تراجم عالمی ادب

تراجم عالمی ادب عالمی ادب کے اردو تراجم کی اشاعت کا آن لائن جریدہ۔ تراجم عالمی ادب

چنیدہ اقتباسات۔ گلی اشاعت ۔ ناول کی تیسری قسطایک فطرت نگار مصور کی زندگی کا بابسیزر ایئرا(César Aira)ترجمہ:  منیر فیاض۱۔...
11/04/2026

چنیدہ اقتباسات۔ گلی اشاعت ۔
ناول کی تیسری قسط

ایک فطرت نگار مصور کی زندگی کا باب
سیزر ایئرا
(César Aira)
ترجمہ: منیر فیاض

۱۔ آخر کار، فن اس کا راز تھا۔ اس نے اسے فتح کر لیا تھا اگرچہ اس کے لیے اسے خطیر قیمت ادا کرنا پڑی۔ اس نے اپنی زندگی کی ہر چیز سے فن کی قیمت ادا کی تھی، یہ حادثہ اور اس کے نتیجے میں آنے والی تبدیلی اس سے باہر کیوں رہتی؟ تکرار اور ردو بدل کے اس کھیل میں وہ بہ آسانی اپنی اس نئی حالت کو بھی خفیہ رکھ سکتا تھا اور کسی بھی دوسرے افسانوی مصنف کی طرح کام کر سکتا تھا۔ تکرار: بہ الفاظِ دگر، فن کی تعریف۔۔

۲۔ اپنی تحریروں میں وہ حتّٰی الامکان سچ لکھنے کی کوشش کرتا۔ اس کے لیے اس کی وجوہات کچھ یوں تھیں: سچ اور جھوٹ دونوں کو بتانے کے لیے، اصولی طور پر، ایک ہی جتنی کوشش درکار ہوتی ہے، تو کیوں نہ سچ بتایا جائے؛ بغیرکسی ابہام کے، بغیر کسی اسقاط کے؟ چلیں صرف تجرباتی طور پہ ہی ایسا کر کے دیکھتے ہیں۔ مگر ایسا کہنا ایسا کرنے سے بہت آسان تھا۔ خاص طوپر، اس کے معاملے میں جہاں کرنا بھی کہنے کی ہی کی ایک شکل تھا۔۔

۳۔ اور جب سورج بلند ہوا تو دالان سے گھوڑوں کی ہنہناہٹ کے ساتھ چلا نے کی آوازیں سنائی دیں۔
انڈینز! انڈینز! کیا؟
انڈینز!انڈینز!
وہ سیدھا اپنی مصوری کی کٹ کی جانب بڑھا، اور اپنے دوست کو اشارہ کیا۔ کراؤس کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا، مگر اسے اپنی عینی شہادت سے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑا۔ اپنی قابلِ رحم حالت کے باوجود عظیم رگینڈاس باہر جا کر انڈینزکے حملے کو تصویر کرنا چاہتا تھا۔ کراؤس بے آرامی سے بستر پر بیٹھ گیا۔ یہ ناممکن ہے، اس نے کہا۔ رگینڈاس نے کوئی توجہ نہ دی۔ اسے احساس ہوا کہ وہ پابرہنہ تھا۔ اس نے بوٹ پہننے کا مشقت انگیز کام شروع کر دیا۔ اس نے کراؤس کی طرف دیکھا۔ ’گھوڑے‘، اس نے کہا۔ کراؤس نے اسے باز رکھنے کی خاطر دلیل دی جو ابھی ابھی اس کے ذہن میں آئی تھی: وہ چند گھنٹے آرام کے بعد دوپہر کو روانہ ہو سکتے تھے۔۔

وزٹ کرتے رہیے: تراجم عالمی ادب
https://translationstraajim.com/

ہسپانوی نظمخزاں کی واپسی… نظمپابلو نیرودا (Pablo Neruda)تعارف و ترجمہ:عمران ازفر ایک سوگ میں ملبوس دن،گھنٹیوں سے گرتا ہے...
11/04/2026

ہسپانوی نظم

خزاں کی واپسی… نظم
پابلو نیرودا (Pablo Neruda)
تعارف و ترجمہ:عمران ازفر

ایک سوگ میں ملبوس دن،
گھنٹیوں سے گرتا ہے
بے گھر بیوہ کے لہراتے نقاب کی طرح
یہ ایک رنگ ہے،ایک خواب
زمین میں ڈوبی چیریوں کی شریانوں میں روندی ہوئی پتیوں کی سرسراہٹ سے
وہاں آسماں کے نیچے کچھ ہے
سانڈ کی زبان کے جیسا موٹا
کوئی چیز آسمان کی غیر یقینی صورتحال اور ماحول میں ہے
چیزیں واپس اپنی جگہ پر آ جاتی ہیں
نہایت ضروری وکیل، ہاتھ، تیل، بوتلیں
زندگی کے سب نشانات: بستر سب سے پہلے
اور خون کے سیال سے بھری بوتلیں
لوگ اپنے راز کمینے کانوں کو سونپتے ہیں
قاتل اپنی سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہیں
لیکن ایسا نہیں ہے ……

مکمل نظم کے مطالعے کے لیے:تراجم عالمی ادب
https://translationstraajim.com/sukhn-wari/khizan-ki-wapsi/

ویتنامی افسانچہکتابیں ساتھ لیے پھرنے والا آدمیلِنھ ڈِنھ (Linh Dinh)تعارف و ترجمہ:محمد عبداللہشروع شروع میں  پیئرے بوئی ا...
11/04/2026

