26/03/2026
امام پر تنقید یا خود اصلاح؟
آج کل ایک عجیب رویہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہر طرف پر تنقید ہو رہی ہے—کسی کو دعا پر اعتراض، کسی کو بیان پر، کسی کو انداز پر۔
ذرا خود سے ایک سوال کریں:
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ امام بننا کتنا مشکل کام ہے؟
امام وہ ہوتا ہے جو:
• پانچ وقت نماز کی امامت کرے
• لوگوں کے دینی مسائل حل کرے
• ہر عمر اور ہر سوچ کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلے
• اور پھر بھی سب کو خوش رکھنا ممکن نہیں ہوتا
اگر ایک مقتدی کہے یہ دعا کریں، دوسرا کہے وہ نہ کریں—تو امام کس کی بات مانے؟
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ امام غلط ہیں،
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم صرف تنقید کرنا جانتے ہیں، کردار ادا کرنا نہیں۔
✔️ اگر واقعی درد ہے…
تو خود تیاری کریں
✔️ قرآن سیکھیں، حدیث سیکھیں، دین سمجھیں
✔️ اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ آگے بڑھ سکیں
اور اگر خود نہیں کر سکتے،
تو عہد کریں کہ اپنی اولاد کو دین کے راستے پر ڈالیں گے
یاد رکھیں:
اچھے امام آسمان سے نہیں اترتے،
وہ اسی معاشرے سے پیدا ہوتے ہیں
تنقید آسان ہے…
تعمیر مشکل، مگر ضروری ہے۔
آئیں فیصلہ کریں:
ہم صرف تنقید کرنے والے نہیں، بلکہ اصلاح کرنے والے بنیں گے۔
اماموں کی ناقدری اور ان پر مسجد انتظامیہ کا ظلم و استحصال
انتہائی حقیقت پر مبنی بیان ہے، ایک بار ضرور سنیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم اماموں کو کسی کمپنی کے ایسے منشی کے برابر بھی نہیں سمجھتے جس منشی کی تنخواہ تیس ہزار سے کم نہیں۔ یا کسی آج کل کے مزدور کے برابر بھی نہیں سمجھتے جو مہینے کا تین ہزار معاوضہ پاتا ہے۔
جب تک ہم اللہ کے گھر کے اماموں کا خیال نہیں رکھتے، انہیں اپنے جیسا سمجھ کر برابری کا حق نہیں دیتے، ہم بھی خوش حال زندگی نہیں گزار سکتے۔
_____________________________
ائمہ مساجد کی حالت زار
وادی کشمیر میں منصب امامت کی سماجی و معاشی تنزلی:
تحریر: الطاف جمیل شاہ، سوپور کشمیر
وادی کشمیر کے سماجی ڈھانچے میں امام کا کردار محض پانچ وقت کی نمازوں کی امامت تک محدود نہیں رہا بلکہ تاریخی طور پر امام کا منصب سماجی اصلاح، اخلاقی رہنمائی اور مقامی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے ایک مرکزی حیثیت کا حامل رہا ہے ۔ تاہم حالیہ دہائیوں میں ہونے والے سماجی اور معاشی تغیرات نے اس مقدس منصب کو ایک ایسی نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک طرف تو امام سے اعلیٰ ترین اخلاقی معیار اور مکمل وقت کی قربانی کا تقاضا کیا جاتا ہے، لیکن دوسری جانب اسے بنیادی معاشی حقوق اور انسانی وقار سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ عید جیسے تہواروں کے موقع پر ائمہ کرام کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور مسجد کمیٹیوں کے توہین آمیز رویے محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ اس گہرے معاشرتی انحطاط کی علامت ہیں جس نے وادی کے دینی تصور اور علماء کی عزتِ نفس کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ائمہ کرام کی بے بسی اور اہل و عیال کی کسمپرسی
ایک امام کی زندگی کی سب سے بڑی تلخی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ رمضان المبارک کے پورے مہینے میں اپنے گھر کی دہلیز تک نہیں دیکھ پاتا، کیونکہ اس کا پورا وقت مسجد سے جڑا رہتا ہے تاکہ لوگوں کی نمازیں اور تراویح باقاعدگی سے ادا ہوتی رہیں [User Query]۔ لیکن اس عظیم قربانی کا صلہ اسے جس بے حسی کی صورت میں ملتا ہے، وہ انسانیت کو شرمندہ کر دینے والا ہے۔
عید کی خوشیاں اور "عیدیانہ" کا احسان
عید کے دن جب پوری وادی خوشیوں میں مگن ہوتی ہے، امام کا دل اپنی اولاد کی محرومیوں پر خون کے آنسو رو رہا ہوتا ہے۔ مسجد میں عید کی نماز کے موقع پر لاکھوں روپے جمع ہوتے ہیں، لیکن مسجد کمیٹی کے "دین دار" کارندے ان پیسوں کو مسجد کے سنگِ مرمر اور تزئین و آرائش کے لیے تو بے دریغ استعمال کرتے ہیں، مگر جب امام کے حق کی بات آتی ہے تو اسے تنخواہ دینے کے بجائے "عیدیانہ" کے نام پر چند ہزار روپے بطورِ احسان پکڑا دیے جاتے ہیں کیا ان ائمہ کے گھر نہیں ہوتے؟ کیا ان کی اولاد کی خوشیاں نہیں ہوتیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہماری مجموعی بے حسی پر تازیانہ ہے
بیماری میں بے یاری و مددگاری:
ائمہ کرام کی بے بسی کی انتہا اس وقت دیکھنے کو ملتی ہے جب وہ کسی آزمائش یا بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک دردناک مثال ایسے امام کی ہے جو ایک بستی میں برسوں خدمات انجام دیتا رہا، لیکن جیسے ہی وہ ایک موذی مرض کا شکار ہوا، بستی والوں اور کمیٹی نے ہمدردی دکھانے کے بجائے اسے پہلی فرصت میں مسجد سے فارغ کر دیا تاکہ نیا امام مقرر کیا جا سکے ان "دین داروں" نے یہ پوچھنا بھی گوارا نہ کیا کہ وہ بیمار امام اب کن حالات میں ہے اور اس کے گھر میں کھانے پینے کا کیا انتظام ہے یہ رویہ ائمہ کو اس قدر بے بس کر دیتا ہے کہ وہ اکثر تنہائیوں میں آنسو بہاتے ہیں، کیونکہ مقتدیوں کی یہ سنگدلی ان کے حوصلے توڑ دیتی ہے۔۔
محلہ کمیٹیوں کا استحصالی رویہ اور "انانیت کا وبائی مرض"
وادی کشمیر میں ائمہ کرام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ایک بڑا سبب وہ "انانیت" ہے جو ہمارے معاشرے میں ایک وبائی مرض کی طرح پھیل چکی ہے ۔ مسجد کمیٹیوں کے ارکان، خواہ وہ تبلیغی جماعت سے ہوں، سلفی ہوں، بریلوی ہوں یا کسی نظریاتی یا مسلکی جماعتِ سے وابستہ ہوں، ہر کوئی اپنی مسلکی انانیت اور طاقت کا زور امام پر نکالتا ہے اور جلاد بن کر خوب زیادتیاں انجام دینا اپنا فرض سمجھتا ہے
"ہرہ چھو خدا، تہ بونہ چھس بہ"
کشمیر میں ایک مخصوص طبقہ پیدا ہو چکا ہے جو خود کو دین کا ٹھیکیدار سمجھتا ہے لیکن امام کے حقوق کے معاملے میں بدترین بخل کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کشمیری زبان کی ضرب المثل "ہرہ چھو خدا، تہ بونہ چھس بہ" (اوپر خدا ہے اور نیچے میں ہوں) اس وقت کے سماجی رویوں کی عکاسی کرتی ہے جہاں مسجد کے ذمہ دار لوگ خود کو امام کا آقا سمجھ بیٹھتے ہیں ۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ امام ان کا ملازم نہیں بلکہ ان کے بچوں کا استاد اور ان کا دینی پیشوا ہے۔
"نونہال دانشور" اور علماء سے عناد
وادی میں "دانشوروں" کی ایک ایسی بہتات ہو چکی ہے جن کی دانشوری کی بنیاد ہی دین بیزاری اور علماء سے عناد پر ہے یہ نام نہاد دانشور جدیدیت کے لبادے میں ائمہ کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں اور ان کی معاشی بدحالی پر آواز اٹھانے کے بجائے ان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے ہماری بربادی کی بنیاد رکھی ہے، کیونکہ جب علماء کی توہین عام ہو جائے تو معاشرے سے خیر و برکت اٹھ جاتی ہے۔
تعلیمی بحران اور دینی تصور کا خاتمہ
جب ایک نوجوان دیکھتا ہے کہ اس کا امام معاشرے میں ذلیل و خوار ہو رہا ہے، اسے تنخواہ کے لیے مسجد کمیٹی کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑ رہا ہے اور وہ اپنے بچوں کے لیے عید کے جوڑے تک نہیں خرید سکتا، تو وہ دین سیکھنے سے تائب ہو جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وادی میں دینی علوم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں ہولناک کمی آئی ہے۔ حال ہی میں دسویں جماعت کے 94,000 طلبہ میں سے صرف 64 طلبہ نے کشمیری یا دینیات کے مضامین کا انتخاب کیا ہے ۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وادی سے دینی تصور ختم ہو جائے گا اور مستقبل میں ہمارے پاس اپنے جنازے پڑھانے کے لیے بھی مستند علماء موجود نہیں ہوں گے ۔
قابل توجہ امور
مستقل تنخواہ کا نظام: مسجد کمیٹیوں کو چاہیے کہ وہ امام کی تنخواہ کو عید یا دیگر عطیات سے مشروط کرنے کے بجائے ایک مستقل ماہانہ نظام بنائیں۔
تحریری معاہدہ: ہر امام کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ ہونا چاہیے جس میں اس کی تنخواہ، رخصت اور خاندانی مراعات کا واضح ذکر ہو ۔
مرکزی بیت المال کا قیام: محلہ کی سطح پر بیت المال کو اس طرح فعال کیا جائے کہ امام کی تمام ضروریات (بشمول بچوں کی تعلیم اور علاج) اس فنڈ سے پوری ہوں۔
ریاستی مداخلت کا خاتمہ: ائمہ کی پروفائلنگ اور ان کی نجی زندگی میں پولیس کی مداخلت بند کی جانی چاہیے تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔
آخری بات
ائمہ کرام کا دکھ اور محرومی صرف ان کا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ پورے کشمیری معاشرے کا المیہ ہے۔ مسجد کمیٹیوں کے ذمہ دار لوگ جو خود کو دین کا خیر خواہ کہتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ دین کی خدمت صرف پتھروں اور گنبدوں سے نہیں، بلکہ ان لوگوں کی خدمت سے ہوتی ہے جو اس دین کے محافظ ہیں۔ اگر ہم نے آج ائمہ کے وقار کی بحالی کے لیے قدم نہ اٹھایا، تو ہماری مساجد کے منبر و محراب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں گے۔