20/03/2026
جرنیلوں کی پاکستان کے سے بے وفائ 🇵🇰🇦🇫🇮🇷
Article by Shakil Ahmad
اپنی اندھی سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے ہم جمہوریت اور قومی سلامتی کی آڑ میں اپنے حکمرانوں کے ذاتی مفادات اور دھوکہ بازیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ظاہر ہے جنرل عاصم منیر عمران خان کو جیل میں رکھنے، اسپانسرڈ عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے پی ٹی آئی کو کچلنے پر تلا ہوا ہے۔ تاکہ جعلی پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم کے ذریعے خود صدر بن سکے۔ اور اپنی مصری طرز کی صدارت کے لیے ٹرمپ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے، اسنے امریکہ میں لابی فرمز پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر خاموشی اختیار کرنے اور خان کو جیل میں رکھنے کے عوض اس نے ٹرمپ کو پاکستان میں معدنیات، رئیل اسٹیٹ اور کرپٹو کاروبار کی پیشکش کی تاکہ درپردہ ٹرمپ کے خاندانی کاروبار کو فائدہ پہنچے۔
اس کے علاوہ، ٹرمپ کے ساتھ ایک خفیہ کھانے پر، اس نے مبینہ طور پر افغان طالبان رجیم کو بدلنے، بگرام ایئربیس کو امریکہ کے حوالےکرنے اور ایران پر حملے کے لیے امریکا کو پاکستانی ایئربیسز کی پیشکش کا وعدہ کیا۔ افغانستان، ایران اور چین جیسے دوستوں کو دھوکہ دیتے ہوئے امریکی جنگیں جاری رکھ کر، ہم نے گزشتہ 50 سالوں میں 60 بلین ڈالر کا فائدہ اٹھایا لیکن پاکستان کو معاشی اور سیاسی طور پر تباہ کردیا۔
یہ انتہائ شرمناک ہے کہ اب ہم قومی سلامتی کی آڑ میں اپنے افغان بھائیوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ کابل میں ہسپتال پر بمباری 400 افراد کی ہلاکت اور 300 افراد کو زخمی کرنا، ایران اور غزہ کے خلاف از*را*ئیل کے جنگی جرائم کے مترادف ہے۔ افغان پاکستان کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ رہنے کے لیے مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم امریکی غلامی میں ان پر بار بار جنگ مسلط کرتے ہیں، جس سے وہ اب ہمارے خلاف ہو چکے ہیں۔ برداشت کی بھی حد ہوتی ہے اس لیے مجبورا" اب انہوں نے بھارت سے مدد مانگی ہے۔ یہ فطری بات ہے کہ مشترکہ دشمن دوست بن جاتے ہیں۔ ان کو سزا دینے کے لیے ہم نے سرحد بند کر دی اور ان کے ساتھ 2 بلین ڈالر کی تجارت کا نقصان کیا۔ لہٰذا، متبادل کے طور پر، اب وہ چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے بھارت کو تجارت کے لیے سہولت فراہم کر یں گے۔ جس سے بھارت کو وسط ایشیائی منڈیوں تک رسائی ملے گی، جو فائدہ ہم اپنے نمکحرام حکمرانوں کی وجہ سے کھو چکے ہیں۔ اب بھی ہم امریکی غلامی سے نکل کر تعلقات بحال کر سکتے ہیں۔ اسکے لئے پاکستان کو افغانستان سے معافی مانگنی چاہیے اور ان کے تباہی، اموات اور زخمیوں کے نقصانات کا اذالہ کرناچاہیے۔
افغان طالبان جن کو کئی دہائیوں سے پاکستان نے بنایا اور ان کی حمایت کی ہے اب انکا رجیم تبدیل کرنے اور بگرام ایئربیس کو امریکا کے حوالے کرنے کےلئیے اکثر ہم ان پر حملے کرتے ہیں۔ تاریخی طور پر، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعہ کی بنیاد انگریزوں نے 1893 میں ڈیورنڈ لائن کو بارڈر بنا کر کی۔ جس سے 2600 کلومیٹر سرحد نے پشتونوں کو دو ملکوں میں تقسیم کر دیا۔ اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر امریکہ آجتک دونوں مسلم ممالک کو آپس میں لڑا رہا ہے۔ پاکستان افغانستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ پاکستان میں حملوں کے لیے تحریک طالبان پاکستان (TTP) کو پناہ دے رہا ہے۔ جبکہ، KPK ،TTP صوبے میں پاکستانی فورسز کے پشتونوں پر ظلم و ستم کی پیداوار ہے۔ اگر سرحد پر باڑ لگا کر نگرانی کی جاتی ہے تو عسکریت پسند پاکستان میں کیسے داخل ہوتے ہیں؟ اصل میں، ہمارے حکمران اپنی بقا اور ٹرمپ کو خوش کرنے کے لئے مزاکرات ختم کرکے انسے جنگیں کرتے ہیں۔ جبکہ جھوٹے پروپیگنڈے اور آپریشن سے عوام دھوکے میں آجاتے ہیں۔
ہمارے جرنیلوں کی ڈھاکہ، سندھ، بلوچستان سے لے کر کے پی کے تک جبر کی تاریخ ہے، جہاں لاکھوں لوگ مارے گئے اور تشدد کا نشانہ بنے۔ اسی وجہ سے پاکستان ٹوٹا اور معاشی و سیاسی طور پر تباہ ہوا۔ ہم صرف ڈالروں کے لیے امریکی جنگوں پر چل رہے ہیں۔ ہمارے جرنیلوں کو ایران سے سبق سیکھنا چاہیے جو بغیر فضائیہ کے تنہا امریکہ اور از*را*ئیل سے لڑ رہا ہے اور جیت بھی رھا ہے۔ کیونکہ ان کے لیے صرف اللہ ہی سپر پاور ہے۔ اگر یورپی، نیٹو اور دیگر ممالک جنگ میں ٹرمپ اور نیتن*یاہو کی مدد نہیں کر رہے تو پھر ہم ان کی غلامی کیوں کریں۔ اب امت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے بجائے ٹرمپ کے پیس بورڈ کو چھوڑ کر، مسلم اقوام کو متحد کرکے مشترکہ دشمنوں سےجان چھڑانےکی ضرورت ہے۔
خان کو اقتدار سے ہٹانا ہمارے جرنیلوں کی بدترین غلطی ہے جس نے پاکستان کو برباد کر دیا۔ عمران خان کا الیکشن چوری کرنا، PTI کو کچلنا اور زرداری شریف کی حکومت قائم کرنا مادرِ وطن کے خلاف سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ ملک کا سب سے مقبول لیڈر ہے جو پاکستان کو بحران سے نکال سکتا ہے۔ جنرل عاصم منیر اس سے پہلے کہ پچھتانے کا بھی موقع نہ ملے، وطن عزیز پر رحم کرو اور خان کو رہا کرو تاکہ وہ عوامی طاقت سے پاکستان کو تباہی سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال سکے۔
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین!🇵🇰
Shakil Ahmad JP
Immigration Advisor
President Pakistan Mission Intl
Ex-President Uni W/Sydney Union
https://www.facebook.com/share/15BKhGLsN8/
www.MasterMigration.com.au
www.PakistanMissionIntl.org