حکمت و دانائی : مولانا وحید الدین خاں

  • Home
  • India
  • Gulbarga
  • حکمت و دانائی : مولانا وحید الدین خاں

حکمت و دانائی : مولانا وحید الدین خاں Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from حکمت و دانائی : مولانا وحید الدین خاں, Gulbarga.
(1)

https://www.facebook.com/abdulbasitqatar
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

www.cpsglobal.org

www.alrisala.org

ماہنامہ "الرسالہ" اردو آپ کے لئے
https://www.facebook.com/groups/mahenamaalrisalaurduaapkeliye/

Be a Quran Distributor
https://www.facebook.com/groups/689752344404340/

عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر،مولاناوحیدالدین خاں کے قلم سے
https://www.facebook.com/groups/229677313843197/

09/06/2026

تقدیر انسانی

انسان کے جسم میں خصوصی طور پر پانچ ممتاز صلاحیتیں پائی جاتی ہیں- ان صلاحیتوں کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے- وه پانچ ممتاز صلاحیتیں یہ ہیں---- دیکهنا، چهونا، چکهنا، سونگهنا اور سننا-

یہ پانچ حواس، دراصل پانچ مقامات لذت ہیں- ان میں سے ہر ایک صلاحیت کے اندر خالق نے بے پناه لذت رکهی ہے- انسان کے لیے دیکهنا بهی ایک انتہائی لذیذ تجربہ ہے، چهونا بهی ایک لذیذ تجربہ ہے، چهکنا بهی ایک لذیذ تجربہ ہے، سونگهنا بهی ایک لذیذ تجربہ ہے اور سننا بهی ایک لذیذ تجربہ ہے- اس کائنات میں کسی بهی دوسری مخلوق کے اندر،بشمول حیوانات، ان لذتوں سے انجوائے کرنے کی صلاحیت نہیں- یہ صرف انسان کی استثنائی صفت ہے کہ وه کسی چیز سے انتہائی لطیف قسم کی محظوظیت حاصل کر سکتا ہے-

اسی کے ساتهہ انسان کے اندر چهٹی حس بهی موجود ہے- یہ چهٹی حس سوچنے کی صلاحیت ہے- یہ چهٹی حس، انسان کے لیے سب سے زیاده اعلی لذت کے حصول کا ذریعہ ہے- یہ ایک حقیقت ہے کہ سوچنا، انسان کی ایک انوکهی صفت ہے- سوچنا، انسان کے لیے اتهاه لذت کا خزانہ ہے- سوچنے کا فعل بظاہر دکهائی نہیں دیتا، مگر وه انسان کو ایسی سپر لذت دیتا ہے جس کا حصول کسی بهی دوسری چیز کے ذریعے ممکن نہیں-

اسی کی ساتهہ یہ ایک واقعہ ہے کہ انسان ان لذتوں کو تو محسوس کرتا ہے، لیکن وه موجوده دنیا میں ان لذتوں کی تسکین کا سامان نہیں پاتا- ہر آدمی بے پناه لذتوں کے ساتهہ پیدا هوتا ہے اور پهر تهوڑی مدت کے بعد ہر عورت اور ہر مرد غیر تکمیل شده خواہشات کے ساتهہ مر جاتے ہیں-

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی کے پاس خواہشیں ہیں، لیکن یہاں اس کے لیے خواہشات کی تکمیل کا سامان موجود نہیں- یہ حقیقت اس بات کا حتمی اشاره ہے کہ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، ان خواہشات کی تکمیل کا سامان، قبل از موت مرحلہ حیات میں نہیں رکها گیا، بلکہ وه بعد از موت مرحلہ حیات میں رکها گیا ہے-یہ خواہشیں انسان کو اس لیے دی گئی ہیں کہ وه حقیقت حیات کو سمجهے اور اس کے مطابق، وه اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے-

الرسالہ، جنوری 2008
مولانا وحیدالدین خان

07/06/2026

شریف، کمینہ

عتبی کا قول ہے کہ میں نے ایک اعرابی کو یہ کہتے هوئے سنا کہ شریف آدمی کے لئے سب سے بری چیز یہ ہے کہ وه اپنا خیر تم سے روک دے اور کمینہ آدمی کے لئے سب سے بہتر چیز یہ ہے کہ وه اپنے شر سے تم کو بچائے-(الامالی للقالی)

