Wildlife of Chakwal.

Wildlife of Chakwal. مسکن۔
تنظیم براے محفوظ مسکن و جنگلی حیات
https://lifewithwild.com
(1)

نہ جائے ماندن نہ پائے رفتنایک فون ہر مسئلے کا حل لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔آٹھ سال پہلے اپنی ارض وطن جھنگڑ کی حالت زار دیکھ کر دل روی...
15/06/2026

نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن
ایک فون ہر مسئلے کا حل لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٹھ سال پہلے اپنی ارض وطن جھنگڑ کی حالت زار دیکھ کر دل رویا تو اپنی صلاحیت استعمال کرکے جھنگڑ کے درد کو سوشل میڈیا پر لکھنا شروع کیا لیکن خاطر خواہ نتائج نہ ملے سوچا ادارہ جاتی میڈیا جوائن کروں کہ بڑا پلیٹ فارم ہے وہاں بات کرنے سے نتائج ضرور ملیں گے۔جوائن کرلیا۔بڑا خوش تھا کہ اب میرے نشان دہی کردہ مسائل ضرور حل ہوں گے۔محنت کی بہت محنت کی مسائل کو بمعہ ناقابل تردید ثبوت ادارے کے نام سے سوشل میڈیا و پرنٹ میڈیا پر پیش کیا ۔لکھ لکھ کر انگلیاں تھک گئیں لیکن نتیجہ صفر۔اب کچھ لکھتے ہوئے سوچنے لگتا ہوں کہ جہاد کررہا ہوں یا جھک ماررہاہوں۔اپنی بات کے چند ثبوت پیش ہیں۔1.
جھنگڑ کی دولت جھنگڑ کے حسن جنگلات کی بے درد کٹائی کے خلاف مہم چلائی بمعہ سینکڑوں ثبوت رپورٹس دیں لیکن آج بھی جھنگڑ کے جنگلات کی تباہی تاریخی بلندی پر ہے ۔۔2. جنگل کے ویرانے میں قائم جھنگڑ کی واحد اہم ترین سرکاری عمارت خواتین کالج جہاں پورے جھنگڑ کی بیٹیاں پڑھتی ہیں اور ماضی قریب میں بہت بڑے ڈاکے کا شکار ہو چکا ہے میں سیکیورٹی انتظامات صفر ہونے رات کو نہ بیرونی روشنیاں نہ دیواروں پر حفاظتی باڑھ نہ سیکیورٹی کیمرے تمام ثبوتوں سمیت محنت سے رپورٹس بنائیں پبلش کیں لیکن نتیجہ صفر آج بھی یہ عمارت ایک بہت بڑا سیکیورٹی رسک بنی سب کے سامنے ہے۔3.کوئلے کی مائینوں سے نکلتا انتہائ زہریلا پانی جھنگڑ کے چشموں کو آلودہ کرتا انسانوں اور جنگلی حیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے رپورٹس لکھ لکھ کر تھک گیا نتیجہ صفر۔4. بدترین مثال یہ ہے کہ جھنگڑ کی زیر تعمیر مرکزی سڑک ۔ٹھیک ہے نئے اعلان کے مطابق اس ماہ کے آخر میں کارپٹنگ شروع ہو جائے گی۔دیکھا جائے گا۔لیکن عوام کے بھر پور مطالبے پر کتنی ہی رپورٹس بنائیں سوشل میڈیا اور اخبار میں شائع کیں کہ خدا کیلئے کچی سڑک سے اٹھتے مٹی دھول کے طوفانوں سے انسانوں و دیگر حیاتیات کو لاحق شدید خطرات سے بچانے کیلئے روذانہ پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے لیکن نتیجہ صفر صفر صفر۔یہ ان گنت مثالوں میں سے صرف چند ہیں۔وجہ ڈھونڈی تو پتہ چلا کہ تمام مسائل کے حل کی چابی فون کال ہے جب تک وہ نہ ہوگی بھونکتے رہو کوئ سننے والا نہیں۔تو پھر اتنے سالوں کی محنت خرچے انرجی ویسٹ تو گئے گدلے پانی میں۔چند قدم فون کال کے حصول میں بھرے تو احساس ہوا کہ میں جھنگڑ کیلئے جان تو دے سکتا ہوں لیکن فون کال کے حصول کیلئے جو سجدہ ریزیاں کرنی پڑتی ہیں وہ نہیں کرسکتا۔تو پھر کیا کروں؟ دوسروں کی طرع چپ رہ کر خود کو ایذا دوں یا اپنا قلم انتقام کا ہتھیار بنا لوں؟ کچھ تو کرنا ہی ہوگا
۔۔۔ مہر ظفر علی فریدی ہرل۔۔۔۔
کسی نے کہا بھائ یہ موٹر وے جیسی لمبی تحریریں مت لکھا کرو۔بھائ مختصر کلمہ گالی ہوتی ہے چند لفظوں میں سب پھاڑ دیتی ہے وہ میں نہیں کرتا خیریہ کلمات ہمیشہ طویل ہوتے ہیں تو جب ہماری تحریریں ادارے و نمائندے جوتے کی نوک پہ رکھتے ہیں تو آپ بھی ایسا ہی کرو

