Life زندگی

  • Home
  • Life زندگی

Life زندگی Live your life with passion. There is only one life,do what you want to do, express your true emotions

Kahani ghar ghar Ki.
24/05/2026

Kahani ghar ghar Ki.

💥 طلاق کے بعد جب میں پہلی بار اپنے بیٹے سے ملا تو اس نے میرا ہاتھ جھٹک کر کہا، “امی کہتی ہیں آپ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے تھے...
21/05/2026

💥 طلاق کے بعد جب میں پہلی بار اپنے بیٹے سے ملا تو اس نے میرا ہاتھ جھٹک کر کہا، “امی کہتی ہیں آپ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے تھے…” 💔

وہ جملہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، وہ میرے وجود کے خلاف سنایا گیا ایک فیصلہ تھا، ایسا فیصلہ جس میں مجھے سنے بغیر مجرم ٹھہرا دیا گیا تھا۔

میرا نام حارث ہے، اور میں وہ باپ ہوں جو اپنے بچوں سے دور نہیں گیا تھا بلکہ دور کر دیا گیا تھا۔

ایک وقت تھا جب یہی بیٹا رات کو میرے سینے پر سر رکھ کر سکون سے سو جاتا تھا، اور بیٹی میرے کندھے پر بیٹھ کر ضد کرتی تھی کہ آج آئس کریم کھانی ہے۔

گھر بڑا نہیں تھا، آسائشیں بھی زیادہ نہیں تھیں، مگر اس گھر میں ہنسی کی گونج تھی، ایک اپنائیت تھی، ایک مکمل دنیا تھی۔

پھر وہی ہوا جو اکثر گھروں میں خاموشی سے شروع ہوتا ہے اور طوفان بن جاتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں، جو نظر انداز ہو سکتی تھیں، وہ بحث کا موضوع بننے لگیں۔ آوازیں اونچی ہوئیں، لہجے بدلنے لگے، اور رشتے کی بنیاد میں دراڑیں پڑنے لگیں۔

میں خاموش رہتا تھا، اس لیے نہیں کہ میرے پاس جواب نہیں تھا بلکہ اس لیے کہ میں گھر بچانا چاہتا تھا۔ مگر میری خاموشی کو کمزوری سمجھ لیا گیا۔ کہا گیا تمہیں فرق ہی نہیں پڑتا۔

میں نے خود کو کام میں ڈال دیا کہ شاید مالی سکون گھر میں ذہنی سکون لے آئے، مگر وہاں بھی الزام تیار تھا کہ تم گھر میں ہوتے ہی نہیں۔

میں نے جھگڑے سے بچنے کے لیے گفتگو کم کی تو کہا گیا تم بات ہی نہیں کرتے۔

کبھی دل بھر جاتا اور میں باہر نکل جاتا تو یہ کہانی بن جاتی کہ تم ہمیں چھوڑ کر چلے جاتے ہو۔

ہر رویہ، ہر کوشش، ہر خاموشی میرے خلاف ایک ثبوت میں بدلتی جا رہی تھی۔

پھر ایک دن عدالت میں دستخط ہو گئے، اور میں ایک باپ سے بدل کر صرف ایک ویک اینڈ وزیٹر رہ گیا۔

پہلے جو میں ہر رات اپنے بچوں کو سلاتا تھا، اب مجھے ہفتے میں چند گھنٹے دیے گئے۔
پہلے میں ان کی دنیا تھا،
اب میں ایک مقررہ وقت تھا،
ایک اجازت تھا۔

پہلی ملاقات آج بھی دل میں زندہ ہے۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، میرا بیٹا سامنے آیا، مگر وہ دوڑ کر گلے نہیں لگا۔ وہ بس مجھے دیکھتا رہا۔ میں نے ہاتھ بڑھایا، اس نے پیچھے کر لیا، اور پھر وہ جملہ کہا جس نے مجھے اندر سے توڑ دیا کہ
امی کہتی ہیں آپ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا کہ نہیں بیٹا، میں نے تمہیں کبھی نہیں چھوڑا۔ مگر اس نے فوراً پوچھا کہ پھر آپ ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہتے؟

میرے پاس جواب تھا، سچ بھی تھا، مگر میرے پاس اجازت نہیں تھی۔ عدالت نے مجھے ایک ایسا باپ بنا دیا تھا جو سچ جانتا ہے مگر بول نہیں سکتا۔

اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ طلاق صرف دو لوگوں کو الگ نہیں کرتی بلکہ ایک نئی کہانی تخلیق کرتی ہے، اور وہ کہانی ہمیشہ سچ نہیں ہوتی۔

