Karbala waly

Karbala waly اہل بیت اطہار عیلہ السلام پر لاکھوں سلام اور صلاة

08/27/2026
08/09/2026

🎓✨ History made in Lahore!

Congratulations to Onkar Singh on securing 2nd position in the BISE Lahore Matric Science Group with 1,189 marks, becoming the first student from the Sikh community to achieve this milestone. 👏📚

His journey is a reminder that dedication, hard work, and the support of family and teachers can turn dreams into reality. ❤️

Onkar aspires to become a doctor and serve humanity—an inspiring goal for students across Pakistan.

May this achievement encourage every young learner to believe in their potential and keep striving for excellence. 🌟

Congratulations once again, Onkar Singh! Wishing you continued success in the journey ahead. 🇵🇰

08/09/2026
08/09/2026
07/26/2026

متحدہ عرب امارات میں 18 جولائی کو "یومِ عہدِ اتحاد" منایا جائے گا، جو 1971 میں ریاست کے قیام کی بنیاد رکھنے والے تاریخی معاہدے کی 55ویں سالگرہ کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ گلف نیوز کے مطابق اس موقع پر ملک بھر میں قومی یکجہتی، بانیانِ اتحاد کے وژن اور ترقی کے سفر کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا، جبکہ شہریوں اور رہائشیوں کو اتحاد، وفاداری اور قومی اقدار کے عزم کی تجدید کی دعوت دی جائے گی۔

06/19/2026

محرم الحرام کے واقعات: کربلا میں امام حسینؑ کی آمد کا دوسرا دن
​۳ محرم الحرام تاریخِ اسلام اور سانحہ کربلا میں ایک انتہائی اہم دن ہے، کیونکہ اسی دن سے یزیدی فوج کی طرف سے امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں پر دباؤ اور سختیوں کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔
​اس دن کے اہم ترین واقعات درج ذیل ہیں:
​۱. عمر بن سعد کی کربلا میں آمد
​عبید اللہ بن زیاد (والیِ کوفہ) کے حکم پر عمر بن سعد ایک بڑے لشکر (جس کی تعداد تقریباً ۴ ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے) کے ساتھ کربلا پہنچا۔ عمر بن سعد کو ابتدا میں "رے" کی حکومت کا لالچ دے کر امام حسینؑ کے خلاف بھیجا گیا تھا، اور وہ دل سے اس جنگ کے حق میں نہیں تھا، لیکن دنیاوی جاہ و جلال کی خاطر وہ امامؑ کے مقابل آ کھڑا ہوا۔
​۲. امام حسینؑ اور عمر بن سعد کے درمیان بات چیت
​کربلا پہنچنے کے بعد عمر بن سعد نے امام حسینؑ کا موقف جاننے کے لیے اپنے قاصد بھیجے۔ امام حسینؑ نے واضح الفاظ میں فرمایا:
​"میں خود یہاں نہیں آیا، بلکہ تمہارے (کوفہ والوں کے) خطوط اور دعوت پر آیا ہوں۔ اگر اب تم لوگ اپنے عہد سے پھر چکے ہو اور میری آمد سے ناخوش ہو، تو میں وہاں واپس لوٹنے کے لیے تیار ہوں جہاں سے آیا ہوں۔"
​عمر بن سعد نے یہ جواب ابنِ زیاد کو لکھ بھیجا اور ایک صلح کی راہ نکالنے کی کوشش کی، لیکن ابنِ زیاد نے صلح کی ہر پیشکش کو مسترد کر دیا اور عمر بن سعد کو سختی سے حکم دیا کہ وہ امام حسینؑ سے یزید کی بیعت لے۔
​۳. کربلا کی زمین کی خریداری
​ایک روایت کے مطابق، ۳ محرم الحرام کو امام حسین علیہ السلام نے کربلا کی وہ زمین (جہاں آج آپ کا روضہ مبارک ہے) نینوا اور غاضریہ کے باشندوں (بنو اسد) سے ۶۰ ہزار درہم میں خریدی۔ زمین خریدنے کے بعد آپؑ نے وہ زمین انہی لوگوں کو اس شرط پر وقف کر دی کہ:
​وہ یہاں آنے والے زائرین کی مہمانی اور رہنمائی کریں گے۔
​جنگ کے بعد شہداء کو عزت کے ساتھ دفن کریں گے۔
​۴. کوفہ سے مزید لشکر کی روانگی
​ابنِ زیاد نے کوفہ میں منادی کروا دی تھی کہ جو بھی امام حسینؑ کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوگا، اسے سخت سزا دی جائے گی۔ چنانچہ ۳ محرم سے کوفہ سے چھوٹے چھوٹے دستے عمر بن سعد کی مدد کے لیے کربلا پہنچنا شروع ہو گئے تاکہ امام حسینؑ کو مکمل طور پر محاصرے میں لیا جا سکے۔