ویتنامی افسانچہ

کتابیں ساتھ لیے پھرنے والا آدمی
لِنھ ڈِنھ (Linh Dinh)
تعارف و ترجمہ:محمد عبداللہ

شروع شروع میں پیئرے بوئی اپنے ساتھ ایک کتاب رکھتا تھا،لیکن پھر اسے محسوس ہوا کہ زیادہ کتابیں پاس رکھنے سے وہ مزید اچھا تاثر قائم کر سکے گا۔ پس وہ کہیں بھی آتے جاتے ہوئے بہ یک وقت اپنے ساتھ تین کتابیں رکھنے لگا۔ تیوہار کے دنوں میں جب گلیوں بازاروں میں ہجوم بڑھ جاتا تو پیئرے بوئی اپنے ساتھ درجن بھر کتابیں لیے گھومتا۔
اس سے فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ کسی قسم کی کتابیں ہوتی تھیں— دوستوں کو کیسے جیتا اور لوگوں کو کیسے متاثر کیا جائے، ہمارے جسم، ہماری ذات، خوابوں میں جینا وغیرہم جیسی کتابیں— بس کتابیں ہونا چاہئیں تھی۔ لگتا تھا کہ پئیرے بوئی کو چھوٹی لکھائی والی موٹی کتابیں پسند تھیں۔ شاید اسے گمان تھا کہ ایسی کتابیں زیادہ عالمانہ ہوتی ہیں؟ اس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کتب خانے میں دنیا بھر کی بے شمار عالمانہ و فاضلانہ کتب اور دنیا کے بڑے بڑے شہروں پر تحقیقی کتب موجود پائی جاتی تھیں۔
پئیرے بوئی کے لیے سائیکلوں کے ایک کاریگر کی معمولی سی تنخواہ میں اتنی کتابیں خریدنا آسان نہیں تھا۔ اسے کھانے کے علاوہ اپنے تمام اخراجات بچانا پڑتے تھے۔ کئی کئی روز تک وہ شکر کے ساتھ روٹی کے علاوہ کچھ نہیں کھاتا تھا۔ پئیرے بوئی نے کبھی اپنی کتب کی انمول جلدوں کو فروخت نہیں کیا تھا۔ گاؤں کے لوگوں سے ملنے والی عزت اس کے پیٹ کی مستقل گڑگڑاہٹ سے زیادہ اہم تھی۔۔……

مکمل افسانچے کے مطالعے کے لیے:تراجم عالمی ادب

https://translationstraajim.com/.../kitaben-sath-liye.../

09/04/2026

کوریائی ناول و اردو ترجمے ’’شاکاہاری‘‘ کا تجزیہ
غلام حسین ساجد
شاکا ہاری / ہان کانگ (The Vegerarian by Han Kang)

……
مکمل مضمون کے مطالعے کے لیے:تراجم عالمی ادب
https://translationstraajim.com/.../the-vegetarian-han.../

افسانے کا فنمدحت در مطالعۂِ فسانہ (فکشن)ماریو وَرگاس یوسا(ہسپانوی تلفظ: مارجو بریاس یوسا)(Mario Vargas Llosa)تعارف و تر...
08/04/2026

افسانے کا فن

مدحت در مطالعۂِ فسانہ (فکشن)
ماریو وَرگاس یوسا
(ہسپانوی تلفظ: مارجو بریاس یوسا)
(Mario Vargas Llosa)
تعارف و ترجمہ:نجم الدّین احمد

نقطۂ آغاز ہمیشہ یادیں ہوتا ہے: یادوں سے تخیل پنپتا ہے، وہ مناظر ملتے ہیں جو آپ کے ساتھ ایک طویل عرصے سے ہیں، اور یہی وہ بنیادی مواد ہے جس کے ساتھ ایک مصنف کام کرتا ہے۔ — ماریو ورگاس یوسا

ماریو وَرگاس یوسا
سال ۲۰۱۰ء کے لیے نوبیل انعام برائے ادب وصول پانے والے کے نام کا اعلان کرتے ہوئے سویڈش اکیڈمی نے مؤقف اختیار کیا: ’’۲۰۱۰ء کا نوبیل انعام وَرگاس یوسا کو ان کی بنت کاری کے مضبوط فن اور فرد کی مزاحمت ، بغاوت اور شکست کی مؤثر اور نمایاں تخلیق کاری پر دیا گیا ۔‘‘