وقت گزرتا گیا، میں بچوں سے ملتا رہا، تحفے دیتا رہا، کال کرتا رہا، انتظار کرتا رہا، مگر ان کے لہجوں میں فاصلے بڑھتے گئے۔

سوال آتے رہے کہ آپ دیر سے کیوں آئے،
آپ نے کال کیوں نہیں کی،
آپ ہماری سالگرہ پر کیوں نہیں تھے۔

میں ہر بار وضاحت دینا چاہتا تھا مگر رک جاتا تھا کیونکہ ان کے ذہن میں پہلے ہی ایک مکمل کہانی بنا دی گئی تھی، اور اس کہانی میں میں ہی ولن اور قصوروار تھا۔

ایک دن میری بیٹی نے پوچھا کہ ابو کیا آپ کو ہم سے زیادہ اپنی آزادی پسند تھی؟

میں نے مسکرا کر خود کو چھپانے کی کوشش کی مگر آنکھیں ساتھ نہ دے سکیں۔

میں نے صرف اتنا کہا کہ بیٹا کبھی کبھی انسان ہار نہیں مانتا، بس اسے ہرا دیا جاتا ہے۔

وہ نہ سمجھ سکی کیونکہ اسے کبھی مکمل سچ سننے کا موقع ہی نہیں دیا گیا تھا۔

سال گزرتے گئے، بچے بڑے ہو گئے، مگر فاصلے بھی ساتھ بڑے ہوتے گئے۔

پھر ایک دن میرا بیٹا میرے پاس آیا، اکیلا، خاموش، اس کے ہاتھ میں کچھ کاغذ تھے۔ اس نے آہستہ سے کہا کہ ابو مجھے یہ فائل امی کی الماری سے ملی ہے۔

وہ عدالت کے کاغذات تھے، میری کال لاگز، فیس کی رسیدیں، وہ درخواستیں جن میں میں نے اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت مانگا تھا۔ وہ سب کچھ جو میں کہنا چاہتا تھا مگر کبھی کہہ نہیں سکا۔

وہ دیر تک خاموش رہا، پھر اس کی آواز ٹوٹ گئی اور اس نے پوچھا کہ آپ گئے نہیں تھے نا؟

میں نے پہلی بار بغیر کسی خوف کے کہا کہ نہیں بیٹا، میں کبھی نہیں گیا تھا۔

وہ بیٹھ گیا اور رونے لگا۔ اس نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ بتایا گیا کہ آپ نے چھوڑ دیا تھا۔ میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ بیٹا سچ کو آنے میں وقت لگتا ہے، مگر وہ آتا ضرور ہے۔

وہ میرے گلے لگ گیا، برسوں بعد، مگر اس گلے لگنے میں وہ معصومیت نہیں تھی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔

اس میں ایک خلا تھا،
ایک کھویا ہوا وقت تھا،
ایک ایسا نقصان تھا جو کبھی واپس نہیں آ سکتا۔

اور شاید سب سے گہرا زخم یہ نہیں تھا کہ میرے بچے مجھ سے دور ہو گئے، بلکہ یہ تھا کہ وہ ایک ایسی ذہنی کیفیت کے ساتھ بڑے ہوئے جس میں محبت سے زیادہ شک تھا، تعلق سے زیادہ خوف تھا، اور یقین سے زیادہ عدم تحفظ تھا۔

ایسے بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو وہ رشتوں کو ویسے نہیں دیکھتے جیسے ایک صحت مند گھر میں پلنے والا بچہ دیکھتا ہے۔

بیٹا جب جوان ہوتا ہے تو وہ عورت پر اعتماد کرنے سے ڈرتا ہے، اسے ہر محبت کے پیچھے کوئی شرط، کوئی دھوکہ، کوئی کہانی نظر آتی ہے۔ وہ یا تو حد سے زیادہ سخت ہو جاتا ہے یا حد سے زیادہ محتاط، اور دونوں صورتوں میں وہ ایک متوازن شوہر نہیں بن پاتا۔

اور بیٹی… وہ یا تو ہر قیمت پر رشتہ بچانے کے لیے اپنی ذات کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اسے بکھرنے کا خوف ہوتا ہے، یا پھر وہ پہلے ہی دن ایک دفاعی دیوار کھڑی کر لیتی ہے کہ کہیں وہ بھی اپنی ماں جیسی تکلیف نہ جھیلے۔ اس کے دل میں مرد کے لیے یا تو بے جا توقعات ہوتی ہیں یا بے بنیاد خدشات، اور دونوں ہی اس کی آئندہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔

یوں دنیاوی آقاؤں کو خوش کرکے اپنے اپنے مفادات کو حاصل کرنے کی ڈور میں بنائے گئے غیرشرعی قوانین کی آڑ میں لیا جانے والا ایک غلط فیصلہ صرف ایک رشتہ نہیں توڑتا، بلکہ آنے والی پوری نسل کے رویے، سوچ اور تعلقات کو متاثر کر دیتا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، “اور صلح بہتر ہے اور نفس تنگ دلی کی طرف مائل رہتے ہیں” (النساء 4:128)۔ یہ آیت صرف ایک جملہ نہیں، ایک اصول ہے۔ اس میں یہ حقیقت چھپی ہے کہ انسان کا نفس ہمیشہ اپنے حق پر اڑنے، ضد کرنے اور چھوڑ دینے کی طرف مائل ہوتا ہے، مگر اللہ ہمیں سکھاتا ہے کہ بعض اوقات کچھ حقوق پر سمجھوتہ کر لینا، ایک بڑے نقصان سے بچا لیتا ہے۔

اسی طرح ایک سخت تنبیہ بھی ہمیں دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، “جو عورت بغیر کسی شرعی عذر کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے” (ابو داؤد 2226)۔

اور بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ جنت کی خوشبو بہت دور مسافت سے محسوس ہوتی ہے مگر ایسی عورت اس سے بھی محروم رہتی ہے۔

یہ بات محض ڈرانے کے لیے نہیں کہی گئی، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری حکمت ہے۔ عورت کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ حتی الامکان گھر کو جوڑے رکھے کیونکہ اس کے ساتھ صرف ایک رشتہ نہیں جڑا ہوتا، ایک نسل جڑی ہوتی ہے، بچوں کی نفسیات جڑی ہوتی ہے، ان کا مستقبل جڑا ہوتا ہے، ان کی آئندہ زندگی کے فیصلے جڑے ہوتے ہیں۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام ظلم برداشت کرنے کا حکم نہیں دیتا، مگر معمولی اختلافات، انا، یا وقتی جذبات کی بنیاد پر گھر توڑ دینا ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے اثرات برسوں تک ختم نہیں ہوتے۔

میں نے اپنی زندگی سے یہ سیکھا کہ انسان کی سب سے بڑی شکست وہ نہیں ہوتی جب وہ ہار جائے، بلکہ وہ ہوتی ہے جب اس کی اپنی اولاد اس کے بارے میں ایک غلط کہانی کے ساتھ بڑی ہو جائے۔

اور اگر کبھی سچ سامنے آ بھی جائے، تو وہ وقت واپس نہیں آتا جس میں وہ کہانی بدلی جا سکتی تھی۔

وراثت صرف جائیداد نہیں ہوتی، یادیں بھی ہوتی ہیں، اور جب یادوں کو مسخ کر دیا جائے تو انسان زندہ رہتے ہوئے بھی اپنی ہی اولاد کے دل میں مر جاتا ہے۔


Some men master the art of playing the victim, weaving stories that paint them as wounded while quietly hiding the wreck...
20/05/2026

Some men master the art of playing the victim, weaving stories that paint them as wounded while quietly hiding the wreckage they caused. They cry foul, twisting truth into sympathy, hoping others will forget the damage left in their wake. But beneath the act lies a truth they cannot escape: accountability always catches up. Real strength is owning your mistakes, not hiding behind theatrics. And real love, honesty, and healing never survive where blame is used as a shield. When a man harms someone and then pretends to be the one hurting, it reveals his character more than his excuses ever could. Protect your peace, recognize manipulation for what it is, and remember—you deserve honesty, not performative pain.

یہ جو وحشت خُمار لمحے ہیںاور جو آنکھوں پہ گہرے حلقے ہیںاور جو ٹوٹے ہیں تار باتوں کے یا جو رشتے ہیں صرف یادوں کےیہ ستم ہے...
20/05/2026

یہ جو وحشت خُمار لمحے ہیں
اور جو آنکھوں پہ گہرے حلقے ہیں
اور جو ٹوٹے ہیں تار باتوں کے
یا جو رشتے ہیں صرف یادوں کے
یہ ستم ہے یا مہربانی ہے ....
یہ تیرے بعد کی کہانی ہے...!!!!