06/19/2026

۲ محرم الحرام ۶۱ ہجری (بمطابق ۲ اکتوبر ۶۸۰ عیسوی) کے واقعات کی تفصیل درج ذیل ہے:
​کربلا میں آمد اور سواری کا رک جانا
​حضرت امام حسین علیہ السلام کا قافلہ جب مکہ سے کوفہ کی طرف جا رہا تھا، تو راستے میں یزیدی فوج کے ایک کمانڈر حر ابن یزید ریاحی کے لشکر نے آپ کا راستہ روک لیا تھا۔ حر کو حکم تھا کہ وہ امام (ع) کو کسی ایسے مقام پر رکنے پر مجبور کرے جہاں پانی اور کوئی قلعہ یا آبادی نہ ہو۔
​۲ محرم کے دن یہ قافلہ اس مقام پر پہنچا جسے آج ہم کربلا کے نام سے جانتے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ جب امام حسین (ع) کا گھوڑا ایک خاص جگہ پر پہنچا، تو وہ آگے بڑھنے سے رک گیا۔ آپ نے سواری بدلی، لیکن دوسرا گھوڑا بھی آگے نہیں بڑھا۔ اس طرح آپ نے سات گھوڑے بدلے، مگر کوئی بھی آگے نہ بڑھا۔
​زمین کا نام اور امام (ع) کا خطبہ
​امام حسین علیہ السلام نے وہاں کے مقامی لوگوں سے اس جگہ کا نام پوچھا۔ لوگوں نے اس کے مختلف نام بتائے جیسے— عقریہ، نینوا، غاضریہ اور شاطی الفرات (دریائے فرات کا کنارہ)۔
​آخر میں جب ایک بزرگ نے کہا کہ اس زمین کو 'کربلا' بھی کہتے ہیں، تو امام حسین (ع) کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ نے فرمایا:
​"یہ 'کرب و بلا' (رنج اور مصیبتوں) کی زمین ہے۔ خدا کی قسم، یہی ہمارے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے، یہی ہمارے خیمے لگانے کا مقام ہے، یہیں ہمارا خون بہے گا اور یہیں ہماری قبریں بنیں گی۔"
​خیموں کا نصب ہونا اور زمین کی خریداری
​خیمے لگانا: امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت عباس علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اسی مقام پر قافلے کے خیمے لگا دیں۔ ۲ محرم کو جب خیمے لگائے گئے، تو اس وقت وہ جگہ دریائے فرات کے قریب تھی اور قافلے کے پاس پانی کی کوئی کمی نہیں تھی۔
​زمین کی خریداری: اسی دن امام حسین (ع) نے کربلا کی وہ زمین (تقریباً ۴ میل کا علاقہ) وہاں کے مقامی قبیلے 'بنی اسد' سے ۶۰،۰۰۰ درہم میں خریدی۔ آپ نے یہ زمین خرید کر انہی لوگوں کو واپس تحفے میں دے دی، لیکن ایک شرط رکھی کہ:
​وہ یہاں آنے والے زائرین کی مہمانی اور رہنمائی کریں گے۔
​شہدا کی شہادت کے بعد انہیں باادب دفن کریں گے۔
​یہ دن کربلا کے اس عظیم اور دردناک سفر کا آغاز تھا جس کا اختتام ۱۰ محرم (عاشورہ) کو امام حسین علیہ السلام اور ان کے ۷۲ باوفا ساتھیوں کی بے مثال شہادت پر ہوا۔

Address

Toronto, ON

Telephone

+14372406839

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Karbala waly posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Karbala waly:

Shortcuts

Share