14/01/2026
*روداد دورۂ علمیہ براۓ حفظ متون مستوی اول 2025م*
علومِ شرعیہ کے طلبہ کے لیے علمی متون اور اس کی فہمِ عمیق بنیادی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ متون ہی علوم کی اساس، فنون کی روح اور علمی مناہج کی بنیاد ہوتے ہیں، جن کے صحیح ادراک سے طالب علم کے فہم میں پختگی اور علم میں رسوخ پیدا ہوتا ہے۔ میں کہا جاتا ہے "من حفظ المتون حاز الفنون"
چونکہ یہ مسابقتی دور ہے یہاں ہر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے اپنی تمام جد وجہد اور مساعئ جمیلہ کو صرف کرتا ہے، مسابقے آگے بڑھنے، بلندیوں کی طرف جست لگانے کی خو پیدا کرتے ہیں، ستاروں پر کمند وہی پھینکتے ہیں جو مسابقوں کی دشوار گزار گھاٹی سے گذرے ہوتے ہیں، مسابقے دل ودماغ کو صیقل کرتے اور طالب کو جفاکش بناتے ہیں، غور کیجئے تو پوری زندگی مسابقے کا ایک میدان ہے، یہاں دن رات مقابلہ جاری ہے، جو زمانہ طالب علمی میں مسابقوں میں لوہا لیتا ہے وہ مستقبل میں بھی ہر مقابلے میں سرخرو ہوتا ہے،
اسلئے وقتا فوقتا مسابقہ کا انعقاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، مزکورہ باتوں کے پیش نظر فارغینِ جامعہ اسلامیہ دریاباد 2023م کی ایک قائم کردہ ٹرسٹ کی طرف سے دورۂ علمیہ براۓ حفظ متون مستوی اول کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں صرف 100 سیٹیں محدود کی گئیں، بفضلِ الٰہی مختلف جامعات کے طلبہ وطالبات نے شرکت کی۔
اس دورہ کی ایک اجمالی اور مختصر رپورٹ پیش خدمت ہے۔
اس تعلیمی دورہ کو متعدد مستویات/مراحل میں منقسم کیا گیا۔
پہلے مستوی میں امامِ دعوتِ توحید مجدد اسلام شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کی دو اہم تصانیف "القواعد الأربع" اور "نواقض الإسلام" کو شاملِ نصاب رکھا گیا، جن کا حفظ مع شرح مقصود تھا۔
ان دونوں متون کی شرح کے لیے دو جید، اور راسخ فی العلم مشائخ کا انتخاب کیا گیا۔ "القواعد الأربع" کی شرح کے لیے شیخ شمیم عبدالوکیل الجامعی الہندی (طالب جامعہ اسلامیہ، مدینہ طیبہ) اور "نواقض الإسلام" کی شرح کے لیے شیخ محمد مختار عبدالخالق الجامعی (طالب جامعہ ملک خالد، ابھا) کو ذمہ داری سونپی گئی۔
الحمد للہ، دونوں مشائخ نے نہایت اخلاص، کامل تیاری اور علمی بصیرت کے ساتھ تدریس کا حق ادا کیا، اور متون کی جامع، مدلل اور شافی شرح پیش کی، جس سے طلبہ کو علمی طور پر بھرپور استفادہ کا موقع فراہم ہوسکا۔ مکمل ویڈیوز آزاد ہند ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے آفیشیل چینل پر اپلوڈ ہیں۔
https://youtu.be/IxG7p7n74N8?si=6qqAGdxWd8k4fQzi
متعینہ شروط کے اعتبار سے کل 45 طلبہ اختبار کے اہل قرار پائے، جس میں طالبات بھی شامل تھیں۔
مسابقہ میں انعامات کی تفصیل کچھ اس طرح تھی:
پہلی پوزیشن 2000
دوسری پوزیشن 1500
تیسری پوزیشن1000
چوتھی تا آٹھویں پوزیشن کے طلبہ کو 500
نویں تا گیارہویں تک کے طلبہ کو 300
بقیہ وہ تمام طلبہ جو ممتاز (90%) نمبرات سے کامیاب ہوئے ان کو 250 روپئے (تشجیعا) سے نوازا گیا۔
اور اختبار میں شرکت کرنے والے تمام طلبہ کو شھادہ دیا گیا ۔
اس میں پوزیشن لانے والے طلبہ مندرجہ ذیل ہیں۔
*پہلی پوزیشن* 97.5 نمبر: اشرف انصاری بن عبداللہ انصاری (جامعہ اسلامیہ خیر العلوم ڈومریا گنج)
*دوسری پوزیشن* 97 نمبر: محمد یونس علی احمد (جامعہ اسلامیہ دریاباد)
*تیسری پوزیشن* 96.5 نمبر: عبد العزیز منصور میاں ( جامعہ سلفیہ بنارس)
اسی طرح کل ملا کر 23 طلبہ انعام کے مستحق قرار پائے۔
الحمد للہ مسابقہ کافی حد تک کامیاب رہا،
ٹرسٹ کی طرف سے تمام مشارکین مبارکباد کے مستحق ہیں، خصوصا کامیاب ہونے والے طلبہ کو دلی دعائیں اور نیک تمنائیں،
اللہ انھیں زندگی کے ہر موڑ پر اسی طرح کامیاب و کامران کرے آمین ۔
*کھول یوں مٹھی کہ اک جگنو نہ نکلے ہاتھ سے*
*آنکھ کو ایسے جھپک لمحہ کوئی اوجھل نہ ہو*
*پہلی سیڑھی پر قدم رکھ ،آخری سیڑھی پر آنکھ*
*منزلوں کی جستجو میں رائیگاں کوئی پل نہ ہو*
جو طلبہ انعام سے محروم رہے انہیں گھبرانے اور مایوس ہونے کی قطعا ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی اور کوشش کرنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے
*حالات کے قدموں پر قلندر نہیں گرتا*
*ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا*
اخیر میں مولائے کل جہاں کا شکر ادا کرتے ہیں جس کی توفیق سے اس دورہ علمیہ کا آغاز و اختتام بحسن و خوبی انجام پاسکا،
بعدہ آزاد ہند ٹرسٹ کے جملہ ذمہ داران و اراکین کے بھی شاکر و ممنون ہیں جن لوگوں کی انتھک کوششوں سے یہ دورہ پایۂ تکمیل تک پہنچا۔
فجزاھم اللہ خیرا
*مؤسسة آزاد هند التعليمية والخيرية*
*AZAD HIND EDUCATIONAL AND WELFARE TRUST*
Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.