Dar e Arqam

Dar e Arqam JAMIAT DAR E ARQAM
a/c - 754120110000164
IFSC- BKID0007541

پیج کا مقصد اسلامی تعلیمات کو عام کرنے،قرآن و سنت کی اشاعت, دینی،دعوتی،تعلیمی، سماجی بیداری لانا۔ خدمت خلق بنیادی عزم ہے۔
खिदमत ए ख़लक़,एजुकेशन,वेल्फेयर.सालिहात गर्ल्स स्कूल की स्थापना.

19/05/2026

**दरबारी उलमा - मिल्लत के सौदागर या रहबर?**

दरअसल कुछ उलमा ऐतिहासिक तौर पर “दरबारी उलमा” कहलाते रहे हैं। उनकी पहचान यह होती है कि उनकी दोस्ती, उठना-बैठना हमेशा अमीरों और असर-ओ-रसूख़ वाले लोगों के साथ होता है, फिर वह अमीर चाहे जिस दर्जे का भी हो। और इन मुलाक़ातों का इंतज़ाम दुनियादार चेले-चपाटे करते हैं।
हिंदुस्तानी मुसलमानों को जिन सियासी जमाअतों और सियासी चेहरों ने ऐतिहासिक नुक़सान पहुँचाया है, उनमें Samajwadi Party भी शामिल रही है। मगर अफ़सोस कि कुछ उलमा हर दौर में सत्ता के दरवाज़ों पर हाज़िरी देते रहे हैं।
उलमा का काम अमीरों की गदागरी नहीं, बल्कि हक़गोई और मिल्लत की रहनुमाई है। **सबसे अच्छा अमीर वह होता है जो फ़क़ीरों के दर पर हाज़िरी लगाए, और सबसे बुरा व ज़लील फ़क़ीर वह होता है जो अमीरों की गदागरी करे और उनके दर पर हाज़िरी लगाने को अपनी शान समझे।**
तारीख़ गवाह है कि जब-जब उलमा ने व्यक्तिगत तौर पर दरबारों का रुख़ किया है, मिल्लत ने नुक़सान उठाया है। आज़ादी के बाद से “कांग्रेसी उलमा” की एक बड़ी तादाद लगातार मिल्लत का सौदा करती रही है।
सत्ता के क़रीब रहने की ख़्वाहिश ने हक़ बात कहने की जुर्रत छीन ली। गैर-इस्लामी मसलहत-पसंदी उनकी पहचान बन गई, दीन व शरीअत और मज़हब का इस्तेमाल उनका मशग़ला बन गया, और दोहरी ज़िंदगी व अख़लाक़ी तज़ाद उनकी सरदारी और मज़हबी ठेकेदारी की जान बन गया।
नबी करीम( स.अ.व.)की अज़ीम सुन्नत ग़ुरबा, कमज़ोरों और महरूम तबक़ों से ताल्लुक़ रखना है। अशराफ़-ए-मक्का ने इसी ताल्लुक़ पर एतराज़ भी किया था, क्योंकि उन्हें ग़रीबों के साथ बैठने वाला हक़पसंद मिज़ाज पसंद नहीं था।
आज Aparna Yadav के शौहर की ताज़ियत करने वालों में भी अक्सर सफ़ेदपोश वही लोग नज़र आते हैं जो दुनिया के तलबगार, मफ़ादपरस्त और सियासी फ़ायदे के मुतलाशी हैं। यह हक़ीक़त Akhilesh Yadav भी ख़ूब जानते हैं। और वह इसकी सियासी क़ीमत वसूल करना भी जानते हैं, और करना भी चाहिए-आख़िर मौलवियों की दौलत, इज़्ज़त और शोहरत का सबब भी तो वह बन रहे हैं। मगर अफ़सोस तब होता है जब यही लोग ज़ाती मफ़ाद के लिए मिल्लत का सौदा करते हैं।
कुछ गदागर मौलवी अपनी मजबूरियों के क़ैदी हैं, कुछ शोहरत के बुख़ार में मुब्तिला हैं, और कुछ अपने कॉलेज, यूनिवर्सिटी या इदारों की मंज़ूरी और मफ़ादात के लिए सियासी चौखटों के चक्कर लगाते रहते हैं।
यह रवैया दीन की ग़ैरत, उलमा की खुद्दारी और मिल्लत के एतमाद- तीनों को मजरूह करता है।
ख़ास तौर पर मौजूदा हालात में उलेमा-ए-किराम को इंतिहाई खुद्दारी का मुज़ाहिरा करने की ज़रूरत है। अगर वाक़ई मुल्क और मिल्लत के मसाइल के हल के लिए अफ़सरों और सियासी रहनुमाओं से मुलाक़ात ज़रूरी हो, तो ये मुलाक़ातें इज्तिमाई और मुनज़्ज़म अंदाज़ में होनी चाहिए।

