IRPC

IRPC Islamic Research And Propagation Centre (IRPC)
Canal Avenue, Rawalpora, Srinagar

26/03/2026

امام پر تنقید یا خود اصلاح؟

آج کل ایک عجیب رویہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہر طرف پر تنقید ہو رہی ہے—کسی کو دعا پر اعتراض، کسی کو بیان پر، کسی کو انداز پر۔
ذرا خود سے ایک سوال کریں:
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ امام بننا کتنا مشکل کام ہے؟
امام وہ ہوتا ہے جو:
• پانچ وقت نماز کی امامت کرے
• لوگوں کے دینی مسائل حل کرے
• ہر عمر اور ہر سوچ کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلے
• اور پھر بھی سب کو خوش رکھنا ممکن نہیں ہوتا
اگر ایک مقتدی کہے یہ دعا کریں، دوسرا کہے وہ نہ کریں—تو امام کس کی بات مانے؟
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ امام غلط ہیں،
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم صرف تنقید کرنا جانتے ہیں، کردار ادا کرنا نہیں۔
✔️ اگر واقعی درد ہے…
تو خود تیاری کریں
✔️ قرآن سیکھیں، حدیث سیکھیں، دین سمجھیں
✔️ اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ آگے بڑھ سکیں
اور اگر خود نہیں کر سکتے،
تو عہد کریں کہ اپنی اولاد کو دین کے راستے پر ڈالیں گے
یاد رکھیں:
اچھے امام آسمان سے نہیں اترتے،
وہ اسی معاشرے سے پیدا ہوتے ہیں
تنقید آسان ہے…
تعمیر مشکل، مگر ضروری ہے۔
آئیں فیصلہ کریں:
ہم صرف تنقید کرنے والے نہیں، بلکہ اصلاح کرنے والے بنیں گے۔


اماموں کی ناقدری اور ان پر مسجد انتظامیہ کا ظلم و استحصال

انتہائی حقیقت پر مبنی بیان ہے، ایک بار ضرور سنیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم اماموں کو کسی کمپنی کے ایسے منشی کے برابر بھی نہیں سمجھتے جس منشی کی تنخواہ تیس ہزار سے کم نہیں۔ یا کسی آج کل کے مزدور کے برابر بھی نہیں سمجھتے جو مہینے کا تین ہزار معاوضہ پاتا ہے۔
جب تک ہم اللہ کے گھر کے اماموں کا خیال نہیں رکھتے، انہیں اپنے جیسا سمجھ کر برابری کا حق نہیں دیتے، ہم بھی خوش حال زندگی نہیں گزار سکتے۔

_____________________________

ائمہ مساجد کی حالت زار
وادی کشمیر میں منصب امامت کی سماجی و معاشی تنزلی:
​تحریر: الطاف جمیل شاہ، سوپور کشمیر

​وادی کشمیر کے سماجی ڈھانچے میں امام کا کردار محض پانچ وقت کی نمازوں کی امامت تک محدود نہیں رہا بلکہ تاریخی طور پر امام کا منصب سماجی اصلاح، اخلاقی رہنمائی اور مقامی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے ایک مرکزی حیثیت کا حامل رہا ہے ۔ تاہم حالیہ دہائیوں میں ہونے والے سماجی اور معاشی تغیرات نے اس مقدس منصب کو ایک ایسی نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک طرف تو امام سے اعلیٰ ترین اخلاقی معیار اور مکمل وقت کی قربانی کا تقاضا کیا جاتا ہے، لیکن دوسری جانب اسے بنیادی معاشی حقوق اور انسانی وقار سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ عید جیسے تہواروں کے موقع پر ائمہ کرام کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور مسجد کمیٹیوں کے توہین آمیز رویے محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ اس گہرے معاشرتی انحطاط کی علامت ہیں جس نے وادی کے دینی تصور اور علماء کی عزتِ نفس کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
​ائمہ کرام کی بے بسی اور اہل و عیال کی کسمپرسی
​ایک امام کی زندگی کی سب سے بڑی تلخی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ رمضان المبارک کے پورے مہینے میں اپنے گھر کی دہلیز تک نہیں دیکھ پاتا، کیونکہ اس کا پورا وقت مسجد سے جڑا رہتا ہے تاکہ لوگوں کی نمازیں اور تراویح باقاعدگی سے ادا ہوتی رہیں [User Query]۔ لیکن اس عظیم قربانی کا صلہ اسے جس بے حسی کی صورت میں ملتا ہے، وہ انسانیت کو شرمندہ کر دینے والا ہے۔
​عید کی خوشیاں اور "عیدیانہ" کا احسان
​عید کے دن جب پوری وادی خوشیوں میں مگن ہوتی ہے، امام کا دل اپنی اولاد کی محرومیوں پر خون کے آنسو رو رہا ہوتا ہے۔ مسجد میں عید کی نماز کے موقع پر لاکھوں روپے جمع ہوتے ہیں، لیکن مسجد کمیٹی کے "دین دار" کارندے ان پیسوں کو مسجد کے سنگِ مرمر اور تزئین و آرائش کے لیے تو بے دریغ استعمال کرتے ہیں، مگر جب امام کے حق کی بات آتی ہے تو اسے تنخواہ دینے کے بجائے "عیدیانہ" کے نام پر چند ہزار روپے بطورِ احسان پکڑا دیے جاتے ہیں کیا ان ائمہ کے گھر نہیں ہوتے؟ کیا ان کی اولاد کی خوشیاں نہیں ہوتیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہماری مجموعی بے حسی پر تازیانہ ہے
​​بیماری میں بے یاری و مددگاری:
​ائمہ کرام کی بے بسی کی انتہا اس وقت دیکھنے کو ملتی ہے جب وہ کسی آزمائش یا بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک دردناک مثال ایسے امام کی ہے جو ایک بستی میں برسوں خدمات انجام دیتا رہا، لیکن جیسے ہی وہ ایک موذی مرض کا شکار ہوا، بستی والوں اور کمیٹی نے ہمدردی دکھانے کے بجائے اسے پہلی فرصت میں مسجد سے فارغ کر دیا تاکہ نیا امام مقرر کیا جا سکے ان "دین داروں" نے یہ پوچھنا بھی گوارا نہ کیا کہ وہ بیمار امام اب کن حالات میں ہے اور اس کے گھر میں کھانے پینے کا کیا انتظام ہے یہ رویہ ائمہ کو اس قدر بے بس کر دیتا ہے کہ وہ اکثر تنہائیوں میں آنسو بہاتے ہیں، کیونکہ مقتدیوں کی یہ سنگدلی ان کے حوصلے توڑ دیتی ہے۔۔
محلہ کمیٹیوں کا استحصالی رویہ اور "انانیت کا وبائی مرض"
​وادی کشمیر میں ائمہ کرام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ایک بڑا سبب وہ "انانیت" ہے جو ہمارے معاشرے میں ایک وبائی مرض کی طرح پھیل چکی ہے ۔ مسجد کمیٹیوں کے ارکان، خواہ وہ تبلیغی جماعت سے ہوں، سلفی ہوں، بریلوی ہوں یا کسی نظریاتی یا مسلکی جماعتِ سے وابستہ ہوں، ہر کوئی اپنی مسلکی انانیت اور طاقت کا زور امام پر نکالتا ہے اور جلاد بن کر خوب زیادتیاں انجام دینا اپنا فرض سمجھتا ہے
​"ہرہ چھو خدا، تہ بونہ چھس بہ"
​کشمیر میں ایک مخصوص طبقہ پیدا ہو چکا ہے جو خود کو دین کا ٹھیکیدار سمجھتا ہے لیکن امام کے حقوق کے معاملے میں بدترین بخل کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کشمیری زبان کی ضرب المثل "ہرہ چھو خدا، تہ بونہ چھس بہ" (اوپر خدا ہے اور نیچے میں ہوں) اس وقت کے سماجی رویوں کی عکاسی کرتی ہے جہاں مسجد کے ذمہ دار لوگ خود کو امام کا آقا سمجھ بیٹھتے ہیں ۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ امام ان کا ملازم نہیں بلکہ ان کے بچوں کا استاد اور ان کا دینی پیشوا ہے۔
​"نونہال دانشور" اور علماء سے عناد
​وادی میں "دانشوروں" کی ایک ایسی بہتات ہو چکی ہے جن کی دانشوری کی بنیاد ہی دین بیزاری اور علماء سے عناد پر ہے یہ نام نہاد دانشور جدیدیت کے لبادے میں ائمہ کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں اور ان کی معاشی بدحالی پر آواز اٹھانے کے بجائے ان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے ہماری بربادی کی بنیاد رکھی ہے، کیونکہ جب علماء کی توہین عام ہو جائے تو معاشرے سے خیر و برکت اٹھ جاتی ہے۔

