11/03/2024
رمضان المبارک اور ہمارے اسپیکر 🔊
✍🏻: محمد نعمان مکی۔
ابھی رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، اللہ تعالیٰ اس مقدس مہینے کی ساری خیر، برکتیں اور بھلائیاں ہمارے مقدر فرمائے، آمین۔
یہ عبادت کے ساتھ ساتھ غم خواری کا مہینہ ہے۔ لیکن جیسے ہی اس مبارک مہینے کی آمد ہوتی ہے، کچھ لوگوں کے جذبات ایک دم سے جاگ جاتے ہیں اور وہ اس مہینے کو لاؤڈ سپیکر کا مہینہ سمجھنے لگتے ہیں، لہذا یہ حضرات دل کھول کر لاؤڈ سپیکرز کا استعمال کرتے ہیں۔
کئی علاقوں میں سحری کو جگانے کے نام پر رات ساڑھے تین چار بجے سے جو اعلانات شروع ہونگے وہ سحری کا وقت ختم ہونے تک چلتے رہیں گے۔ پھر کہیں سے نعت خوانی ہوگی تو کہیں حمد پڑھی جارہی ہوگی، تو کچھ لوگ محلے میں بڑے اسپیکر پر قوالی لگا کر ثواب دارین حاصل کرنے کی تمنا کر رہیں ہونگے۔ پھر چاروں طرف سے مساجد کی میناروں سے روزے کی نیت کرائی جائے گی۔ بھر فجر کی نماز کے بعد بعض مساجد کے نوجوان اور چھوٹے بچے مائک میں گھس کر پوری طاقت سے سلام پڑھیں گے، اور باہر کے اسپیکرز کے ذریعے پورے محلے کو سنا کر اپنے عاشق رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہونے کا ثبوت پیش کریں گے۔
*اس طرح آدھی رات سے لیکر اشراق تک اسلام کے نام پر گونجنے والی ان آوازوں سے پڑوس میں رہنے والے غیر مسلموں کا کیا حال ہوتا ہوگا، پھر بیمار ، چھوٹے سوتے ہوئے بچے اور عبادت کرنی والی عورتیں ان سب پر کیا گزرتی ہوگی، اس سے ان بھائیوں کو کوئی سروکار نہیں ہے۔*
آدھی رات میں، جب کہ ہمارے پڑوس میں بسنے والی اکثریت غیر مسلم آبادی، ان کے بوڑھے، بیمار اور بچے سب گہری نیند میں سورہے ہوتے ہیں، اس وقت چاروں طرف سے لاؤڈ سپیکر پر لوگوں کو سحری کے لیے جگانا اور بار بار ان کو سحری کے ختم کا وقت بتانا کیا یہ واقعی قابل تائید عمل ہے۔؟
موجودہ ٹیکنالوجی، موبائل فون اور الارم کے زمانے میں کیا اس عمل کو ترک کرنے کا وقت ابھی نہیں آیا ہے۔؟
مسلم قوم کو خود اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، اس سے پہلے کے اغیار کی طرف سے اسں شور کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگیں۔
*پھر مغرب سے قبل افطاری کے وقت کے اعلانات چاروں طرف سے شروع ہوں گے۔ کہیں روزہ کھولنے کی دعا پڑھائی جارہی ہے تو کہیں سے مغرب کی اذان کی آواز آرہی ہے۔ پہلے اہل حدیث حضرات کی مساجد کی اذان ہوگی، وہ ختم ہوگی تو پھر دیوبندی حضرات کی مساجد سے اعلانات ہونگے، اس کے چار پانچ منٹ بعد بریلوی حضرات کی افطاری شروع ہوگی۔*
*پھر جب عشاء کا وقت داخل ہوگا، تو بعض مساجد والے پوری بیس رکعت تراویح لاؤڈ سپیکر پر پورے محلے والوں کو سنائیں گے، تو کچھ مساجد والے صرف تسبیحات تراویح سنانے پر اکتفاء کریں گے۔ اور اللہ نہ کرے اگر کسی محلے یا بستی کے دو مکتب فکر کے قریبی مساجد والوں کو تراویح میں مظاہر قرأت کرانے کا شوق چڑھ جائے تو آس پاس کے لوگوں کا تو بس اللہ ہی حافظ ہے۔ ان دو سپیکروں کی پر شور آواز کے ٹکراؤ سے جو سما بنے گا اور جو ارتعاش پیدا ہوگا، وہ محلے کی مستورات کی عبادات میں خلل تو ڈالے گا ہی، ساتھ میں بیماروں، بچوں اور غیر مسلم پڑوسیوں کو پریشان کرنے کے ساتھ ساتھ خود ان مساجد میں نماز پڑھنے والے نمازیوں کی عبادت کو بھی خراب کردے گا۔*
بعض مساجد میں نماز پڑھتے ہوئے اس مسجد کے امام کی آواز سے زیادہ پڑوس کی مسجد کی آواز آرہی ہوتی ہے۔
رمضان کو اللہ تعالیٰ نے رحمت کا مہینہ بنایا ہے، اس کو رحمت والا ہی رہنے دیں، کوشش کریں کہ ہمارے کسی عمل سے یہ کسی کے لیے زحمت والا مہینہ نا بن جائے۔
اگر آپ کے اس پاس کہیں لاؤڈ سپیکر کا جارحانہ استعمال ہو رہا ہو تو اپنے محلے کے سنجیدہ اور اثر و رسوخ والے حضرات کو ساتھ لیکر حکمت عملی کے ساتھ اس کو روکنے کی پوری کوشش کریں اس سے پہلے کہ کوئی قانونی کارروائی کے ذریعے اس کو رکوائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال سے حفاظت فرمائے اور رمضان المبارک کی صحیح قدردانی کی توفیق عطا فرمائے آمین
Monday 11th March 2024.
✍️: محمد نعمان مکی۔ ابھی رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، اللہ تعالیٰ اس مقدس مہینے کی ساری خیر، برکتیں اور بھلائیاں ہمارے مقدر فرمائے، آمین۔ یہ عبادت کے ساتھ ساتھ غم خو....