دسمبر ۲۰۱۰ء میں نوبیل انعام کی تقریب تقسیم کے وقت سرویجز ٹیلی ویژن اے بی کے شعبہ موسیقی کی سربراہ کیملا لنڈبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے ماریو ورگاس یوسا نے اپنی ناول نگاری کے فن میں بتایا۔ ’’ ہاں، میں بنت کرتا ہوں۔ ہیئت پر بہت زیادہ کام کرتا ہوں۔ میرے خیال میں ساخت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی تحریر، اسلوب۔ کسی ناول کو قائل کرنے کی اِس قوت فراہمی ناول کی کامیابی یا ناکامی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اور میرے خیال میں یہ چیز انیسویں صدی میں پائی جاتی ہے، خاص طور پر موسیقی کی ترتیب کاری میں۔ ‘‘
’’پیرس ریویو‘‘ کے انٹرویو کنندگان کے سوالات کے جواب میں ماریو ورگاس یوسا نے افسانے کے فن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا۔ ’’فالکنر وہ پہلا ناول نگار تھا جسے میں نے قلم اور کاغذ ہاتھ میں تھام کر پڑھا کیونکہ اس کی تکنیک نے مجھے دنگ کر دیا تھا۔ وہ پہلا ناول نگار تھا جس کے کام کی میں نے شعوری طور پر کھوج لگا کر دوبارہ لکھنے کا جتن کیا۔ مثال کے طور پر، وقت کی تنظیم، زمان و مکان کا ملاپ، بیانیے میں وقفے، اور ایک خاص ابہام پیدا کرنے اور اسے اسے مزید گہرائی دینے کے لیے مختلف نکات سے کہانی سنانے کی صلاحیت۔ ……جہاں تک میرا تعلق ہے، مجھے یقین ہے کہ موضوع مصنف کا انتخاب کرتا ہے۔
مجھے ہمیشہ یہ احساس رہا ہے کہ بعض کہانیوں نے خود کو مجھ پر مسلط کیا۔ میں ان کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا، کیوں کہ مبہم طور پر ان کا کسی نوع کے بنیادی تجربے سے واسطہ تھا — میں واقعی یہ نہیں بتا سکتا کہ کیسے۔ ……اب تک، یہ میری تمام کتابوں کے لیے بالکل یکساں رہا ہے۔ مجھے کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ میں نے کوئی کہانی لکھنے کا شعوری اور سرد مہرانہ فیصلہ کیا ہو۔ اس کے برعکس، بعض واقعات یا لوگ، بعض اوقات خواب یا مطالعہ، اپنے آپ کو اچانک مجھ پر مسلط کر لیتے ہیں اور توجہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔یہی سبب ہے کہ میں ادبی تخلیق کے خالص غیر تعقلی عناصر کی اہمیت کے بارے میں بہت زیادہ بات کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ غیر تعقلی بھی قارئین تک پہنچنا چاہیے۔
میں چاہوں گا کہ میرے ناول بھی اسی طرح مطالعہ کیے جائیں جیسے میں اپنے پسندیدہ ناول پڑھتا ہوں۔ جن ناولوں نے مجھے سب سے زیادہ اپنا گرویدہ کیا وہ دانش یا عقلی ذرائع سے مجھ تک کم ہی پہنچے جتنا کہ میری مسحوری کے وسیلے سے۔ یہ ایسی کہانیاں ہیں جو میری تمام تنقیدی صلاحیتوں کی کاملاً تعدیم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں کہ میں جہاں کا تہاں عالم حیرت میں ڈوبا رہوں۔ میں اسی قسم کا ناول پڑھنا پسند کرتا اور اسی نوع کا ناول لکھنا چاہوں گا۔ میرے خیال میں یہ بہت ضروری ہے کہ ایسی کہانیوں میں، جو قاری کو اپنے خیالات سے نہیں بلکہ اپنے رنگ، جذبات سے متاثر کرے، اپنے دنگ کر ڈالنے والے تجسس بھرے حیرت انگیز عنصر اور اسرار سے جنھیں وہ جنم دینے کی اہل ہوں، فکری عنصر، جس کی موجودگی ناول میں ناگزیر ہے، عمل میں گھل مل جائے۔
میری رائے میں، ناول کی تکنیک بنیادی طور پر اس اثر کو جنم دینے کے لیے موجود ہوتی ہے —کہانی اور قاری کے درمیان فاصلے کو کم کرنے اور اگر ممکن ہو تو اس فاصلے کو مٹانے کے لیے۔ اس لحاظ سے میں انیسویں صدی کا ادیب ہوں۔ میرے لیے ناول اب بھی مہم جوئیوں کا ناول ہے، جسے ایک خاص انداز میں پڑھا جاتا ہے جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے۔‘‘
ایسمٹوٹ (Asymptote) میں شائع ہونے والے انٹرویو میں انٹرویو کنندہ ہنری ایس نائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ماریو ورگاس یوسا نے کہا کہ سنجیدہ ادب ہمیشہ روح پرور تفریح ہوتا ہے۔ایسا سنجیدہ ادب، جو قاری سے فکری سعی کا متقاضی ہوتا ہے، بیزار کن نہیں ہوتا۔ بہترین تفریح کے بغیر کوئی بڑا ادب نہیں ہوتا۔ ……کسی ناول کو پڑھنے کے لیے تفریح ایک لازمی شرط ہے، لیکن دوسری طرف، یہ صرف تفریح نہیں ہونا چاہیے۔ بہت فضول ادب بہت سختی سے تفریحی ہوتا ہے۔ ایک اچھے ناول میں، ہمیشہ تفریح کے علاوہ بہت کچھ ہوتا ہے — خیالات، دنیا پر تنقید۔ ناول آپ کے وژن کو تقویت بخشتے ہیں؛ ان مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے کی سوجھ بوجھ عطا کرتے ہیں جن میں آپ گھرے ہوتے ہیں۔
اس سوال ’’آپ تاریخ اور افسانے کے درمیان تعلق کو کیسے دیکھتے ہیں؟‘‘ کا جواب دیتے ہوئے ماریو ورگاس یوسا نے کہا: میرے خیال میں ادب کے مصنف کو مورخ پر ایک فائدہ ہوتا ہے: وہ جو آپ نہیں جانتے — جو ہم کسی تاریخی واقعے کے بارے میں نہیں جان سکتے — آپ تخلیق کر سکتے ہیں۔ بہ ایں ہمہ، اگر آپ تاریخی حقائق پر مبنی ناول لکھتے ہیں تو آپ کو کم از کم تاریخ کے مرکزی واقعات کو مدنظر رکھنا ہوگا کیونکہ بصورت دیگر آپ خالص فنتاسی لکھ رہے ہوں گے۔ یہ ایک نہایت لطیف توازن ہے جسے تحریری ادب سے حاصل ہونے والی تمام آزادیوں کو استعمال کرنے کے لیے برقرار رکھنا لازم ہے، لیکن اس انداز میں جو قاری کی طرف سے مشتعل ردعمل کو ترغیب نہ دے۔
اتنا کہنا کافی ہے کہ یہ تاریخی ہے، یا یہ خالص تخیلاتی ہے۔ یہ ادب کی آزادی اور تاریخی حقائق کے تناظر کے درمیان ایک توازن ہے۔ تمام عظیم تاریخی ناول، مثلاً ’’جنگ اور امن‘‘، یا Les Misérables، تخلیق اور تاریخ کے درمیان اس نوع کے توازن کو قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
مکمل مضمون کے مطالعے کے لیے: تراجم عالمی ادب

https://translationstraajim.com/mazaamin/afsanay-ka-fun/madhat-der-mutala-fasana/

مضمونرنگ برنگکوریائی ناول و اردو ترجمے ’’شاکاہاری‘‘  کا تجزیہغلام حسین ساجدشاکا ہاری ؍ ہان کانگاس ناول کا نام بھٹکا دینے...
08/04/2026

مضمون
رنگ برنگ

کوریائی ناول و اردو ترجمے ’’شاکاہاری‘‘ کا تجزیہ
غلام حسین ساجد
شاکا ہاری ؍ ہان کانگ