کوہ نمک اور دیگر پہاڑی و میدانی تمام جنگلات کا بہت سارا خیال رکھیے گا آپ کی ایک چھوٹی سی غلطی ان سب اور ان کے بچوں کے لی...
14/06/2026

کوہ نمک اور دیگر پہاڑی و میدانی تمام جنگلات کا بہت سارا خیال رکھیے گا آپ کی ایک چھوٹی سی غلطی ان سب اور ان کے بچوں کے لیے ایک اذیت ناک موت کا سبب بن سکتی ہے۔

نوٹ: یہ تصویر مصنوئی ذہانت ایپلیکیشن کو استعمال کر کے بنائی گئی ہے۔

14/06/2026

یہ جو سڑکوں اور گلیوں میں مداریوں کے ساتھ گھومتے ریچھ ہمیں ایک تماشہ سا لگتے ہیں، درحقیقت ان کے پیچھے ظلم، بربریت اور اذیت کی ایک طویل کہانی ہوتی ہے۔ ذرا تصور کیجیے شمالی علاقہ جات یا آزاد کشمیر کے گھنے جنگلات کا، جہاں ایک مادہ ریچھ اپنے ایک یا ایک سے زائد دو سے تین ماہ کے بچوں کو پالنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔ اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے دنیا کے خطرناک ترین جانوروں میں شمار ہوتی ہے اور ان کے لیے اپنی جان تک قربان کر دیتی ہے یہ کسی صورت ممکن ہی نہیں کہ آپ مادہ ریچھ سے اس کی زندگی میں اس کا بچہ چھین لیں اور آپ کو پتہ ہے یہ بچہ چھیننے کے لیے کیا کیا جاتا ہے؟افراد، معاشرے، ریاست کی لاعلمی اور بے حسی اور ایک چھوٹے سے معاشی مفاد کے پیچھے شکاری اس ممتا کو روندتے ہوئے اسے گولی مار دیتے ہیں۔۔۔۔ جیسے ہی ہمارے یہاں پوٹھوہار میں پینگولین کی بل میں پانی ڈال کر اور کرنٹ چھوڑ کر اسے باہر نکالا جاتا تھا ناں ویسے ہی کئی دفعہ تو دھواں لگا کر کے اسے اس کے ٹھکانے سے باہر نکال کر ہلاک کر دیتے ہیں، اور اس کے معصوم بچوں کو اغوا کر لیا جاتا ہے۔ خواتین و حضرات یہاں سے اس بچے کی آزاد زندگی کے خاتمے اور ایک دردناک قید کی شروعات ہوتا ہے۔

اس کے بعد اس بے زبان بچے پر وہ ظلم ڈھایا جاتا ہے جس کا تصور سے روح کانپ جائے بغیر کسی بے ہوشی کی دوا کے اس کے دانت توڑ دیے جاتے ہیں اور اس کے تیز ناخن جڑ سے کاٹ دیے جاتے ہیں تاکہ وہ کبھی اپنا دفاع نہ کر سکے۔ اس کے ناک کو گرم لوہے سے چھید کر اس میں نکیل ڈال دی جاتی ہے، جو اس کی زندگی بھر کی اذیت بن جاتی ہے۔ جب بھی وہ مزاحمت کرتا ہے، یہ نکیل کھینچی جاتی ہے اور وہ شدید درد سے مجبور ہو کر قابو میں آ جاتا ہے۔ یہ سب کچھ صرف اس لیے کیا جاتا ہے کہ ایک انسان کو اسے بیچ کر 25 سے 50 ہزار روپیہ ملے اور اسے لینے والا ہر روز اس سے 500 سے ہزار روپے کی دیہاڑی لگائے اور گلی محلوں میں عام عوام کے بچے اس سے تفریح حاصل کریں۔

