Attock Development Programme (ADP)

Attock Development Programme (ADP) it is about creating your own fate

15/07/2024

#موٹروے اور #درخت

اگر موٹر وے "ون "جو پشاور سے اسلام باد تک ہے اس کے گرد #سفیدے ماحول دشمن درخت کاٹ کر
آڑو, زیتون, انار, کالی مرچ, اور سیب وغیرہ
کے پودے لگا دیے جائیں جن کے لئے وہاں کی آب و ہوا ساز گار ہے تو کتنی خوبصورتی ہوگی اور کتنا زیادہ فروٹ بھی حاصل ہوجائے گا.

اسی طرح موٹروے" ٹو" پہ اسلام آباد سے کلر کہار تک صنوبر اور لوکاٹ بڑا زبردست ہو سکتا....

لِلہ سے لے کر بھیرہ تک بیری کا درخت بہت کامیاب ہے.....

اسی پہ بھیرہ سے لے کر پنڈی بھٹیاں تک مسمی, کنو, سنگترہ اور گریٹ فروٹ بہت کامیاب ریے گا.

پنڈی بھٹیاں سے لاہور تک امرود, فالسہ, لیچی, انگور اور جامن بہترین پرورش پا سکتے.

موٹروے" تھری" پہ پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد اور موٹروے "فور" پہ لاہور سے عبدالحکیم اور فیصل آباد سے عبدالحکیم پہ بھی امرود, آم, جامن, فالسہ ,بیری اور شہتوت وغیرہ کامیاب پودے رہیں گے.

موٹروے" فائیو "ملتان سے سکھر پہ بھی بہت اعلٰی اقسام کےکھجور اور آم کے درخت لگائے جا سکتے, جیسے کہ آپ کو پتہ ہوگا آم پھلوں کا بادشاہ ہے اور اس کی 100 سے زیادہ اقسام ہیں لہذا اس پہ یہ ساری اقسام لگائی جا سکتی ہیں.

اور یہی کام ملک بھر کی ریلوے لائنز کے دونوں اطراف کیا جا سکتا ھے.....لیکن منصوبہ ساز کبھی اس طرف نہیں سوچتے کیونکہ انہیں ملک لوٹنے کی پڑی ھے.

اب دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کی ان پھل دار پودوں کی نگہداشت کون کرے گا تو اس کے لئے مالی بھی رکھے جا سکتے ہیں, یا پھر باغات ٹھیکے پر دئیے جا سکتے ہیں اس طرح ملک پہ بوجھ بھی نہیں بنے گا الٹا یہ پھل دار درخت گورنمنٹ کو منافع دیں گے. اور ہزاروں لوگوں کو روز گار ملے گا.

اور مزید برآں پھل پورے ملک میں سستا ھو جائے گا اور پھر حکومت اسے ایکسپورٹ بھی کر سکتی ھے۔

اگر یہ بات پسند آئے تو اس کو زیادہ سے زیادہ شئیر کردیں

30/06/2024

یہ ایک لڑکی کی آپ بیتی ہے۔ ان کی اجازت سے اس لیے بیان کر رہا ہوں کہ شاید کوئی لڑکی سنبھل جائے۔ والدین کی اکلوتی ذرا نازوں سے پلی، ابو شروع سے ہی کہتے تھے کہ ایسے لاڈ نہ کیا کرو اس سے کہ جو کل کو اس کے لیے پریشانی کا باعث بنیں لیکن امی اپنی ناک کے نیچے ساری ضدیں پوری کیا کرتیں اور ابو کو خبر نہ ہوتی، جس کام کو ابو منع کرتے امی خاموشی سے اجازت دے دیتیں اور میں کر لیتی۔

انٹر کے بعد شادی ہوگئی، بیس سال کی عمر میں۔ اچھا پڑھا لکھا رشتہ تھا کھاتا کماتا۔ ابو نے چھان بین کر کے بیاہ دیا۔ امی راضی نہیں تھیں کہ ابھی اور اچھے رشتے آئیں گے ذرا انتظار کریں خیر ابو نے خاندان کے بڑوں کو شامل کر کے امی کو منوا لیا اور پھر میری بھی رضا تھی کہ چلو لڑکا پیسے والا بھی یے اور ہینڈسم بھی ہے۔

میں چونکہ بہت نازوں میں پلی تھی تو برداشت بہت کم تھی۔ تربیت کسی قسم کی کچھ تھی نہیں۔ میں نے اپنے شوہر کی باتیں امی کو بتانی شروع کر دیں۔ ذرا ذرا سی باتیں شکایت کی صورت میں بتانے لگی امی چونکہ خود یہ کام کرتی رہی تھیں اس لیے مزے لے لے کر سنتیں اور پھر الٹے سیدھے مشورے دیتیں۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہوگیا لیکن میرا یہی حال رہا۔ ایک دو بار میاں نے سختی کرنے کی کوشش کی تو میں بیماری کا ڈھونگ رچا کر میکے چلی گئی۔ ابو نے بہت سمجھایا سختی کی تو واپس آگئی لیکن عادت سے مجبور تھی سو وہ ہی سب کیا کہ غلطیاں کر کے سینہ چوڑا کر کے بدتمیزی کرنا اور اپنی غلطی نہ ماننا۔۔۔۔ میاں نے بھی پیار سے سمجھا کر ہر طرح کوشش کی کہ میں سدھر جاوں لیکن اس وقت مجھے یہ شخص دنیا کا سب سے برا آدمی لگتا تھا۔

ابو نے ڈانٹ کر پیار سے، ہاتھ جوڑ کر ہر طرح سمجھایا کہ بیٹا اپنا گھر آباد رکھو ایسا نہ کرو لیکن میری والدہ کی طرف سے ملنے والی ٹیوشن نے آخر کار وہ سیاہ دن دیکھا ہی دیا۔ کچھ دن سے شوہر سے ان بن چل رہی تھی۔ امی سے روز سبق لے رہی تھی میں بس صبح ہی صبح ذرا سی بات کا میں نے پتنگڑ بنایا جیسا کہ میں اکثر کیا کرتی تھی اور دس سال کی بھڑاس میرے میاں کے منہ سے طلاق کے تین لفظوں کی صورت میں نکل گئی۔

میں نے کال کر کے ابو کو کہا کہ لڑائی ہو گئی ہے آکر لے جائیں اس وقت طلاق کا نہیں بتایا تھا کیوں کہ مجھے پتا تھا کہ ابو کے لیے یہ بہٹ بڑا صدمہ ہوگا۔ ابو گھر میں آتے ہی میرے میاں سے کہنے لگے کہ اس کی طرف سے مجھے معافی مانگنے دو بیٹا مجھے پتا ہے میری بیٹی کی غلطی ہے کیوں کہ ایسی لڑائیاں میں اکثر کرتی رہتی تھی۔ میرے میاں نے بہت تحمل سے ابو کو طلاق کا بتا دیا۔ ابو نے کہا کہ مجھے رکشہ کروا دو میں اسے گھر لے جاؤں میرے شوہر نے کہا کہ نہیں آپ گاڑی میں جائیں۔

