تحریک تحفظ حقوق چترال

Call Website Contact the organization

تحریک تحفظ حقوق چترال A Humanitarian & Socio-economic Movement for the Protection of Rights for the People in Chitral.

03/10/2026

حفیظ اللہ امین کی گرفتاری، سوال ایک شخص کا نہیں، قانون کے یکساں اطلاق اور اہلِ قلم کے احترام کا ہے
چترال جیسے پُرامن، مہذب اور علم و ادب سے محبت رکھنے والے علاقے میں ایک شاعر اور ادیب کو مبینہ طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے اہلکاروں کی جانب سے بغیر کسی پیشگی اطلاع گرفتار کرکے پشاور لے جانے کی خبر نے اہلِ چترال، بالخصوص اہلِ قلم میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
حفیظ اللہ امین کوئی جرائم پیشہ شخص نہیں۔ وہ ایک شاعر، ادیب اور درویش صفت انسان ہیں۔ ان کی دنیا شعر و ادب ہے۔ وہ اپنے اشعار لکھتے ہیں، محفلوں میں لوگوں کو اپنی شاعری سے محظوظ کرتے ہیں اور اپنی تخلیقی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔
آج سوال یہ ہے کہ ایک شاعر کو اچانک گرفتار کرکے پشاور لے جانے کی نوبت کیوں آئی؟
اگر ان کی طرف سے شیئر کی گئی کسی پوسٹ میں کوئی قانونی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ہم قانون سے بالاتر کسی رعایت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ لیکن قانون کا تقاضا یہ بھی ہے کہ الزام، ثبوت، نیت اور اصل ذمہ داری کا تعین شفاف تحقیقات اور منصفانہ قانونی عمل کے ذریعے کیا جائے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ زیرِ بحث پوسٹ حفیظ اللہ امین کی اپنی تحریر نہیں بلکہ ان کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ تھی۔ اگر اس میں کوئی دعویٰ غلط یا بے بنیاد تھا تو اس کی تردید اور قانونی وضاحت کا حق متعلقہ فریق کو حاصل ہے۔ لیکن ایک پوسٹ شیئر کرنے کے معاملے میں گرفتاری تک پہنچنے سے پہلے یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا قانون کے تمام تقاضے پورے کیے گئے؟
NCCIA سے چند سیدھے سوالات
اگر سائبر کرائم کے ادارے کسی پوسٹ پر اتنی تیزی سے حرکت کر سکتے ہیں تو چترال کے ان شہریوں کی شکایات کا کیا بنا جو طویل عرصے سے سائبر کرائم پشاور میں درخواستیں دے کر بیٹھے ہیں؟
ایسے کئی معاملات ہیں جن میں چترال کے شہریوں نے مبینہ جعلی اکاؤنٹس، آن لائن بدنامی، کردار کشی، دھمکیوں اور ہراسانی کے خلاف کارروائی کی درخواستیں دی ہیں۔ مگر ان میں سے کئی کیسز کے بارے میں متاثرہ شہری آج بھی جواب اور کارروائی کے منتظر ہیں۔
کیا ایک عام چترالی شہری کی عزت اور وقار اتنی اہم نہیں جتنی کسی بااثر شخصیت یا ادارے سے متعلق شکایت؟
اگر قانون حرکت میں آنا ہے تو سب کے لیے حرکت میں آئے۔
اگر تحقیقات ہونی ہیں تو سب کی شکایات پر ہوں۔
اگر گرفتاری قانون کا آخری راستہ ہے تو اس کا استعمال بھی یکساں قانونی معیار کے تحت ہو۔
ہم کسی غیر ملکی شہری کے خلاف نہیں، نہ ہی کسی تعلیمی ادارے کے خلاف نفرت پھیلانے کے حامی ہیں۔ لیکن تنقید، سوال اور جرم کے درمیان فرق برقرار رکھنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
حفیظ اللہ امین صرف شاعر نہیں، اس ملک کے سابق محافظ بھی ہیں
یہ پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ حفیظ اللہ امین پاک فوج سے ریٹائرڈ صوبیدار ہیں اور سوات آپریشن کے غازی بھی رہے ہیں۔