جس چیز کو ہم ریچھ کا ناچ سمجھ کر تالیاں بجاتے ہیں، وہ دراصل ایک ہولناک تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس بچے کو تپتے ہوئے لوہے یا گرم توے پر کھڑا کیا جاتا ہے، جہاں وہ شدید درد کے باعث اپنے پاؤں باری باری اٹھاتا ہے۔ اسی دوران ایک مخصوص ڈھولک یا ڈگڈگی بجائی جاتی ہے، اور بار بار کی اس اذیت سے اس کے ذہن میں درد اور آواز کا تعلق جڑ جاتا ہے۔ بعد میں جب سڑک پر وہی ڈھولکی، ڈگڈگی بجتی ہے، تو وہ ریچھ خوف کے مارے اپنے پاؤں اٹھانے لگتا ہے، کیونکہ اسے لگتا ہے کہ زمین پھر سے جلنے والی ہے۔ اصل میں یہ اپنی ماں سے اس کے قتل ہو جانے کے بعد بچھڑے ہوئے خوف زدہ اور تپتے ہوئے توے پر تربیت یافتہ ایک زندہ مخلوق کا ڈر ناچتا ہے۔

ظلم کی یہ داستان یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بعض علاقوں میں انہی بے بس ریچھوں کو زنجیروں میں جکڑ کر ان پر خونخوار کتے چھوڑ دیے جاتے ہیں، جہاں وہ اپنے دانتوں اور ناخنوں کے بغیر مؤثر دفاع بھی نہیں کر پاتے اور بری طرح زخمی ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف انسان کی وقتی خوشی کے لیے کیا جاتا ہے۔ اگلی بار جب آپ کسی مداری کو ریچھ کے ساتھ دیکھیں، تو یاد رکھیے کہ آپ کے دیے گئے چند روپے اس ظلم کو زندہ رکھتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان بے زبانوں کی آواز بنیں، ان کے حقوق کے لیے کھڑے ہوں، اور اس بربریت کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ بات صرف ان افراد کی گرفتاریوں جرمانوں قید اور دیگر سزا کی صورتوں سے ممکن نہیں ہوگی یہ بات ہم سب کی قدرتی نظام کو خود سمجھنے کی کوشش اور اس میں موجود جنگلی حیات کی اہمیت کو دوسروں تک پورے ادب اور دلیل کے ساتھ پہنچانے سے ممکن ہوگی اور خاص طور پر اس کے متعلق اپنے بچوں کی تربیت کا اہتمام ضرور کیجئے انہیں اس ظلم کے متعلق ضرور بتائیے۔

پنجاب میں حالیہ سالوں صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے اور اب آپ کو یہ مداری بہت کم نظر ائیں گے لیکن یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور کتوں کی لڑائی اور ریچ پر ان کے چھوڑے جانے کی خبریں بھی آپ کو اکثر ملتی رہیں گی دیگر صوبوں کے حوالے سے صورتحال کیا ہے؟ ہمارے پاس اس کی کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں اور ہمیں اس تحریر کو لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کیونکہ پچھلے دنوں میں ہمارے ایک رکن کالام سے آگے ایک تحقیقی سفر پر گئے ہوئے تھے جہاں انہیں یہ بتایا گیا کہ پچھلے ہفتے بھی یہاں سے دو ریچھ کے بچے بیچے گئے ہیں اور یہ دوست بتاتے ہیں کہ اس دن بھی انہوں نے جنگل کے اندر بندوق کے چلنے کی آواز خود سنی ہے محترم قارئین اس وقت ریچھ کے بچوں کی عمر دو سے تین ماہ ہے اور بندوق کی یہ آوازیں کسی معصوم کے اذیت بھرے مستقبل کی خبر دیتی ہیں اس آگاہی مہم میں تنظیم برائے محفوظ مسکن و جنگلی حیات، چکوال کا ساتھ دیجیے۔