الرسالہ، جون 2000
مولانا وحیدالدین خان

05/06/2026

دل جیتنا

زندگی کا اصول ایک لفظ میں یہ کہ ........... جیسا دینا ویسا پانا- اگر آپ دوسروں کو نفرت دے رہے هوں تو آپ کو بهی دوسروں سے نفرت ملے گی- اگر آپ کے پاس دوسروں کو دینے کے لئے محبت کا تحفہ ہے تو دوسروں کی طرف سے بهی آپ کو محبت کا تحفہ دیا جائے گا- اگر آپ اپنے سماج میں مسائل کو حل کرنے کا ذریعہ بنے هوئے هوں تو پورا سماج آپ کو اپنے سردار کے روپ میں دیکهنے لگے گا-

خدا نے خدمت اور نفع بخشی میں بے پناه کشش رکهی ہے- اس میں یہ طاقت ہے کہ وه لوگوں کے دلوں کو مسخر کر سکے- ایسا آدمی لوگوں کے درمیان اپنے آپ مقبولیت حاصل کر لیتا ہے- اس کو دوسروں سے وه سب کچهہ مل جاتا ہے جو وه چاہتا تها، کیونکہ اس نے بهی دوسروں کو وه سب کچهہ دے دیا تها جن کو وه اپنے لئے چاہتے تهے-

دوسروں کے خیر خواه بن جایئے اور پهر آپ کو دوسروں سے کوئی شکایت نہ هو گی- دوسروں کے کام آیئے اور پهر آپ کا بهی کوئی کام اٹکا هوا نہیں رہے گا-

اس دنیا میں ہر آدمی مجبور ہے کہ وه دوسروں کے ساتھ مل جل کر زندگی گزارے، یہاں کسی کے لئے بهی تنہا زندگی گزارنا ممکن نہیں- ایسی حالت میں بار بار یہ سوال سامنے آتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ رہنے کا کامیاب طریقہ کیا ہے- وه یہ ہے کہ لوگوں کو جهکانے کی کوشش نہ کیجئے بلکہ خود جهک جائیے- لوگوں سے لینے کی کوشش نہ کیجئے بلکہ دینے والے بنئے- شکایتوں کو مسئلہ نہ بنایئے بلکہ شکایتوں کو بهول جایئے- اختلاف کو ٹکراو کا موضوع نہ بنایئے بلکہ اختلاف کے باوجود لوگوں کے ساتھ اچها معاملہ کیجئے- کوئی شخص بظاہر آپ کا دشمن نظر آئے تب بهی اس سے نفرت نہ کیجئے- یہی دل کو جیتنے کا طریقہ ہے اور جب دل کو جیت لیا جائے تو اس کے بعد کوئی اور چیز جیتنے کے لئے باقی نہیں رہتی-

الرسالہ، مارچ 2000
مولانا وحیدالدین خان

04/06/2026

موت کی دستک

موت ہر آدمی کے گهر دستک دیتی ہے، کبهی ایسا هوتا ہے کہ موت پہلی دستک کے بعد ہی گهر میں داخل هو جاتی ہے اور آدمی کی روح کو قبض کر لیتی ہے- وه اچانک دنیا کے امتحان گاه سے نکال کر آخرت میں پہنچا دیا جاتا ہے جہاں وه اپنے اعمال کا انجام پائے-

اچانک موت کا یہ معاملہ مختلف صورتوں میں پیش آتا ہے- مثلا دل کا تیز دوره پڑا اور فوری طور پر آدمی کی موت واقع هو گئی- سڑک پر سخت حادثہ پیش آیا اور ایک لمحہ کے اندر زنده انسان مرده انسان میں تبدیل هو گیا- کبهی ایسا هوتا ہے کہ ایک انسان صحت کی حالت میں رات کو سویا اور صبح هوئی تو بستر پر صرف اس کی بے جان لاش پڑی هوئی تهی- اچانک موت بلاشبہہ بے حد سنگین موت ہے- کیونکہ آدمی کو اس میں یہ موقع نہیں ملتا کہ وه موت سے پہلے اپنی غلطیوں کی تلافی کر سکے-

دوسری صورت وه ہے جب کہ موت بار بار ایک آدمی کے گهر دستک دیتی ہے لیکن اندر داخل هونے سے پہلے ہی وه لوٹ جاتی ہے- اس واپسی کی مختلف صورتیں ہیں- مثلا آدمی بیمار هو کر اچها هو جائے- سخت حادثہ پیش آ جانے کے باوجود وه موت سے بچ جائے- اس کے اوپر حملہ کیا جائے لیکن حملہ آور کا نشانہ خالی چلا جائے، وغیره-