​تعلیمی بحران اور دینی تصور کا خاتمہ
​جب ایک نوجوان دیکھتا ہے کہ اس کا امام معاشرے میں ذلیل و خوار ہو رہا ہے، اسے تنخواہ کے لیے مسجد کمیٹی کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑ رہا ہے اور وہ اپنے بچوں کے لیے عید کے جوڑے تک نہیں خرید سکتا، تو وہ دین سیکھنے سے تائب ہو جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وادی میں دینی علوم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں ہولناک کمی آئی ہے۔ حال ہی میں دسویں جماعت کے 94,000 طلبہ میں سے صرف 64 طلبہ نے کشمیری یا دینیات کے مضامین کا انتخاب کیا ہے ۔
​اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وادی سے دینی تصور ختم ہو جائے گا اور مستقبل میں ہمارے پاس اپنے جنازے پڑھانے کے لیے بھی مستند علماء موجود نہیں ہوں گے ۔
​قابل توجہ امور
​مستقل تنخواہ کا نظام: مسجد کمیٹیوں کو چاہیے کہ وہ امام کی تنخواہ کو عید یا دیگر عطیات سے مشروط کرنے کے بجائے ایک مستقل ماہانہ نظام بنائیں۔
​تحریری معاہدہ: ہر امام کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ ہونا چاہیے جس میں اس کی تنخواہ، رخصت اور خاندانی مراعات کا واضح ذکر ہو ۔
​مرکزی بیت المال کا قیام: محلہ کی سطح پر بیت المال کو اس طرح فعال کیا جائے کہ امام کی تمام ضروریات (بشمول بچوں کی تعلیم اور علاج) اس فنڈ سے پوری ہوں۔
​ریاستی مداخلت کا خاتمہ: ائمہ کی پروفائلنگ اور ان کی نجی زندگی میں پولیس کی مداخلت بند کی جانی چاہیے تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔
​آخری بات
ائمہ کرام کا دکھ اور محرومی صرف ان کا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ پورے کشمیری معاشرے کا المیہ ہے۔ مسجد کمیٹیوں کے ذمہ دار لوگ جو خود کو دین کا خیر خواہ کہتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ دین کی خدمت صرف پتھروں اور گنبدوں سے نہیں، بلکہ ان لوگوں کی خدمت سے ہوتی ہے جو اس دین کے محافظ ہیں۔ اگر ہم نے آج ائمہ کے وقار کی بحالی کے لیے قدم نہ اٹھایا، تو ہماری مساجد کے منبر و محراب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں گے۔

Jummah Bayaan Of Hazrat Maulana M***i Nazir Ahmad Qasmi Sahib at Masjid Arqum Fair Banks Colony Rawalpora Srinagar.( Ins...
19/03/2026

Jummah Bayaan Of Hazrat Maulana M***i Nazir Ahmad Qasmi Sahib at Masjid Arqum Fair Banks Colony Rawalpora Srinagar.
( Insha Allah)
Time: 12:30 pm

17/03/2026
ہم اور آپ جس دور میں سانسیں لے رہے ہیں یہاں ایک طرف تو اسلام کو بیرونی دشمنوں اور خارجی طاقتوں کا سامنا ہے، وہیں دوسری ط...
06/03/2026