اصرار کر کے ابو سے معافی مانگ کر گاڑی ڈرائیور کے ساتھ ہمیں چھوڑنے کے لیے بھیج دی۔ ابو گاڑی میں بلکل خاموش رہے گھر میں آتے ہی امی سے کہا لو تمھاری بیٹی کو صلہ مل گیا ہے اس کے کیے کا، اب تمھیں بھی یہ انعام ملنا چاہیے اور امی کو اسی وقت طلاق دے دی۔ مجھے نہیں پتا کہ ابو نے غلط کیا یا صحیح لیکن ابو کی حالت ایسی تھی کہ مجھ سے دیکھا نہیں جا رہا تھا۔ تم دونوں ماں بیٹی کو طلاق مبارک، اب ساتھ بیٹھ کر عدت کرنا (ابو نے اس وقت باقاعدہ تالیاں بجا کر کہا۔ شاید وہ اس وقت شدید زہنی دباؤ میں تھے) ابو یہ کہہ کر باہر چلے گئے۔ پھر چار دن ہوگئے ابو واپس نہیں آئے۔ ہم ڈھونڈتے رہے کہاں کی عدت اور کیسی عدت بس ابو کو ہر جگہ ڈھونڈا کہیں نہیں ملے۔ خاندان والوں کی باتیں الگ اور ابو کی گمشدگی الگ۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔

پانچویں دن جمعے کی نماز کے وقت میرے موبائل پر تایا ذاد کی کال آئی کہ چچا مل گئے ہیں میں گھر لا رہا ہوں ان کو۔ میری کچھ سانس میں سانس آئی۔ ابو آئے تو مگر ایدھی کی ایمبولینس میں کفن میں لپٹے ہوئے پانچ دن ابو کہاں رہے نہیں معلوم بس ایدھی والوں کا کہنا تھا کہ یہ صاحب فٹھ پاتھ پر پڑے ملے تھے۔ نہ کوئی زخم نہ چوٹ کا نشان ابو کا دل بند ہونے سے ان کی موت ہوئی تھی اور آپ کو پتا ہے عثمان صاحب کہ ان کا دل میں نے اور امی نے مل کر بند کیا ہے۔ اس چھتیس سالہ لڑکی کا یہ جملہ میرے دل پر گھونسے کی طرح لگا۔

پھر کہتی ہے کہ ابو نے ہمارے لیے گھر چھوڑا جو کہ وہ پہلے ہی امی کے نام کر چکے تھے۔ اوپر والا پورشن ہم نے کرائے پر اٹھا دیا، ابو کی پینشن بھی آتی ہے، کسی سے مانگنے کی ضرورت نہیں پڑی، سفید پوشی میں اچھے سے گزارا ہو رہا ہے۔ ددھیال والے ہم سے ملتے نہیں ہیں کہتے کہ تم دونوں ہمارے بھائی کی موت کا سبب ہو، میرے تین میں سے دو بڑے بچے اپنی مرضی سے اپنے باپ کے پاس جا چکے ہیں۔ باقاعدہ لڑ کر گئے ہیں۔ ملنے بھی نہیں آتے، چھوٹے والا ابھی تین سال کا ہے تو وہ میرے پاس ہے مگر مجھے پتا ہے کہ وہ بھی چلا جائے گا۔

امی ابھی تک ویسی ہی ہیں۔ ابو کو بہت کوستی ہیں۔ اب میری اور امی کے گھمسان کے معرکے ہوتے ہیں۔ میں کہتی ہوں کے اگر ابو نے آپ کو پہلے ہی طلاق دے دی ہوتی تو آج مجھے طلاق نہ ہوتی۔ کھانے پینے کو سب ملتا ہے، رہنے کو سر پر چھت ہے مگر اب سکون نہیں ہے۔ ابو کا چہرہ دماغ میں گھومتا رہتا ہے۔ اپنا شوہر بھی یاد آتا ہے۔ وہ برا نہیں تھا میری تربیت بری تھی۔ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں ساری غلطی امی کی کیوں بتا رہی ہوں۔ میں تو بالغ تھی سب دیکھ اور سمجھ رہی تھی آخر کیوں امی کی باتوں میں آگئی، آپ بتائیں جس لڑکی کی تربیت ہی ایسی ہوئی ہو۔ میں نے ساری زندگی امی کو نانی سے یہی باتیں کرتے دیکھا تھا۔ بس نانی یہ کہتی تھیں دیکھو کچھ بھی ہو طلاق مت لینا تو امی طلاق کی نوبت نہیں آنے دیتی تھیں کچھ ابو بھی چپ ہو جاتے تھے، ہر کسی کے صبر کا پیمانہ ایک نہیں ہوتا۔ میرے شوہر نیک فطرت کے تھے لیکن بس اس دن ان کا پیمانہ چھلک گیا۔ میں نے ان کو اس حد تک پریشان کیا کہ آخر نوبت یہاں تک آگئی۔ امی یہی کہتی تھیں کہ تمھاری شادی ہی غلط شخص سے ہوئی ہے۔ بس یہ بات میرے ذہن میں بیٹھ گئی تھی۔ ان کی اچھائی بھی برائی ہی لگتی تھی۔ میں آپ کے پاس اس لیے آئی ہوں کہ اب مجھے نیند نہیں آتی میں چوبیس میں سے بمشکل دو گھنٹے سو پاتی ہوں۔ آپ بتائیں کیا ابو کی جان لے کر اور اپنا گھر تباہ کر کے مجھے نیند آنی چاہیے؟

اس آب بیتی کو آپ سب کے سامنے رکھنے کا بس ایک مقصد ہے کہ تربیت پر کام کریں اور بہت ذیادہ کریں۔ عورت بطور ماں گیم چینجر بن سکتی ہے، کون غلط ہے کون صحیح اس بحث میں جانے کی بجائے تربیت اولاد اور خود اپنا احتساب کریں۔ اولاد کے سامنے ہر وقت رونے مت روئیں۔ مظلوم بننے کی سوچ سے باہر آجائیں اور شادی شدہ بیٹیوں پر رحم کریں۔ ان کے کچن میں بیڈروم میں ان کے ذہن میں گھسنے کی کوشش نہ کریں۔ بیٹیوں کو بھڑکانے کی پالیسی ختم کر دیں۔ ماں کی بہت زیادہ مداخلت بیٹیوں کے گھر اجاڑنے کا ایک اہم سبب ہے۔

آپ نہایت سلجھی ہوئی باشعور خواتین ہیں اسی لیے مجھے امید ہے کہ کسی بھی قسم کے فیمنزم کا چشمہ لگائے بغیر اس تحریر کو پڑھ کر سبق حاصل کریں گی....
منقول

