15/06/2026
نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن
ایک فون ہر مسئلے کا حل لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٹھ سال پہلے اپنی ارض وطن جھنگڑ کی حالت زار دیکھ کر دل رویا تو اپنی صلاحیت استعمال کرکے جھنگڑ کے درد کو سوشل میڈیا پر لکھنا شروع کیا لیکن خاطر خواہ نتائج نہ ملے سوچا ادارہ جاتی میڈیا جوائن کروں کہ بڑا پلیٹ فارم ہے وہاں بات کرنے سے نتائج ضرور ملیں گے۔جوائن کرلیا۔بڑا خوش تھا کہ اب میرے نشان دہی کردہ مسائل ضرور حل ہوں گے۔محنت کی بہت محنت کی مسائل کو بمعہ ناقابل تردید ثبوت ادارے کے نام سے سوشل میڈیا و پرنٹ میڈیا پر پیش کیا ۔لکھ لکھ کر انگلیاں تھک گئیں لیکن نتیجہ صفر۔اب کچھ لکھتے ہوئے سوچنے لگتا ہوں کہ جہاد کررہا ہوں یا جھک ماررہاہوں۔اپنی بات کے چند ثبوت پیش ہیں۔1.
جھنگڑ کی دولت جھنگڑ کے حسن جنگلات کی بے درد کٹائی کے خلاف مہم چلائی بمعہ سینکڑوں ثبوت رپورٹس دیں لیکن آج بھی جھنگڑ کے جنگلات کی تباہی تاریخی بلندی پر ہے ۔۔2. جنگل کے ویرانے میں قائم جھنگڑ کی واحد اہم ترین سرکاری عمارت خواتین کالج جہاں پورے جھنگڑ کی بیٹیاں پڑھتی ہیں اور ماضی قریب میں بہت بڑے ڈاکے کا شکار ہو چکا ہے میں سیکیورٹی انتظامات صفر ہونے رات کو نہ بیرونی روشنیاں نہ دیواروں پر حفاظتی باڑھ نہ سیکیورٹی کیمرے تمام ثبوتوں سمیت محنت سے رپورٹس بنائیں پبلش کیں لیکن نتیجہ صفر آج بھی یہ عمارت ایک بہت بڑا سیکیورٹی رسک بنی سب کے سامنے ہے۔3.کوئلے کی مائینوں سے نکلتا انتہائ زہریلا پانی جھنگڑ کے چشموں کو آلودہ کرتا انسانوں اور جنگلی حیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے رپورٹس لکھ لکھ کر تھک گیا نتیجہ صفر۔4. بدترین مثال یہ ہے کہ جھنگڑ کی زیر تعمیر مرکزی سڑک ۔ٹھیک ہے نئے اعلان کے مطابق اس ماہ کے آخر میں کارپٹنگ شروع ہو جائے گی۔دیکھا جائے گا۔لیکن عوام کے بھر پور مطالبے پر کتنی ہی رپورٹس بنائیں سوشل میڈیا اور اخبار میں شائع کیں کہ خدا کیلئے کچی سڑک سے اٹھتے مٹی دھول کے طوفانوں سے انسانوں و دیگر حیاتیات کو لاحق شدید خطرات سے بچانے کیلئے روذانہ پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے لیکن نتیجہ صفر صفر صفر۔یہ ان گنت مثالوں میں سے صرف چند ہیں۔وجہ ڈھونڈی تو پتہ چلا کہ تمام مسائل کے حل کی چابی فون کال ہے جب تک وہ نہ ہوگی بھونکتے رہو کوئ سننے والا نہیں۔تو پھر اتنے سالوں کی محنت خرچے انرجی ویسٹ تو گئے گدلے پانی میں۔چند قدم فون کال کے حصول میں بھرے تو احساس ہوا کہ میں جھنگڑ کیلئے جان تو دے سکتا ہوں لیکن فون کال کے حصول کیلئے جو سجدہ ریزیاں کرنی پڑتی ہیں وہ نہیں کرسکتا۔تو پھر کیا کروں؟ دوسروں کی طرع چپ رہ کر خود کو ایذا دوں یا اپنا قلم انتقام کا ہتھیار بنا لوں؟ کچھ تو کرنا ہی ہوگا
۔۔۔ مہر ظفر علی فریدی ہرل۔۔۔۔
کسی نے کہا بھائ یہ موٹر وے جیسی لمبی تحریریں مت لکھا کرو۔بھائ مختصر کلمہ گالی ہوتی ہے چند لفظوں میں سب پھاڑ دیتی ہے وہ میں نہیں کرتا خیریہ کلمات ہمیشہ طویل ہوتے ہیں تو جب ہماری تحریریں ادارے و نمائندے جوتے کی نوک پہ رکھتے ہیں تو آپ بھی ایسا ہی کرو