ہم اور آپ جس دور میں سانسیں لے رہے ہیں یہاں ایک طرف تو اسلام کو بیرونی دشمنوں اور خارجی طاقتوں کا سامنا ہے، وہیں دوسری طرف وہ آستین کے سانپوں اور ایسے دیمکوں سے بھی برسرپیکار ہے جو اندر اندر اسے کھوکھلا کررہے ہیں، یہ دیمک وہ نام نہاد اسلامی اسکالرز ہیں جو استاد کی صحبت اٹھائے بغیر محض چند کتابوں کے سہارے یا شوشل میڈیا کے بعض ذرائع کے بلبوتے پر علمی معاملات میں زبان کھولنے لگتے ہیں، جبکہ یہ بات مسلم ہے کہ حقیقی علم استاد کی صحبت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا، اور جتنی طویل استاد کی صحبت ہوگی اتنی ہی اس کے علم میں پختگی اور لغزش سے بچنے کے امکانات زیادہ ہوں گے، جیسا کہ آج مشاہدہ ہورہا ہے کہ کوئی عربی زبان جانے بغیر ایک آدھ اردو تفاسیر کا مطالعہ کر کے تفسیر کا درس دے رہا ہے، کوئی حدیث کی ترجمہ والی کتاب دیکھ کر اپنی رائے ظاہر کر رہا ہے اور فتوے دے رہا ہے، کوئی سوشل میڈیا کے ذرائع کا استعمال کر کے بغیر تحقیق کے کسی چیز کا پرچار اور ذہنوں میں انتشار پیدا کر رہا ہے، اور یہ سارے لوگ اس زعم میں ہیں کہ ہم دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں، اور ہمیں علماء کی ضرورت نہیں!! اور ان میں سے کچھ لوگ تو اس خبط میں ہیں کہ ہم سے بہتر دین کو کوئی نہیں سمجھتا، بہر حال یہ وہ اشخاص ہیں جن کے سبب عموما ملت اسلامیہ اور خصوصا بر صغیر کے مسلمان سخت ذہنی انتشار کا شکار ہیں اور دین پر بے اعتمادی فروغ پارہی ہے، جبکہ ایسے لوگوں کے خلاف ہمیشہ سے دانشوران امت وضاحتیں دیتے رہے ہیں، عبداللہ بن مبارکؒ کا قول ہے ”مثل الذی یطلب اَمر دینه بلا استاذٍ کمثل الذی یرتقی السطحَ بلا سلّمٍ“ (جو بلا استاذ کے علم دین حاصل کرے وہ ایسے ہے جیسے کوئی بلا سیڑھی چھت پر چھڑنا چاہے) (ادب الاملاء والاستملاء جلد 1 صفحہ 115)
علامہ ابن حجر ہیتمی مكیؒ فرماتے ہیں ”کان کل من اخذ العلم عن السطور ضالا مضلا“ (جو محض کتابوں سے علم لے وہ خود بھی گمراہ ہوگا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا) (الفتاویٰ الحیثیۃ صفحہ 19)
مولانا عبد اللہ حسنی ندویؒ اکثر فرماتے تھے کہ پہلے جہالت کوری تھی، آج پڑھ لکھ گئی ہے (علم بلا استاذ اور اسکے خطرات صفحہ 18)
بہرحال یہ ایک تفصیلی موضوع ہے جسکا مطالعہ موجودہ دور میں انتہائی ناگزیر ہے، اس سلسلہ میں استاذ حدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء حضرت مولانا فیصل احمد بھٹکلی ندوی دامت بركاتهم کی مصوره کتاب (علم بلا استاذ اور اسکے خطرات) نہایت مفید اور اپنے موضوع پر بے مثال ہے، اس کتاب بلکہ کتابچہ کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ کتاب جامع اور مدلل تو ہے ہی ساتھ ہی انتہائی مختصر بھی ہے (بس 40 صفحات پر محیط ہے) کہ قاری ایک ہی نشست میں مکمل کردے، مولانا نے یہ کتابچہ کیوں لکھا؟ آئیے انہیں کے بیانیہ سے جانتے ہیں لکھتے ہیں کہ ” ہم نے یہ رسالہ ان لوگوں کے لئے لکھا ہے جو اہلیت نہ ہونے کے باوجود علمی معاملات میں دخل دیتے ہیں، ان میں ایسے بھی ہیں جو اپنے تفقہ فی الدین کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، بلکہ کچھ تو خود ساختہ ”اجتہاد“ تک کے دعویدار ہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر دوسروں کو بھی براہ راست قرآن و حدیث سے استنباط کی دعوت دیتے ہیں، حالانکہ انہیں نہ عربی زبان سے واقفیت ہوتی ہے، نہ استنباط و استدلال کے اصول سے آگہی، نہ ائمۂ سلف کی جانفشانیوں کی عظمت کا شعور ہوتا ہے، نا علماء کی رہنمائی کی ضرورت کا احساس، بلکہ الٹے ان سے بدگمانی اور بیزاری تک کا اظہار ہوتا ہے، اور چند کتابوں کے سہارے یا سوشل میڈیا کے دوسرے ذرائع سے اپنے کو اتھارٹی اور علماء سے مستغنی سمجھنے کا خیال خام بھی ہوتا ہے“
ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیے
نوٹ! ذاتی طور پر مجھے یہ کتابچہ بہت پسند آیا، بس ڈیڑھ گھنٹا صرف ہوا اور مطالعہ مکمل،اس سے اندازہ لگائیں کہ کتاب کتنی دلچسپ ہے، یوں بھی مولانا فیصل صاحب جب کسی موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں تو وہ کتاب اپنے موضوع میں نایاب ہی ہوتی ہے، مولانا کا محققانہ اسلوب، صائب فکر، معتدل مزاجی، اور سب سے بڑھ کر عجز و تواضع آپکی تحریروں میں چار چاند لگا دیتے ہیں، دعا ہے کہ خدا اس نیر تاباں کو یوں ہی چمکتا دمکتا اور اس پھول کو ہوں ہی چہکتا مہکتا رکھے، آمین۔

Jummah Bayaan Of Hazrat Maulana M***i Nazir Ahmad Qasmi Sahib at Masjid Arqum Fair Banks Colony Rawalpora Srinagar.( In ...
25/02/2026

Jummah Bayaan Of Hazrat Maulana M***i Nazir Ahmad Qasmi Sahib at Masjid Arqum Fair Banks Colony Rawalpora Srinagar.
( In sha Allah )
Time: 12:30 pm

پندرہ شعبان کے سلسلے میں چار باتیں صحیح ہیں: ❶ اس رات میں اللہ سبحانہ و تعاليٰ جتنی توفيق دیں، اتنی گھر میں انفرادي عباد...
02/02/2026

پندرہ شعبان کے سلسلے میں چار باتیں صحیح ہیں:

❶ اس رات میں اللہ سبحانہ و تعاليٰ جتنی توفيق دیں، اتنی گھر میں انفرادي عبادتیں کرنا، مگر ہم نے اس رات کو ہنگاموں کی رات بنا دیا ہے، مسجدوں اور قبرستانوں میں جمع ہوتے ہیں، کھاتے پیتے اور شور کرتے ہیں، یہ سب غلط ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں، اس رات میں نفلیں پڑھنی چاہئیں، اور پوری رات پڑھنی ضروری نہیں، جتنی اللہ تعالیٰ توفيق دیں گھر میں پڑھے، یہ انفرادي عمل ہے، اجتماعی عمل نہیں۔