نوٹ: اپنے مسکن میں آزاد اور خوش گھومتے ہوئے اس ریچھ کی فوٹیج کو وائلڈ لائف فوٹوگرافر ڈاکٹر عثمان الحق نے کچھ سال پہلے دیوسائی کے مقام پر اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔ اور ہم سے سانجھا کیا جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

تتلیوں پر تحقیق کے میدان میں پاکستان بٹر فلائز سوسائٹی کی خدمات قابلِ قدر ہیں، اور اس سے وابستہ اکرم اعوان، تحریر عباس ا...
12/06/2026

تتلیوں پر تحقیق کے میدان میں پاکستان بٹر فلائز سوسائٹی کی خدمات قابلِ قدر ہیں، اور اس سے وابستہ اکرم اعوان، تحریر عباس اور عقیل عباس ہماری تنظیم برائے محفوظ مسکن و جنگلی حیات، چکوال کے بھی اولین ارکان میں سے ہیں جن کی لی ہوئی تصاویر اپ اکثر اس پیج پر ملاحظہ کرتے ہیں، مختلف تتلیوں کے بارے میں ہمیں ان سے سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے۔ اسی گفتگو میں ایک نام بار بار سامنے آتا ہے نواب تتلی۔ جب بھی اس کا ذکر ہوتا ہے تو ایک خاص تجسس اور دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے، کہ آخر یہ نواب تتلی کون سی ہے اور اسے اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے۔

ہم لوگوں کے لیے عام تتلی کا تصور ذہن میں ایک نرم مزاج، پھولوں پر منڈلانے والی مخلوق کے طور پر ابھرتا ہے، مگر نواب تتلی باقی سب سے خاصی مختلف ہے یہ نہ صرف جسامت میں مضبوط ہوتی ہے بلکہ اس کا رویہ بھی قدرے جارحانہ ہوتا ہے۔ یہ زیادہ تر درختوں کی اونچی شاخوں پر رہتی ہے نہ صرف اپنا علاقہ مخصوص کرتی ہے بلکہ اس پر مکمل گرفت رکھنے کی بھی کوشش کرتی ہے، جس کی وجہ سے اسے تتلیوں کی دنیا کا ایک طرح کا حکمران کہا جا سکتا ہے۔

اس تتلی کی سب سے حیران کن بات اس کی خوراک ہے۔ جہاں زیادہ تر تتلیاں پھولوں کا رس چوستی ہیں، وہاں نواب تتلی پھولوں سے تقریباً بے نیاز ہوتی ہے۔ یہ درختوں کی گوند، سڑتے ہوئے پھل، جانوروں کے فضلے اور حتیٰ کہ مردہ جانوروں سے بھی غذائیت حاصل کرتی ہے۔ اس غیر معمولی خوراک کے ذریعے اسے وہ معدنیات اور اجزاء ملتے ہیں جو عام رس میں موجود نہیں ہوتے، اور یہی چیز اسے دوسری تتلیوں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور منفرد بناتی ہے۔

نواب تتلی کی پرواز بھی عام تتلیوں جیسی نرم اور دھیمی نہیں ہوتی بلکہ تیز، سیدھی اور جارحانہ ہوتی ہے، جیسے کوئی شکاری فضا میں حرکت کر رہا ہو۔ اس کے علاوہ اس کے پروں کے پچھلے حصے پر موجود چھوٹی دم نما ساختیں دشمن کو دھوکہ دینے کا کام کرتی ہیں، جبکہ اس کا کیٹرپلر بھی عام تتلیوں سے مختلف ہوتا ہے اور اس کے سر پر سینگ جیسے ابھار ہوتے ہیں۔ تتلیاں ہمارے قدرتی ماحول کا اہم ترین حصہ ہیں۔

جہاں سے تتلیاں روٹھ جائیں وہ ماحول انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں ہوتا اور نواب بھی روٹھ سکتی ہے۔ اگر ک چھتری بنانے والے بڑے درختوں کے جھنڈ نہ رہے۔ خطہ پوٹھوار میں بیری پھلائی، کہو اور کیکر کے درختوں کے جھنڈ اگر اسی طرح کٹتے، بکتے اور جلتے رہے تو ایک دن ہماری یہ نواب بھی ہم سے روٹھ جائے گی۔ آج شام جب اپ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھیں گے تو انہیں تحریر عباس کی محفوظ کی ہوئی یہ تصویر ضرور دکھائیے گا اور ان سے اس متعلق بات کیجئے گا اس آگاہی مہم میں تنظیم برائے محفوظ مسکن و جنگلی حیات چکوال کا ساتھ دیجئے۔
