یہ دوسری قسم آدمی کو بار بار موقع دیتی ہے کہ وه اپنے بارے میں سوچے- وه اپنی زندگی پر نظر ثانی کرے اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کر کے زیاده صحیح زندگی گزارنے کا فیصلہ کرے- موت کا آپ کے دروازه پر دستک دے کر چلا جانا گویا اس بات کا الارم ہے کہ هوشیار هو جاو- جلد ہی تمہارا آخری وقت آنے والا ہے- اپنی اصلاح کر لو، اس سے پہلے کہ اصلاح کا وقت ہی باقی نہ رہے- ہر آدمی موت کی زد میں ہے- کوئی بهی چیز آدمی کو موت سے بچانے والی نہیں- فرق صرف یہ ہے کہ کوئی آج مرنے والا ہے اور کوئی وه ہے جس پر کل کے دن موت آئے گی- موت کی یاد سے بہتر کوئی معلم انسان کے لئے نہیں-

الرسالہ، مارچ 2000
مولانا وحیدالدین خان

04/06/2026

خدائی قانون

قرآن کی سوره نمبر 17 میں ایک خدائی قانون کا ذکر ہے- قرآن کی اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: " اور جب هم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پهر وه اس بستی میں نافرمانی کرتے ہیں- تب ان پر بات ثابت هو جاتی ہے، پهر هم اس بستی کو تباه و برباد کر دیتے ہیں-"(الاسراء:16

قرآن کی اس آیت میں ، فسق، کا لفظ استعمال هوا ہے- فسق کے لفظی معنی--- انحراف کے ہیں، یعنی فطرت کے مقرر راستے سے ہٹ جانا- اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے اوپر خدا عذاب کب آتا ہے- اس کی صورت یہ هوتی ہے کہ سماج کے خوشحال افراد بے خوفی کا شکار هو کر، خدا کے مقرر راستے سے ہٹ جاتے ہیں، وه خدا کے نافرمان بن جاتے ہیں- اس انحراف کا آغاز سماج کے خوشحال طبقے سے هوتا ہے- اس کے بعد وه عام لوگوں تک پهیل جاتا ہے- جب ایسا هوتا ہے تو وه انسانی گروه اس بات کا جواز کهو دیتا ہے کہ اس کو زمین پر مزید زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے-چنانچہ پیغمبروں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اس کو تباه کر دیا جاتا ہے-

یہ اصول موجوده زمانے میں بڑے پیمانے پر قابل انطباق هو گیا ہے- موجوده زمانے میں انسان کے انحراف نے ایک مکمل تہذیب کا درجہ اختیار کر لیا ہے- اب انسان نے اپنے منحرفانہ طرز حیات کے لیے پورا ایک فلسفہ وضع کر لیا ہے- اس طرح، انسان کا فسق اب اپنے آخری اور عالمی درجے تک پہنچ چکا ہے- بظاہر اب انسان نے اپنا یہ حق کهو دیا ہے کہ وه موجوده زمین پر مزید عرصے کے لیے باقی رہے- بظاہر ایسا معلوم هوتا ہے کہ پہلے جو تدمیر (destruction) علاقائی سطح پر هوتی تهی، اب وه عالمی سطح پر هونے والی ہے، یعنی وہی وقت جس کو قرآن میں قیامت کہا گیا ہے- قیامت کا مطلب ہے---- امتحانی دور حیات کا خاتمہ اور اس دوسرے دور حیات کا آغاز جب کہ ہر عورت اور مرد کو اسکے عمل کے مطابق،سزا یا انعام دیا جائے-

الرسالہ، نومبر 2008
مولانا وحیدالدین خان

02/06/2026

انتظار بهی حل ہے

مختلف زبانوں میں جو مثلیں مشہور ہیں وه دراصل لمبے انسانی تجربات کے بعد بنی ہیں- ان میں سے ہر مثل کامیابی کا ایک یقینی فارمولہ ہے اس طرح کی ایک انگریزی کہاوت یہ ہے....... انتظار کرو اور دیکهو :
Wait and see.