❷ اگلے دن روزہ رکھے، یہ روزہ مستحب ہے۔

❸ اس رات میں اپنے لئے، آپنے مرحومین کےلئے، اور پوری امت کے لئے مغفرت کی دعا کرے، اس کے لئے قبرستان جانا ضروری نہیں، اس رات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان ضرور گئے ہیں، مگر چپکے سے گئے ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اتفاقاً پتہ چل گیا تھا، نیز حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےاس رات میں قبرستان جانے کا کوئی حکم بھی نہیں دیا، اس لئے ہمارے یہاں جو تماشے ہوتے ہیں، وہ سب غلط ہیں۔

❹ جن دو شخصوں کے درمیان لڑائی جھگڑا اور اختلاف ہو، وہ اس رات میں صلح صفائی کر لیں، اگر صلح صفائی نہیں کریں گے، تو بخشش نہیں ہوگی۔

یہ چار کام اس رات میں ضعیف حدیث سے ثابت ہیں، اور ضعیف کا لحاظ اس وقت نہیں ہوتا جب سامنے صحیح حدیث ہو، صحیح حدیث کے مقابلے میں ضعیف حدیث کو نہیں لیا جاتا، لیکن اگر کسی مسئلہ میں ضعیف حدیث ہی ہو، اس کے مقابلے میں صحیح حدیث نہ ہو، تو ضعیف حدیث لی جاتی ہے، اور ایسا یہی ایک مسئلہ نہیں ہے، بہت سے مسائل ہیں، جن میں ضعیف حدیثیں ہیں، اور ضعیف احادیث سے مسائل ثابت ہوئے ہیں، جیسے صلوۃ التسبیح کی گیارہ روایتیں ہیں، اور سب ضعیف ہیں، مگر سلف کے زمانے سے صلوۃ التسبیح کا رواج ہے۔

البتہ ضعیف حدیث سے واجب اور سنت کے درجہ کا عمل ثابت نہیں ہو گا، استحباب کے درجے کا حکم ثابت ہوگا، پس صلوۃ التسبیح پڑھنا مستحب ہے، ایسے ہی پندرہ شعبان کے بارے میں، جو روایات ہیں وہ بھی ضعیف ہیں، مگر ان سے استحباب کے درجہ کا عمل ثابت ہو سکتا ہے، پس احادیث میں بیان کئے گئے چاروں کام مستحب ہوں گے، شب برأت، اس کے اعمال اور اسکے اعمال کو بالکل بے اصل کہنا درست نہیں، البتہ سورہ دخان کی تیسری آیت: انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ کا مصداق شب برأت نہیں، اس کا مصداق شب قدر ہے، کیونکہ قرآن کریم شب قدر میں نازل ہوا ہے۔
۔
حوالہ: علمی خطبات
از: مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب نور اللہ مرقدہ، سابق شیخ الحدیث و صدر المدرسین دار العلوم دیوبند
جلد: 2
صفحہ نمبر: 24

Jummah Bayaan Of Hazrat Maulana M***i Nazir Ahmad Qasmi Sahib at Masjid Arqum Fair Banks Colony Rawalpora Srinagar.( In ...
21/01/2026

Jummah Bayaan Of Hazrat Maulana M***i Nazir Ahmad Qasmi Sahib at Masjid Arqum Fair Banks Colony Rawalpora Srinagar.
( In Sha Allah )
Time: 12:30 pm

حضرت جی پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی نَوَّرَ اللّٰہ مَرْقَدَہٗ کی ہندوستان آمد پر لکھاگیا ایک تفصیلی مضمونجناب ندیم ا...
16/12/2025

حضرت جی پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی نَوَّرَ اللّٰہ مَرْقَدَہٗ کی ہندوستان آمد پر لکھاگیا ایک تفصیلی مضمون

جناب ندیم الواجدی صاحب رحمہ اللّٰہ تعالٰی
( دارالعلوم دیوبند انڈیا)

وہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئے
پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ صوفی بزرگ حضرت مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی مدظلہ العالی ان دنوں ہندوستان تشریف لائے ہوئے ہیں۔اپنے دورۂ ہند کے تیسرے مرحلے میں وہ دیوبند بھی تشریف لائے اور چار روز قیام کرکے حیدرآباد چلے گئے۔ قیام دیوبند کے دوران انہوں نے متعدد چھوٹی بڑی مجلسوں سے خطاب کیا ان کی تشریف آوری کے لوگ شدت سے منتظر تھے اور دور دور سے سفر کرکے ان کی ایک جھلک پانے کے لیے اور ان کی تقریریں سننے کے لیے دیوبند پہنچے ہوئے تھے۔ یوں تو دیوبند میں دارالعلوم کی برکت سے سال کے بارہ مہینے دینی اور علمی شخصیتوں کی آمدورفت رہتی ہے مگر شیخ ذوالفقار کی آمد کا واقعہ اپنے آپ میں بالکل انوکھا واقعہ ہے ، اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس طرح آئے جیسے صحرا کی سخت دھوپ میں ہوا کا خوش گوار جھونکا میسر آجائے اور روح میں اتر کر اندر تلک شاداب و شرسار کرجائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا ، اہل دیوبند کو یہ چار تاریخی دن مدتوں یاد رہیں گے اور دیر تک ان کے روحانی وجود کی مہک دیوبند کی فضاؤں میں رچی بسی رہے گی۔

