Tph Khauf

Tph Khauf Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Tph Khauf, Khash, Sistan Va Baluchestan.

20/01/2025
10/09/2023

افریقہ میں رہنے والے بلوچ جو کہ صدیوں سے وہاں مقیم ہیں اور افریقی زبان بولتے ہیں۔ لیکن اپنی شناخت اب بھی نہیں بھولے اور خود کو بلوچ کہتے ہیں۔
بلوچ واحد قوم ہے جو کہ اپنی زبان سب سے زیادہ چھوڑ چکی ہے اور جس بھی علاقے میں آباد ہوئے وہاں کی علاقائی زبان اختیار کر چکے ہیں ۔
برائے مہربانی بلوچوں کو لسانی بنیادوں پر تقسیم نہ کریں۔ ان کی قومی شناخت بلوچ ہے خواہ وہ کہیں بھی رہیں اور کوئی بھی زبان بولیں۔

04/09/2023
30/07/2023

براہوئی بلوچ اور براہوئی زبان کا پس منظر ۔

براہوئی زبان کردی، فارسی اور بلوچی کا مکسچر ہے۔ براہوئی زبان کو دراوڑی زبان کہنا سراسر غلط اور بے بنیاد ہے ۔ براہوئی بولنے والے بالکل دراوڑ نہیں، یہ انگریز نے غلط اور بے بنیاد نظریہ دیا ہے ۔ انگریز نے براہوئی کو انڈین دراوڑی سے ملانے کی غلط کوشش کی ، شاید انہیں آریہ قوموں(باالخصوص کرد اور بلوچ) کے متعلق زیادہ علم ہی نہ تھا۔ آپ مطالعہ کریں، نہ ہی براہوئی زبان دراوڑی زبان سے ملتی ہے اور نہ ہی براہوئی بولنے والے لوگوں کی شکل اور رنگ دراوڑ لوگوں سے ملتے ہیں ۔ دراوڑ لوگ سیاہ رنگ کے ہوتے ہیں جو کہ ساؤتھ انڈیا اور سری لنکا میں آباد ہیں اور ان کی جسامت آریہ لوگوں سے بالکل مختلف ہے ۔ جبکہ براہوئی بولنے والے سیاہ رنگ کے نہیں ۔
تاریخ میں براہوئی زبان بولنے والے جتنے بھی ہیرو اور خان ائے سب اپنے نام اور سکے پر لفظ میر بلوچ لکھتے تھے ۔
لیکن آج کل کچھ کم عقل انگریز کے اس غلط مفروضہ کو سچ مان کر براہوئی کے الگ قوم ہونے اور خود کو دراوڑ ثابت کرنے کی ناکام کوشش میں ہیں۔

بلوچ کی تاریخ
دراصل بلوچ ایران کی ایک بہادر اور قدیم قوم ہیں۔ بلوچ ایک آزادی پسند قوم ہے اور مختلف ادوار میں ایرانی بادشاہوں نے ان سے جنگیں کیں اور انہیں علاقہ بدر کیا ۔ شاہنامہ فردوسی میں بھی اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ اس وقت بلوچ ایران کی فوج میں شامل تھے اور بڑے بڑے عہدوں پر معمور تھے ۔ بلوچ کے متعلق لکھا گیا ہے کہ یہ بہادر لوگ ہیں اور جنگ میں آج تک ان کی پیٹھ نہیں دیکھی گئی، تاریخ میں کوچ و بلوچ دو قوموں کا ذکر ایک ساتھ ملتا ہے ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کوچ شاید کرد تھے ، کیونکہ اس وقت بلوچ کوہ البرز کے پہاڑی علاقوں میں آباد تھے اور بلوچ اور کرد میں تاریخی مماثلت پائی جاتی ہے ۔ کچھ تاریخ دان بلوچ کو کرد النسل بھی کہتے ہیں ۔ بلوچ نے تاریخ میں تین بار بڑے پیمانے پر ہجرت کی ۔