جس شخص نے اپنی جوانی ملک کی خدمت اور دفاع میں گزاری، اگر آج وہ کسی قانونی کارروائی کا سامنا کر رہا ہے تو کم از کم اس کے ساتھ قانون کے مطابق عزت، شفافیت اور انصاف کا برتاؤ ضرور ہونا چاہیے۔
ہم پاک فوج کے متعلقہ حکام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ان کے سابق جوان کے ساتھ ہونے والی کارروائی میں اس کے قانونی اور انسانی حقوق کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے یا نہیں۔
یہ کسی ادارے کے خلاف محاذ آرائی نہیں؛ یہ اپنے ایک سابق سپاہی کے قانونی حقوق اور عزت کے تحفظ کی درخواست ہے۔
جعلی اکاؤنٹس والوں کو کون پکڑے گا؟
NCCIA سے ایک اور سوال بھی بنتا ہے۔
اگر ادارہ واقعی سوشل میڈیا پر لوگوں کی عزت اور کردار کے تحفظ کے لیے متحرک ہے تو پھر ان لوگوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جو جعلی اکاؤنٹس بنا کر لوگوں کی عزتوں سے کھیل رہے ہیں، مسلسل کردار کشی کر رہے ہیں، جھوٹا مواد پھیلا رہے ہیں اور سوشل میڈیا کو ذاتی دشمنی نکالنے کا ذریعہ بنا چکے ہیں۔
قانون صرف وہاں نہیں ہونا چاہیے جہاں شکایت کرنے والا طاقتور ہو۔ قانون وہاں بھی پہنچنا چاہیے جہاں ایک عام شہری اپنی عزت بچانے کے لیے دروازہ کھٹکھٹا رہا ہو۔
اہلِ قلم خاموش نہیں رہیں گے
چترال کے تمام اہلِ قلم، شاعر، ادیب اور باشعور شہری اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حفیظ اللہ امین کے معاملے میں شفاف تحقیقات کی جائیں، ان کے قانونی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے اور اگر ان کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوتا تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
اور اگر قانون کے مطابق مزید کارروائی ضروری سمجھی جاتی ہے تو بھی انہیں قانون کے مطابق عزت، وکیل تک رسائی اور منصفانہ قانونی عمل کا مکمل حق دیا جائے۔
اب معاملہ عدالت میں لے جانے کا فیصلہ
تحریک تحفظ حقوق چترال اس معاملے کو محض ایک سوشل میڈیا بحث بننے نہیں دے گی۔
اگر ضروری ہوا تو معزز پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے رِٹ پٹیشن دائر کی جائے گی اور اس معاملے میں NCCIA اور لینگ لینڈز سکول اینڈ کالج کی انتظامیہ/متعلقہ انتظامیہ کو فریق بنا کر عدالت کے سامنے تمام قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے جائیں گے۔
ساتھ ہی چترال کے ان تمام زیرِ التوا سائبر کرائم کیسز اور درخواستوں کا معاملہ بھی متعلقہ فورم کے سامنے اٹھایا جائے گا جن پر طویل عرصے سے کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔
ہم عدالت سے یہ بھی چاہتے ہیں کہ قانون کے یکساں اطلاق، حفیظ اللہ امین کے بنیادی قانونی حقوق اور زیرِ التوا شکایات پر اداروں کی ذمہ داری کے حوالے سے مناسب قانونی تحفظ اور ہدایات فراہم کی جائیں۔
ہم کسی کے خلاف انتقام نہیں چاہتے۔
ہم کسی کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتے۔
ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ قانون کسی کے لیے تلوار اور کسی کے لیے ڈھال نہ بنے۔
حفیظ اللہ امین اگر قصوروار ہیں تو قانون کے مطابق فیصلہ ہو۔
اگر قصور ثابت نہیں ہوتا تو انہیں عزت کے ساتھ رہا کیا جائے۔
لیکن ایک شاعر، ایک ادیب اور ملک کے سابق سپاہی کو صرف اس لیے خاموش نہیں کرایا جا سکتا کہ اس نے ایک ایسی پوسٹ شیئر کر دی جس میں ایک عوامی معاملے پر سوال اٹھائے گئے تھے۔
قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
پیر مختار