30/06/2024

" ایک تفریحی بحری جہاز سمندر میں حادثے کا شکار ہو گیا، جہاز پر ایک میاں بیوی کا جوڑا بھی سوار تھا، لائف بوٹ کی طرف جانے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اس میں صرف ایک شخص کی گنجائش باقی ہے۔
اس وقت اس شخص نے عورت کو اپنے پیچھے دھکیل دیا اور خود لائف بوٹ پر چھلانگ لگا دی۔
خاتون نے ڈوبتے ہوئے جہاز پر کھڑے ہو کر اپنے شوہر سے ایک جملہ کہا۔
یہاں استانی نے توقف کیا اور پوچھا، "آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ وہ کیا بات چلائی تھی؟"
زیادہ تر طلباء نے پرجوش ہو کر جواب دیا، "میں تم سے نفرت کرتی ہوں! میں اب تک اندھی تھی!"
اب استانی نے ایک لڑکے کو دیکھا جو اس تمام تر قصے کے دوران خاموش رہا تھا، استانی نے اسے جواب دینے کے لیے کہا اور اس نے جواب دیا، "استانی صاحبہ، مجھے یقین ہے کہ وہ چیخی ہوگی - "ہمارے بچے کا خیال رکھنا!"
استانی نے حیرانی سے پوچھا کیا تم نے یہ کہانی پہلے سنی ہوئی ہے؟
لڑکے نے سر ہلایا، "نہیں، لیکن یہ بات میری ماں نے میرے والد کو بیماری سے مرنے سے پہلے کہی تھی"۔
استانی نے افسوس کرتے ہوئے کہا، "جواب صحیح ہے"۔
تفریحی بحری جہاز ڈوب گیا، وہ شخص بخیریت گھر پہنچ گیا اور اپنی بیٹی کو تن تنہا ہی پالا۔
اس شخص کی موت کے کئی سال بعد، ان کی بیٹی کو اپنا سامان صاف کرتے ہوئے والد کی ایک ڈائری ملی۔
اس ڈائری سے یہ راز آشکار ہوا کہ " جب اس کے والدین تفریحی جہاز پر گئے تھے، تو ماں کو پہلے سے ہی ایک لاعلاج بیماری کی تشخیص ہو چکی تھی.
اس نازک لمحے میں، باپ زندہ بچ جانے کے واحد موقع سے فائدہ اٹھا کر بھاگ نکلا۔
اس نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا، "میری کس قدر تمنا تھی کہ تمہارے ساتھ سمندر کی تہہ میں ڈوب مروں، لیکن اپنی بیٹی کی خاطر میں تمہیں ہمیشہ کے لیے سمندر کی گہرائیوں میں اکیلا رہنے کے لیے چھوڑ آیا ہوں"۔
کہانی ختم ہوئی، کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ -----------
دنیا میں اچھائی اور برائی کا وجود ہے، لیکن ان کے پیچھے بہت سی پچیدگیاں ہیں جن کو سمجھنا مشکل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیں کبھی بھی صرف سطحی حالات کو دیکھ کر اور دوسروں کو پہلے سمجھے بغیر فیصلہ صادر نہیں کرنا چاہئے۔
جو لوگ کھانے کا بل ادا کرنا پسند کرتے ہیں، وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ دولت مند ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ دوستی کو پیسے پر ترجیح دیتے ہیں۔
جو لوگ کام میں پہل کرتے ہیں وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ بیوقوف ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ ذمہ داری کے تصور کو سمجھتے ہیں۔
جو لوگ جھگڑے کے بعد پہلے معافی مانگتے ہیں وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ غلط ہیں بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی قدر کرتے ہیں۔
جو لوگ اکثر آپ کو میسج کرتے ہیں، ایسا اس لیے نہیں کرتے کہ ان کے پاس کرنے کے لیے کچھ بہتر کام نہیں ہے بلکہ اس لیے کہ آپ ان کے دل میں بستے ہیں۔
ایک دن ہم سب ایک دوسرے سے بچھڑ جائیں گے۔ ہم ہر موضوع اور موقع کے بارے میں گفتگو کو یاد کریں گے۔اور ان خوابوں کو جو ہم نے مل کر دیکھے تھے۔ دن، مہینے، سال گزرتے جائیں گے، یہاں تک کہ یہ رابطے نایاب ہو جائیں گے۔
ایک دن ہمارے بچے ہماری تصویریں دیکھیں گے اور پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں؟
اور ہم پوشیدہ آنسوؤں کے ساتھ مسکرائیں گے کیونکہ ایک مضبوط لفظ دل کو چھو لیتا ہے اور ہم کہیں گے: " یہ وہی تھے جن کے ساتھ ہم نے اپنی زندگی کے بہترین دن گزارے تھے "۔

انگریزی ادب سے لی گئی کہانی، یہ کہانی ہمارے معاشرے کی بھی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔
…..
منقول

25/02/2024

انگلینڈ کا ورک پرمٹ
بغیر منصوبہ بندی کے جانے والوں کی نظر
اس تحریر کا مدعا کسی کو بد دل کرنا،ڈی موٹیویٹ کرنا یا خوف زدہ کرنا نہیں،بلکہ پاکستان بیٹھے ساڑھے تین سو کی ضرب کے نام پہ ایجنٹوں کے ہاتھوں لُٹنے والوں کو خبردار کرنا ہے۔یہ تحریر صرف فراڈ ورک پرمٹ کے حوالے سے لکھی گئی ہے۔

