27/04/2026
🔴 "دیوارِ حائل کی سازش" - لبنان کی فتح چھیننے اور مزاحمتی محور کا محاصرہ؟
یہ متن ایک سیاسی تجزیے پر مبنی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ لبنان کے حوالے سے "خطرناک چال" چل رہے ہیں۔ اہم نکات:
*1. بنیادی دعویٰ: "سازش" کیا ہے؟*
متن کے مطابق لیک ہونے والی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ریاض اور واشنگٹن میں ایک "زہریلی ڈش" تیار ہو رہی ہے۔ اس کا مقصد:
- *میدان کی کامیابیوں کو چرانا* اور مزاحمت کو "سیاسی خودکشی" کی طرف دھکیلنا۔
- سعودی عرب کا بیروت کی طرف جھکاؤ "تعمیر نو" نہیں بلکہ ایک *"خبیث کوشش"* ہے تاکہ لبنان کو اس کے "مزاحمتی عمق" سے الگ کرنے کے لیے سیاسی دیوار کھڑی کی جائے۔
- *"اربوں کی گاجر"* دے کر سرکاری موقف کو قابو کرنا اور اسرائیل کے ساتھ "ذلت آمیز امن" کے جال میں پھنسانا۔
*2. "محمد بن سلمان کا داؤ"*
متن کا کہنا ہے کہ MBS لبنان اور شام کو *"امریکی محمیات"* میں بدل کر "وحدت الساحات" یعنی مزاحمتی محور کے اتحاد کو توڑنا چاہتا ہے۔
*3. جوابی بیانیہ*
متن اس سازش کے جواب میں کہتا ہے:
- *"خون سے سیراب خودمختاری"* غداری کے چیکوں سے نہیں بکتی۔
- *"مشرق کی چابیاں"* ان کے حوالے نہیں ہوں گی جنہوں نے کبھی لبنانی فیصلے کو "ہوٹل کے کمرے میں قید" کیا تھا۔ یہ 2017 میں سعد الحریری کے استعفیٰ کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔
- اسے *"شعور کو داغنے"* کی جنگ کہا گیا ہے جس میں "محورِ تابعیت" وہ حاصل کرنا چاہتا ہے جو ان کے بحری بیڑے نہ کر سکے۔
*4. نتیجہ*
متن *"ہیہات"* یعنی "ناممکن" کہہ کر ختم ہوتا ہے:
- جو "جنوب کی دلدل" میں ڈوب گیا، اسے ریاض کی کرینیں نہیں اٹھا سکتیں۔
- *"میدان ہی واحد مالک اور فیصلہ کن ہے"*۔
*نوٹ:* یہ ایک خاص سیاسی نقطہ نظر ہے جو مزاحمتی بیانیے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں "صہیو-سعودی" جیسی اصطلاحات اور سخت الزامات ہیں۔
خطے میں لبنان، سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات انتہائی پیچیدہ ہیں۔ سعودی عرب کی لبنان میں سرمایہ کاری، ایران کے کردار، اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے - یہ سب الگ الگ اور متنازع موضوعات ہیں جن پر ہر فریق کا اپنا موقف ہے۔