Iftikhar LAW Associates

Iftikhar    LAW  Associates We provide legal assistance , guidance & support in family issues ,civil , criminal , human

26/03/2026

For new comers

آدھار دی گئ رقم واپس نہ ملنے پر ایف آئی آر نہیں ہو گی۔ ایف آئی آر خارج

2025SCMR1117.

آدھار دی ہوئی رقم406 کے زمرے میں نہیں آتی ،ایف آئی آر خارج

2025SCMR1117.

21/03/2026

On this auspicious occasion of Eid, I extend my sincerest felicitations and warmest greetings to all my colleagues, friends, and their families. May Allah accept our prayers and virtues, and continually guide us on the righteous path.

07/02/2026
07/02/2026

Iftikhar Law Associates
Provide legal assistance and gaudiness in all over Pakistan
Contact No.+92-331-5701963

01/10/2025

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان کا کم عمری کی شادی سے متعلق کیس میں 24 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 15 سالہ لڑکی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ کم عمری کی شادی شریعت میں باطل نہیں، مگر قانون کے تحت جرم ہے، مدیحہ بی بی نے عدالت میں دیے گئے بیان میں والدین کے پاس نا جانے اور شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی ، کرائسز سنٹر میں قیام کے دوران بھی لڑکی نے اپنی مرضی سے شوہر کے ساتھ رہنے کا کہا، اگرچہ شریعت کے مطابق بلوغت اور رضامندی کے بعد نکاح درست ہے۔

عدالت کا کہنا تھا اسلام آباد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے تحت 18 سال سے کم عمر میں شادی جرم ہے، نکاح نامے میں دلہن کی عمر تقریباً 18 سال درج کی گئی جبکہ نادرا ریکارڈ کے مطابق عمر 15 سال ہے۔

عدالتی فیصلے میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929، مسلم فیملی لاز آرڈی نینس 1961 کے حوالہ جات شامل کیے گئے اور کہا اسلام آباد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے تحت 18 سال سے کم عمری کی شادی جرم ہے۔

عدالت نے فیصلے میں سفارشات دیتے ہوئے اس کی کاپی تمام متعلقہ وزارتوں اور فیملی کورٹس ججز کو بھجوانے کی ہدایت کی۔

عدالت نے فیصلے میں سفارش کی کہ شادی، نابالغی اور فوجداری قوانین میں ہم آہنگی پیدا کی جائے،نکاح رجسٹراروں کو پابند کیا جائے کہ وہ 18 سال سے کم عمر کی شادی رجسٹرڈ نہ کریں، نادرا کے سسٹم کو اس طرح بہتر بنایا جائے کہ عمر کی تصدیق کے بغیر نکاح نامہ جاری نہ ہو۔

فیصلے میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ کم عمری کی شادی کے نقصانات سے بچا جا سکے۔

عدالت نے لکھا کہ فیصلے کی کاپی لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان ، وزارت قانون اور وزارت انسانی حقوق کو بھجوائی جائے، وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، ڈی جی نادرا اور سیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی فیصلے کی کاپی بھجوائی جائے۔
Whether the case of child marriage would fall within the definition of Sections 375 and 377A, P.P.C. thereby constituting "r**e"?

The consistent judicial position has been that a Muslim girl, who has attained puberty and freely consents to marriage, has the right to contract marriage, even if under sixteen years of age. These precedents clearly hold that while such a marriage may amount to an offence under the CMRA, 1929, it does not render the marriage invalid, nor can consummation within such a marriage be treated as “r**e” under Section 375 of the Penal Code. The element of lawful relationship and consent within marriage fundamentally distinguishes such cases from exploitative acts that Sections 375 and 377A PPC were designed to penalize.
W.P. NO. 2494 OF 2025
MUHAMMAD RIAZ VS LEARNED DISTRICT & SESSIONS JUDGE, (EAST) ISLAMABAD, ETC.

05/04/2025

To establish “Talb-e-Ishhad”, four formalities; (a) written notice (b) attested by two truthful witnesses (c) sent under registered cover (d) acknowledgement due, if facility of post office is available as in present case are to be fulfilled being mandatory provision of law . Plaintiff had also to prove through solid evidence that notice was personally served upon the vendee.
CR No.516/D of 2022
Ghulam Hussain (deceased) through LRs. etc
19-02-2025
2025 LHC 558

01/04/2025

غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ رکھنے والا انصاف کیسے لے سکتا ہے؟ – سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے (2023 PLD 506 Supreme Court) میں یہ اصول وضع کیا گیا کہ اگر کسی غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے حامل شخص کو جائیداد کا قبضہ بھی دیا جا چکا ہو، تو وہ اپنے حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے۔ درج ذیل نکات اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:

1. قبضہ کی موجودگی

اگر غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے تحت جائیداد کا قبضہ خریدار کو دیا جا چکا ہو، تو وہ سیکشن 53-A، ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882 کے تحت اپنی ملکیت کا تحفظ کر سکتا ہے۔

اس شق کے تحت اگر فروخت کنندہ نے جائیداد منتقل کر دی ہو، تو وہ بعد میں معاہدے سے انحراف نہیں کر سکتا۔

2. عدالتی تحفظ

اگر فروخت کنندہ یا کوئی اور فریق غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کو چیلنج کرے، تو خریدار ثبوت کے ساتھ عدالت میں مؤقف پیش کر سکتا ہے کہ اسے مکمل قیمت ادا کرنے کے بعد قبضہ دیا گیا تھا۔

عدالت ایسے معاملات میں رجسٹریشن کے تکنیکی معاملے پر نہیں بلکہ انصاف کے اصولوں پر فیصلہ کر سکتی ہے۔

3. رجسٹریشن کا متبادل

اگر رجسٹریشن ممکن نہ ہو، تو خریدار عدالت میں ڈیکلریٹری سوٹ (Suit for Declaration) دائر کر سکتا ہے تاکہ جائیداد کے مالکانہ حقوق کو تسلیم کرایا جا سکے۔

ریونیو ریکارڈ میں اپنا نام درج کروانے کے لیے بھی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

4. فروخت کنندہ کے بیانات

اگر فروخت کنندہ نے عدالت میں تسلیم کر لیا ہو کہ اس نے جائیداد فروخت کی تھی اور قیمت وصول کر لی تھی، تو یہ غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے حق میں ایک مضبوط ثبوت بن سکتا ہے۔

5. رجسٹریشن ایکٹ کی استثنیٰ شقیں

بعض مخصوص حالات میں غیر رجسٹرڈ معاہدہ بھی قانونی تحفظ حاصل کر سکتا ہے، خاص طور پر جب فروخت کنندہ نے جان بوجھ کر رجسٹریشن سے گریز کیا ہو۔

نتیجہ

سپریم کورٹ کے فیصلے میں واضح کیا گیا کہ اگر خریدار کے پاس غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ساتھ قبضہ بھی موجود ہو، تو وہ قانونی طریقوں سے اپنے حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے۔ تاہم، بہتر یہی ہے کہ ہر پراپرٹی ٹرانزیکشن کو رجسٹرڈ کرایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

Address

District Courts Attock
Attock
43600

Opening Hours

09:00 - 17:00

Telephone

+923315701963

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Iftikhar LAW Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Iftikhar LAW Associates:

Share