میں کل بھی پاکستان چھوڑنے کے حق میں تھا،میں آج بھی اسی بات پہ قائم ہوں۔جوانی کے چند سال اس معاشرے یا نظام کو دیں جہاں آپکو آپکی محنت کا مول ملے،جہاں جگ راتوں کی قدر پڑے،جہاں کم از کم خواب دیکھنے کا حوصلہ تو پیدا ہو۔لیکن اس کا قطعاً مطلب یہ نہیں کہ آپ ہر اُس کہانی کا شکار ہوں جو ایجنٹ آپکو اپنے ہزار پاؤنڈ کے چکر میں سنائے۔
اس وقت برطانیہ میں “ورک پرمٹ” کا کام عروج پہ ہے۔دیسی لائینوں میں لگ کے ورک پرمٹ خرید رہے ہیں۔اپنے پلاٹ اور جائیدادیں بیچ کے اسی لاکھ سے کروڑ روپے تک لگا کہ پورے خاندان سمیت ولائیت شفٹ ہو رہے ہیں۔یہ کہانی یہاں آنے تک درست ہے،آپ نے ایجنٹ کو پیسے دئیے،اس نے ویزہ لگوا کے دے دیا،فئیر۔مسئلہ وہ وعدے اور لارے ہیں جو پاکستان میں آپ سے کیے گئے تھے۔وہ جھوٹ ہیں جو آپ سے بولے گئے،وہ کہانیاں ہیں جو آپکو سنائی گئیں،وہ “ساڈھے تِن سو “کی ضرب ہے جو آپکو بتائی گئی۔
ایجنٹ نے آپکو لارا لگایا تھا کہ آپکی ہاسپٹل،کئیر ہوم وغیرہ میں جاب پکی ہے۔اور آپکی پاکستانی سات لاکھ روپیہ تنخواہ بھی پکی ہوگی۔آپکا پارٹنر،میاں یا بیوی بھی نوکری کرے گی اور پانج لاکھ وہ بھی آرام سے کمائے گا/ گی۔سب سے بڑا فراڈ جو پاکستان میں کیا جاتا ہے وہ تنخواہ یا انکم کو پاکستانی کرنسی میں بتا کے کیا جاتا ہے۔میرے ورگے دیسی کو جب سات لاکھ آمدن سنائی دیتی ہے تو پھر اسے کُچھ اور سنائی نہیں دیتا۔
یہاں پہنچ کے اصل مسائل اس وقت شروع ہوتے ہیں جب آپ ہیتھرو ائیرپورٹ سے باہر نکلتے ہیں۔آپ بچوں سمیت ولائیت پہنچ چُکے ہیں اب آپ رہائش ڈھونڈیں گے اور تب تک آپ کسی رشتہ دار کے گھر ایک ڈربہ نما کمرے میں گزارہ کریں گے یا اگر آپ چند پیسے ساتھ لائے ہیں تو ائیر بی این بی کریں گے۔لندن اور ولائت کے باقی بڑے شہروں میں شدید رہائشی بحران ہے۔اول تو رہنے کو جگہ ملے گی نہیں،جو ملی تو مالکان منہ پھاڑ کے کرایہ مانگتے ہیں۔جیسے تیسے کر کے آپ اپنے گھر میں شفٹ ہوئے تو سمجھ آئی کہ سات لاکھ میں سے پانچ لاکھ تو آپکے گھر کا کرایہ نکل گیا ہے۔باقی کا دو لاکھ جو قریب پانچ سو پاؤنڈ بنے گا وہ آپکے بلز،سفری اخراجات اور کچن کے سامان کے لئیے بمشکل کافی ہو گا۔
آپکو پہلا دھچکہ یہ لگے گا کہ آپ سات لاکھ کما کے بھی ادھار پہ ہی چلیں گے۔اگلہ دھچکہ آپکو تب لگے گا جب آپکی “کمپنی” آپکو ملازمت سے انکار کرے گی۔اب آپکے پاس نہ ملازمت ہے،نہ تنخواہ،مگر خرچہ سات لاکھ ضرور ہے۔
ایسے میں آپکے پاس کیا آپشنز ہیں؟اگر آپ مین اپلیکنٹ تھے تو آپ کہیں دوسری جگہ قانونی طور پہ کام بھی نہیں کر سکتے۔کیش پہ کام کریں گے تو بارہ گھنٹے کی شفٹ کے ستر اسی پاؤنڈ ملیں گے اور امیگریشن کا خوف جہیز میں ملے گا۔آپ چھبیس دن بارہ گھنٹے کام کر کے بھی سات لاکھ نہیں بنا پائیں گے،لیکن مالک مکان آپ سے ہر یکم کو اپنا پانچ لاکھ طلب کرنے پہنچ جائے گا۔
اگر آپ مین اپلیکنٹ نہیں ہیں پھر آپ کام چلا لیں گی مگر کب تک؟دو چار چھ ماہ میں آپکی “کمپنی” بند ہو جائے گی،آپکا کیس ہوم آفس کو رپورٹ ہو جائے اور آپکو بال بچے سمیت انگلینڈ چھوڑنے کا حکم نامہ مل جائے گا۔
اگر آپکو یہ لگتا ہے کہ آپ یا آپکا ایجنٹ برطانوی نظام کو چکمہ دے رہا تو یہ آپکی بھول ہے۔آپ نہیں آتے،بلکہ آپکو لایا جاتا ہے یا کم از کم آنے دیا جاتا ہے۔برطانیہ کا جب من کرتا ہے وہ سکیمیں نکال کے لوگوں کو بلاتا ہے،لوگوں کی جمع پونجیاں ولائیت آتی ہیں،چھوٹے کاروبار کو سستی لیبر مل جاتی ہے اور ولائتی مارکیٹ کو کنزیومر مل جاتا ہے۔جیسے ہی معیشت کو کُچھ سہارا ملتا ہے تو پہلا کام یہ کیا جاتا ہے کہ ان سکیموں پہ آنے والوں کو واپس بھیجا جاتا ہے۔چند فیصد سمارٹ،خوش قسمت اور ریلیسٹک منصوبہ بندی کرنے والے بچ جاتے ہیں باقی سب بَلی چڑھا دئیے جاتے ہیں۔
ایسے میں آپ نے ایک کروڑ کی انوسمنٹ کے بدلے کیا حاصل کیا؟ڈپریشن اور بچوں کے ساتھ ذلالت؟میں کسی طرز بھی آپکو آنے سے نہیں روک رہا،مگر سوچ سمجھ کے،ریلیسٹک پلان کر کے آئیں۔یہ ذہن میں رکھ کے قدم اُٹھائیں کہ آپکا ویزہ محض برطانیہ کی انٹری ہے،نوے فیصد چانس یہ ہے کہ نوکری کی کہانی سنانے والا ایجنٹ آپ سے رنگ بازی کر رہا ہے۔اور اگر آپکی نوکری ہو بھی گئی تو سات لاکھ کا مطلب قریب دو ہزار پاؤنڈ ہے جس میں بیوی اور دو بچوں کے ساتھ آپ بمشکل گزارہ کر سکتے ہیں۔جتنا لندن میں ایک دن آپکے نوکری پہ آنے جانے کا کرایہ لگے گا اتنے میں آپ لاہور سے پنڈی ،بھیرہ سے برگر کھا کے پہنچ جائیں۔پاکستانی کرنسی میں سات لاکھ بننے کا مطلب یہ نہیں کہ ادھر تنخواہ بڑی ہے،بلکہ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ پاکستانی کرنسی ناکارہ ہے۔آپ دو ہزار پاؤنڈ میں پاکستان میں تو بادشاہوں جیسے رہ سکتے ہیں مگر لندن میں بس گزارہ کریں گے۔
آپ نے ولائت آنا ہے،جم جم آئیں،ست بسم اللہ۔مگر تیاری کر کے آئیں۔پلان کر کے آئیں۔حقیقت کو سوچ اور سمجھ کے آئیں۔ شروع میں آپکو رونا پڑے گا،سہنا پڑے گا۔گھومتی کرسی پہ بیٹھے پاور پوائنٹ کی سلائیڈز دیکھنے دیکھانے والے جب فوڈ ڈلیوری کرتے ہیں تو ایگو بہت بری طرح تباہ ہوتی ہے۔یہ سب کُچھ اور اس کے علاوہ بہت کُچھ سوچ کے آئیں۔
جی آیاں نوں۔
Copied

30/12/2023

مسئلہِ ختمِ نبوت اور باطنی فرقے!

تحریر و تحقیق:

مظفر احمد مظفر

خدائے رب العزت نے سرورِ کائنات، فخرِ موجودات، ۔ شافعِ محشر، ہادیِ کامل، ناصح اکبر رسولِ عربی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتٙم النبین بنا کر معبوث فرمایا اور رسالت و نبوت کا سلسلہ آپ پر تمام ہو گیا آپ کی پیش کردہ سیرت خدائے بزرگ و برتر کی آخری شریعت اور آخری قانونِ حیات قرار پائی اور قرآن مجید میں یہ اعلان صاف اور صریح رنگ میں بیان فرما دیا گیا یعنی!

" الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا " ( المائدہ: 3)

ترجمہ: "آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا تم پر اپنی نعمت :تمام: کر دی اور تمہارے لئے اسلام بطورِ دین پسند کیا"

اس آیتِ مبارکہ میں تین اہم امور کی خوشخبری دی گئی ہے یعنی اکمالِ دین / اتمامِ نعمت/ اور امتِ محمدیہ کے لئے دینِ اسلام کا انتخاب

اکمالِ دین:

اس کے معنی ترجمان القرآن حضرت عبد اللہ بن عباسؓ یوں بیان فرماتے ہیں " کہ دین کے تمام حدود و فرائض اور احکامات و آداب مکمل کر دیئے گئے اب اس میں کسی اضافہ یا زیادتی کی کوئ گنجائش باقی نہیں رہی اور نہ ہی اس میں ایسی کوئی کمی یا خامی ہے جسے دور کیا جائے یہ ہر اعتبار سے مکمل اور جامع ہے "

اتمامِ نعمت:

سے مراد یہی کہ اسلام بذاتِ خود ایک نعمتِ اعظمیٰ ہے اب اس سے بڑھ کر کوئی نعمت امتِ محمدیہ کے لئے نہیں آنے والی یعنی اس نعمت کو بھی تمام کر دیا گیا ہے

تیسری نعمت یہ کہ اللہ رب العزت نے اپنے تکوینی انتخاب کے ذریعے دینِ اسلام کو بطورِ دینِ آخر منتخب کیا جس پر تمام تر نجات کا انحصار ہے اسلام چونکہ ایک مکمل اور کامل دین ہے اب ایسا جامع اور مکمل دین بصورتِ نعمت کسی بھی انسانی گروہ یا قوم کو بطور نعمت عطا نہیں کیا جائے گا .

تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تئیس سالہ سنہری دور میں اپنی شبانہ روز کاوشوں سے ایسا گروہ ترتیب دیا جو ہر اعتبار سے انسانیت اور بھائ چارے کا عطر لئے ہوئے تھا جسے ہم بڑے اعتماد سے خلاصہء انسانیت بھی کہہ سکتے ہیں یہ جاں نثارانِ اسلام چشم زدن میں دینِ اسلام کا پرچم اٹھائے اطرافِ عالم میں با اندازِ فاتحانہ داخل ہوئےجنہوں اپنے اعلیٰ اخلاق اور بہترین تربیتِ اسلامی کے باعث ایسے سنہرے اور دیر پا نقوش بساطِ عالم پر چھوڑے کہ دشمن بھی انکے اخلاقِ حسنہ کی تحسین و توصیف کئے بغیر نہ رہ سکا ایوانِ کسریٰ کے لنگرے گر گئے آتش کدہ ء فارس جو کہ ایک ہزار سال سے روشن چلا آرہا تھا بجھ گیاشانِ عجم . شوکتِ روم . اور چین کے قصر ہائے فلک بوس زمیں دوز ہو گئے دشمنانِ اسلام پر نتیجتہ" یہ سرّ نہاں کھل گیا کہ اس ابھرتے ہوئے طوفانِ بلا خیز کو ہماری کند تلواریں نہیں روک پائیں گیں. لہٰذا انہوں نے مکر و فریب دجل و افترا اور دسیسہ کاری کی راہ اختیار کی اور آج تک دشمنانِ اسلام اس شر پسند امر پر کمر بستہ ہیں مگر صد شکرِ ایذدی کہ یہ قافلہء سبک گام ہر لحظہ جانبِ منزل رواں دواں ہے دوسری جانب دشمنانِ اسلام نے اس راہ میں فتنہ و سازش کے ایسے ببول پیدا کئے کہ جس کے باعث اس قافلہ ء سخت جاں کوخاص طور پر فتنوں کے بل پرایذا پہنچایا جاتا رہا ہے اس ضمن میں سب سے پہلا فتنہ عبد اللہ بن سبا نامی یہودی منا فق نے پیدا کیا یہ ابن سوداء کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے امام شہر شافیؓ فرماتے ہیں کہ اس نے دعویٰ کیا کہ حضرت علی کرم اللہ بقیدِ حیات ہیں اور جزء الہیٰ ہو گئے یعنی اللہ انکی ذات میں حلول کر گیا ہے اور وہ بادلوں میں جلوہ گر ہوتے ہیں وہ دوبارہ آئیں گے اور دنیا کو امن و ایمان سے بھر دیں گے

ابن سبا بستی بستی گیا اور اہلِ ایمان کو اپنے امیر کی اطاعت سے برگشتہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہا اسنے مصر اور شام جا کر لوگوں کو حضرت عثمانؓ کے خلاف بھڑکایا بقول علامہ مقریزی ؓ روافض کے تمام غالی فرقے اس شخص کے خیالات کا شاخسانہ ہیں اسی طرح شکست خوردہ مجوسیوں کے گروہ نے باطنیت کی بنیاد ڈالی اور یہ کہا کہ دین کے احکام ظاہری ہیں ان کی حقیقتوں سے انکے امام آگاہ ہیں

امام فخر الدینؓ فرماتے ہیں کہ تمام عالمِ اسلام کے دشمنانِ اسلام نے اسلام کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا جتنا باطنی فرقوں نے پہنچایا ہے تمام کا منشور اور مقصود اصل صانعِ عالم کا انکار مسلمانوں میں فساد و انتشار اور انہیں احکامِ شریعت سے متنفر و آزاد کروانا رہا ہے

خرمیہ:
یہ ایک باطنی تحریک ہے جس کا قائد بابک خرمی نامی ایک شخص تھا بہت سے لوگ اس کے گروہ میں شامل ہو گئے اس کی جماعت نے بہت سے مسلمانوں کو قتل کیا شراب و لہو و لعب ان کے یہاں جائز مانا جاتا ہے اور جملہ فرائض دینی معاف ایسی مجالس منعقد کی جاتی ہیں جن میں مرد و زن کا اختلاط ہوتا ہے اور شراب کا دور چلتا ہے ابابیت کا چکر چلایا جاتا ہے اسے سرمن رائ میں معتصم کے زمانے میں پھانسی دی گئی بابک خرمی رجعت امام اور ائمہ میں حلولِ خدا کا قائل تھا

قرامطہ:
ایک شخص جو کوفہ کا رہائشی تھا جسکا نام حمدان بن قرمط تھا جس نے اپنی ایک اچھی خاصی جماعت تیار کر لی تھی اس گروہ نے 281 ھجری میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کا قتلِ عام کیا با ایں سبب عباسی خلافت کے سقوط کے خطرات منڈلانے لگے