تتر، بٹیر، مرغابیاں، کونجاں، ساہواں تے نمانڑیاں بے زباناں بگلیاں دے ناں۔۔۔۔۔نشانہ لاونڑ توں پہلاںشہ رگ تک آونڑ توں پہلاں...
10/06/2026

تتر، بٹیر، مرغابیاں، کونجاں، ساہواں تے نمانڑیاں بے زباناں بگلیاں دے ناں۔۔۔۔۔

نشانہ لاونڑ توں پہلاں
شہ رگ تک آونڑ توں پہلاں
ساڈا کوئی قصور تے دس
ساہ مکانڑ توں پہلاں

دو ویلے دا ٹکر نہیں
یا بچے تینڈے بھک مردے
اپنڑی کوئی مجبوری دس
سانو کھانڑ توں پہلاں

جیپاں تے مانڑ توں پہلاں
بونٹ سجانڑ توں پہلاں
اپنڑا کوئی ٹھکانڑا کر
ٹھکانڑے لانڑ توں پہلاں

بیں کیراں اسی بوٹے لاں
تینڈے بالاں دے ساہ وساں
توں لکھ واری سوچ کے آ
اسن ونجانڑ توں پہلاں۔۔۔۔

تنظیم برائے محفوظ مسکن و جنگلی حیات، چکوال
(مسکن)

راول جھیل میں فلیمنگوز کے قتل پر پاکستان کی جنگلی حیات کے سفیر جمال لغاری صاحب کا موقف "بطور پاکستان کے وائلڈ لائف ایمبی...
10/06/2026

راول جھیل میں فلیمنگوز کے قتل پر پاکستان کی جنگلی حیات کے سفیر جمال لغاری صاحب کا موقف

"بطور پاکستان کے وائلڈ لائف ایمبیسیڈر، اسلام آباد کے عین وسط میں فلیمنگوز کے اس قتلِ عام کو دیکھنا نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ تھا، جو چند روز قبل راول جھیل پر محض آرام کی خاطر اترے تھے۔

میں نہ صرف اس معاملے کو ہر سطح پر اٹھاؤں گا بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن حد تک آگے بڑھوں گا کہ مجرموں کو قرار واقعی سزا ملے اور ایک واضح اور مضبوط پیغام جائے۔ یہ واقعہ آئی سی ٹی (اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری) میں پیش آیا ہے، کوئی دور دراز ویران علاقہ نہیں جہاں کسی نہایت نایاب برفانی چیتے یا دھاری دار لکڑبگھے کو بے دردی سے مار دیا جائے۔

یہ سب کچھ اسلام آباد میں ہو رہا ہے، اور میں واقعی در در جاؤں گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایسے واقعات کو سخت سزا دی جائے اور آئندہ اس طرح کا کوئی اور واقعہ نہ ہو۔ میں پھر کہوں گا “ایسے گھناؤنے جرائم کا دوبارہ کبھی وقوع نہ ہو”

آئیے خود کو ان فلیمنگوز کی جگہ رکھ کر سوچیں، اور تصور کریں کہ ہم کہیں سے ہجرت کر رہے ہیں اور اس دوران ایک خوبصورت اور پُرسکون جھیل، جسے “راول جھیل” کہا جاتا ہے، پر آرام کرنے کے لیے ٹھہرتے ہیں اور اچانک ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے اپنے ساتھیوں کو گولیوں سے بھونا جا رہا ہے، وہ ہمارے اردگرد خون میں لت پت گرے پڑے ہیں، کچھ تڑپ رہے ہیں، کچھ بے بسی سے اٹھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پھر بندوق کی گولیوں کی بوچھاڑ ان پر برس پڑتی ہے، اور ہم اپنی آنکھوں کے سامنے ان کی جان نکلتی دیکھتے ہیں

ذرا تصور کریں کہ ہم میں سے صرف چند ان درندہ صفت، ٹریگر کے نشے میں چور لوگوں کے ظلم سے بچ نکلتے ہیں
براہِ کرم، ہم سب مل کر آواز اٹھائیں اور حکام کو مجبور کریں کہ نہ صرف ان مجرموں کو گرفتار کریں بلکہ انہیں عبرت ناک سزائیں بھی دیں"