20/05/2026
تمام عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ نے ایک نئی لچ ماری ہے جس سے عام عوام خاص غریب طبقہ جو بس بل لیتا ہے اور جا کر ج...
18/05/2026

تمام عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ نے ایک نئی لچ ماری ہے جس سے عام عوام خاص غریب طبقہ جو بس بل لیتا ہے اور جا کر جمع کروا آتا ہے انہیں ان ہیرا پھریوں کا کیا پتہ
اس ماہ کے بجلی کے بلوں پر جن کے 200 سے کم یونٹ استعمال ہوتے ہیں ان پر گورنمنٹ نے ایک QR کوڈ دیا جس پر لکھا ہے کہ گورنمنٹ آپکو 200 سے کم یونٹ استعمال کرنے پر سبسڈی دے رہی ہے

اس سبسڈی کو اگر جاری رکھنا چاہتے ہیں تو اس کوڈ کو سکین کریں اور اپنی معلومات چیک کر کے فارم کو OKAY کریں

اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو آپکی 200 یونٹ والی سبسڈی اگلے ماہ سے ختم کر دی جائے گی اور پہلے یونٹ سے ہی وہی ریٹ لگے گا جو 201 یونٹ والے کو لگتا ہے اور اگر ایک بار لگ گیا تو 6 ماہ وہی لگتا رہے گا 😢

ظلم کی انتہا چیک کریں کہ ہزاروں لوگ ایسے ہوں گے جنکو اس چیز کا معلوم نہیں ہو گا اور اگلے ماہ سے انکا بل زیادہ آنا شروع ہو جائے گا

اس لئے تمام بھائیوں سے اپیل ہے کہ خود بھی یہ کام کریں اور اپنے آس پاس غریب لوگوں کی بھی مدد کریں

اس عمل کو کرنے کا طریقہ:
ہر اس بل پر جو 200 سے کم استعمال کرتا ہے اس پر 2 QR کوڈ ہون گے اوپر والے کوڈ پر جس کے سبسڈی کا ذکر ہو گا اس کو اپنے Touch موبائل سے سکین کریں تو وہ ڈائریکٹ اس ویب سائٹ پر لے جائے گا وہاں اپنا ڈیٹا دیکھیں اور تصدیق کریں

تصدیق کرنے پر Sim پر کوڈ آئے گا وہ کوڈ لکھیں اور Verify پر کلک کریں

ایسا کرنے کے بعد VERIFIED لکھا آجائے گا
یہ معلومات ہر جگہ پہنچائیں سب کا بھلا ہو جائے گا

نہیں تو غریب کا بچہ مر جائے گا

یہ عوام کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گے

باقاعدہ بل پر لکھا ہوا ہے کہ اگر ایسا نہیں کریں گے تو 200 یونٹ والی سبسڈی ختم کر دی جائے گی

مثلا: ابھی 100 پر 10 روپے یونٹ ہے اور 101 سے 199 پر 14 روپے ہے

سکین والا کام نہیں کریں گے تو پہلے یونٹ سے وہی ریٹ لگے گا جو 201 پر لگتا ہے مطلب کے 25 سے 27 روپے رہائشی پر اور 38 روپے کمرشل پر
تمام عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ نے ایک نئی لچ ماری ہے جس سے عام عوام خاص غریب طبقہ جو بس بل لیتا ہے اور جا کر جمع کروا آتا ہے انہیں ان ہیرا پھریوں کا کیا پتہ

تم کہتے ہو تم مجھ سے محبت کرتے ہومگر میں کبھی تمہاری وہ محبت نہیں بن سکیجس پر تم فخر کروتم مجھے خوبصورت تو کہتے ہو مگر و...
18/05/2026

تم کہتے ہو تم مجھ سے محبت کرتے ہو
مگر میں کبھی تمہاری وہ محبت نہیں بن سکی
جس پر تم فخر کرو
تم مجھے خوبصورت تو کہتے ہو مگر وہ لڑکی نہیں سمجھتے
جس کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دو
تم مجھے روکنا چاہتے ہو مگر
مجھے کھونے کا خوف تمہیں کبھی نہیں ہوتا
تم کہتے ہو میں خاص ہوں مگر اتنی بھی نہیں
کہ تم میرے لیے پہاڑ ہلا دو
میں جانتی ہوں تمہیں احساس ہے
مگر بات جب کسی ایک کو چننے کی آتی ہے
تو میں وہ کبھی بھی نہیں ہوں گی
جس کو تم چنو گے!🖤

سو بھی ہم چھوڑ چکے روز کا خفا ہونا اسے نصیب نہیں کسی ایک کا ہونا کسی کے واسطے کیسا خوشی کا پل ہوگا ہمارا ہاتھ تیرے ہاتھ ...
18/05/2026

سو بھی ہم چھوڑ چکے روز کا خفا ہونا
اسے نصیب نہیں کسی ایک کا ہونا

کسی کے واسطے کیسا خوشی کا پل ہوگا
ہمارا ہاتھ تیرے ہاتھ سے جدا ہونا

This is called life revenge 😅
18/05/2026

This is called life revenge 😅

Address

Doha

Telephone

+923339099252

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Life زندگی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Life زندگی:

  • Want your organization to be the top-listed Non Profit Organization?

Share