اس دورِ قحطِ الرجال میں حضرت مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی کا وجود کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں وہ اس امت کا ایک زندہ معجزہ ہیں انہیں دیکھ کر خدا یاد آتا ہے اور ان کی باتیں سن کر دلوں میں سوز اور تڑپ پیدا ہوتی ہے ۔ یہ صرف میں ہی نہیں کہہ رہا بلکہ تقریباً یہی جملے ہر اس شخص کی زبان پر ہیں جس نے ان چار دنوں میں سے کوئی ایک لمحہ بھی ان کے ساتھ گزار لیا ہے یا ان کی باتیں دل کے کانوں سے سن لی ہیں۔ واقعی کوئی زمانہ ﷲ کے نیک بندوں سے خالی نہیں رہتا ، اس کے ساتھ یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ﷲ اپنے بندوں میں سے جس سے چاہے بڑے سے بڑا کام لے لیتا ہے، ماضی قریب میں جو کام سید الطائفہ حضرت حاجی امداد ﷲ مہاجر مکیؒ نے تھانہ بھون کی خانقاہ میں کیا، ان کے بعد جو کام ان کے باکمال خلفاء حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، فقیہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ پھر ان حضرات کے خلفاء شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن گنگوہیؒ ، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ اور ان حضرات کے بالواسطہ یا بلاواسطہ جانشینوں نے کیا آج وہی کام پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی انجام دے رہے ہیں، اصل میں تو یہ کام حضرت حاجی امدادﷲ مہاجر مکی ؒ کی روحانی اولاد کا تھا جو دار العلوم دیوبند سمیت ہزاروں مدارس میں بکھری ہوئی ہے لیکن انجام دے رہے ہیں شیخ ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی جو اصطلاحی معنوں میں اس روحانی سلسلے سے وابستہ نہیں اور نہ اس سلسلۂ زریں کے باقاعدہ فیض یافتہ ہیں۔ ہوسکتا ہے شیخ کی آمد اسی بھولے ہوئے سبق کو یاد دلانے کے لیے ہو ، جس طرح لوگ ان کی مجلسوں میں ٹوٹ کر پڑے اور جس طرح ذوق و شوق کے کانوں سے ان کے مواعظ کا ایک ایک لفظ انہوں نے سنا اور دل میں اتارا اس سے پتہ چلتا ہے کہ راہ حق کے طلب گاروں کی کمی نہیں ہے تشنگان شوق بھی بے شمار ہیں بس ایک راہنما کی ضرورت ہے جو ہاتھ پکڑ کر منزل پر پہنچا دے اور ایک صاحب دل ساقی کی ضرورت ہے جو ’’مئے حق‘‘ پلا کر تشنہ کاموں کی پیاس بجھا دے۔
لفظ’’ پیر‘‘ سے لگتا ہے کہ وہ کوئی بہت ہی بوڑھے اور عمر رسیدہ بزرگ ہوں گے جنہیں لوگوں کے سہارے سے چلنا پڑتا ہوگا لیکن ایسا نہیں ہے وہ ابھی ساٹھ سال کے بھی نہیں ہوئے ماشاء ﷲ صحت بھی اچھی ہے، بلند قد و قامت اور معتدل جسامت کے ساتھ ان کی صحت قابل رشک ہے۔ ہم نے اپنے بہت سے بزرگوں کو دیکھا ہے جن پر نگاہ پڑتی تھی تو ہٹنے کا نام نہیں لیتی تھی، بعینہٖ یہی کیفیت پیر صاحب کی ہے، چہرہ ایسا منور تر وتازہ اور شاداب کہ نگاہ پڑے تو ہٹنا بھول جائے ، لبوں پر کھیلتی مسکراہٹ آنکھوں میں یاد الٰہی کا سوز اور تڑپ ، طبیعت میں حد درجہ انکسار اور تواضع ، اپنی ہر ادا سے گہری چھاپ چھوڑنے والی شخصیت ، اہل دیوبند کو مدتوں یاد رہے گی۔
مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی کی پیدائش *1953ء* کو صوبہ پنجاب پاکستان کے شہر جھنگ میں ایک کھرل خاندان میں ہوئی، ان کے والدین نہایت دین دار اور عبادت گزار تھے، گھر میں نماز ، تلاوت کا بڑا اہتمام تھا، یہاں تک کہ تہجد کی بھی پابندی ہوتی تھی، اپنی والدہ محترمہ کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’والدہ ماجدہ بھی پابند صوم و صلوٰۃ تھیں، راقم جب تین برس کی عمر کا تھا تو رات کے آخری پہر میں والدہ صاحبہ کو بستر میں موجود نہ پا کر اٹھ بیٹھتا ، دیکھتا تھا کہ وہ سرہانے کی طرف مصلّٰی بچھا کر نماز تہجد پڑھنے میں مشغول ہیں، راقم منتظر رہتا کہ نماز کب ختم ہوگی، والدہ صاحبہ نماز کے بعد دامن پھیلا کر اونچی آواز سے رو رو کر دعائیں مانگتیں، راقم نے اپنی زندگی میں تہجد کے وقت جس قدر اپنی والدہ صاحبہ کو روتے دیکھا ہے کسی اور کو اس قدر روتے نہیں دیکھا ، بعض اوقات والدہ صاحبہ راقم کا نام لے کر دعائیں کرتیں تو راقم خوشی سے پھر بستر پر سو جاتا۔‘‘ (حیات حبیب ص 744)
یقینا یہ والدہ محترمہ کی دعائے سحر گہی اور نالۂ نیم شبی کا نتیجہ ہے کہ آج ان کے بیٹے کا نام پورے عالم میں گونج رہا ہے اور ان سے دلوں کی اصلاح کا کام لیا جارہا ہے۔
مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی کی تعلیم اسکولوں اور کالجوں میں ہوئی۔ انہوں نے کئی عصری کورس کئے *1972* ء میں بی ایس سی الیکٹریکل انجینئر کی ڈگری حاصل کرکے اسی شعبے سے وابستہ ہوگئے، پہلے اپرنٹس الیکٹریکل انجینئر ، پھر اسسٹنٹ الیکٹریکل انجینئر بنے ، اس کے بعد چیف الیکٹریکل انجینئر بن گئے ، جس زمانے میں وہ انجینئر بن رہے تھے اس زمانے میں جمناسٹک ، فٹ بال ، سوئمنگ کے کیپٹن اور چمپیئن بھی رہے۔ ان حالات میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ کوئی طالب علم دین کی طرف مائل بھی ہوسکتا ہے، مگر یہ معجزہ ہوا، انہوں نے عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ ناظرہ بھی پڑھا ، ابتدائی دینیات ، فارسی اور عربی کی کتابیں بھی پڑھیں ، قرآن کریم بھی حفظ کیا، یہاں تک کہ جب وہ لاہور یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے ان کا تعلق عمدۃ الفقہ کے مصنف حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحبؒ سے ہوگیا، جو نقشبندیہ سلسلے کے ایک صاحب نسبت بزرگ تھے، شیخ ذوالفقار احمد نے ان سے مکتوبات مجدد الف ثانی سبقاً سبقاً پڑھی، ان کی وفات کے بعد وہ حضرت مرشد عالم خواجہ غلام حبیب نقشبندی مجددی ؒ کے دامن سے وابستہ ہوگئے، یہ 1980ء کی بات ہے، 1983ء میں خلافت سے سرفراز کئے گئے، اس دوران انہوں نے جامعہ رحمانیہ جہانیاں منڈی اور جامعہ قاسم العلوم ملتان سے دورۂ حدیث کی اعزازی ڈگری بھی حاصل کی ، اپنے مرشد کی وفات کے بعد وہ پوری طرح دین کے کاموں میں لگ گئے ، کئی سال امریکہ میں گزار کر اب مستقل طور پر جھنگ میں مقیم ہیں، لڑکوں اور لڑکیوں کے متعدد دینی ادارے ان کی سرپرستی اور اہتمام میں چل رہے ہیں، پچاس سے زائد ملکوں کے اصلاحی و تبلیغی دورے بھی کرچکے ہیں، ہر وقت سرگرداں رہتے ہیں، دینی و عصری علوم کی جامعیت حضرت والا کی امتیازی خصوصیت ہے، انگلش زبان پر عبور حاصل ہے انہیں دینی علوم کو عصری اسلوب میں اور مخاطب کی زبان میں پیش کرنے کا غیر معمولی طور پر ملکہ حاصل ہے، ہر سال رمضان المبارک کا مہینہ (صرف آخری عشرہ) افریقی ملک زمیبیامیں گزرتا ہے، جہاں حضرت اپنے مریدین اور خلفاء کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ اعتکاف فرماتے ہیں۔ہر سال حج کے ایام میںمکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مجلسیں لگتی ہیں اور بے شمار عقیدت مند،ان مجلسوں میں ان سے استفادہ کرتے ہیں، گویا سال کے بارہ مہینے ان کا فیض جاری رہتا ہے۔
مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی کو علماء دیوبند سے بڑی عقیدت ہے اور یہ عقیدت ان کی ہر تقریر اور تحریر سے جھلکتی ہے آپ ان کی کوئی بھی تقریر سن لیں، یا کوئی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو علماء دیوبند کا ذکر ضرور ملے گا، یہ عقیدت ہی ان کے ہندوستان آنے کا سبب بنی ، افسوس انہیں بعض مقامات کا ویزہ نہیں مل سکا ، ورنہ تھانہ بھون ، گنگوہ، نانوتہ، رائے پوراور سہارن پور جیسے مقامات پر جہاں کبھی بزرگوں کی خانقاہیں ہوا کرتی تھین ان کا دل جانے کے لیے بڑا بے چین رہا، جب کوئی سبیل جانے کی نہ نکل سکی تو دہلی سے دیوبند کا سفر انہوں نے شاملی اور تھانہ بھون کے راستے کیا تاکہ اگر ان بستیوں میں اندر نہ جاسکیں تو کم از کم ان بستیوں کے باہر سے تو گزر جائیں۔ علماء دیوبند کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے جذبات قابو میں نہیں رہتے ، خود بھی روتے ہیں اور سننے والوں کو بھی رلا دیتے ہیں وہ باربار کہتے ہیں کہ اکابر علماء دیوبند تو صحابۂ کرام ؓ کی مقدس جماعت کے وہ افراد ہیں جنہیں ﷲ نے چودہ سو سال بعد پیدا فرمایا تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ میرے حبیب ﷺ کے صحابہؓ ایسے ہوا کرتے تھے۔
حضرت کی زبان میں تاثیر بہت ہے ، تقریریں تو بہت لوگ کرتے ہیں ، گھنٹوں گھنٹوں کرتے ہیں، الفاظ کا سماں باندھ دیتے ہیں لیکن جب لوگ مجلسوں سے اٹھتے ہیں تو ان کے پلے کچھ بھی نہیں ہوتا ، جیسے آئے تھے ویسے ہی رخصت ہوجاتے ہیں۔ حضرت پیر صاحب کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ عام سی، سادہ سی باتیں اس سوز کے ساتھ کرتے ہیں کہ دل پر اثر انداز ہوتی ہیں، ہرچہ از دل خیزد بردل ریزدکا صحیح مشاہدہ حضرت پیر صاحب کی تقریریں سن کر ہوا، وہی باتیں جو باربار کتابوں میں پڑھیں ، وہی قصے جو زندگی بھر پڑھتے اور سنتے رہے ان کی زبان سے سنے تو بالکل نئے محسوس ہوئے ، ان کی آواز کا سوز ، اور دل کا اخلاص سننے والے کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ہزاروں کامجمع تقریر کے دوران بالکل ساکت و صامت ہوجائے اور ماحول پر ایسا سناٹا طاری ہوجائے کہ سوئی گرے تو اس کے گرنے کی آواز سنائی دے ، حضرت پیر صاحب جب تقریر شروع کرتے ہیں تو ایسا ہی ہوتا ہے اور بدشوق سے بدشوق انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب تقریر شروع ہوئی اور کب ختم ہوگئی، دو ڈھائی گھنٹے کس طرح منٹوں میں گزر گئے۔
تقریریں تو بہت سنی ہیں ، لیکن اتنی جامع ، مرتب، حسب حال اور پر اثر تقریریں کم ہی سنی ہیں۔ حضرت کے ایک خلیفہ نے راقم کے استفسار پر بتلایا کہ حضرت پیر صاحب ہر تقریر سے پہلے مکمل تیاری کرتے ہیں، نوٹس تیار کرتے ہیں ، احادیث کا متن نوٹ کرتے ہیں، حوالے تلاش کرتے ہیں، حسب حال واقعات اور اشعار کے ذریعے اپنی ہر تقریر کو سجاتے سنوارتے ہیں، تقریر سے کچھ دیر پہلے تنہائی اختیار کرلیتے ہیں اور رب کریم سے رو رو کر دعا کرتے ہیں کہ اے ﷲ میری تقریر میں اثر دے ، میری زبان میں حق بات کہنے کی صلاحیت پیدا فرما ، حضرت پیر صاحب خود فرماتے ہیں کہ میں الہامی تقریر نہیں کرسکتا، رات رات بھر مطالعہ کرنے کے بعد سامعین کو مخاطب کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی تقریر موضوع کے دائرے میں رہتی ہے ، حشو و زوائد سے پاک اور نہایت مرتب، حضرت پیر صاحب کی تقریروں میں حکیم الامت حضرت تھانویؒ کا رنگ جھلکتا ہے، جن کے وعظ ہم نے سنے نہیں ہیں پڑھے ضرور ہیں، جو حضرت کے باکمال شاگردوں نے کئی کئی گھنٹے بیٹھ کر من و عن نقل کئے، ماضی قریب میں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب ؒ کی تقریریں بھی سادگی، پرکاری، شگفتگی، اثر انگیزی اور برجستگی کے لحاظ سے بے نظیر تھیں، راقم کو حضرت ؒ کی مجلسوں میں بیٹھنے اور ان کی تقریریں سننے کی سعادت حاصل رہی ہے، حضرت پیر صاحب کی تقریریں سن کر مجھے اپنے ان دونوں بزرگوں کی یاد آگئی، ﷲ نے آج حضرت پیر صاحب کو یہ خصوصیت عطا کی ہے بلاشبہ یہ کوئی کسبی ملکہ نہیں ہے بلکہ خالص وہبی چیز ہے ﷲ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔
حضرت پیر صاحب جدید تعلیم یافتہ طبقے کو متاثر کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں، ان کا مطالعہ بڑا وسیع ہے، مشاہدہ گہرا ہے، وہ مغربی تہذیب کے مظاہر دیکھ چکے ہیں ، اس کی برائیوں سے اچھی طرح واقف ہیں اور دینی تعلیم کی برکت سے ان برائیوں کا علاج بھی خوب جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے استفادہ کرنے والوں میں ایک بڑی تعداد ڈاکٹروں ، انجینئروں اور عصری علوم سے وابستہ لوگوں کی بھی ہے۔ یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ جس قدر جدید تعلیم یافتہ طبقہ ان کی طرف بڑھ رہا ہے اسی قدر دینی تعلیم سے وابستہ لوگ بھی ان کے دامن سے وابستہ ہورہے ہیں۔ آج سے چند سال پہلے انہیں کوئی جانتا بھی نہیں تھا،خاص طور پر ہندوستان میں تو ان سے کوئی واقف بھی نہیں تھا ، دس پندرہ سال پہلے وہ کسی کے ساتھ دیوبند آئے اور گھوم پھر کر چلے گئے نہ کسی نے ان کی آمد کا نوٹس لیا اور نہ نظر بھر کے ان کی طرف دیکھا ، اچانک ان کی شہرت کا سفر شروع ہوا ،اور جس طرح مشک کی خوشبو مہکتی ہے اسی طرح ان کے وجود کی خوشبو مہکنے لگی۔ یہ خوشبو سرحدوں سے نکلی اور دور دور تک پھیل گئی ، آج شاید ہی کوئی جگہ ایسی ہو جہاں یہ خوشبو نہ پہنچ رہی ہو اور مشام جاں کو معطر نہ کررہی ہو۔ اس میں بہت کچھ دخل ان تقریروں کا ہے جو مولانا صلاح الدین سیفی کے ذریعے مرتب ہو کر پوری دنیا میں پھیل چکی ہیں۔ ہندوستان کے گجرات سے تعلق رکھنے والے مولانا صلاح الدین نے ان کو کس طرح دریافت کیا، بقول ان کے وہ ہند میں سب سے پہلے بکنے والوں میں ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ دس بارہ سال قبل وہ تقریروں کا مجموعہ لے کر میرے پاس تشریف لائے اور اس کو دار الکتاب سے شائع کرنے کی خواہش ظاہر کی، میں نے مقرر کا نام دیکھ کر معذرت پیش کردی ۔ دراصل میرے لیے یہ نام بالکل اجنبی تھا ، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تصوف کے موضوع پر ہمارے اکابر کے علاوہ بھی کسی کی تقریر یا تحریر قابل اشاعت ہوسکتی ہے مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ جس مجموعے کو میں مقرر کا نامانوس نام دیکھ کر واپس کررہا ہوں وہی مجموعہ اور اس جیسے بیسیوں مجموعے خود دیوبند سے شائع ہوں گے اور ان کو عوام و خواص میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوگی۔ حضرت پیر صاحب دوسری بار جب ہندوستان آئے تو ان کی شہرت و عظمت کاسکہ لوگوں کے دلوں پر بیٹھ چکا تھا، آج وہ جہاں جا رہے ہیں عقیدت مندوں کی بھیڑ انہیں سر آنکھوں پر بٹھا رہی ہے۔
دیوبند میں ان کے تین بڑے اجتماعات ہوئے، تینوں میں حاضرین کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے اگر یہ کہا جائے کہ اجتماع گاہوں میں سر سے سر بج رہا تھا تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا ، تینوں جگہ انہوں نے الگ الگ موضوع پر خطاب کیا لیکن تینوں موضوع کا تعلق ایک ہی موضوع سے تھا جسے ہم تصوف و طریقت ، سلوک اور احسان کہتے ہیں، یہ ایک ہی مفہوم کے مختلف عنوانات ہیں۔ عام طور پر تصوف کے بارے میں بڑی غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے، بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ تصوف کا مقصود محض ذکر ہے، آپ جب کسی شیخ سے بیعت کرتے ہیں تو وہ آپ کو کچھ اذکار و اور اد بتلا دیتا ہے آپ ان اذکار و اوراد کا اہتمام کرتے ہیں ، صرف یہ چیز تصوف نہیں ہے، بعض لوگ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ تصوف مراقبے ، مجاہدے ا ور چلہ کشی کرنے کا دوسرا نام ہے، یہ بھی بڑی غلط فہمی ہے، ذکر اور مجاہدہ اصلی نہیں ہے اصل مقصود وہ ہے جس کو ﷲ تعالیٰ نے اپنی اس آیت میں بیان فرمایا ہے:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا (الشمس 9)
’’وہ شخص کامیاب ہوا جس نے نفس کا تزکیہ کرلیا۔‘‘
اور جس کا ذکر ہمیں اس ارشاد ربانی میں ملتا ہے:
وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ (البقرۃ 129)
’’اور وہ رسول ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ کرتے ہیں۔‘‘
ان دونوں آیتوں میں تزکیے کا ذکر ہے جس کے معنی ہیں پاک صاف کرنا ۔ شریعت کی اصطلاح میں تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ جس طرح انسان کے ظاہری اعمال و افعال ہوتے ہیں اور ان کے بارے میںا ﷲ تعالیٰ کے اوامر و نواہی ہیں جیسے نماز پڑھو ، روزہ رکھو ،حج کرو، زکوٰۃ دو، جھوٹ نہ بولو ، شراب نہ پیو، زنا نہ کرو، چوری نہ کرو، غیبت اور چغل خوری نہ کرو، ان اوامر و نواہی کا تعلق بندوں کے ظاہری اعمال سے ہے، اسی طرح انسان کے باطن یعنی قلب سے متعلق بھی کچھ اوامر و نواہی ہیں، ان اوامر کو انجام دینا بھی واجب ہے اور ان نواہی سے بچنا بھی واجب ہے، جیسے تواضع ، اخلاص ، توکل، صبر وغیرہ اوامر ہیں، تکبر ، حسد، ریاکاری وغیرہ نواہی ہیں ،ا ن میں سے اول الذکر کو فضائل اور اخلاق فاضلہ کہتے ہیں، ثانی الذکر کو رذائل اور اخلاق رذیلہ کہا جاتا ہے۔ حضرات صوفیاء اور مشائخ کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے مریدین کے دلوں میں اخلاق فاضلہ کی آب یاری کرتے ہیں اور اخلاق رذیلہ کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیتے ہیں یہی تزکیہ ہے۔ اسلامی نظام حیات میں تزکیۂ نفس کی اہمیت اور ضرورت کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے ، عقائد، عبادات ، اخلاق و معاملات ، ہر شعبے میں اس کی ضرورت مسلّم ہے۔