امریکہ کا مشہور رائٹر ڈیوڈ تهارو (Henry David Thoreau) 1817 میں پیدا هوا اور 1862 میں اس نے وفات پائی- اس کا ایک قول ہے کہ ہیرو وه ہے جو یہ جانے کہ کہاں انتظار کرنا ہے اور کہاں جلدی کرنا ہے- ہر بهلائی اس انسان کے حصہ میں آتی ہے جو دانش مندانہ طور پر انتظار کرے :
The hero knows how to wait as well as to make haste. All good abides with him who waiteth wisely.

زندگی میں بعض اوقات ایسے لمحے آتے ہیں جب کہ آدمی کو فوری طور پر ایک فیصلہ کرنا هوتا ہے- تاہم اگر آدمی فوری فیصلہ کرنے میں چوک جائے تو اس کے بعد اس کے لئے جو چیز ہے وه یہ نہیں ہے کہ وه گهبرا کر یا جلد بازی میں بے فائده کارروائیاں کرنے لگے- اب اس کو انتظار کرنا چاہئے- عقلمند وه ہے جو اس فرق کو جانے کہ کب فوری فیصلہ لینا ہے اور کب معاملہ کو انتظار کے خانہ میں ڈال دینا ہے - حقیقت یہ ہے کہ انتظار بهی ایک عمل ہے- انتظار کرنا کوئی ساده بات نہیں- انتظار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے معاملہ کو فطرت کے نظام کے حوالہ کر دیا- وه خدا کے فیصلہ کا منتظر بن گیا-

اگر وقت پر صحیح فیصلہ لینا کامیابی ہے تو ناموافق حالات میں انتظار کی پالیسی اختیار کرنا بهی کامیابی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ایک کا نتیجہ حال میں نکلتا ہے اور دوسرے کا نتیجہ مستقبل میں-

الرسالہ، مارچ 2000
مولانا وحیدالدین خان

01/06/2026

مسئلہ اور غم

کوئی آدمی جب بهی کسی مسئلہ سے دو چار هوتا ہے تو ایسا ہمیشہ فطرت کے قانون کے تحت هوتا ہے- لیکن مسئلہ کو اپنے لئے ایک غم بنا لینا یہ انسان کا اپنا اضافہ ہے- ابتدائی طور پر کوئی مسئلہ صرف ایک مسئلہ هوتا ہے- لیکن جب آپ مسئلہ پیش آنے پر غم میں مبتلا هو جائیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ نے فطرت کے واقعہ پر اپنی طرف سے ایک غیر مطلوب اضافہ کر دیا-

مسائل کے مقابلہ میں یہی انسان کی اصل غلطی ہے- یہ غلطی بے حد سنگین ہے کیونکہ وه مسئلہ کے حل میں معاون تو نہیں بنتی، البتہ وه اس کے حل میں ایک فیصلہ کن رکاوٹ بن جاتی ہے- یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی رسی میں گره پڑنے کے بعد اس کو اور زیاده کس دیا جائے-

آدمی کو یہ بات جاننا چاہئے کہ اس دنیا میں وه تنہا نہیں ہے یہاں بہت سے دوسرے لوگ ہیں جن کے درمیان اس کو زندگی گزارنا ہے- اس دنیا میں انسان کی حیثیت گویا ایک بہت بڑی مشین کے اندر ایک چهوٹے پرزه کی ہے یا وه ایک بے حد مصروف سڑک پر ایک راہگیر ہے-

انسانی زندگی کی یہی مخصوص نوعیت ہے جو مسائل پیدا کرتی ہے- یہ مسائل کبهی عالم فطرت کی طرف سے پیش آتے ہیں اور کبهی دوسرے انسانوں کی طرف سے- دونوں حالتوں میں مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ضبط و تحمل کے ساتھ اس کا سامنا کیا جائے- مسئلہ کو غم کا سوال بنانے کے بجائے اس کو تدبیر کا سوال بنایا جائے- مسئلہ پیش آ جانے کے بعد اگر آپ صبر و تحمل کا ثبوت دیں تو آپ کی دلجمعی اور آپ کا ذہنی سکون باقی رہے گا- آپ اس پوزیشن میں هوں گے کہ آپ اپنی پوری صلاحیت کو پیش آمده مسئلہ کے حل کے لئے استعمال کر سکیں- اور اگر ایسا هو کہ آپ مسئلہ پیش آنے کے بعد غم میں مبتلا هو کر اس کو اپنے لئے درد سر بنالیں تو مسئلہ کے مقابلہ میں آپ اپنا ضروری حصہ ادا کرنے کے قابل نہ رہیں گے- یہ ایسا ہی هو گا جیسے اپنے حریف کو خود سے بلا مقابلہ جیت (unopposed victory) کا موقع دے دیا جائے-

