Mysore FIQH Academy

Mysore FIQH Academy Mysore FIQH Academy was established in 2014 to help propagate knowledge of the Islamic Sciences (such as Aqeedah, Fiqh, Tafseer, and Hadith)

03/06/2025

كسی بڑے جانور میں عقیقہ كے لیے ایك حصہ لینا؟

سوال:
سوال : ایام تشریق کے علاوہ دنوں میں اگر کوئی بڑے جانور سے عقیقہ کرنا چاہتا ہے تو کیا اس میں حصہ کے حساب سے عقیقہ کرنا جائز ہے؟ یا سارا جانور اکیلے کے نام سے دینا ہوگا؟

جواب نمبر: 604490

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa : 776-110T/M=10/1442

ایام قربانی کے علاوہ میں اگر کوئی بڑے جانور کے ذریعہ عقیقہ کرنا چاہے تو حصے کے حساب سے عقیقہ کرسکتا ہے، سارا جانور اکیلے ایک بچہ یا ایک بچی کے عقیقہ میں ذبح کرنا لازم نہیں، بلکہ بڑے جانور میں سات حصے ہوتے ہیں تو سات بچیوں کا عقیقہ ایک جانور میں ہوسکتا ہے یا تین بچے اور ایک بچی کا عقیقہ ہوسکتا ہے یا تین بچی اور دو بچوں کا عقیقہ ہوسکتا ہے، الغرض بچہ کے لئے دو حصے اور بچی کے لیے ایک حصہ بطور عقیقہ ذبح کیا جاتا ہے اگر پورا بڑا جانور ایک ہی بچہ یا ایک ہی بچی کے عقیقہ میں ذبح کرنا چاہے تو ایسا بھی کرسکتا ہے لیکن یہ درست نہیں کہ بڑے جانور میں کچھ حصہ عقیقہ کے لیے ہو اور باقی حصے تجارت کے لیے یعنی بیچنے کے لیے ہو؛ بلکہ سارے حصے قربت کے لئے ہونے چاہئیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

رمضان المبارک اور ہمارے اسپیکر 🔊 ✍🏻: محمد نعمان مکی۔ ابھی رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، اللہ تعالیٰ اس مقدس مہینے کی ساری...
11/03/2024

رمضان المبارک اور ہمارے اسپیکر 🔊

✍🏻: محمد نعمان مکی۔

ابھی رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، اللہ تعالیٰ اس مقدس مہینے کی ساری خیر، برکتیں اور بھلائیاں ہمارے مقدر فرمائے، آمین۔

یہ عبادت کے ساتھ ساتھ غم خواری کا مہینہ ہے۔ لیکن جیسے ہی اس مبارک مہینے کی آمد ہوتی ہے، کچھ لوگوں کے جذبات ایک دم سے جاگ جاتے ہیں اور وہ اس مہینے کو لاؤڈ سپیکر کا مہینہ سمجھنے لگتے ہیں، لہذا یہ حضرات دل کھول کر لاؤڈ سپیکرز کا استعمال کرتے ہیں۔

کئی علاقوں میں سحری کو جگانے کے نام پر رات ساڑھے تین چار بجے سے جو اعلانات شروع ہونگے وہ سحری کا وقت ختم ہونے تک چلتے رہیں گے۔ پھر کہیں سے نعت خوانی ہوگی تو کہیں حمد پڑھی جارہی ہوگی، تو کچھ لوگ محلے میں بڑے اسپیکر پر قوالی لگا کر ثواب دارین حاصل کرنے کی تمنا کر رہیں ہونگے۔ پھر چاروں طرف سے مساجد کی میناروں سے روزے کی نیت کرائی جائے گی۔ بھر فجر کی نماز کے بعد بعض مساجد کے نوجوان اور چھوٹے بچے مائک میں گھس کر پوری طاقت سے سلام پڑھیں گے، اور باہر کے اسپیکرز کے ذریعے پورے محلے کو سنا کر اپنے عاشق رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہونے کا ثبوت پیش کریں گے۔

*اس طرح آدھی رات سے لیکر اشراق تک اسلام کے نام پر گونجنے والی ان آوازوں سے پڑوس میں رہنے والے غیر مسلموں کا کیا حال ہوتا ہوگا، پھر بیمار ، چھوٹے سوتے ہوئے بچے اور عبادت کرنی والی عورتیں ان سب پر کیا گزرتی ہوگی، اس سے ان بھائیوں کو کوئی سروکار نہیں ہے۔*

آدھی رات میں، جب کہ ہمارے پڑوس میں بسنے والی اکثریت غیر مسلم آبادی، ان کے بوڑھے، بیمار اور بچے سب گہری نیند میں سورہے ہوتے ہیں، اس وقت چاروں طرف سے لاؤڈ سپیکر پر لوگوں کو سحری کے لیے جگانا اور بار بار ان کو سحری کے ختم کا وقت بتانا کیا یہ واقعی قابل تائید عمل ہے۔؟