پہلی ہجرت کوہ البرز سے کرمان اور سیستان کے علاقوں میں کی۔ یہاں پر بہت بڑے علاقے پر بلوچ آباد ہوگئے اور پھر کچھ عرصہ بعد یہاں سے گزرنے والے قافلوں کی لوٹ مار کی وجہ سے شہنشاہ ایران کو انہوں یہاں سے نکالنا پڑا ۔ لیکن آج کرمان اور سیستان و بلوچستان میں بڑی تعداد میں بلوچ آباد ہے۔
دوسری بڑی ہجرت قلات کے علاقے میں کی, جن میں نچلے علاقوں میں ناروئ مقیم ہوئے اور اونچے یا پہاڑی علاقے براہوئی آباد ہوئے ۔ کچھ تاریخ دانوں کے مطابق ناروئ کا مطلب نچلے علاقے میں رہنے والے اور براہوئی کا مطلب اونچے یا پہاڑی پر رہنے والے ۔

تیسری اور بڑے پیمانے پر ہونے والی آخری ہجرت میر جلال خان بلوچ کی سربراہی میں ہوئی اور انہوں نے مکران، بمپور، قلات اور سبی کے علاقے فتح کیے ۔ میر جلال خان بلوچ کے ساتھ آئے بلوچ قبائل قلات چھوڑ کر زیادہ تر مکران، درہ بولان اور سبی کے علاقے میں آباد ہوئے اور بعد میں سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقے تک پھیل گئے ۔

اب سوال یہ ہے کہ براہوئی بلوچ الگ زبان کیوں بولتے ہیں ؟
اب کیوں کہ اوپر تاریخ میں واضح ہے کہ بلوچ مختلف ادوار میں نکل مکانی کرتا رہا اور مختلف اقوام کے ساتھ رہتا رہا تو ان کی زبان ایک نہیں رہی۔
ایران میں بلوچ کی زبان ایرانی سے مماثلت رکھتی ہے ، سندھ میں سندھی شامل ہوگئی اور اس طرح پنجاب میں سرائیکی اور پنجابی اپنائ گئی ۔ افغانستان اور ترکمانستان میں بھی وہاں آباد بلوچوں پر وہاں کی مقامی زبانوں نے گہرا اثر کیا ہے۔
دراصل براہوئی زبان کردی اور بلوچی سے کافی مماثلت رکھتی ہے ۔ جیسا کہ تاریخ میں واضح ہے کہ بلوچ کرد کے ساتھ رہتا رہا ہے اور غالباً کوچ و بلوچ کا جو ذکر ملتا ہے ممکن شاید کوچ کرد کو کہا گیا ہو۔
اس بات کی واضح دلیل یہ ہے کہ آج بھی بلوچستان میں کرد بڑے پیمانے پر آباد ہے جو کہ بلوچوں کے ساتھ مکس ہے۔
قلات پر کیوں کہ پہلے ہندوؤں حکومت تھی اور بعد میں براہوئی بولنے والے بلوچوں نے ان سے حکومت چھین کر اپنی حکومت قائم کی ۔ میر جلال خان سے قبل قلات میں براہوئی حکومت کے قیام کا بالکل وہی دور بتایا جاتا ہے جو کہ بلوچوں کی دوسری نقل مکانی کا ہے ۔

تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ
تاریخ میں واضح طور پر بہت بڑی غلطی یہ ہے کہ براہوئی مشرق سے ہندوستان کے علاقے سے آئے جو کہ دراوڑی نسل سے ہیں جبکہ اتنے بڑے پیمانے پر انڈیا سے قلات میں اس براہوئی حکومت کے قیام کے ادوار میں کہیں نہیں ملتا ۔ دوسری بات کہ دراوڑ ساؤتھ انڈیا اور سری لنکا میں آباد ہیں اور وہاں سے آکر قلات میں آباد ہوئے ، نہ راستے میں اور ریاستوں نے روکا اور نہ ہی درمیان میں کہیں پر یہ لوگ آباد ہوئے یا حکومت جمائ؟
ان سب دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ براہوئی بلوچ ہے یا وہی کوچ ہیں جن کا بلوچ کے ساتھ صدیوں سے رہنے کا حوالہ ہے۔ براہوئی کے بلوچ ہونے کا یہ بھی بڑا ثبوت ہے کہ براہوئی ہمیشہ سے خود کو بلوچ کہتا ہے اور براہوئی کو صرف زبان مانتا ہے جو کہ دوسری اقوام سے ملاپ کے نتیجے میں وجود میں آئی ۔