تصوف و سلوک کی تعلیم بھی بہت ضروری ہے، اس تعلیم سے سالک کی زندگی پر بڑا خوش گوار اثر مرتب ہوتا ہے، ﷲ تعالیٰ سے اس کا تعلق مضبوط ہوجاتا ہے ، اس کے اندر اتباعِ سنت کا جذبۂ کامل پیدا ہوجاتا ہے، اس کے شخصی حالات ، اس کے اخلاق ، اس کے معاملات سب شریعت کے دائرے میں آجاتے ہیں، اس کی زندگی کا نصب العین آخرت کی فوز و فلاح بن جاتا ہے، دنیا کی بے وقعتی اس کے قلب و نظر میں سما جاتی ہے اس کے اندر مخلوق کی خیر خواہی کا جذبہ اس حد تک پیدا ہوجاتا ہے کہ مخلوق کو ایذاء دینا تو ایک طرف مخلوق کی ایذاء کے تصور سے بھی اس کی روح کانپ اٹھتی ہے، بالکل ایک نئی شخصیت ابھر کر نکھر کر سامنے آتی ہے۔
سلوک و معرفت کے جتنے بھی سلسلے ہیں سب کے مشائخ یہی ایک کام کررہے ہیں ، یعنی دلوں کی دنیا آباد کررہے ہیں اور انہیں خدا سے قریب کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں سب کا انداز جدا جدا ہے، مگر ایک چیز سب کے یہاں قدر مشترک کے طور پر ہے اور وہ ہے ﷲ کے ذکر پر مداومت اور اس کے ذریعے باطن کی اصلاح و تعمیر، یہ وہ نسخہ ہے جو خود سرکار دو عالم ﷺ نے صحابہؓ کے لیے تجویز فرمایا تھا۔ ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے :حضرت عبدﷲ بن بسر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سرکار دوعالم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول ﷲﷺ نفلی عبادات اتنی زیادہ ہیں کہ میں تمام عبادات انجام دینے کی اپنے اندر ہمت نہیں پاتا آپ میرے لیے کوئی ایسی چیز تجویز فرمادیں کہ میرا شوق بھی پورا ہوجائے اور عباداتِ نافلہ کی ادائیگی میں کمی بھی باقی نہ رہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کا علاج یہ ہے کہ تمہاری زبان اﷲ کے ذکر سے ہمیشہ تر رہے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کریم میں اس طرح فرمائی گئی:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اذْکُرُ اﷲَ ذِکْرًا کَثِیْرًاo وَّ سَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً o
’’اے ایمان والو اﷲ کا بہت زیادہ ذکر کیا کرواور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کیا کرو۔‘‘
کبھی ارشاد فرمایا :
اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ ﷲَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدً وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ (آل عمران 191)
’’یہ وہ لوگ ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور سوتے جاگتے ﷲ کا ذکر کرتے ہیں ۔‘‘
ان آیات مبارکہ سے دو باتیں واضح طور پر سامنے آتی ہیں ، ایک یہ کہ ﷲ کا ذکر ہر حال میں کرو اور دوسرے یہ کہ ہر وقت کرو صوفیائے کرام کا کام ہی یہ ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے لوگوں کو ذکر الہی اور یاد الہی کی طرف مائل کرتے ہیں اور اس راستے سے انہیں قرب الہی تک لے جاتے ہیں جو مومن کا اصل مقصود ہے اور جو دین و دنیا میں فلاح و کامرانی کی دلیل ہے۔ حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی اسی ذکر کا پیغام لے کر آئے اور دے کے چلے گئے ، انہوں نے ہمیں کوئی نیا سبق نہیں دیا بلکہ ہمیں ہمارا بھولا ہوا سبق یاد دلایا ۔ہمارے مدارس کا مقصدِ تاسیس ہی ظاہر کی تعمیر اور باطن کی تطہیر ہے۔ دارالعلوم کے اولین معماروں کی اور ان کے بعد آنے والے بزرگوں کی نظر اسی مقصد پر رہی۔ یہی وجہ ہے کہ دارالعلوم کی فضائیں قال ﷲ و قال الرسولﷺ کے نغموں سے بھی گونجا کرتی تھی اور ﷲ ﷲ کی ضربوں سے بھی۔ دار العلوم کا ایک دور وہ بھی تھا جب یہاں کے شیخ الحدیث سے لے کر دربان تک عابد شب زندہ دار اور تہجد گزار لوگ ہوا کرتے تھے ، یہ وہ سبق ہے جو اب فراموش ہوچکا ہے عجب نہیں کہ ﷲ نے یہ بھولا ہوا سبق یاد دلانے ہی کے لیے شیخ کو یہاں بھیجا ہو۔
شیخ کی مجلسوں میںجس طرح لوگ پہنچے اور جس ذوق و شوق کے ساتھ ان کو سنا اس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں میں تشنگی کا احساس ہے ان کے دل بے چین ہیں، اور ان کی نگاہیں کسی مرشد کامل کے انتظار میں ہیں۔ علماء کی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں مقرر بھی ایک سے بڑھ کر ایک موجود ہیں لکھنے والے بھی بے شمار ہیں مگر اس ہجوم میں کوئی صاحب دل نہیں ہے ﷲ کی حقیقی معرفت رکھنے والا نہیں ہے کوئی ایسی ہستی نہیں جس کا سینہ جذبۂ سوز دروں سے معمور ہو اور جس میں عشق الٰہی کی آگ سلگ رہی ہو ، وہ آئے اور سب کو عشق الٰہی کی روشنی دکھلا کر چلے گئے اب یہ ہم پر موقوف ہے کہ ہم روشنی میں کب تک چلتے ہیں دوسرے لفظوں میں ہم یہ بات اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو سبق شیخ نے ہمیں یاد دلایا اسے ہم کب تک یاد رکھتے ہیں۔

(نوٹ آج صاحبِ مضمون بھی ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی صاحب کے والد بزرگوار سال گزشتہ امریکہ میں انتقال کرگئے اور اس دنیا فانی سے دار خلد کی جانب ہمیشہ ہمیش کے لیے کوچ فرما گئے )
اللّٰہ تعالیٰ مضمون نگار واجدی صاحب کی بال بال مغفرت فرمائے آمین

Address

Srinagar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when IRPC posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to IRPC:

Share