موجودہ ٹیکنالوجی، موبائل فون اور الارم کے زمانے میں کیا اس عمل کو ترک کرنے کا وقت ابھی نہیں آیا ہے۔؟

مسلم قوم کو خود اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، اس سے پہلے کے اغیار کی طرف سے اسں شور کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگیں۔

*پھر مغرب سے ‌قبل افطاری کے وقت کے اعلانات ‌چاروں طرف سے شروع ہوں گے۔ کہیں روزہ کھولنے کی دعا پڑھائی جارہی ہے تو کہیں سے مغرب کی اذان کی آواز آرہی ہے۔ پہلے اہل حدیث حضرات کی مساجد کی اذان ہوگی، وہ ختم ہوگی تو پھر دیوبندی حضرات کی مساجد سے اعلانات ہونگے، اس کے چار پانچ منٹ بعد بریلوی حضرات کی افطاری شروع ہوگی۔*

*پھر جب عشاء کا وقت داخل ہوگا، تو بعض مساجد والے پوری بیس رکعت تراویح لاؤڈ سپیکر پر پورے محلے والوں کو سنائیں گے، تو کچھ مساجد والے صرف تسبیحات تراویح سنانے پر اکتفاء کریں گے۔ اور اللہ نہ کرے اگر کسی محلے یا بستی کے دو مکتب فکر کے قریبی مساجد والوں کو تراویح میں مظاہر قرأت کرانے کا شوق چڑھ جائے تو‌ آس پاس کے لوگوں کا تو بس اللہ ہی حافظ ہے۔ ان دو سپیکروں کی پر شور آواز کے ٹکراؤ سے جو سما بنے گا اور جو ارتعاش پیدا ہوگا، وہ محلے کی مستورات کی عبادات میں خلل تو ڈالے گا ہی،‌ ساتھ میں بیماروں، بچوں اور غیر مسلم پڑوسیوں کو پریشان کرنے کے ساتھ ساتھ خود ان مساجد میں نماز پڑھنے والے نمازیوں کی عبادت کو بھی خراب کردے گا۔*

بعض مساجد میں نماز پڑھتے ہوئے اس مسجد کے امام کی آواز سے زیادہ پڑوس کی مسجد کی آواز آرہی ہوتی ہے۔

رمضان کو اللہ تعالیٰ نے رحمت کا مہینہ بنایا ہے، اس کو رحمت والا ہی رہنے دیں، کوشش کریں کہ ہمارے کسی عمل سے یہ کسی کے لیے زحمت والا مہینہ نا بن جائے۔

اگر آپ کے اس پاس کہیں لاؤڈ سپیکر کا جارحانہ استعمال ہو رہا ہو تو اپنے محلے کے سنجیدہ اور اثر و رسوخ والے حضرات کو ساتھ لیکر حکمت عملی کے ساتھ اس کو روکنے کی پوری کوشش کریں اس سے پہلے کہ کوئی قانونی کارروائی کے ذریعے اس کو رکوائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال سے حفاظت فرمائے اور رمضان المبارک کی صحیح قدردانی کی توفیق عطا فرمائے آمین

Monday 11th March 2024.

✍️: محمد نعمان مکی۔ ابھی رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، اللہ تعالیٰ اس مقدس مہینے کی ساری خیر، برکتیں اور بھلائیاں ہمارے مقدر فرمائے، آمین۔ یہ عبادت کے ساتھ ساتھ غم خو....

11/01/2024

حالتِ حیض میں قرآن کی تعلیم دینا

سوال
کیا حائضہ عورت تعلیم قرآن دے سکتی ہے؟

جواب:

دورانِ حیض (ماہ واری) عورت کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت منع ہے، البتہ تعلیمی ضرورت کی وجہ سے ایک آیت کی مقدار سے کم پڑھ کرسانس چھوڑ دینے کی حد تک فقہاءِ کرام نے جواز لکھا ہے؛ لہٰذا معلمہ طالبات کو پڑھائے یا خود طالبہ پڑھے، کلمہ کلمہ، لفظ لفظ الگ الگ کرکے پڑھے، یعنی ہجے کرکے پڑھیں، مثلا: الحمد ۔۔۔۔ للہ ۔۔۔۔ رب ۔۔۔ العالمین، مخصوص ایام میں خواتین کے لیے ہجے کرکے پڑھنا جائز ہے، البتہ مکمل آیت کا پڑھنا جائز نہیں، نیز یہ حکم میں پڑھانے والی اور پڑھنے والی دونوں کے لیے ہے۔

یہ یاد رہے کہ قرآن مجید کو براہِ راست بغیر غلاف کے ہاتھ لگانا اس حالت میں جائز نہیں، ہاں قاعدہ اور نماز کی کتاب وغیرہ کو ہاتھ لگایا جاسکتا ہے۔