हारून रशीद आसिम
जमीयत दार-ए-अर्क़म रजि.(JDA)
087078 12449

19/05/2026
19/05/2026

درباری علما- ملت کے سوداگر یا رہبر؟
دراصل کچھ علمائے کرام تاریخی طور پر "درباری علما" کہلاتے رہے ہیں۔ ان کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ ان کی دوستی، نشست وبرخاست ہمیشہ امیروں اور بااثر لوگوں سے ہوتی ہے، پھر وہ امیر چاہے جس درجے کا بھی ہو، اور ان ملاقاتوں کا انتظام دنیا دار چیلے چپاڑے کرتے ہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کو جن سیاسی جماعتوں اور سیاسی چہروں نے تاریخی نقصان پہنچایا ہے، ان میں Samajwadi Party بھی شامل رہی ہے۔ مگر افسوس کہ کچھ علما ہر دور میں اقتدار کے دروازوں پر حاضری دیتے رہے ہیں۔
علما کا کام امیروں کی گداگری نہیں، بلکہ حق گوئی اور ملت کی رہنمائی ہے۔ سب سے اچھا امیر وہ ہوتا ہے جو فقیروں کے در پر حاضری لگائے، اور سب سے برا وذلیل فقیر وہ ہوتا ہے جو امیروں کی گداگری کرے اور ان کے در پر حاضری لگانے کو اپنی شان سمجھے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب جب علما نے انفرادی طور پر درباروں کا رخ کیا ہے، ملت نے نقصان اٹھایا ہے، آزادی کے بعد سے "کانگریسی علما" کی ایک بڑی تعداد مسلسل ملت کا سودا کرتی رہی ہے۔ اقتدار کے قریب رہنے کی خواہش نے حق بات کہنے کی جرأت چھین لی، غیر اسلامی مصلحت پسندی ان کی پہچان، دین وشریعت اور مذہب کا استعمال ان کا مشغلہ اور دو ہری زندگی واخلاقی تضاد ان کی سرداری و مذہبی ٹھیکیداری کی جان ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم سنت غرباء، کمزوروں اور محروم طبقات سے تعلق رکھنا ہے۔ اشراف مکہ نے اسی تعلق پر اعتراض بھی کیا تھا، کیونکہ انہیں غریبوں کے ساتھ بیٹھنے والا حق پسند مزاج پسند نہیں تھا۔
آج Aparna Yadav کے شوہر کی تعزیت کرنے والوں میں بھی اکثر سفید پوش وہ لوگ نظر آتے ہیں جو دنیا کے طلبگار، مفاد پرست اور سیاسی فائدے کے متلاشی ہیں۔ یہ حقیقت Akhilesh Yadav بھی خوب جانتے ہیں۔ اور وہ اس کی سیاسی قیمت وصول کرنا بھی جانتے ہیں، اور کرنا بھی چاہئے، آخر مولویوں کی دولت ،عزت شہرت کا سبب بھی تو بن رہے ہیں۔۔۔۔ مگر افسوس تب ہوتا جب یہ ذاتی مفاد کے لئے ملت کا سودا کرتے ہیں۔۔۔۔۔
کچھ گداگر مولوی اپنی مجبوریوں کے اسیر ہیں، کچھ شہرت کے بخار میں مبتلا ہیں، اور کچھ اپنے کالج، یونیورسٹی یا اداروں کی منظوری اور مفادات کے لیے سیاسی چوکھٹوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔
یہ رویہ دین کی غیرت، علما کی خودداری اور ملت کے اعتماد تینوں کو مجروح کرتا ہے۔
خاص کر موجودہ حالات میں علمائے کرام کو نتہائی خودداری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر واقعی ملک و ملت کے مسائل کے حل کے لیے افسران اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقات ناگزیر ہو، تو یہ ملاقاتیں اجتماعی اور منظم انداز میں ہونی چاہییں۔
ہارون رشید عاصم
جمعیت دار ارقم رجسٹرڈ (JDA)
870 781 2449