اس ناول کا نام بھٹکا دینے والا ہے۔ اس کے پہلے باب کا مطالعہ کرتے ہوئے گمان گزرتا ہے کہ شاید یہ ایک شاکا ہاری بیوی کے باعث ایک گوشت خور خاوند کی عذاب ہوتی چلی جاتی زندگی کی کتھا ہے مگر… اس ناول کا اردو ترجمہ اسما حسین نے کیا ہے… ترجمے کا معیار عمدہ ہے اور بیانیے کی روانی قابلِ قدر۔
— غلام حسین ساجد

ہان کانگ (Han Kang)کے ناول شاکا ہاری ( سبزی خور) کو ، مترجم اسما حسین، ۲۰۱۶ء میں بُکر انٹرنیشنل پرائز سے نوازا گیا اور پھر وہ اپنے مجموعی کام کی بدولت ۲۰۲۴ء میں نوبیل انعام کی حقدار ٹھہریں۔ یہ ناول مجموعی طور پر چار کرداروں یونگھے، اُس کے شوہر، اُس کی بڑی بہن انحے اور اور اُس کے مصّور میاں کی کہانی ہے اور تین حصّوں شاکا ہاری، منگولیا نشان اور فروزاں شجر پر مشتمل ہے۔ پہلے حصّے کا راوی یونگھے کا شوہر ہے اور دوسرے اور تیسرے حصّے کی راوی خود مصنّفّہ۔ اس لیے اسے ایک ذو بیانیہ ناول قرار دینے میں کوئی ہرج نہیں اور یہ گہرے لسانی اور علمی تجزیے کی بُنیاد پر کرادوں کی باطنی کیفیات کو اور اُس نفسیاتی تشنّج کو سمجھنے کی سعی کرتا ہے جو مرکزی کردار کی شخصیت میں تبدیلی لانے کا سبب بنتا ہے۔ ایسی تبدیلی جو سادہ روی سے آگے بڑھتی زندگیوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیتی ہے اور ایک عجیب طرح کا شزوفرینیائی بھنور خلق کر کے کرداروں کی سادہ رُو بشاشت، عمومی ہمواری، معاشرتی رویّوں اور مانوسیت کو چاٹ کر انھیں کسی اور ہی دُنیا کا باسی بنا دیتا ہے۔ اس طرح کہ وہ معلوم کی دنیا سے خارج ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کہانی کا مرکزی کردار یعنی یونگھے تو خود کو نوعِ انساں سے جُدا کر کے نباتات کا حصّہ سمجھنے لگتی ہے اور اُس کا یہ مغالطہ اس قدر قوی ہوتا ہے کہ اُس کے اذہان پر غالب آ کر اُس کے ادراک کا حِصّہ بن جاتا ہے۔
تہذیب انسانی کے حجریاتی اور تواریخی شواہد سے پتا چلا ہے کہ انسان بُنیادی طور پر شاکا ہاری یعنی سبزی خور ہے۔ قدیم اور آج کے انسان کے دانتوں کی ساخت انسان کو گوشت خور جانوروں سے الگ کرتی ہے۔ کئی معاشروں خاص طور جین مت، ہندو دھرم کے بعض سلاسل اور بّدھ مت میں جانوروں کا شکار کرنا اور اُن کا خُون پینا یا گوشت کھانا مستحب نہیں سمجھا جاتا بل کہ وہ لوگ انڈے سے بنی خوراک کو بھی کھانے سے اجتناب کرتے ہیں مگر ’’شاکا ہاری‘‘ کے مرکزی کردار کے سبزی خور ہونے کی وجہ مذہبی نہیں نفسیاتی ہے۔ وہ ایک خواب دیکھتی ہے اور اس کے نتیجے میں پہلے گوشت اور گوشت کی شرکت سے پکائے دوسرے کھانوں سے کنارا کرتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ اُس کے اندر کچھ کھانے کی رغبت ہی دم توڑ دیتی ہے۔ پھولوں سے بدن پینٹ کیے جانے اور ایک محرک سے خالی جنسی تجربے سے گزرنے کے بعد، جس کا باعث انحے کا مصور شوہر بنتا ہے، وہ خود کو درختوں کی طرح زمین سے براہِ راست توانائی پانے کا حق دار سمجھتی ہے اور اس عارضے کے باعث ہر طرح کی خوراک سے دست کش ہو جاتی ہے۔ اسے طِبّی زبان میں جو بھی کہا جائے۔ یہ صرف گوشت کو بطورِ غذا ترک کر دینے کا معاملہ نہیں ہے، ایک وجودی بحران ہے اور فطرت سے موجود کی دنیا اور اّس کی جکڑبندیوں کو ترک کرکے آزاد اور خود مختار ہونے کی طرف پیش رفت ہے۔ افسوس کہ یہ پیش قدمی بنی نوع انسان کے عمومی تہذیبی مزاج کو قبول نہیں اور فطرت سے پیوست ہونے کی ایسی کوشش کو ایک نفسیاتی عارضے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا جاتا سو یونگھے کو طلاق، بیماری اور بالآخر موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اُس کی اکلوتی تیمار دار اُسے بچانے میں ناکام رہتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
مکمل مضمون کے مطالعے کے لیے: تراجم عالمی ادب:

https://translationstraajim.com/mazaamin/the-vegetarian-han-kang-urdu-translation-shakahari-review-by-ghulam-hussain-sajid/

افسانے کا فنہاری ہوئی جنگسویتلانا الیگزائی وِچ (SVETLANA ALEXIEVICH) -  2015ء کی نوبیل انعام یافتہ ادیبہ۔تعارف و ترجمہ:ن...
27/03/2026

افسانے کا فن

ہاری ہوئی جنگ
سویتلانا الیگزائی وِچ (SVETLANA ALEXIEVICH) - 2015ء کی نوبیل انعام یافتہ ادیبہ۔
تعارف و ترجمہ:نجم الدّین احمد