30/07/2023

براہوئی زبان کردی، فارسی اور بلوچی کا مکسچر ہے۔ براہوئی زبان کو دراوڑی زبان کہنا سراسر غلط اور بے بنیاد ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ براہوئی بولنے والے بالکل دراوڑ نہیں، یہ انگریز نے غلط اور بے بنیاد نظریہ دیا ہے ۔ انگریز نے براہوئی کو انڈین دراوڑی سے ملانے کی غلط کوشش کی ، شاید انہیں آریہ قوموں(باالخصوص کرد اور بلوچ) کے متعلق زیادہ علم ہی نہ تھا۔ آج بھی آپ مطالعہ کریں تو نہ ہی براہوئی زبان دراوڑی زبان سے نہ ہی ملتی ہے اور نہ ہی براہوئی بولنے والے لوگوں کی شکل اور رنگ دراوڑ لوگوں سے ملتے ہیں ۔ دراوڑ لوگ سیاہ رنگ کے ہوتے ہیں اور ان کی جسامت آریہ لوگوں سے بالکل مختلف ہے ۔ جبکہ براہوئی بولنے والے سیاہ رنگ کے نہیں ۔
تاریخ میں براہوئی زبان بولنے والے جتنے بھی ہیرو اور خان ائے سب اپنے نام اور سکے پر لفظ میر بلوچ لکھتے تھے ۔
لیکن آج کل کچھ کم عقل انگریز کے اس غلط مفروضہ کو سچ مان کر براہوئی کے الگ قوم ہونے اور خود کو دراوڑ ثابت کرنے کی ناکام کوشش میں ہیں۔

بلوچ کی تاریخ
دراصل بلوچ ایران کی ایک بہادر اور قدیم قوم ہیں۔ بلوچ ایک آزادی پسند قوم ہے اور مختلف ادوار میں ایرانی بادشاہوں نے ان سے جنگیں کیں اور انہیں علاقہ بدر کیا ۔ شاہنامہ فردوسی میں بھی اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ اس وقت بلوچ ایران کی فوج میں شامل تھے اور بڑے بڑے عہدوں پر معمور تھے ۔ بلوچ کے متعلق لکھا گیا ہے کہ یہ بہادر لوگ ہیں اور جنگ میں آج تک ان کی پیٹھ نہیں دیکھی گئی، تاریخ میں کوچ و بلوچ دو قوموں کا ذکر ایک ساتھ ملتا ہے ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کوچ شاید کرد تھے ، کیونکہ اس وقت بلوچ کوہ البرز کے پہاڑی علاقوں میں آباد تھے اور بلوچ اور کرد میں تاریخی مماثلت پائی جاتی ہے ۔ کچھ تاریخ دان بلوچ کو کرد النسل بھی کہتے ہیں ۔ بلوچ نے تاریخ میں تین بار بڑے پیمانے پر ہجرت کی ۔

پہلی ہجرت کوہ البرز سے کرمان اور سیستان کے علاقوں میں کی۔ یہاں پر بہت بڑے علاقے پر بلوچ آباد ہوگئے اور پھر کچھ عرصہ بعد یہاں سے گزرنے والے قافلوں کی لوٹ مار کی وجہ سے شہنشاہ ایران کو انہوں یہاں سے نکالنا پڑا ۔ لیکن آج کرمان اور سیستان و بلوچستان میں بڑی تعداد میں بلوچ آباد ہے۔
دوسری بڑی ہجرت قلات کے علاقے میں کی, جن میں نچلے علاقوں میں ناروئ مقیم ہوئے اور اونچے یا پہاڑی علاقے براہوئی آباد ہوئے ۔ کچھ تاریخ دانوں کے مطابق ناروئ کا مطلب نچلے علاقے میں رہنے والے اور براہوئی کا مطلب اونچے یا پہاڑی پر رہنے والے ۔