07/05/2026

**برینی اینڈ برائٹ اکیڈمی**
معیاری تعلیم، مضبوط تربیت اور محفوظ و باوقار تعلیمی ماحول کا ایک جامع ماڈل
موجودہ دور میں مسابقتی امتحانات، خصوصاً NEET اور JEE، نوجوان نسل کے تعلیمی و پیشہ ورانہ مستقبل کی تشکیل میں فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسے مرحلے پر والدین کی یہ خواہش فطری ہے کہ ان کے بچوں کو ایسا ادارہ میسر آئے جہاں اعلیٰ تعلیمی معیار کے ساتھ منظم تربیت، مؤثر نگرانی اور مثبت ماحول بھی فراہم کیا جائے۔ اسی تناظر میں
**برینی اینڈ برائٹ اکیڈمی**
یہ ادارہ ایک سنجیدہ، باوقار اور بامقصد تعلیمی پلیٹ فارم کے طور پر اپنی شناخت مستحکم کرتا نظر آتا ہے۔
اکیڈمی کی جانب سے دسویں کلاس کے بورڈ امتحانات میں 85 فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے ایک خصوصی موقع پیش کیا گیا ہے، جس کے تحت منتخب طلبہ کو NEET اور JEE جیسے اہم مسابقتی امتحانات کی تیاری مکمل طور پر بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہے۔ بڑھتے ہوئے تعلیمی اخراجات کے اس دور میں یہ اقدام نہ صرف قابل قدر ہے بلکہ ان خاندانوں کے لیے ایک عملی سہارا بھی ہے جو مالی مجبوریوں کے باوجود اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے خواہاں ہیں۔
اکیڈمی کا تدریسی نظام محض نصابی تکمیل تک محدود نہیں بلکہ اسے ایک منظم اور ہمہ جہت تعلیمی عمل کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے۔ تجربہ کار اساتذہ کی نگرانی، باقاعدہ ٹیسٹ سسٹم، کارکردگی کا مسلسل جائزہ اور امتحانی حکمت عملی کی عملی تربیت وہ عناصر ہیں جو طلبہ کو مسابقتی فضا میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کے قابل بناتے ہیں۔ مزید برآں، رہائشی نظام کے تحت طلبہ کو ایک محفوظ، منظم اور تعلیمی لحاظ سے سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے جہاں ان کی علمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کو بھی فروغ دیا جاتا ہے۔
اکیڈمی میں قائم اسٹڈی سرکل کا نظام طلبہ کو اجتماعی مطالعہ، علمی مباحثہ اور باہمی تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کرتا ہے، جس سے نہ صرف فہم میں گہرائی پیدا ہوتی ہے بلکہ خود اعتمادی اور اظہار کی صلاحیت بھی پروان چڑھتی ہے۔ اسی طرح میس کا معیاری نظام طلبہ کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن غذا کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے، تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ اپنی تعلیمی ذمہ داریوں کو نبھا سکیں۔
تعلیمی سہولیات کے ضمن میں اکیڈمی نے طلبہ کی یکسوئی اور آرام کو پیش نظر رکھتے ہوئے ائر کنڈیشنڈ رہائش اور کلاس رومز کا انتظام کیا ہے، جو خصوصاً موسمی شدت کے دوران ایک پُرسکون اور توجہ مرکوز تعلیمی ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پورا کیمپس سی سی ٹی وی کیمروں سے لیس ہے، جس کے ذریعے نگرانی کے ایک مؤثر اور مربوط نظام کو یقینی بنایا گیا ہے۔ یہ پہلو والدین کے لیے خصوصی اطمینان کا باعث ہے کہ ان کے بچے ایک محفوظ اور منظم ماحول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