الرسالہ، مارچ 2000
مولانا وحیدالدین خان

01/06/2026

ایک خاتون نے شکایت کی کہ ان کے سسرال والے ان کو ستاتے ہیں- میں نے کہا کہ اس کا حل یہ ہے کہ ان کے ستانے پر آپ اپنے دل میں شکایت کا جذبہ نہ آنے دیں بلکہ اس پر صبر کر لیں- انهوں نے کہا کہ صبر سے کیا هوتا ہے- میں نے کہا کہ صبر سے جنت ملتی ہے- اور جس عمل سے جنت ملے اس سے بقیہ چیزیں اپنے آپ مل جائیں گی-

قرآن میں ہے کہ صبر کرنے والوں کو ان کے صبر کے بدلے جنت عطا کی جائے گی- (الدہر 12) اگر آپ پر تکلیف کے لمحات نہ آئیں تو آپ کو صبر کی ضرورت بهی نہ هو گی- تکلیف والے لمحات آپ کو یہ موقع دیتے ہیں کہ آپ صبر کا ثبوت دے سکیں- اس کا مطلب یہ هوا کہ آپ کی سسرال والے آپ کو صبر کا موقع دے کر آپ کو جنت کی طرف دهکیل رہے ہیں- وه آپ کو دهکا دے کر جنت میں پہنچا رہے ہیں-

ڈائری،10 جون 1992
مولانا وحیدالدین خان

31/05/2026

ایک نصیحت

بنجمن فرینکلن ایک امریکی مفکر تها- وه 1706 میں پیدا هوا اور 1790 میں اس کی وفات هوئی- اس کا ایک قول ہے کہ نکاح سے پہلے اپنی آنکهیں خوب کهلی رکهو، مگر نکاح کے بعد اپنی آدهی آنکهہ بند کر لو :
Keep your eyes wide open befor marrige , half shut afterwards .
یعنی نکاح کرنے سے پہلے اپنے جوڑے کے باره میں پوری معلومات حاصل کرو- مگر جب نکاح هو جائے تو اجمال پر اکتفاء کرو- اسی بات کو کسی نے ساده طور پر ان لفظوں میں کہا کہ نکاح سے پہلے جانچو، اور نکاح کے بعد نبهاو-

کوئی مرد یا عورت پرفیکٹ نہیں- کوئی بهی کامل یا معیاری نہیں- اس لئے رشتہ سے پہلے تحقیق تو ضرور کرنا چاہئے- مگر رشتہ کے بعد یہ کرنا چاہئے کہ اپنے رفیق حیات کی خوبیوں کو دیکها جائے، اور کمیوں سے صرف نظر کر لیا جائے-

معیار کا حصول موجوده دنیا میں ممکن نہیں- مزید یہ کہ یہ بهی ضروری نہیں کہ جس چیز کو ایک فریق معیاری سمجهے وه دوسرے فریق کے نزدیک بهی معیاری هو- اس بنا پر خواه کوئی کتنا ہی زیاده صحیح وه دوسرے کو آخری حد تک مطمئن نہیں کر سکے گا، دونوں فریق کو ایک دوسرے کے اندر کچهہ نہ کچهہ کو تاہیاں نظر آئیں گی-

اب ایک شکل یہ ہے کہ دوسرے فریق کی کوتاہی سے لڑ کر اس سے علیحدگی اختیار کر لی جائے، مگر مشکل یہ ہے کہ ایک تعلق کی علیحدگی کے بعد دوسرا تعلق جو قائم کیا جائے گا- اس میں بهی جلد ہی وہی یا کوئی دوسری خامی ظاہر هو جائے گی، اور اگر دوسرے رشتہ کو ختم کر کے تیسرا یا چوتها کیا جائے تو اس میں بهی- ایسی حالت میں موافقت کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے- ہر مرد یا عورت میں خوبی بهی هوتی ہے اور کوتاہی بهی- ضرورت ہے کہ خوبی کو دیکها جائے اور کوتاہی کو برداشت کیا جائے- عملی طور پر یہی ایک ممکن طریقہ ہے- اس کے سوا اور کوئی طریقہ اس دنیا میں قابل عمل نہیں-