چیئرمین
تحریک تحفظ حقوق چترال

بونی بوزوند روڈ کام سے زیادہ کرپشن کا شکار۔ تحریک تحفظ حقوق چترال
26/09/2026

بونی بوزوند روڈ کام سے زیادہ کرپشن کا شکار۔
تحریک تحفظ حقوق چترال

چترالی معاشرے میں خواتین اور بالخصوص ہماری بیٹیوں کی عزت، وقار اور تحفظ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی خاتون کے ساتھ م...
18/09/2026

چترالی معاشرے میں خواتین اور بالخصوص ہماری بیٹیوں کی عزت، وقار اور تحفظ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر پیش آنے والا ہراسانی، بدسلوکی یا کسی بھی قسم کا نامناسب رویہ نہ صرف ایک فرد کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے تشویش کا باعث بنتا ہے۔

تحریک تحفظ حقوق چترال ایسے ہر عمل کی بھرپور مذمت کرتی ہے جو کسی بھی شہری، خصوصاً چترالی بیٹیوں کی عزت و ناموس، تحفظ اور بنیادی حقوق کو متاثر کرے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے معاملات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے متعلقہ اداروں کو فوری، غیر جانب دار اور قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے تاکہ متاثرہ فرد کو بروقت انصاف اور تحفظ فراہم ہو سکے۔

ہم متعلقہ پولیس اور انتظامی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ موصول ہونے والی درخواستوں اور شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے، حقائق کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کسی بھی شہری کو اپنی عزت، وقار اور تحفظ کے لیے اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے کے بعد غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

چترالی بیٹیاں ہماری بیٹیاں ہیں۔ ان کی عزت، تحفظ اور وقار کا دفاع صرف کسی ایک خاندان کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

تحریک تحفظ حقوق چترال اس معاملے میں قانون، انصاف اور متاثرہ فریق کے بنیادی حقوق کے ساتھ کھڑی ہے اور امید کرتی ہے کہ متعلقہ ادارے اس نوعیت کے معاملات میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے فوری اور مؤثر پھرتی کا مظاہرہ کریں گے۔

پیر مختار نبی
چیئرمین
تحریک تحفظ حقوق چترال (TTHC)

مستوج کی بیٹیوں کی آواز دبائی نہیں جا سکتی!مستوج، اپر چترال کی طالبات اپنے حقِ تعلیم کے لیے سڑکوں پر ہیں۔ یہ صرف چند طال...
17/09/2026

مستوج کی بیٹیوں کی آواز دبائی نہیں جا سکتی!

مستوج، اپر چترال کی طالبات اپنے حقِ تعلیم کے لیے سڑکوں پر ہیں۔ یہ صرف چند طالبات کا احتجاج نہیں، یہ ان بیٹیوں کی آواز ہے جو اپنے مستقبل کے لیے کھڑی ہوئی ہیں۔

ڈی ای او کی جانب سے جاری کردہ نوٹس نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر طالبات کا مطالبہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کا ہے تو انہیں نوٹسز اور دباؤ کے بجائے سننے، سمجھنے اور مسئلے کا باعزت حل نکالنے کی ضرورت ہے۔

ہم واضح کرنا چاہتے ہیں:

طالبات کو تعلیم سے دور کرنے کا کوئی بھی اقدام قبول نہیں کیا جائے گا۔
ہماری بیٹیاں کسی کے احسان پر تعلیم حاصل نہیں کر رہیں۔ تعلیم ان کا بنیادی حق ہے۔ انتظامی فیصلے طالبات کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں تو ان فیصلوں پر سوال اٹھانا بھی ان کا حق ہے اور عوام کا بھی۔
اور اگر کسی سرکاری افسر کی طرف سے احتجاج کرنے والی طالبات کے ساتھ بدتمیزی یا نامناسب رویے کی شکایت سامنے آتی ہے تو اس کی بھی وضاحت ہونی چاہیے۔ طالبات کی عزت، وقار اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
تحریک تحفظ حقوق چترال اس معاملے کو محض ایک احتجاج سمجھ کر خاموش نہیں بیٹھے گی۔ ہم طالبات کے مؤقف، متعلقہ نوٹس اور دستیاب قانونی و انتظامی ریکارڈ کا جائزہ لے کر قانونی راستہ اختیار کریں گے، اور ضرورت پڑنے پر اس معاملے کو معزز ہائی کورٹ کے سامنے چیلنج کریں گے۔

ہم انتظامیہ سے بھی کہتے ہیں:
طاقت نوٹس جاری کرنے میں نہیں، مسئلہ حل کرنے میں ہے۔
مستوج کی بیٹیاں ہماری بیٹیاں ہیں۔
ان کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ہم طالبات کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ان کی آواز سنی جائے گی، ان کے حق کے لیے آواز اٹھائی جائے گی۔

پیر مختار نبی
چیئرمین، تحریک تحفظ حقوق چترال

ایک اور روشنی بجھ گئی: غلط علاج، عطائیت اور ہماری بے حسی​إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔​کچھ صدمے ایسے ہوتے...
03/09/2026

ایک اور روشنی بجھ گئی: غلط علاج، عطائیت اور ہماری بے حسی
​إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
​کچھ صدمے ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتے ہیں اور بعض ناگہانی خبریں دل پر کسی تازیانے کی طرح لگتی ہیں۔ ہمارے نہایت ہی عزیز، رشتوں کا پاس رکھنے والے، شفقت و محبت کے پیکر اور اعلیٰ ظرف انسان عبداللہ تبسم صاحب اب ہم میں نہیں رہے۔ کل شام لاہور کے ایک لوکل کلینک میں محض ایک غلط انجکشن (ری ایکشن) نے ان کی زندگی کا چراغ گل کر دیا اور وہ ہم تمام رشتہ داروں، دوستوں اور وابستگان کو روتا دھوتا چھوڑ کر مالکِ حقیقی سے جا ملے۔
​مرحوم عبداللہ تبسم صرف ایک اچھے انسان اور باوفا رشتہ دار ہی نہیں تھے، بلکہ وہ تحریک تحفظ حقوق چترال (حلقہ لاہور) کے ایک نہایت متحرک اور فعال رکن بھی تھے۔ اپنے علاقے کے مسائل کے حل اور اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جن سے مل کر انسان کو اپنائیت کا احساس ہوتا تھا، لیکن افسوس کہ ایک طبی غفلت نے ان کی مسکراتی اور متحرک زندگی کا باب ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔
​عبداللہ تبسم صاحب کا یوں اچانک جانا صرف ایک خاندان کا ذاتی نقصان نہیں، بلکہ یہ ہمارے پورے طبی نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہمارے ملک میں روزانہ جانے کتنے ہی گھروں کے چراغ ان غیر مستند لوکل کلینکس، عطائی ڈاکٹروں اور غیر تربیت یافتہ عملے کی غفلت کی وجہ سے بجھ جاتے ہیں۔ معمولی سی بیماری یا تکلیف کا علاج کروانے کے لیے جانے والے مریضوں کو غلط ادویات اور انجکشنز دے کر موت کے منہ میں دھکیل دیا جاتا ہے، اور یہ المیہ اب روز کا معمول بن چکا ہے۔
​ہماری حکومتِ پاکستان، محکمہ صحت اور تمام متعلقہ ہیلتھ کیئر کمیشنز سے پرزور اپیل ہے کہ انسانوں کی قیمتی زندگیوں سے کھیلنے والے ان غیر قانونی اور غیر معیاری کلینکس کے خلاف فوری، بلاامتیاز اور سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔ ان عطائیوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ آئندہ کسی اور کا پیارا اس طرح بے دردی سے موت کی آغوش میں نہ جائے۔
​اس کے ساتھ ساتھ عوام الناس سے بھی گزارش ہے کہ جب تک ان گلی محلوں کے خطرناک کلینکس کا خاتمہ نہیں ہوتا، اپنے پیاروں کے علاج کے لیے صرف مستند ڈاکٹروں اور رجسٹرڈ ہسپتالوں ہی کا انتخاب کریں۔
​اللہ تعالیٰ مرحوم عبداللہ تبسم صاحب کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند کرے اور ہم تمام رشتہ داروں و پسماندگان کو اس عظیم صدمے پر صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
​نمازِ جنازہ کا وقت: کل صبح 10:00 بجے ادا کی جائے گی۔
پیر مختار نبی
چیئرمین تحریک تحفظ حقوق چترال
منجانب
شعبہ اطلاعات و نشریات تحریک تحفظ حقوق چترال