اگر معلمہ ایام سے ہو تو وہ بچیوں سے سبق اور منزل وغیرہ زبانی سن سکتی ہے، اسی طرح مصحف بچی پکڑے اور معلمہ اس میں دیکھ کر سنے اس کی بھی گنجائش ہے۔ اسی طرح اگر حفظ بھولنے کا اندیشہ ہو تو فقہاءِ کرام نے یہ صورت لکھی ہے کہ حافظہ کسی پاک کپڑے وغیرہ سے مصحف کو پکڑ کر اس میں دیکھ کر دل دل میں دہراتی جائے، زبان سے بالکل بھی تلفظ نہ کرے، اس کی بھی گنجائش ہے، اور اس سے حفظ کی ضرورت پوری ہوسکتی ہے۔



فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَإِذَا حَاضَتْ الْمُعَلِّمَةُ فَيَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُعَلِّمَ الصِّبْيَانَ كَلِمَةً كَلِمَةً وَتَقْطَعُ بَيْنَ الْكَلِمَتَيْنِ، وَلَايُكْرَهُ لَهَا التَّهَجِّي بِالْقُرْآنِ. كَذَا فِي الْمُحِيطِ". (الْفَصْلُ الرَّابِعُ فِي أَحْكَامِ الْحَيْضِ وَالنِّفَاسِ وَالِاسْتِحَاضَةِ،الْأَحْكَامُ الَّتِي يَشْتَرِكُ فِيهَا الْحَيْضُ وَالنِّفَاسُ ثَمَانِيَةٌ، ١/ ٣٨)

حاشية رد المحتار على الدر المختار (1/ 293):
’’( وقراءة قرآن ) أي ولو دون آية من المركبات لا المفردات؛ لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه كلمةً كلمةً، كما قدمناه وكالقرآن التوراة والإنجيل والزبور ... (ومسه) أي القرآن ولو في لوح أو درهم أو حائط، لكن لا يمنع إلا من مس المكتوب، بخلاف المصحف؛ فلا يجوز مس الجلد وموضع البياض منه، وقال بعضهم: يجوز، وهذا أقرب إلى القياس، والمنع أقرب إلى التعظيم، كما في البحر، أي والصحيح المنع كما نذكره، ومثل القرآن سائر الكتب السماوية كما قدمناه عن القهستاني وغيره‘‘. فقط والله أعلم

فتوی نمبر : 144108200290

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

سیدھی بات کے تازہ ترین پرائم میں دیکھئے: آج کل عمرہ کی نیت سے حرم شریف کا سفر کرنا آسان ہوچکاہے اور اس قدر بڑی تعداد حرم...
06/12/2023

سیدھی بات کے تازہ ترین پرائم میں دیکھئے: آج کل عمرہ کی نیت سے حرم شریف کا سفر کرنا آسان ہوچکاہے اور اس قدر بڑی تعداد حرمین شریفین کی جانب عمرہ کی نیت سے آرہے ہیں کہ اس سے پہلے یہ تعداد نہیں دیکھی گئی:ایسے میں احرام باندھنے کے بعد کئی ساری غلطیاں ہوجاتی ہیں؛ہوائی سفر کے دوران اور بعد میں بھی:یہاں تک کے دم بھی واجب ہوجاتاہے اور ہمیں علم نہیں ہوتا:اس لئے مسائل کو سمجھنا ضروری ہے:بعض قافلوں کے ساتھ علماء ہوتے ہیں اور بعض کے ساتھ نہیں!اور مکہ و مدینہ میں کہاں کہاں روحانی مدنی دور کے جگہ ہیں اس سے بھی لاعلم ہیں:میسور سے تعلق رکھنے والے جناب شیخ نعمان مکی جو اس طرح کے مسائل لاکھوں لوگوں تک پہنچارہے ہیں، ان سے تفصیلی گفتگو کی ہے:دیکھئے تفصیلات اس لنک پر

https://youtu.be/eYOpIPPKChk?si=sE9X4MtxB0ZukLVw

Seedhibaat ke tazatareen PrimeTime me dekhiye:aaj kal umra ki niyyat se haram shareif ka safar karna aasan hochuka hai aur is qadar badi tadad me Harmain sharifain ki janib Umra ki niyyat se aarahe hain k isse pehle ye tadad nahin dekhi gayi:aise ma Ehram bandhne ke baad kayi sari ghaltiyan hojati hain:Hawayi safar ke dauran aur bad me ebhi:yahan tak ke dam bhi wajib hojata hai aur hamein ilm nahin hoga:isliye msayi ko samajhna zaroori hai:baz gafilaun ke sath ulema hote hain aur baaz ke sath nahin;aur makkah w amadeen me kahan kahan rohani madani daur ke jageh hain ise bhi lailm hain:mysore se talluq rakhne wal janab shaikh nauman makkhi jo is tarah ke masayil lakhaun logaun tak pahuncha rahe hian, unse tafseeli gugtugu ki hai:dekhiye tafsilat isl ink par...

_Channel ko Subscribe Karna aur like Karna na BHOOLIEN..SHUKRIYA_

https://youtu.be/eYOpIPPKChk?si=sE9X4MtxB0ZukLVw

Address

Mysore

Telephone

+966594935615

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mysore FIQH Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Mysore FIQH Academy:

Share