مصاحف اور مساجد جلا دیں بچوں اور عورتوں کو قتل کیا 317 ھجری میں دس ہزار حجاج کرام کو قتل کر کے مکہ پر قابض ہوا اور حجرہء اسود اکھاڑ کر بحرین لے گیا بحرین احساء اور قطیف میں اس کی حکومت قائم ہو گئی یہ اس بات کے قائل تھےکہ عالم قدیم ہے اور ہمیشہ سے ہے یہود سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے اور مسلمانوں کی تباہی کے لئے ان سے صلاح و مشورے لیتے تھے اور اپنی حکومتی ریاستوں میں یہود کو اعلیٰ سرکاری مرتبے دیتے تھے

حشاشین:
یہ جماعت حشیش پینے پلانے والوں کی جماعت تھی جس کا بانی حسن بن صباح تھا ان کا نعرہ یہ تھا کہ عالم میں کسی شے کی کوئی حقیقت نہیں اور ہر بات جائز و روا ہے

یعنی مکمل زندقہ کلی الحاد انکا فلسفہ حیات تھا مسلمانوں کا قتل عام کیا سلجوقی وزیر نظام الملک کو قتل کیا صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنے کی کئی بار ناکام کوششیں کیں فارس کے ایک پہاڑی سلسلہ الموت میں اپنا مرکز بنا رکھا تھا حسن بن صباح 520 ھجرہ میں مارا گیا ازاں بعد اس کی جماعت منتشر ہو گئی

القصہ روافض اور باطنیوں کے متعدد فرقے ہوئے اور متنوع جماعتیں ظاہر ہوئیں جن میں قدر مشترک اہل بیت کا نام لے کر مسلمانوں میں انتشار و افتراق پیدا کرنا اباحیت کو رواج دینا شریعت کا منسوب کرنا اور ائمہ کرام کی رجعت اور انکے اندر خدا کے حلول کر جانے کا قائل ہونا اور باطنیہ نے مہدی کی آمد کو نہایت بیباکی سے اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کیا سب سے پہلے عبد اللہ بن سبا نے ہی اس دجل کی ابتدا کی کہ آنحضرت دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اس کے بعد اس نے کہا کہ حضرت علیؓ میں خدا حلول کر گیا ہے اور وہی خدا ہیں اور دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے

اس کے بعد حضرت علی ؓ کے ہی ایک آزاد کردہ غلام کیسان نامی نے حضرت محمد بن حنیفہؓ کے امام اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ وہ جبل رضوی میں مقیم ہیں اور جلد ظہور کریں گے حالانکہ محمد بن الحنیفہؓ کی وفات 81 ھجری میں ہوئی اور ابان بن عثمان نے نمازِ جنازہ ہڑھائ تھی

مہدیت . رجعت . امامت . حلول الوییت . یہ تمام باطنی فرقوں کے افکار ہیں ان تمام نے مسلمانوں میں افتراق و انتشار کا بیج بویا اور اسلامی وحدت کو پارہ پارہ کرنے اور مسلمانوں کو عام قتل کرنے کی کوشش کی روز اول سے آج تک انہیں دشمنان اسلام کی مدد تائید اور حمایت حاصل رہی

دور جدید میں باطنی فرقوں کا ظہور :

اسلام کے ابتدائی دور سے آج تک مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال بچھایا جاتا رہا ہے ان کے عقائد و مسلک کو نیست و نابود کیا جاتا رہا ہے بابیت . بہایت . پرویزیت اور قادیانیت ( احمدیت) انہی باطنی فرقوں کا بروز اور ظہور ہیں انہیں بھی مغربی استعمار کی تائید و مدد حاصل ہے

احمد احسائی اور شیخییت :

اٹھارویں صدی کے آواخر میں باطنیت کو نیا بروز ملا شیخ احسائی تاریخ وفات 1753ء نے شیخیت فرقہ کی بنیاد رکھی اس کا کہنا تھا کہ تمام انبیاء سابقین میں قدرے ضعیف طریقہ پر حقیقت محمدیہ جلوہ گر ہوتی رہی ہے پوری قوت کے ساتھ محمدؑ اور ائمہ اثنا عشرہ میں ظاہر ہوئی اور اب اسکا ظہور احمد احسائی سید کاشی رشتی میں جلوہ گر ہے اس فرقہ کے لوگ حضرت علی کرم اللہ کو خدا تسلیم کرتے ہیں اس جماعت کے پسماندگان میں ایک شخص حم سود عراق میں ظاہر ہوا جو تناسخ، حلول اور ابابیت کا قائل تھا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہتا تھا کہ اس کی آمد سے شریعت اسلامیہ منسوخ ہو گئی اور اللہ اس میں حلول ہو گیا اور وہی مہدی منتظر ہے فرائض ختم کر دِیئے گئے ہیں اور عورت بلا نکاح و قید تمام کے لئے حلال ہے یہ شخص عراق سے ایران آیا تھا اس سے قبل یہ روس میں مقیم تھا سامراج کے اشارہ پر عراق تیار ہو کر آیا تھا

مرزا حسین علی بہاء اللہ :

مرزا حسین علی الملقب : بہاء اللہ 1333 ھجری میں پیدا ہوا عالم شباب میں کتب تصوف کا مطالعہ کیا جب مرزا علی محمد باب نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اس وقت یہ اس سے وابستہ ہو گیا دشت کے مقام میں ہونے والی کانفرنس میں بابیوں کی حسینہ قرة العین کے ساتھ شرکت کی قرة العین اس سے بہت متاثر ہوئی اور اس نے اسے جیل سے آزاد کروانے میں بہت مدد کی بابیوں نے جب شاہ ایران کے خلاف سازش تیار کی تب اسے گرفتار کر لیا گیا باب نے اپنا خلیفہ اپنے بھائ مرزا یحیٰی نور کو مکرر کیا اور اسکا نام صبح ازل رکھا صبح ازل کو قبرص میں اور بہاء اللہ کو عکا فلسطین میں قید کر دیا گیا

ایران میں بابیت اور بہایت کے پس پردہ یہودیت کارفرما رہی ہے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ یہودی ایک مدت سے فلسطین میں اپنے قومی وطن کے حصول میں سرگرداں ہیں اس راہ میں انہیں جو رکاوٹ یا مزاحمت درپیش رہی ہے وہ ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کی صورت میں راہ کی دیوار بنی رہی ہے اسی لئے انہوں نے اسلام کے باطن سے اٹھنے والی ہر ایسی منفی تحریکات کی تائید و حمایت و توثیق کی ہے جو مسلمانوں کی اجتماعیت کو ختم کرنے کی نیت لے کر اٹھی ہو

جب بہاء اللہ کو بغداد میں جیل بھیج دیا گیا تو انگریزوں کی طرف سے اسے برطانوی شہریت یا ہندستان منتقل ہو جانے کی دعوت دی گئی بہاء اللہ کے بیٹے عباس عبد البہاء سے انگریز کے تعلقات کا یہ عالم تھا کہ جب انگریزوں نے 1918 میں حیفا فتح کیا تو قائد لشکر نے عباس بن بہاء سے ملاقات کی اور بلاد عربیہ میں غلبہ کے لئے اس کی اصلاح اور تعاون کی درخواست کی جسے اسنے بخوشی قبول کیا اور ان خدمات کے صلہ میں 1920 میں ایک بڑی تقریب میں اسے انعام اکرام سے نوازا گیا جب یہ برطانیہ گیا تو اس نے اپنے خطاب میں برملا کہا کہ "انگریزوں کی محبت نے مجھے مقناطیس کی طرح لندن کھینچ لیا "