کیا سرکاری کارکردگی پر سوال اٹھانا، فیس بک پوسٹ پر اختلافِ رائے کرنا یا انتظامیہ سے جواب طلب کرنا اب اتنا بڑا جرم بن گیا...
27/08/2026

کیا سرکاری کارکردگی پر سوال اٹھانا، فیس بک پوسٹ پر اختلافِ رائے کرنا یا انتظامیہ سے جواب طلب کرنا اب اتنا بڑا جرم بن گیا ہے کہ ایک نوجوان کو گولی مارنے اور تین ماہ جیل بھجوانے کی دھمکی دی جائے؟

ڈپٹی کمشنر اپر چترال کی جانب سے ایک نوجوان کو مبینہ طور پر یہ دھمکی دی گئی کہ "آپ لوگ ہمارے خلاف کیوں بات کرتے ہیں؟ ہمارے خلاف کمنٹ کیوں کرتے ہیں؟ ہم سے سوال کیوں پوچھتے ہیں؟" اور مبینہ طور پر اسے گولی مارنے اور تین ماہ جیل میں بند کرنے کی دھمکی بھی دی گئی۔

اگر یہ واقعہ درست ہے تو یہ انتہائی سنگین اور ناقابلِ قبول معاملہ ہے۔

ایک انتظامی افسر کا کام عوام کے سوالات سے ناراض ہونا نہیں، بلکہ عوام کو جواب دینا ہے۔

گولی مارنے کی دھمکی، جیل میں بند کرنے کی دھمکی اور اختلافِ رائے رکھنے والے شہریوں کو دبانے کی کوشش کسی بھی صورت ایک ذمہ دار اور عوام دوست انتظامی رویے کی علامت نہیں۔

ہم صوبائی حکومت اور اعلیٰ حکام سے واضح مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ انکوائری کی جائے اور انکوائری مکمل ہونے تک متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو اپر چترال سے فی الفور تبدیل کیا جائے۔

اگر تحقیقات میں یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ایسے طرزِ عمل کے حامل افسر کے بارے میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا وہ ایک حساس اور پسماندہ ضلع میں انتظامی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے موزوں ہے؟

اپر چترال کو ایسے افسران کی ضرورت ہے جو عوام کی بات سنیں، اختلافِ رائے برداشت کریں، سوالات کے جواب دیں اور قانون و آئین کے مطابق عوام کی خدمت کریں۔

ہم واضح کرتے ہیں:

عوام سوال کریں گے۔
عوام تنقید کریں گے۔
عوام جواب طلب کریں گے۔

اور کسی سرکاری عہدے پر بیٹھا شخص صرف اس وجہ سے شہریوں کو دھمکانے کا حق نہیں رکھتا کہ وہ اس کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

تحریک تحفظ حقوق چترال مطالبہ کرتی ہے کہ متعلقہ افسر کو فی الفور اپر چترال سے ٹرانسفر کیا جائے، واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ معاملہ کسی ایک نوجوان کا نہیں؛ یہ ہر اس شہری کے حقِ اظہار اور عزتِ نفس کا معاملہ ہے جو اپنے سرکاری اداروں سے سوال پوچھنے کی جرأت رکھتا ہے۔

تحریک تحفظ حقوق چترال





تحریک تحفظ حقوقِ چترال کے تمام عہدیداران اور اراکین کی جانب سے ہمارے محترم رہنما قاری الیاس صاحب (رہنما: تحریک تحفظ حقوق...
19/08/2026

تحریک تحفظ حقوقِ چترال کے تمام عہدیداران اور اراکین کی جانب سے ہمارے محترم رہنما قاری الیاس صاحب (رہنما: تحریک تحفظ حقوقِ چترال، اسلام آباد) کے والدِ محترم کی ناگہانی وفات پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا جاتا ہے۔
​ہم اس غمزدہ خاندان کے ساتھ اس دکھ کی گھڑی میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ (آمین)
​منجانب:
شعبہ اطلاعات و نشریات، تحریک تحفظ حقوقِ چترال

نوجوان کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی طاقت، امید اور مستقبل ہوتے ہیں۔ آج کا نوجوان صرف کل کا رہنما نہیں، بلکہ آج کی تبدیلی ...
12/08/2026

نوجوان کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی طاقت، امید اور مستقبل ہوتے ہیں۔ آج کا نوجوان صرف کل کا رہنما نہیں، بلکہ آج کی تبدیلی کا فعال کردار ہے۔ اس کی سوچ، صلاحیت، کردار اور آواز معاشرے کی سمت متعین کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے International Youth Day 2026 کا موضوع “Different Contexts, Common Aspirations” ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں، ثقافتوں اور حالات سے تعلق رکھنے کے باوجود نوجوانوں کے خواب اور خواہشات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ امن، انصاف، عزت، مساوی مواقع اور ایک بہتر مستقبل ہر نوجوان کی مشترکہ خواہش ہے۔

اس موقع پر تحریک تحفظ حقوق چترال (TTHC) کے چیئرمین پیر مختار نبی نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں کہتے ہیں:

“آج کے نوجوان صرف کل کے رہنما نہیں، بلکہ آج کے تبدیلی کے سفیر ہیں۔ ہمیں اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کرتے ہوئے اتحاد، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے معاشرے کی تعمیر میں کردار ادا کرنا ہوگا۔”

چترال کے نوجوان ہماری سب سے قیمتی طاقت ہیں۔ تعلیم ہو، سماجی خدمت ہو، انسانی حقوق کا تحفظ ہو یا چترال کی ترقی اور خوشحالی، ہمیں نوجوانوں کو فیصلہ سازی، قیادت اور مثبت اجتماعی کردار کے لیے آگے لانا ہوگا۔

آئیے اس International Youth Day 2026 پر عہد کریں کہ ہم اختلافات سے بالاتر ہو کر اپنی مشترکہ اقدار، خوابوں اور مستقبل کے لیے متحد ہوں گے، اپنی صلاحیتوں کو قوم اور معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کریں گے اور ایک ایسے چترال کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں ہر نوجوان کو آگے بڑھنے، اپنی صلاحیتیں منوانے اور باوقار زندگی گزارنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔

مختلف حالات، مگر خواب ایک۔
نوجوان مضبوط ہوں گے تو معاشرہ مضبوط ہوگا۔
نوجوان آگے بڑھیں گے تو چترال آگے بڑھے گا۔