3 جون 2026 کو اسلام آباد کی راول جھیل پر فلیمنگوز کا ایک خوبصورت جھنڈ نظر آتا ہے۔ فلیمنگوز وہی بڑی بڑی سرخ ٹانگوں اور گل...
09/06/2026

3 جون 2026 کو اسلام آباد کی راول جھیل پر فلیمنگوز کا ایک خوبصورت جھنڈ نظر آتا ہے۔ فلیمنگوز وہی بڑی بڑی سرخ ٹانگوں اور گلابی سی چونچ والے، اور کھڑے کھڑے ایک ٹانگ پر سونے والے سفید بڑے پرندے، کونج قطاروں جیسے اڑنے والے۔۔۔۔ یہ حیران کن بھی تھا کہ راول جھیل پر فلیمنگوز کہاں سے آ گئے۔۔۔۔۔۔؟اسلام آباد کے میٹھے پانی کے ماحول میں غالباً پہلی بار گریٹر فلیمنگوز (Phoenicopterus roseus) اترے ہیں اور یہ بیچارے کیا اترے ہیں اور ہم نے کیا ہی ظلم کمایا ہے۔

ان کا یہاں اس وقت آنا تو اس لیے بھی زیادہ حیرت کا باعث بنا کہ یہ عموماً گرمیوں کے آغاز میں ہی اپنی نئی نسل کو لے کر میں سائبیریا کی طرف واپس چلے جاتے ہیں۔ یہ شاید کوئی موسمیاتی تبدیلی کا اثر تھا، یا لیٹ مائیگریشن، یا پھر یہ واپسی کے روٹ پر تھے۔ جو بھی ہوا، یہ مسافر تھے…نمانڑے مسافر۔۔۔ ظلم کا شکار ہو گئے۔ یہ معصوم گولیوں سے چھلنی کر دیے گئے ہیں خواتین و حضرات اسلامآباد کی اک جھیل میں۔

ہوا، پانی، چشمے، جھرنے، دریا، سمندر، جنگلی حیات، پرندے، پھول، تتلیاں یہ سب دیکھنے والوں اور فلیمنگوز کے چاہنے والوں کے لیے یہ اسلام آباد کی جھیل میں اترے کسی نعمت سے کم نہ تھے۔ آپ کو معلوم ہے کہ یہ ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں؟ 30 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتے ہیں، ایک ہی رات میں ساڑھے تین سو میل کا سفر طے کر لیتے ہیں اور دس ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان کی ہجرت زیادہ تر رات کے وقت ہوتی ہے۔ صاف موسم کا انتظار کرتے ہیں ہجرت کی اڑان کے لیے یہ اکیلے نہیں اڑتے بلکہ ترتیب کے ساتھ، ایک گروہ کی صورت میں۔ نہ جانے ان بیچاروں نے کیوں یہاں اترنے کا فیصلہ کیا ہوگا کیا مجبوری رہی ہوگی آگے کہیں کتنا سفر طے کرنا ہوگا۔

ہماری خوشیوں کو جیسے نظر لگنے کی روایت سی بن گئی ہے ہم نے آئینے میں اپنا آپ دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہے کہ ہم کیا بن گئے ہیں کتنے مکروہ۔ انسانی معاشرے میں خوراک کے لیے کیے جانے والے اہتمام یعنی مویشی پالنا اور فارمنگ سے ہماری خوراک کی بنیادی ضرورتیں تو پوری ہو جاتی ہیں تو شکار کس لیے ہاں؟ شکار کو ہم نے مگر تفریح، تسکین اور کھیل بنا لیا ہے۔جانوں سے کھیلنے والا خونی کھیل حالانکہ کسی بھی مذہب یا اخلاقی نظام میں اس طرح کی تفریح کی نہ گنجائش ہے اور نہ اجازت۔

اور اسی دوران، جب ہم یہ بات بار بار دہرا رہے تھے کہ شکار کو ترک کیجئے، محمد ایاز محمود صاحب کے انسٹاگرام پوسٹ سے پتا چلا کہ ان تھکے ہارے پردیسی مسافروں پر بھی کسی نے اپنی بدبودار بندوق کھول دی ہے۔ اس جھنڈ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 12 سے 13 فلیمنگوز ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد باقی پرندے اس علاقے سے دور چلے گئے، اور دوبارہ ان کی واپسی تاحال مشاہدے میں نہیں آئی۔