تیسری اور بڑے پیمانے پر ہونے والی آخری ہجرت میر جلال خان بلوچ کی سربراہی میں ہوئی اور انہوں نے مکران، بمپور، قلات اور سبی کے علاقے فتح کیے ۔ میر جلال خان بلوچ کے ساتھ آئے بلوچ قبائل قلات چھوڑ کر زیادہ تر مکران، درہ بولان اور سبی کے علاقے میں آباد ہوئے اور بعد میں سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقے تک پھیل گئے ۔

اب سوال یہ ہے کہ براہوئی بلوچ الگ زبان کیوں بولتے ہیں ؟
اب کیوں کہ اوپر تاریخ میں واضح ہے کہ بلوچ مختلف ادوار میں نکل مکانی کرتا رہا اور مختلف اقوام کے ساتھ رہتا رہا تو ان کی زبان ایک نہیں رہی۔
ایران میں بلوچ کی زبان ایرانی سے مماثلت رکھتی ہے ، سندھ میں سندھی شامل ہوگئی اور اس طرح پنجاب میں سرائیکی اور پنجابی اپنائ گئی ۔ افغانستان اور ترکمانستان میں بھی وہاں آباد بلوچوں پر وہاں کی مقامی زبانوں نے گہرا اثر کیا ہے۔
دراصل براہوئی زبان کردی اور بلوچی سے کافی مماثلت رکھتی ہے ۔ جیسا کہ تاریخ میں واضح ہے کہ بلوچ کرد کے ساتھ رہتا رہا ہے اور غالباً کوچ و بلوچ کا جو ذکر ملتا ہے ممکن شاید کوچ کرد کو کہا گیا ہو۔
اس بات کی واضح دلیل یہ ہے کہ آج بھی بلوچستان میں کرد بڑے پیمانے پر آباد ہے جو کہ بلوچوں کے ساتھ مکس ہے۔
قلات پر کیوں کہ پہلے ہندوؤں حکومت تھی اور بعد میں براہوئی بولنے والے بلوچوں نے ان سے حکومت چھین کر اپنی حکومت قائم کی ۔ میر جلال خان سے قبل قلات میں براہوئی حکومت کے قیام کا بالکل وہی دور بتایا جاتا ہے جو کہ بلوچوں کی دوسری نقل مکانی کا ہے ۔

تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ
تاریخ میں واضح طور پر بہت بڑی غلطی یہ ہے کہ براہوئی مشرق سے ہندوستان کے علاقے سے آئے جو کہ دراوڑی نسل سے ہیں جبکہ اتنے بڑے پیمانے پر انڈیا سے قلات میں اس براہوئی حکومت کے قیام کے ادوار میں کہیں نہیں ملتا ۔ دوسری بات کہ دراوڑ ساؤتھ انڈیا اور سری لنکا میں آباد ہیں اور وہاں سے آکر قلات میں آباد ہوئے ، نہ راستے میں اور ریاستوں نے روکا اور نہ ہی درمیان میں کہیں پر یہ لوگ آباد ہوئے یا حکومت جمائ؟
ان سب دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ براہوئی بلوچ ہے یا وہی کوچ ہیں جن کا بلوچ کے ساتھ صدیوں سے رہنے کا حوالہ ہے۔ براہوئی کے بلوچ ہونے کا یہ بھی بڑا ثبوت ہے کہ براہوئی ہمیشہ سے خود کو بلوچ کہتا ہے اور براہوئی کو صرف زبان مانتا ہے جو کہ دوسری اقوام سے ملاپ کے نتیجے میں وجود میں آئی ۔

07/05/2023
07/05/2023

Address

Khash
Sistan Va Baluchestan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tph Khauf posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share