12 اگست 2026 — عالمی یومِ نوجوانان
تحریک تحفظ حقوق چترال (TTHC)

04/08/2026

تحریک تحفظِ حقوقِ چترال (TTHC) کی عوام سے اپیل

حالیہ دنوں سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ پر ایک غیر اخلاقی آڈیو مختلف دعوؤں کے ساتھ گردش کر رہی تھی جسے چترال کی ایک بیٹی سے منسوب کیا جا رہا تھا۔ اس معاملے پر عوام میں پائی جانے والی تشویش کے پیشِ نظر تحریک تحفظِ حقوقِ چترال (TTHC) کے بانی رہنما جناب شمس البی معاویہ صاحب نے متعلقہ خاتون سے براہِ راست ملاقات کی ان کا مؤقف سنا اور حقائق جاننے کی کوشش کی۔

اس ملاقات کا مقصد کسی فرد کے خلاف یا حق میں فیصلہ دینا نہیں بلکہ افواہوں، غیر مصدقہ معلومات اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبروں کی حقیقت جاننے کی کوشش کرنا تھا تاکہ عوام تک درست معلومات پہنچائی جا سکیں۔

تحریک تحفظِ حقوقِ چترال تمام عوام سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ کسی بھی آڈیو، ویڈیو تصویر یا خبر کو بغیر تحقیق اور تصدیق کے آگے شیئر نہ کریں۔ غیر مصدقہ مواد پھیلانے سے نہ صرف افراد کی عزتِ نفس متاثر ہوتی ہے بلکہ پورے معاشرے میں بے چینی، بداعتمادی اور اخلاقی نقصان بھی پیدا ہوتا ہے۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام ہمیں تحقیق کے بغیر کسی خبر کو آگے پھیلانے سے روکتا ہے، جبکہ ہماری تہذیب، ثقافت اور روایات بھی دوسروں کی عزت، پردہ پوشی اور احترام کا درس دیتی ہیں۔

تحریک تحفظِ حقوقِ چترال (TTHC) تمام شہریوں سے گزارش کرتی ہے کہ سوشل میڈیا کا ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں، افواہوں سے گریز کریں اور صرف مستند اور تصدیق شدہ معلومات پر اعتماد کریں۔

آئیے! مل کر ایک باشعور، ذمہ دار اور باوقار معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔

شعبہ اطلاعات و نشریات
تحریک تحفظِ حقوقِ چترال

شادی کے نام پر خواتین کی اسمگلنگ اور دھوکہ دہی کی روک تھام کے موضوع پر خصوصی سیمینار کامیابی سے منعقد ہوا۔تحریک تحفظ حقو...
01/08/2026

شادی کے نام پر خواتین کی اسمگلنگ اور دھوکہ دہی کی روک تھام کے موضوع پر خصوصی سیمینار کامیابی سے منعقد ہوا۔

تحریک تحفظ حقوق چترال کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس آگاہی سیمینار میں معزز عمائدین، کمیونٹی رہنماؤں، سماجی کارکنان، نوجوانوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے شادی کے نام پر انسانی اسمگلنگ، دھوکہ دہی اور اس کے سماجی و قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور اس سنگین مسئلے کے تدارک کے لیے اجتماعی شعور، بروقت آگاہی اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

ہم تمام معزز مہمانوں، مقررین اور شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اپنی قیمتی شرکت سے اس پروگرام کو کامیاب بنایا۔ ہمیں یقین ہے کہ اس سیمینار کے ذریعے معاشرے میں شعور اجاگر ہوگا اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔

تحریک تحفظ حقوق چترال
خواتین کے تحفظ، انسانی وقار اور محفوظ معاشرے کے لیے پرعزم۔

Address

Bye Pass Road Main Bazaar
Chitral
17200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تحریک تحفظ حقوق چترال posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to تحریک تحفظ حقوق چترال:

Shortcuts

Share