنٹس، آن لائن بدنامی، کردار کشی، دھمکیوں اور ہراسانی کے خلاف کارروائی کی درخواستیں دی ہیں۔ مگر ان میں سے کئی کیسز کے بارے میں متاثرہ شہری آج بھی جواب اور کارروائی کے منتظر ہیں۔
کیا ایک عام چترالی شہری کی عزت اور وقار اتنی اہم نہیں جتنی کسی بااثر شخصیت یا ادارے سے متعلق شکایت؟
اگر قانون حرکت میں آنا ہے تو سب کے لیے حرکت میں آئے۔
اگر تحقیقات ہونی ہیں تو سب کی شکایات پر ہوں۔
اگر گرفتاری قانون کا آخری راستہ ہے تو اس کا استعمال بھی یکساں قانونی معیار کے تحت ہو۔
ہم کسی غیر ملکی شہری کے خلاف نہیں، نہ ہی کسی تعلیمی ادارے کے خلاف نفرت پھیلانے کے حامی ہیں۔ لیکن تنقید، سوال اور جرم کے درمیان فرق برقرار رکھنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
حفیظ اللہ امین صرف شاعر نہیں، اس ملک کے سابق محافظ بھی ہیں
یہ پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ حفیظ اللہ امین پاک فوج سے ریٹائرڈ صوبیدار ہیں اور سوات آپریشن کے غازی بھی رہے ہیں۔
جس شخص نے اپنی جوانی ملک کی خدمت اور دفاع میں گزاری، اگر آج وہ کسی قانونی کارروائی کا سامنا کر رہا ہے تو کم از کم اس کے ساتھ قانون کے مطابق عزت، شفافیت اور انصاف کا برتاؤ ضرور ہونا چاہیے۔
ہم پاک فوج کے متعلقہ حکام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ان کے سابق جوان کے ساتھ ہونے والی کارروائی میں اس کے قانونی اور انسانی حقوق کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے یا نہیں۔
یہ کسی ادارے کے خلاف محاذ آرائی نہیں؛ یہ اپنے ایک سابق سپاہی کے قانونی حقوق اور عزت کے تحفظ کی درخواست ہے۔
جعلی اکاؤنٹس والوں کو کون پکڑے گا؟
NCCIA سے ایک اور سوال بھی بنتا ہے۔
اگر ادارہ واقعی سوشل میڈیا پر لوگوں کی عزت اور کردار کے تحفظ کے لیے متحرک ہے تو پھر ان لوگوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جو جعلی اکاؤنٹس بنا کر لوگوں کی عزتوں سے کھیل رہے ہیں، مسلسل کردار کشی کر رہے ہیں، جھوٹا مواد پھیلا رہے ہیں اور سوشل میڈیا کو ذاتی دشمنی نکالنے کا ذریعہ بنا چکے ہیں۔
قانون صرف وہاں نہیں ہونا چاہیے جہاں شکایت کرنے والا طاقتور ہو۔ قانون وہاں بھی پہنچنا چاہیے جہاں ایک عام شہری اپنی عزت بچانے کے لیے دروازہ کھٹکھٹا رہا ہو۔
اہلِ قلم خاموش نہیں رہیں گے
چترال کے تمام اہلِ قلم، شاعر، ادیب اور باشعور شہری اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حفیظ اللہ امین کے معاملے میں شفاف تحقیقات کی جائیں، ان کے قانونی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے اور اگر ان کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوتا تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
اور اگر قانون کے مطابق مزید کارروائی ضروری سمجھی جاتی ہے تو بھی انہیں قانون کے مطابق عزت، وکیل تک رسائی اور منصفانہ قانونی عمل کا مکمل حق دیا جائے۔
اب معاملہ عدالت میں لے جانے کا فیصلہ
تحریک تحفظ حقوق چترال اس معاملے کو محض ایک سوشل میڈیا بحث بننے نہیں دے گی۔
اگر ضروری ہوا تو معزز پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے رِٹ پٹیشن دائر کی جائے گی اور اس معاملے میں NCCIA اور لینگ لینڈز سکول اینڈ کالج کی انتظامیہ/متعلقہ انتظامیہ کو فریق بنا کر عدالت کے سامنے تمام قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے جائیں گے۔
ساتھ ہی چترال کے ان تمام زیرِ التوا سائبر کرائم کیسز اور درخواستوں کا معاملہ بھی متعلقہ فورم کے سامنے اٹھایا جائے گا جن پر طویل عرصے سے کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔
ہم عدالت سے یہ بھی چاہتے ہیں کہ قانون کے یکساں اطلاق، حفیظ اللہ امین کے بنیادی قانونی حقوق اور زیرِ التوا شکایات پر اداروں کی ذمہ داری کے حوالے سے مناسب قانونی تحفظ اور ہدایات فراہم کی جائیں۔
ہم کسی کے خلاف انتقام نہیں چاہتے۔
ہم کسی کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتے۔
ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ قانون کسی کے لیے تلوار اور کسی کے لیے ڈھال نہ بنے۔
حفیظ اللہ امین اگر قصوروار ہیں تو قانون کے مطابق فیصلہ ہو۔
اگر قصور ثابت نہیں ہوتا تو انہیں عزت کے ساتھ رہا کیا جائے۔
لیکن ایک شاعر، ایک ادیب اور ملک کے سابق سپاہی کو صرف اس لیے خاموش نہیں کرایا جا سکتا کہ اس نے ایک ایسی پوسٹ شیئر کر دی جس میں ایک عوامی معاملے پر سوال اٹھائے گئے تھے۔
قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
پیر مختار
چیئرمین
تحریک تحفظ حقوق چترال