11/04/2026
چنیدہ اقتباسات۔ گلی اشاعت ۔
ناول کی تیسری قسط
ایک فطرت نگار مصور کی زندگی کا باب
سیزر ایئرا
(César Aira)
ترجمہ: منیر فیاض
۱۔ آخر کار، فن اس کا راز تھا۔ اس نے اسے فتح کر لیا تھا اگرچہ اس کے لیے اسے خطیر قیمت ادا کرنا پڑی۔ اس نے اپنی زندگی کی ہر چیز سے فن کی قیمت ادا کی تھی، یہ حادثہ اور اس کے نتیجے میں آنے والی تبدیلی اس سے باہر کیوں رہتی؟ تکرار اور ردو بدل کے اس کھیل میں وہ بہ آسانی اپنی اس نئی حالت کو بھی خفیہ رکھ سکتا تھا اور کسی بھی دوسرے افسانوی مصنف کی طرح کام کر سکتا تھا۔ تکرار: بہ الفاظِ دگر، فن کی تعریف۔۔
۲۔ اپنی تحریروں میں وہ حتّٰی الامکان سچ لکھنے کی کوشش کرتا۔ اس کے لیے اس کی وجوہات کچھ یوں تھیں: سچ اور جھوٹ دونوں کو بتانے کے لیے، اصولی طور پر، ایک ہی جتنی کوشش درکار ہوتی ہے، تو کیوں نہ سچ بتایا جائے؛ بغیرکسی ابہام کے، بغیر کسی اسقاط کے؟ چلیں صرف تجرباتی طور پہ ہی ایسا کر کے دیکھتے ہیں۔ مگر ایسا کہنا ایسا کرنے سے بہت آسان تھا۔ خاص طوپر، اس کے معاملے میں جہاں کرنا بھی کہنے کی ہی کی ایک شکل تھا۔۔
۳۔ اور جب سورج بلند ہوا تو دالان سے گھوڑوں کی ہنہناہٹ کے ساتھ چلا نے کی آوازیں سنائی دیں۔
انڈینز! انڈینز! کیا؟
انڈینز!انڈینز!
وہ سیدھا اپنی مصوری کی کٹ کی جانب بڑھا، اور اپنے دوست کو اشارہ کیا۔ کراؤس کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا، مگر اسے اپنی عینی شہادت سے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑا۔ اپنی قابلِ رحم حالت کے باوجود عظیم رگینڈاس باہر جا کر انڈینزکے حملے کو تصویر کرنا چاہتا تھا۔ کراؤس بے آرامی سے بستر پر بیٹھ گیا۔ یہ ناممکن ہے، اس نے کہا۔ رگینڈاس نے کوئی توجہ نہ دی۔ اسے احساس ہوا کہ وہ پابرہنہ تھا۔ اس نے بوٹ پہننے کا مشقت انگیز کام شروع کر دیا۔ اس نے کراؤس کی طرف دیکھا۔ ’گھوڑے‘، اس نے کہا۔ کراؤس نے اسے باز رکھنے کی خاطر دلیل دی جو ابھی ابھی اس کے ذہن میں آئی تھی: وہ چند گھنٹے آرام کے بعد دوپہر کو روانہ ہو سکتے تھے۔۔
وزٹ کرتے رہیے: تراجم عالمی ادب
https://translationstraajim.com/