کامیاب ازدواجی زندگی
مولانا وحیدالدین خان

30/05/2026

کنڈیشننگ کا مسئلہ

پیغمبر اسلام کی پیدائش 570 ء میں مکہ میں ہوئی- آپ نے نبوت کا مشن 610 ء میں شروع کیا- 632 ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی- وفات سے کچھ ماہ پہلے، آپ نے حجتہ الوداع کے موقع پر اس وقت کے اہل اسلام کو عمومی خطاب کیا، جو بالواسطہ طور پر پوری امت مسلمہ سے خطاب کے ہم معنی تھا- اس خطاب کے بارے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی : عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کے دن خطبہ دیا- آپ نے پوچھا کہ اے لوگو، یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے جواب دیا یہ یوم حرام ہے، آپ نے پوچھا کہ یہ کونسا شہر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا یہ شہر حرام ہے، آپ نے پوچھا کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ یہ حرام کا مہینہ ہے- آپ نے فرمایا تمہارا خون اور تمہارے مال اور تمہاری ابرو تم پر حرام ہے، جس طرح یہ دن تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینہ میں حرام ہے آپ نے یہ کلمات چند بار دہرائے- پھر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اے اللہ، کیا میں نے پہنچا دیا- اے اللہ، کیا میں نے پہنچا دیا- عبداللہ ابن عباس نے کہا، قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، آپ نے اپنی امت کو یہی وصیت فرمائی تھی کہ جو لوگ حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں، میرے بعد تم کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض، بعض کی گردن مارنے لگے-

اس حدیث میں کفر کا لفظ شدت اظہار کی بنا پر ہے- باعتبار حقیقت اس سے مراد یہ ہے کہ دور جاہلیت کی طرف لوٹ نہ جانا- اسلام سے پہلے عرب میں جو دور تھا، اس کو جاہلیت کا دور کہا جاتا ہے- اس زمانے میں عرب میں قبائلی دور( tribal age ) قائم تھا- قبائلی دور کا کلچر قتل و قتال کا کلچر تھا- ابوتمام حبیب بن اوس الطائی نے اپنے انتخابی مجموعہ دیوان الحماسہ میں ایک جاہلی شاعر کا ایک شعر اس طرح نقل کیا گیا ہے :
وآحیانا علی بکر آخینا
اذامالم نجد الا آخانا
یعنی اور کبھی ہم اپنے بھائی بکر سے لڑ جاتے ہیں-
جب کہ ہمیں لڑنے کے لیے اپنے بھائی کے سوا کوئی اور نہیں ملتا-

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ نصیحت کا پس منظر یہ ہے کہ یہ لوگ جن کی پرورش عرب کے قبائلی ماحول میں ہوئی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی سابقہ کنڈیشننگ کو ڈی کنڈیشن نہ کر پائیں اور دوبارہ ان کے اندر جنگ و جدال کا کلچر شروع ہو جائے- ابتدائی دور کے اہل ایمان کے لیے اس کنڈیشننگ کا مطلب عرب کے قدیم ماحول کی کنڈیشننگ ہے- اس کنڈیشننگ کی بنا پر ان کے اندر بعد کے زمانے میں لڑائیاں شروع ہو گئیں- موجودہ زمانے کے مسلمان جو دوبارہ جنگ و تشدد کے کلچر میں مشغول ہیں، وہ بھی اسی کنڈیشننگ کی بنا پر ہیں- فرق یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی کنڈیشننگ تاریخی کنڈیشننگ( historical conditioning ) ہے-

عباسی دور میں جو کتابیں تیار ہوئیں، وہ اس تاریخی کنڈیشننگ کا ذریعہ بن گئیں- اس زمانے میں یہ ہوا کہ سیرت رسول کی کتابیں مغازی کے پیٹرن پر لکھی گئیں- مسلم تاریخ پوری کی پوری فتوح الشام اور فتوح البلدان کی زبان میں تیار ہوئی- بعد کا پورا لٹریچر عملاً اسی اسلوب میں ڈھل گیا- اس کی ایک مثال ایک مسلم شاعر کا یہ شعر ہے :
ابھی بھولے نہیں ہم خالد و طارق کے افسانے
فتوحات صلاح الدین ابھی زندہ ہیں دنیا میں

بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان جو کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریباً سب کی سب اسی پیٹرن پر لکھی گئیں، خواہ وہ منظوم کتابیں ہوں یا منثور کتابیں- بعد کے مسلمان پیدا ہوتے ہی اس قسم کی کتابیں پڑھنے لگے- اس طرح وہ دوبارہ بذریعہ لٹریچر اسی قسم کی کنڈیشننگ میں مبتلا ہو گئے جس کو تاریخی کنڈیشننگ کہا جا سکتا ہے................ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو نفرت اور تشدد کی سوچ ہے، وہ اسی تاریخی کنڈیشننگ کا نتیجہ ہے-

ڈی کنڈیشننگ کیا ہے ڈی کنڈیشننگ کا عمل آدمی خود اپنے آپ پر کرتا ہے- ڈی کنڈیشننگ کو روایتی اصطلاح میں محاسبہ نفس کہا جا سکتا ہے- اس محاسبہ خویش ( self deconditioning) کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آدمی خود اپنا بے لاگ مطالعہ کرے، اور اپنے آپ کو ان اثرات سے پاک کرے جو تاریخی طور پر اس کی سوچ کا حصہ بن گئے ہیں-

مثلاً مذکورہ معاملہ میں آدمی یہ سوچے کہ قتال کی نوعیت اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں کیا ہے- پھر وہ پائے گا کہ قتال کوئی ابدی عمل نہیں- اس کا ایک اختتام ( end ) ہے- جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : و قاتلوھم حتی لا تکون فتنہ( الانفال : 39 ) اور جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : حتی تضع الحرب اوزارھا( محمد :4 ) -

قرآن اور حدیث میں اس طرح کے متعدد حوالے موجود ہیں، جو یہ بتاتے ہیں کہ قتال حسن لذاتہ نہیں ہے، بلکہ حسن لغیرہ ہے- یعنی اسلام میں قتال برائے قتال نہیں ہے، بلکہ قتال کسی متعین سبب کے لیے ہے- جب یہ سبب ختم ہو جائے تو قتال بھی ختم ہو جائے گا- اس طرح سوچنے کے عمل کو اپنا محاسبہ کہا جاتا ہے-

موجودہ زمانے میں جو مسلمان یہ کر رہے ہیں کہ وہ دوسری قوموں کو اپنا دشمن قرار دے کر ان کے خلاف متشددانہ کارروائی یا خودکش بمباری کر رہے ہیں، وہ اگر اس طرح غور کریں تو یقیناً ان کا موجودہ سوچنے کا طریقہ بدل جائے گا- اسی کو ڈی کنڈیشننگ کہا جاتا ہے- اگر موجودہ زمانے کے مسلمان اس طرح بے لاگ انداز میں غور کریں تو یقیناً وہ ایک اور حدیث تک پہنچیں گے جو براہ راست طور پر اسی معاملے سے متعلق ہے- یہ حدیث بتاتی ہے کہ بعد کے زمانے میں ایک وقت آنے والا ہے، جب کہ ساری دنیا موید دین بن جائے- اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ان اللہ عزوجل لیؤید الاسلام برجال ما ھم من اھلہ( المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640 )- مسند احمد میں یہ روایت اس طرح آئی ہے : ان اللہ سیؤید ھذا الدین باقوام لا خلاق لھم( حدیث نمبر 20454 )- صحیح البخاری میں یہ روایت ان الفاظ میں ہے : ان اللہ لیؤید ھذا الدین بالرجل الفاجر( حدیث نمبر 3062 ) -

یہ حدیث مستقبل کے بارے میں پیغمبر اسلام کی ایک پیشگی خبر ہے- اس حدیث کی روشنی میں تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ رسول اور اصحابِ رسول کی کوششوں سے ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلاب آیا، اس کے بعد دنیا میں ایک تاریخی عمل بڑے پیمانے پر جاری ہو گیا- اس تاریخی عمل میں نہ صرف مسلمان بلکہ دوسری سیکولر قومیں بالخصوص اہل مغرب بڑے پیمانے پر شریک ہوئیں- بیسویں صدی اس عمل کا نقطہ انتہا تھا- اس عمل نے انسانی تاریخ میں ایک نیا دور پیدا کیا- اسی نئے دور کو حدیث میں دین کے حق میں تائید کا دور کہا گیا ہے-

الرسالہ، اپریل 2017
مولانا وحیدالدین خان

Address

Gulbarga
585104

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when حکمت و دانائی : مولانا وحید الدین خاں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to حکمت و دانائی : مولانا وحید الدین خاں:

Share