اکیڈمی کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا اسلامی و اخلاقی ماحول ہے، جہاں باجماعت نماز کے لیے باقاعدہ مصلیٰ قائم ہے اور ہفتہ وار دروس و تذکیر کا نظم موجود ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ کی دینی و اخلاقی تربیت کو تعلیمی عمل کا حصہ بنایا گیا ہے، تاکہ وہ نہ صرف علمی میدان میں بلکہ کردار اور اقدار کے اعتبار سے بھی متوازن شخصیت کے حامل بن سکیں۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ **برینی اینڈ برائٹ اکیڈمی** ایک غیر منافع بخش (Non-Profit) اور غیر تجارتی بنیادوں پر قائم ادارہ ہے، جس کا بنیادی مقصد تعلیم کو خدمت کے جذبے کے ساتھ فروغ دینا اور باصلاحیت طلبہ کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے، نہ کہ مالی منفعت کا حصول۔ یہی وژن اسے دیگر تجارتی کوچنگ مراکز سے ممتاز بناتا ہے۔
اطلاع کے مطابق کلاس XI کے لیے NEET بیچ کا آغاز عنقریب متوقع ہے، جبکہ نشستوں کی تعداد محدود رکھی گئی ہے تاکہ تعلیمی معیار برقرار رکھا جا سکے۔ اس لیے سنجیدہ والدین اور طلبہ وطالبات ( طالبات کے لئے الگ رہائش کا نظم ہے) کے لیے یہ ایک مناسب موقع ہے کہ وہ بروقت اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔
مجموعی طور پر برینی اینڈ برائٹ اکیڈمی محض ایک کوچنگ ادارہ نہیں بلکہ ایک جامع تعلیمی و تربیتی نظام ہے، جہاں علم، نظم، اخلاق اور سہولت all in one کے اصول پر یکجا کیے گئے ہیں۔ ایسے ادارے یقیناً اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ نئی نسل کو نہ صرف کامیاب بلکہ باکردار اور ذمہ دار شہری بنانے میں مؤثر کردار ادا کریں۔

مزید معلومات ورابطہ کے لئے آفس تشریف لائیں یا فون کریں۔
*- گرلز کیمپس- کرامت حسین پی جی گرلز کالج لکھنؤ 9682236902
*- بوائز کیمپس- شیروانی نگر سیتاپور روڈ لکھنؤ 9889478516
آفس- 125 BBA ڈی آئی جی بنگلہ شیروانی نگر سیتاپور روڈ لکھنؤ

ہارون رشید عاصم
جمعیت دار ارقم
087078 12449

06/05/2026

https://www.facebook.com/profile.php?id=100063815117604

پیج کا مقصد اسلامی تعلیمات کو عام کرنے،قرآن و سنت کی اشاعت, دینی،دعوتی،تعلیمی، سماجی بیداری لانا۔ خدمت خلق بنیادی عزم ہے۔
खिदमत ए ख़लक़,एजुकेशन,वेल्फेयर.सालिहात गर्ल्स स्कूल की स्थापना.
JAMIAT DAR E ARQAM
a/c - 754120110000164
IFSC- BKID0007541

Address

Lakhimpur

Telephone

+918707812449

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dar e Arqam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Dar e Arqam:

Share