اپنی تخلیقات کے بارے میں الیگزائی وِچ کہتی ہیں: ’’اگر ہماری تمام تاریخ پر نظر ڈالی جائے، سوویت اور مابعد سوویت دونوں پر، تو وہ ایک وسیع و عریض اجتماعی قبر اور خون میں نہائی ہوئی ظالموں اور مظلوموں کا دائمی نوحہ ہے۔ ستم رسیدہ رُوسی سوال کرتے ہیں کہ کیا کِیا جائے اور کس پر الزام دھرا جائے: انقلاب پر، جبری مشقت کے کیمپوں پر (gulag: ۱۹۳۰ء سے ۱۹۳۵ء کے دوران سوویت یونین میں جبری مشقت کے کیمپ بنائے گئے تھے جن میں بے شمار لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔)، جنگِ عظیم دوم پر، عوام سے خفیہ رکھی جانے والی سوویت افغان جنگ پر، عظیم سلطنت کے انہدام پر، عظیم اشتراکی ملک کے زوال پر، مثالی سرزمین پر اور اب آفاقی مسئلے چرنوبل پر۔ ایسا مسئلہ جو رُوئے ارض کے تمام جان داروں کا مسئلہ ہے۔ یہ ہماری تاریخ ہے۔ یہی میری تخلیقات ہیں اور یہی میرا راستہ ہے……۔‘‘
الیگزائی وِچ اپنے وطن بیلاروس سے زیادہ دُنیا بھر میں معروف ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ ’’وہ ایک صحافی ہیں، جج نہیں۔ وہ کہانیاں سنا کر فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیتی ہے۔‘‘
پیرس ریویو کے انٹرویو کنندہ کو انٹرویو دیتے ہوئے سویتلانا الیگزائی وِچ نے اپنی تحریروں کے افسانہ (فکشن) ہونے پر دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیا کیا: ’’ہاں. جب موضوع جنگ ہو، یا کیمپ ہو، یا کسی سلطنت کا زوال تو سینکڑوں مصنفین اس پر کام کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کرتے۔ لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ ہیئت میں نے ایجاد کی ہے۔ اس نوع کا ادب روس میں عرصہ دراز سے موجود ہے۔ ماضی میں پہلی جنگ عظیم تک جائیں تو صوفیہ فیڈورچینکو نے کہانیاں اکٹّھی کیں۔ وہ ایک نرس کے طور پر کام کرتی تھی اور فوجیوں کی گفتگو لکھتی تھی۔ سوویت کے زمانے میں بھی، بیلاروس کی مصنفہ ایلس آدمووچ، میرے استاذ نے، روسی مصنف ڈینیئل گرانین کے ساتھ مل کر لینن گراڈ کے محاصرے کے بارے میں ایک کتاب مرتب کی تھی۔
پھر بھی، میرا نظریہ مختلف ہے۔ ان تمام ٹکڑوں سے، میں آوازوں سے ایک ناول تخلیق کرنا چاہتی ہوں۔ وہ زبانی تاریخ لکھ رہے تھے۔ وہ اسے تصادفی طور پر لکھ رہے تھے، امریکی (مصنف و مؤرخ) سٹڈس ٹرکیل (Studs Terkel) کے مانند۔ اس نےواقعات لکھ دیے۔ امریکا میں بے شمار زبانی مورخین ہیں، لیکن میری کتابیں ناول لکھنے کے اصولوں کو برتتے ہوئے تحریر ہوئی ہیں۔ میرے پاس ایک آغاز ہے، ایک پلاٹ ہے، کردار ہیں۔‘‘...
……

مکمل مضمون کے مطالعے کے لیے: تراجم عالمی ادب

https://translationstraajim.com/.../afsan.../haari-hui-jang/

افسانہہائے عوام…!انتون چیخوف (Anton Chekhov)ترجمہ:حمزہ حسن شیخ’’یہاں پر مت چیخو! یہ کوئی سرائے نہیں ہے— !‘‘’’نہیں، سراؤں...
27/03/2026

افسانہ

ہائے عوام…!
انتون چیخوف (Anton Chekhov)
ترجمہ:حمزہ حسن شیخ

’’یہاں پر مت چیخو! یہ کوئی سرائے نہیں ہے— !‘‘
’’نہیں، سراؤں میں زیادہ انسانیت دوست لوگ ہوتے ہیں— ‘‘ مسافر نے کھانستے ہوئے کہا۔ ’’شاید، تم مجھے کسی اور وقت سونے دو گے! یہ بہت ہی عجیب بات ہے۔ میں نے کئی بار بیرون ملک سفر کیا ہے، تمام جگہوں پر اور وہاں پر کسی نے بھی کبھی میری ٹکٹ کے بارے میں نہیں پوچھا اور یہاں پر تم مجھ سے بار بار اس کے بارے میں ایسے پوچھ رہے ہو جیسے تمھارے پیچھے کوئی بھوت لگا ہو— ‘‘
’’اچھا، پھر تو آپ کو بیرون ملک ہی جانا چاہیے کیوں کہ آپ اس کو بہت پسند کرتے ہیں۔‘‘
’’یہ بالکل بے وقوفی ہے، جناب! ہاں—! اگرچہ یہ کافی نہیں ہے کہ مسافروں کو اس گھٹن اور باسی ہوااور پسینے کے بھوبھکے سے مار دیا جائے۔ وہ سُرخ فیتے سے ہمارے گلے گھونٹنا چاہتے ہیں— اس سب پرتف ہے—!ان کے پاس ٹکٹ ضرور ہوناچاہیے! ہائے میرے خدایا—! یہ کیسا جذبہ ہے—! اگر کمپنی کو ا س بات سے کوئی فائدہ ہوتا— تو آدھے سے زیادہ مسافر بغیر ٹکٹ کے سفر نہ کررہے ہوتے— ‘‘
’’سنیں،جناب!‘‘ پوڈٹائیگن غصے سے چلایا۔ ’’اگر آپ نے اپنی بکواس بند نہ کی اور عوام کو پریشان کرتے رہے تو میں آپ کواگلے سٹیشن پر ٹرین سے اُتار دوں گااور اس واقعے کی رپورٹ کردوں گا۔‘‘
’’یہ توہین آمیز ہے—!‘‘ لوگوں نے آواز اٹھائی جو ان کی جانب متوجہ ہوچکے تھے۔
’’ایذا رسانی سراسر تکلیف ہے—! سنواور اس پر تھوڑا غور کرو— ‘‘
’’لیکن یہ حضرت خود ہی اتنے بدتمیزاور بداخلاق ہیں—! پوڈٹائیگن نے تھوڑا سا ڈرتے ڈرتے کہا۔ ’’اچھی بات— میں ٹکٹ نہیں دیکھوں گا— جیسا آپ لوگ کہیں— صرف— یقیناًجیسا کہ آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ ایسا کرنا میری ذمہ داری ہے۔ اگر میں اپنی ڈیوٹی پر نہ ہوتا— تب—یقیناًآپ اسٹیشن ماسٹر سے پوچھ سکتے تھے— یا جس کسی سے بھی آپ پوچھنا چاہیں— ‘‘
پوڈٹائیگن نے اپنے کندھے اچکائے اور وہاں سے چلتا بنا۔ پہلے پہل اس کو سبکی محسوس ہوئی اور کچھ حد تک دل پہ چوٹ سی محسوس ہوئی۔ تب دو یا تین ڈبے گزرنے کے بعد، اس کو ایک یقینی سی بے چینی محسوس ہوئی لیکن ویسی نہیں جیسی اس کے ٹکٹ چیک کرنے والے سینے کی گہرائی میں کبھی نہ اُبھری تھی۔