مرزا غلام احمد قادیانی :

استقرارِ حمل :

" مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا " کتاب کشتی نوح صفحہ 47

حیض اور بچہ:

تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے ( تتمہ حقیقت الوحی ص 143)

تاریخِ پیدائش :
مرزا غلام احمد قادیانی 13 فروری 1835 کو ہندوستان کے ایک قصبہ قادیان میں پیدا ہوا

اللہ کا اظہار رجولیت:

مرزا کے ایک مخلص مرید قاضی یار محمد صاحب لکھتا ہے : موسومہ اسلامی قربانی ص 12 :

" جیسا کہ حضرت مسیح موعود ( مرزا غلام احمد ) نےایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائ کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا سمجھنے والےکے لئے اشارہ کافی ہے "

بہائیت اور قادیانیت :

یہ حقیقت اب انگریز بخوبی جان گئے تھے کہ کسی بھی اسلامی ملک میں مکمل اقتدار اس وقت تک قائم کرنا مشکل ہے جب تک وہاں کے مسلمانوں میں جذبۂ ایمانی کو نہیں ختم کیا جاتا اسی لئے انہوں نے ایران و فلسطین میں بہائی تحریک اور ہندو ستان میں مرزا غلام احمد قادیانی کو سونپی گئی تحریک "فرقہ قادیانیہ " المعروف قادیانیت (احمدیت) کی مکمل سرپرستی کی چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب تریاق القلوب میں برملا اعتراف کرتا ہے کہ

" میں نے اپنی ساری عمر انگریز حکومت کی تائید و نصرت میں گزاری "

مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد:

مرزا قادیانی کے عقائد اور عقائد اسلامی میں بعد المشرقین ہے مرزا قادیانی نے اپنے خود ساختہ معجون مرکب عقائد کی تائید میں نفسیانی خواہشات کی رو میں ایسے خلاف شریعت الہام گھڑ لئے جنکا اسلام سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے انہیں خلافِ اسلام عقائد و دعاوی میں خادمیت . محدثیت . مجددیت . مہدویت . مسیحیت . محمدیت . کرشنیت . جے سنگیت . ظلیت . بروزیت . بنوت اور خدائیت وغیرہ کے دعوے کئے مسئلہ ارتقاء کے باب میں خدا بنکر زمین و آسماں پیدا کرنے کے بعد تخلیق بنی نوع انسان کا دعویٰ بھی کیا اور پھر اپنے پیدا ہونے والے بیٹے کی مثال اللہ تعالیٰ سے دی اور یہ لکھا کہ

" فرزند دل گرامی وارجمند مظھر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء "

یعنی میرا پیدا ہونے والا بیٹا ارجمند ہو گا اور وہ حق اور غلبہ کا مظہر ہو گا گویا خدا آسمان سے اترے گا " ( البشریٰ جلد دوئم ص 21 ازالہ اویام ص 155 ) روحانی خزائن ص 180

علماء اسلام نے مرزا کے عقائد باطلہ پر کفر کا فتویٰ لگایا ان پر زیادہ جرح و تنقید کا یہ محل نہیں مختصر یہ کہ مشتے نمونہ از خروارے سینکڑوں دعاوی سے چند نمونے پیش خدمت ہیں

" میں محدث ہوں " ( حما متہ البشریٰ ص 79 )

"میں مہدی ہوں "
((معیار الاخبار ص 11))

" خدا نے مجھے تمام انبیاء کا مظہر ٹھہرایا اور تمام نبیوں کے نام میرے نام سے منسوب کئے ہیں میں آدم ہوں میں نوح ہوں میں ابراہیم ہوں میں اسحاق ہوں میں اسماعیل ہوں میں یعقوب ہوں میں یوسف ہوں میں موسیٰ ہوں میں داود ہوں میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرتؑ کے نام کا مظہرِ اتم ہوں یعنی ظلّی طور پر محمد اور احمد ہوں " (( حاشیہ حقیقت الوحی صفحہ 72 ))

اسی کتاب میں لکھا ہے دنیا میں کوئ نبی نہیں آیا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے کہ میں آدم ہوں میں نوح ہوں میں ابراہیم ہوں میں اسحاق ہوں میں یعقوب ہوں میں اسماعیل ہوں میں موسیٰ ہوں میں داود ہوں میں عیسٰی بن مریم ہوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یعنی بروزی طور پر ۔۔۔۔"

خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا یے جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کے ہے ((حقیقت الوحی ص 148))

اپنی شان کے اظہار میں موصوف رقم طراز ہے ملاحظہ کیجے

" کربلا یست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم
درثمین فارسی ص 171

ترجمہ : میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے اور سو 100 حسین ہر وقت میری جیب میں ہیں

مقام قادیان :

زمینِ قادیاں اب محترم ہے
ہجومِ خلق سے ارضِ حرم ہے

درثمین اردو ص 50

" میں ہندؤ ں کے لئے کرشن ہوں "
لیکچر سیالکوٹ ص 33

" ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں

ازالہ اوہام دوسری جانب اسی کتاب میں مدعیِ نبوت پر لعنت بھی فرمائ جا رہی ہے "ہم مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں "

آگے دیکھئے پھر ہندو ہونے کا برملا اعلان !
" کرشن میں ہی ہوں "
(تزکرہ ص 381 )

اور اسی کتاب میں سکھ ہونے کا اعلان "امین المک جے سنگ بہادر میں ہوں "
تزکرہ ص 47

قومیت :

قومیت کے باب میں دلچسپ حقائق:

قومیت برلاس ہونے کا دعویٰ کتاب البریہ صفحہ نمبر 134 اسی کتاب کے صفحہ 135 پر لکھا ہے " میرے الہامات کی روح سے ہمارے آباء اولین فارسی تھے "

پھر کتاب ایک غلطی کا ازالہ صفحہ نمبر 40 پر لکھا ہے " میں اسرائیلی بھی ہوں اور فاطمی بھی "

" یعنی فاطمہؓ سے ہوں میری بعض دادیاں مشہور اور صحیح النسب سادات سے تھیں "

نزول المسیح صفحہ 50

حتمی فیصلہ و لطیفہ :

"اس عاجز کا خاندان دراصل فارسی ہے نہ مغلیہ نہ معلوم کس غلطی سے مغلیہ خاندان کے ساتھ مشہور ہو گیا "

حقیقت الوحی صفحہ نمبر 78

وفات مرزا غلام احمد قادیانی اور ایک جھوٹی پیش گوئ کا احوال :

مرزا قادیانی نے اپنے ایک خدائی الہام میں اپنی موت کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا:

