09/06/2026
تقدیر انسانی
انسان کے جسم میں خصوصی طور پر پانچ ممتاز صلاحیتیں پائی جاتی ہیں- ان صلاحیتوں کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے- وه پانچ ممتاز صلاحیتیں یہ ہیں---- دیکهنا، چهونا، چکهنا، سونگهنا اور سننا-
یہ پانچ حواس، دراصل پانچ مقامات لذت ہیں- ان میں سے ہر ایک صلاحیت کے اندر خالق نے بے پناه لذت رکهی ہے- انسان کے لیے دیکهنا بهی ایک انتہائی لذیذ تجربہ ہے، چهونا بهی ایک لذیذ تجربہ ہے، چهکنا بهی ایک لذیذ تجربہ ہے، سونگهنا بهی ایک لذیذ تجربہ ہے اور سننا بهی ایک لذیذ تجربہ ہے- اس کائنات میں کسی بهی دوسری مخلوق کے اندر،بشمول حیوانات، ان لذتوں سے انجوائے کرنے کی صلاحیت نہیں- یہ صرف انسان کی استثنائی صفت ہے کہ وه کسی چیز سے انتہائی لطیف قسم کی محظوظیت حاصل کر سکتا ہے-
اسی کے ساتهہ انسان کے اندر چهٹی حس بهی موجود ہے- یہ چهٹی حس سوچنے کی صلاحیت ہے- یہ چهٹی حس، انسان کے لیے سب سے زیاده اعلی لذت کے حصول کا ذریعہ ہے- یہ ایک حقیقت ہے کہ سوچنا، انسان کی ایک انوکهی صفت ہے- سوچنا، انسان کے لیے اتهاه لذت کا خزانہ ہے- سوچنے کا فعل بظاہر دکهائی نہیں دیتا، مگر وه انسان کو ایسی سپر لذت دیتا ہے جس کا حصول کسی بهی دوسری چیز کے ذریعے ممکن نہیں-
اسی کی ساتهہ یہ ایک واقعہ ہے کہ انسان ان لذتوں کو تو محسوس کرتا ہے، لیکن وه موجوده دنیا میں ان لذتوں کی تسکین کا سامان نہیں پاتا- ہر آدمی بے پناه لذتوں کے ساتهہ پیدا هوتا ہے اور پهر تهوڑی مدت کے بعد ہر عورت اور ہر مرد غیر تکمیل شده خواہشات کے ساتهہ مر جاتے ہیں-
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی کے پاس خواہشیں ہیں، لیکن یہاں اس کے لیے خواہشات کی تکمیل کا سامان موجود نہیں- یہ حقیقت اس بات کا حتمی اشاره ہے کہ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، ان خواہشات کی تکمیل کا سامان، قبل از موت مرحلہ حیات میں نہیں رکها گیا، بلکہ وه بعد از موت مرحلہ حیات میں رکها گیا ہے-یہ خواہشیں انسان کو اس لیے دی گئی ہیں کہ وه حقیقت حیات کو سمجهے اور اس کے مطابق، وه اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے-
الرسالہ، جنوری 2008
مولانا وحیدالدین خان