ہجرت بڑی ہی مشکل شے ہے کبھی پردیسیوں مہاجروں سے پوچھیے کہ ہجرت کیا ہوتی ہے۔ کیوں کوئی اپنا گھر بار چھوڑتا ہے، اور کیوں کوئی دوسرے وطن میں آ کر ڈیرہ لگاتا ہے۔ پردیسی پرندے آج بھی خطہ پوٹھوہار اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں جھیلوں کا رخ کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں کوہِ نمک کی قدرتی جھیلوں میں کلرکہار، اچھالی، کھبیکی اور بے شمار چھوٹی جھیلیں کبھی ان کی میزبانی کا شرف رکھتی تھیں۔ اور اب یہ تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔

خطہ پوٹھوہار کی وسعت صرف مقامی پرندوں کے لیے آغوشِ مادر نہیں، بلکہ دنیا بھر سے آنے والے تھکے ہارے مسافروں کو بھی اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔ ان میں یہ معصوم خوبصورت گریٹر فلیمنگوز، رنگ برنگی بطخیں، مرغابیاں، کونجیں، سارس اور ہمارا پیارا بٹیر سب شامل ہیں۔ یہ یہاں اترتے ہیں، سستانے کو ٹھکانہ پاتے ہیں، خوراک لیتے ہیں، اور بعض اوقات اسی سرزمین کو اپنی اگلی نسل کے محفوظ جان کر بچے نکالتے ہیں اور پھر انہیں پال پوس کر واپس اپنے ساتھ اڑا کر لے جاتے ہیں۔

کوئی ہے پوچھنے والا کہ یہ درخت کاٹتی خوفناک آریوں کی آواز کب ختم ہوگی؟ یہ بارود اور گولیوں کی بدبو کب دم توڑے گی؟ اور یہ بندوقیں کب معصوموں کا خون بہانا بند کریں گی؟ کب تک شکاری کتوں کے ذریعے نرخرے کی ہڈی ٹوٹنے کی آواز سے ملنے والی تسکین والے باز آئیں گے؟ اگر ہم سب خاموش رہے تو ہم سب مجرم ہیں اور آج تک ہم خاموش ہی رہے ہیں۔

فطرت کے اندر کسی معصوم کے قتل پر، اگر جزا و سزا پر آپ کو یقین ہے اگر کوئی کارما ہے، تو یہ بھیانک تباہیاں ایک دن ہمارے گھروں کا رخ کریں گی اور کر رہی ہیں۔ اہلیانِ پوٹھوہار! ان پرندوں کو بندوق کی خوفناک آواز اور بارود کی بدبو سے بچا کر اپنی میزبانی کا حق ادا کیجیے، کیونکہ یہ پردیسی یہاں صرف کربناک موت مرنے نہیں آتے… یہ آپ سے ملنے آتے ہیں، آپ کے بچوں کے لیے آتے ہیں، اپنی نسل کے تسلسل کے لیے آتے ہیں۔ اس آگاہی مہم میں تنظیم برائے محفوظ مسکن و جنگلی حیات چکوال کا ساتھ دیجیے۔ اج شام جب اپ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھے ہیں تو ان سے ظلم کے متعلق بات ضرور کیجئے گا کیونکہ وہ اس ماحول کا مستقبل ہیں اور انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ کیا ہوا ہے ہم آنے والی اقساط میں ہجرتی پرندوں کے ماحول میں کردار کی وضاحت کرنے کی کوشش کریں گے۔

نوٹ: فلیمنگوز کی پرواز کی پہلی تصویر ہماری تنظیم سے جڑے نیچر فوٹوگرافر تیمور ولی کی اچھالی جھیل پر کئی برس پہلے لی ہوئی ہے۔ دوسری دونوں تصاویر انسٹاگرام اکاؤنٹ visualsbynadia سے لی گئی ہیں۔


















.






کرنگل کوہ نمک،چکوال
04/06/2026

کرنگل
کوہ نمک،چکوال

ڈوھمن نالہ سے دلجبہ تک کوہ نمک
04/06/2026

ڈوھمن نالہ سے دلجبہ تک کوہ نمک

Address

Chakwal

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wildlife of Chakwal. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Wildlife of Chakwal.:

Share