’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں "

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 503 از مرزا قادیانی)

ہر مسلمان اپنے دل میں یہ شدید خواہش رکھتا ہے کہ اسے زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ حج یا عمرہ کی صورت میں مکہ مکرمہ یا مدینہ طیبہ کی زیارت نصیب ہو جائے اور پھر اس سے بڑھ کر اس کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اسے ان مقدس شہروں میں موت کی سعادت حاصل ہو جائے۔ حضرت عمرفاروق ؓ کی یہ دعا بہت مشہور ہے کہ ’’اے اللہ! مجھے اپنے راستہ میں شہادت عطا فرما اور اپنے رسولؐ کے شہر میں موت عطا فرما۔‘‘ حضرت ابن عمرؓ، حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی نقل کرتے ہیں کہ ’’جو شخص اس کی طاقت رکھتا ہو کہ مدینہ طیبہ میں مرے، اسے چاہیے کہ وہیں مرے، اس لیے کہ میں اس شخص کا سفارشی ہوں گاجو مدینہ میں مرے گا۔‘‘ دوسری حدیث میں ہے کہ ’’میں اس کا گواہ بنوں گا۔‘‘ علمائے کرام نے لکھا ہے کہ اس شفاعت سے مراد خاص قسم کی شفاعت ہے۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں حضور خاتم النبیینﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’قیامت میں سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی، میں اس میں سے نکلوں گا پھر ابوبکرؓ اپنی قبر سے نکلیں گے پھر عمرؓ۔ پھر میں جنت البقیع میں جائوں گا اور وہاں جتنے مدفون ہیں، ان سب کو اپنے ساتھ لوں گا۔ پھر مکہ مکرمہ کے قبرستان والوں کا انتظار کروں گا، وہ مکہ اور مدینہ کے درمیان آ کر مجھ سے ملیں گے۔‘‘

آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ اس نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ اے مرزا قادیانی تُو مکہ میں مرے گا یا مدینہ میں۔ یعنی (نعوذ باللہ) مرزا قادیانی کے خدا کو بھی صحیح طرح معلوم نہ تھا کہ مرزا قادیانی مکہ میں مرے گا یا مدینہ میں؟ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی سراسر غلط اور عبرتناک ثابت ہوئی۔ مرزا قادیانی برانڈرتھ روڈ لاہور کی احمدیہ بلڈنگ میں 26 مئی 1908ء کو مرا اور لاش ریل گاڑی پر قادیان بھجوائی گئی۔ جب مرزا قادیانی کی لاش لاہور ریلوے اسٹیشن لے جانے کے لیے احمدیہ بلڈنگ سے باہر نکالی گئی تو زندہ دلانِ لاہور نے اس کا بڑا ’’شاندار استقبال‘‘ کیا۔ یعنی راستے بھر مرزا قادیانی کے جنازے پر اس قدر غلاظتیں اور پاخانے پھینکے گئے کہ اس کی لاش بڑی مشکل سے ریلوے سٹیشن تک پہنچ سکی۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں موت تو درکنار مرزا قادیانی کو ساری زندگی ان مقدس مقامات میں قدم رکھنے کی توفیق تک نہ ہوئی۔ جب کبھی مرزا قادیانی سے پوچھا جاتا کہ آپ حج کرنے کیوں نہیں جاتے؟ تو مرزا قادیانی طرح طرح کی تاویلات کرتا۔ کبھی کہتا کہ صحت ٹھیک نہیں ہے (جبکہ محمدی بیگم سے شادی کرنے کے لیے آخر عمر تک سر توڑ کوشش کرتا رہا) کبھی کہا گیا کہ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے (جبکہ مخالفین کو 10، 10 ہزار روپے کا چیلنج دیتا) کبھی کہتا کہ میری جان کو خطرہ ہے (درآں حالیکہ اس کا کہنا تھا خدا کے مرسلین کسی سے نہیں ڈرا کرتے) سچی بات یہ ہے اللہ تعالیٰ کو منظور ہی نہ تھا کہ مرزا قادیانی حرمین شریفین کی حدود میں داخل ہو۔ حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’جس شخص کے پاس اتنا خرچہ ہو اور سواری کا انتظام ہو کہ بیت اللہ شریف جا سکے اور پھر حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں اس بات میں کہ وہ یہودی ہو کر مر جائے یا نصرانی ہو کر۔‘‘ اب اس کا فیصلہ قادیانی خود کریں کہ باوجود وسائل ہونے کے مرز قادیانی نے حج نہیں کیا، لہٰذا وہ کس حیثیت سے مرا؟

قادیانیوں کا اس پیش گوئی کے متعلق یہ کہنا کہ اس سے مراد مکی فتح یا مدنی فتح ہو گی، کائنات کا سب سے بڑا دجل اور جھوٹ ہے۔ دنیا کی کسی لغت میں موت کا معنی فتح نہیں ہے۔ اگر موت کا معنی فتح ہے تو سب قادیانی زہر کھا کر مر جائیں تاکہ سب کی فتح ہو جائے۔ بہرحال مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے برعکس اس کی موت لاہور میں اور قبر قادیان میں… اس کے جھوٹا ہونے کی ایک ایسی ناقابل تردید شہادت ہے جو ہمیشہ قادیانیوں کو ذلت و رسوائی سے دوچار کرتی رہے گی۔ باقی رہا قادیانیوں کا بے تُکی تاویلات کرنا، تو اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

(2) ’’اگر ان تمام الفاظ کی تاویل کی جائے گی تو پھر پیشگوئی کچھ بھی نہ رہے گی بلکہ مخالف کے نزدیک ایک باعث تمسخر ہوگا کیونکہ پیشگوئی کی تمام شوکت اور اس کا اثر اپنے ظاہر الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے اور پیشگوئی کرنے والے کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ لوگ ان علامتوں کو یاد رکھیں اور انہی کو مدعی صادق کا معیار ٹھہرائیں۔ مگر تاویل میں تو وہ سارے نشان مقرر کردہ گم ہو جاتے ہیں اور یہ امر مقبول اور مسلم ہے

کہ نصوص کو ہمیشہ ان کے ظاہر پر حمل کرنا چاہیے اور ہر ایک لفظ کی تاویل مخالف کو تسکین نہیں دے سکتی کیونکہ اس طرح تو کوئی مقدمہ فیصلہ ہی نہیں ہو سکتا۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 161 از مرزا قادیانی)

قادیانی اپنے ’’مسیح موعود‘‘ کے مقرر کردہ صرف اس ایک نہایت معقول معیار ہی کو مدِنظر رکھ لیں تو قبولِ اسلام کے سوا ان کے پاس کوئی آپشن نہیں رہے گی کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کے ’’عظیم الشان‘‘ ڈھیر میں ایک بھی پیش گوئی ایسی نہیں ہے جسے تاویل کی سان پر نہ چڑھایا گیا ہو۔

تمام شد !

Address

Attock City
43600

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Attock Development Programme (ADP) posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Attock Development Programme (ADP):

Share