مکمل افسانے کے مطالعے کے لیے: تراجم عالمی ادب

https://translationstraajim.com/fusun.../afsana/hye-awam/

27/03/2026

برف اور خون… نظم
چَین سِیُو چَین (Chen Hsiu-chen)
ترجمہ: ناصر کریم خان

زمیں پر برفباری ہے
زمیں پر خون آسا برفباری ہے—
گزشتہ سال ایسی برف باری میں
ہوا اور برف میں جلتی
نگاہوں کی تپش
اور انگلیوں کی ارغوانی سنسناہٹ تھی ……

مکمل نظم کے مطالعے کے لیے:تراجم عالمی ادب

https://translationstraajim.com/sukhn-wari/barf-aur-khoon/

امریکی افسانچہگھر سے خطجمیکا کنکیڈ (Jamaica Kincaid)تعارف و ترجمہ: طوبیٰ اسماعیلایک رات جو اندھیری تھی، ایک چاند جو پورا...
27/03/2026

امریکی افسانچہ

گھر سے خط
جمیکا کنکیڈ (Jamaica Kincaid)
تعارف و ترجمہ: طوبیٰ اسماعیل

ایک رات جو اندھیری تھی، ایک چاند جو پورا تھا، نیند بھرا ایک بستر تھا۔ایک حرکت جو تیز تھی، ایک وجود جو ساکن کھڑا تھا، ایک جگہ جو کہ بھری ہوئی تھی، پھر وہاں کچھ نہیں تھا۔ ایک آدمی دروازے پر آیا اور پوچھا۔ ’’ کیا بچے ابھی تیار ہیں؟ کیا وہ اپنی ماں کے نام سے جانے جائیں گے؟ مجھے لگتا ہے کہ آپ بھول گئی ہیں کہ اگلے پیر کو میری سالگرہ ہے؟ کیا آپ مجھے ہسپتال میں ملنے آئیں گی۔‘‘ میں کھڑی ہوئی اور بیٹھ گئی اور پھر کھڑی ہو گئی۔ گھڑی سست ہو گئی۔ ڈاک دیر سے آئی۔ سہ پہر کو ٹھنڈبڑھ گئی۔ بلی نے اس کے کوٹ کو چاٹا،کرسی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور دراز میں سو گئی جو بند نہیں ہوتا تھا۔
میں ایک کمرے میں گئی تو مجھے اپنی جلد میں کپکپی محسوس ہوئی اور پھر وہ تحلیل ہو گئی۔میں نے موم بتی جلائی اور کسی چیز کو حرکت کرتے دیکھا۔مجھے پتا چلا کہ وہ سایہ میرا اپنے ہی ہاتھ کا ہو سکتا ہے۔ میں نے اپنے آپ کو ایک چیز کے طور پر محسوس کیا۔ ہوا تند تھی، گھر ہلنے لگا، مچ گئی، پھول دار پودے پھلنے پھولنے لگے ہیں۔ ممالیہ جیسے رینگنے والے جانور ختم ہو گئے۔ (کیا جنت اوپر ہے؟ کیا جہنم نیچے ہے؟ کیا میمنا اب بھی مسکین ہے؟ کیا شیر دھاڑتا ہے؟ کیا ندیاں شفاف بہہ رہی ہیں؟ کیا ہم بعد میں ایک دوسرے کو گہرا بوسہ دیں گے؟)جزیرہ نما میں اب بھی کچھ قدیم بحری جہاز لنگر انداز ہیں، کھیت میں بیل ساکت کھڑا ہے، گاؤں میں تیندوا اپنے شکار کا تعاقب کرتا ہے۔۔۔۔۔
……
مکمل افسانچے کے مطالعے کے لیے: تراجم عالمی ادب
https://translationstraajim.com/.../ghar-sy-khat-by.../

ارجنٹائنی ناول (پہلا حصہ)ایک فطرت نگار مصور کی زندگی کا بابسیزر ایئرا(César Aira)ترجمہ:  منیر فیاضوہ  انفرادی تصاویر کو ...
27/03/2026

ارجنٹائنی ناول (پہلا حصہ)

