01/06/2026
پولیس کی موجودگی میں اغوا کیے گئے بھائی کی بازیابی کا مطالبہ۔
بازار احمد خان کے رہائشی حامد نواز نے اپنے والد صاحب نواز خان ، بھائی ساجد نواز اور دیگر اہل خانہ کے ہمراہ بنوں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بھائی صابر نواز کو پولیس کی موجودگی میں اغوا کیا گیا، جسے فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔
حامد نواز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ چند روز قبل 25 سے 30 مسلح افراد ان کے گھر آئے اور دعویٰ کیا کہ ان کے ایک بھائی کے ذمے چار کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔ انہوں نے ان افراد کو بتایا کہ وہ غریب اور محنت کش لوگ ہیں اور اپنے بھائی کے مالی معاملات سے لاعلم ہیں، تاہم مسلح افراد مسلسل دھمکیاں دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ دو روز بعد تھانہ صدر کی پولیس بھی انہی افراد کے ہمراہ ان کے گھر آئی اور عید کے پانچویں روز تھانے میں معاملہ حل کرنے کے لیے بلایا گیا۔ مقررہ روز وہ اپنی فوٹو اسٹیٹ کی دکان پر موجود تھے کہ ایک گاڑی آئی اور ان کے بھائی صابر نواز، جو دبئی سے گردوں کے علاج اور آپریشن کے لیے وطن آئے ہوئے ہیں، کو زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی گئی۔
حامد نواز کے مطابق وہ اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ تھانہ صدر پہنچے، جہاں سہ پہر تک مسلح افراد اسلحہ سمیت آزادانہ گھومتے رہے۔ بعد ازاں انہیں بتایا گیا کہ مزید بات چیت کے لیے تھانہ میراخیل جانا ہوگا، تاہم تھانے کے بجائے انہیں نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ راستے میں پولیس اہلکار بھی موجود تھے اور ان کی نگرانی میں انہیں وہاں منتقل کیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں ایک اسکول میں یرغمال بنایا گیا، جہاں بعد میں انہیں اور ان کے والد کو چھوڑ دیا گیا، جبکہ صابر نواز کو اپنے پاس رکھا گیا۔ مبینہ اغوا کاروں نے دھمکی دی کہ اگر مطلوبہ رقم ادا نہ کی گئی تو صابر نواز کو قتل کر دیا جائے گا۔
پریس کانفرنس کے دوران حامد نواز نے کہا کہ جس بھائی کے ساتھ مالی تنازعہ ہے وہ عمان میں ہے، جبکہ انہیں اور ان کے بیمار بھائی کو بلاجواز نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا اپنے بھائی کے ساتھ مالی معاملے سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی انہیں اس کی تفصیلات کا علم ہے۔ انہوں یہ بھی بتایا کہ جن لوگوں نے ہمیں اغواء کیا ہم انہیں نہیں جانتے کہ یہ کون ہیں البتہ پولیس اسے جانتی ہے۔
انہوں نے حکومت، پولیس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور ان کے بھائی صابر نواز کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