05/10/2025
لگتا ہے کہ اک صاحب کردار تمہی ہو
بر حرف ستائش کے بھی حقدار تمہی ہو
اس قوم کی جانب سے کیا فرض کفایه
ے
خوف نڈر صاحب اسرار تمہی ہو
کس شان سے چلتے ہو تم مقتل کی فضا میں،
حیدر کی سناں، سعد کی تلوار تمہی ہو
لرزاں ہے دلیری پہ نیزه یزیدی
اس دور میں شبیر کا انکار تمہی ہو
مشتاق تیرے نام کو تاریخ لکھے گی،
بے بس کے لیے سچے عزادار تمہی ہو۔
صائمہ کامران