ایک فطرت نگار مصور کی زندگی کا باب
سیزر ایئرا
(César Aira)
ترجمہ: منیر فیاض

وہ انفرادی تصاویر کو علمی علامتوں کی شکل میں تخلیق کرنے کی بجائے انھیں ایک بڑے پس منظر میں یکجا اور مربوط کرتا، جس کے لیے فطرت ایک نمونے کے طور پہ سامنے ہوتی۔ پھر اس جغرافیائی فن کار نے فطرت کی ہیئت کو اس طرح عکس بند کیا (ہمبولٹ نے یہ خیال لاواتر سے ادھار لیا تھا) کہ اس نے ان کی نمایاں ہیئتی خصوصیات کا، جنھیں وہ فطری سائنس کے مطالعے سے پہچاننے میں کامیاب ہوا تھا، انتخاب کیا۔ تصاویر میں ہیئتی عناصر کی دقیق ترتیب مشاہدہ کار کی حسیت سے آگاہ کرتی تھی۔ جس نے تصاویر کو انفرادی خدو خال کی بجائے ایک نظام کے تحت یوں باہم مربوط کیا جیسے وہ کسی الہامی طاقت کے زیرِ اثر ہو: ماحول، تاریخ، رسوم، معیشت، نسل، نباتات، باغات، بارش، ہوائیں— اس سب کی کلید’خود روئی‘تھی۔
اس کے لیے نباتاتی عناصراہم ترین تھے۔ اور اس ہیئتی منظر نگاری کے لیے ہمبولٹ حارائی خطوں میں گیا جو نباتات کی تنوع اور نشوو نما میں یورپ سے کسی بھی تقابل کے بغیرکہیں برتر تھے۔ وہ کئی سال ایشیا اور امریکہ کے حارائی خطوں میں رہا اور ان فنکاروں کی حوصلہ افزائی کی جو اس کے اسلوب پر چل رہے تھے۔ اس نے اپنا ایک حلقہ قائم کر لیا جس نے یورپ میں ان کم معروف خطوں کے بارے میں تجسس پیدا کیا اور سفری مصوروں کے کام کے لیے مارکیٹ بنائی۔
ہمبولٹ نوجوان رگینڈاس کی بہت قدر کرتاتھا اور اسے ’’فطرت کی ہیئتی تصویر کاری کا باوا آدم‘‘ کہتا تھا۔ یہ ایک ایسی تعریف تھی جس پر وہ خودبھی پورا اترتا تھا۔ اس نے مصور کے دوسرے سفر میں مشیر کا کردار ادا کیا اور جس اکلوتے نکتے پر ان کا اختلاف ہوا وہ ارجنٹائنا کو اپنے سفری منصوبے میں شامل کرنا تھا۔
ہمبولٹ نہیں چاہتاتھا کہ اس کا شاگرد جنوبی حارائی منطقے میں اپنی توانائی ضائع کرے۔ اور اپنے خطوط میں اس نے ایسی نصیحتیں کیں:
’’اپنی صلاحیت کااسراف مت کرو۔ فطرت میں موجود حقیقی معنوں میں غیرمعمولی چیزوں کی تصویر کاری تمھارے لیے مناسب ہے۔ جیسا کہ برف پوش چوٹیاں؛ بانس؛ حارائی جنگل کے شگوفے؛ ایک نباتی نوع کے گروہ کی مختلف عمریں؛ فلیشا؛ لاتانیا؛ کھجور کے جھنڈ؛ بانس؛ بیلنی دھتورے سرخ پھلوں والی مغنیہ؛ لمبی شاخوں اور چوڑے پتوں والا املتاس؛ جھاڑی کی جسامت کا دستی شکل کے پتوں والاپارس پیپل؛ بالخصوص تولوکا میں ہاتھ کی ساخت والامیکسیکن پودا؛ میکسیکو شہر کے نواح میں پایا جانے والاہزار سال پرانا صنوبر؛ اشنھ کی وہ نوع جو درختوں کے تنوں پر نمودار ہونے والے کائی زدہ ابھاروں پر پھول کھلاتی ہے جس کے اردگرد ڈنڈروبین کے ابھار ہوتے ہیں۔
’’اشنھ کے پھولوں سے ڈھکی ہوئی مہاگنی کی شکستہ شاخیں اور بیلیں؛ بانس کے خاندان کی گھاس جو بیس سے تیس فٹ تک بلند ہوتی ہے؛ شہتوت کی انواع؛ زہریلی امر بیل؛ تنبے کے پُر بار درخت؛ کوکو کا ایسا درخت جس کی جڑوں سے پھول نکل رہے ہوں؛ سرو کا سدا بہار درخت جو چار فٹ لمبا ہو اور جس کی شاخیں تختوں یا ڈھیرکی شکل میں ایک دوسرے کے اوپر ہوں؛ ایسے پتھرجوبحری خشب سے اٹے ہوں؛ پانی میں تیرتے آبی سوسن کے نیلے پھول؛ پہاڑ کی بلند چوٹی پر کھڑے ہو کر حارائی جنگل کا نظارہ ایسے نکتۂ اتصال سے جہاں سے صرف پھل دار درختوں کے کشادہ تاج نظر آتے ہوں۔ اور جہاں سے کھجور کے درختوں کے عریاں تنے عمارتی ستونوں کی طرح بلند ہو رہے ہوں، جیسے ایک جنگل کے اوپر دوسرا جنگل ہو؛ کیلے اور ہیلی کون کی مختلف مادی ہیئتیں— ‘‘
ایسے بنیادی اجسام کی کثرت جو کسی فطری منظر نامے کی وضاحت کر سکیں صرف حارائی علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔
جہاں تک نباتات کا تعلق ہے ہمبولٹ نے انھیں انیس اشکال تک محدود کر دیا تھا۔ انیس ہیئتی اقسام جن کا لینیئس کی نباتاتی تقسیم سے کوئی تعلق نہیں تھا او ر جو تجرید اور انفراد کے کم ترین اختلاف پر اساس کرتی ہیں۔ وہ ماہرِ نباتات نہیں تھا بلکہ فطرت کا ایسا مصور تھا جو زندگی کی تمام شکلوں میں افزائش اور بالیدگی کے عمل کا مشاہدہ حساسیت کے ساتھ کرتا تھا۔ اس نظام نے مصوری کے اس’روزمرہ‘ کی بنیاد فراہم کی رگینڈاس جس کا ماہر تھا۔

۔۔۔۔۔
ناول کے پہلے حصے کے مطالعے کے لیے:

https://translationstraajim.com/fusun-karian/novel/pehla-hissa-aik-fitrat-nigar-musawir-ki-zindgi-ka-baab-by-cesar-aira-urdu-translation/

وہی نام سارے… ناول کا بابحوزے سارا ماگو (Jose Saramago)( نوبیل انعام برائے ادب ۱۹۹۸ء)ترجمہ: خالد فتح محمدتین دنوں کے بجا...
27/03/2026

وہی نام سارے… ناول کا باب

حوزے سارا ماگو (Jose Saramago)
( نوبیل انعام برائے ادب ۱۹۹۸ء)

ترجمہ: خالد فتح محمد

تین دنوں کے بجائے جناب حوزے کے بُخار کو اور کھانسی کو ٹھیک ہونے میں پورا ہفتہ لگا۔نرس روزانہ اُسے ٹیکہ لگانے اور کچھ کھانے کے لیے لے کر آتا،ڈاکٹر ایک دِن کے وقفے کے بعد آتا لیکن اِسے ڈاکٹر کااحساسِ ذمہ داری نہیں کہا جاسکتااور نہ ہی محکمہ صحت کے حکام کی کسی تخیلاتی فوری نتیجے میں عمدہ کارروائی پر مامور کیا جاسکتاہے کیوں کہ یہ رجسٹری کے سربراہ کی طرف سے واضح حکم تھا،ڈاکٹر،اِس مریض کا ایسے علاج کرو جیسے کہ تم میرا کررہے ہو،وہ ایک اہم آدمی ہے،ڈاکٹر کو اِس خصوصی توجہ کی وجہ جو اُسے دی جارہی تھی سمجھ میں نہیں آئی اور کیے گئے فیصلے میں معروضیت کی کمی تھی،وہ پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں کئی بار ڈائریکٹر کے گھر گیاتھا،اور اُس نے اُس کازندگی کرنے کا مہذب انداز دیکھا تھا،ایک باطنی دنیا جس کا اِس جاہل قسم کے ،جو داڑھی بھی وقت پر نہیں مونڈتا،کوئی تعلق نہیں،اتنا جاہل کہ اُس نے بستر کی چادر بھی نہیں بدلی۔جناب حوزے کے پاس بستر کی فالتو چادر یں تھیں،وہ اِتنا غریب بھی نہیں تھا،لیکن اُسے خود بھی وجہ معلوم نہیں تھی،اُس نے نرس کی گدے کو دھوپ لگوانے اور بستر کی چادر جن میں پسینے اور بخار کی بدبو تھی،تبدیل کرنے کی پیش کش ردّ کر دی۔صرف پانچ منٹ میں بستر نئے جیسا لگے گا۔ میری فکر مت کرو، میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔ جناب حوزے کسی کو یہ نہیں بتا سکتاتھاکہ گدے اور پلنگ کے درمیان میں اُس نے کسی اجنبی عورت کا ریکارڈ اور ایک نوٹ بُک رکھی ہوئی ہے جس میں اُس سکول میں غیر قانونی طور پر گھسنے کی کہانی ہے جہاں جب وہ بچی اور بعد میں ایک جوان لڑکی تھی، پڑھا کرتی تھی۔اُنھیں کہیں اور رکھنا،مثال کے طور پر اُن فائلوں میں رکھ دینا جن میں اُس نے مشہور لوگوں کے تراشے رکھے ہوئے تھے، فوری طور پر مسئلے کو حل کر دے گا،لیکن ایک راز کی اپنے جسم کے ساتھ حفاظت کرنا خاصا اہم اور سنسنی خیز تھا اور جناب حوزے کے لیے یہ نہ کرنا خاصا مشکل تھا۔نرس اور ڈکٹر کے ساتھ اِس مسئلے پر تبادلہ ٔ خیال نہ کرنا پڑے،جب کہ وہ شکن زدہ چادروں کو تنقیدی نظر سے دیکھ چکے تھے اور ڈاکٹر نے بو پر ناک بھوں بھی چڑھائی تھی۔جناب حوزے ایک رات اُٹھا اور اُس نے ہمت کرکے بستر کی چادریں تبدیل کیں۔یہ اُس نے اِس لیے کیا کہ ڈاکٹر یا نرس کو اِس موضوع کو اُٹھانے موقع نہ ملے اور کسی وقت وہ ڈائریکٹر کو کلرک کی ناقابل ِ اصلاح ہائیجینی کمی کی اطلاع دے دیں،وہ غسل خانے میں گیا اور داڑھی مونڈی، اچھی طرح سے منہ دھویااور پرانا مگر صاف قمیص اور پائجامہ اوربستر پر جاکے لیٹ گیا۔وہ اپنے آپ کو خوش اور صحت مند محسوس کر رہاتھا،جیسے کوئی اپنے آپ سے آنکھ مچولی کھیل رہا ہو،اُس نے نوٹ بک میں اپنی اُن ہائیجینی تیاریوں اور علاج کے جس عمل میں سے وہ گزرا تھا کو تفصیلاً لکھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ رو بہ صحت ہو رہاتھا جیسا کہ ڈاکٹر نے رجسٹرار کو بتایا،آدمی صحت یاب ہوچکا ہے، بیماری کے دوبارہ حملہ آور ہونے کا کوئی خطرہ نہیں، اور وہ دو روز کے بعد کام پر واپس جا سکتا ہے۔رجسٹرار نے صرف اچھا کہا،جیسے وہ کچھ اور سوچ رہا ہو۔…….

مکمل باب کے مطالعے کے لیے: تراجم عالمی ادب

https://translationstraajim.com/fusun-karian/novel-ka-baab/wohi-naam-saaray/

Address

Bahawalnagar
62300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تراجم عالمی ادب posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to تراجم عالمی ادب:

Share