15/10/2026
صوبے میں بدانتظامی اور کرپشن کی ذمہ دار بیوروکریسی ہے، سیاست دانوں کے ساتھ افسران کا بھی احتساب ہونا چاہیے، پیر قیصر عباس شاہ
پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین کے سابق امیدوار قومی اسمبلی پیر قیصر عباس شاہ نے کہا ہے کہ ہم نے کسی کی حمایت نہیں کی بلکہ خیبر پختونخوا میں لاقانونیت، بدانتظامی اور کرپشن کی انتہا کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ صوبے میں جو کچھ ہو رہا تھا، اس کے پیچھے صرف سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ بیوروکریسی کا ایک بااثر گروہ بھی سرگرم تھا، جو مبینہ طور پر کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث رہا۔
اپنے ایک بیان میں پیر قیصر عباس شاہ نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں انتظامی معاملات چند افسران کے ہاتھوں میں مرکوز کر دیے گئے تھے اور بیک وقت تین تین اہم ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، جس سے اختیارات کا ارتکاز بڑھا اور میرٹ و شفافیت متاثر ہوئی۔ انہوں نے سابق چیف سیکرٹری کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے صوبے کے انتظامی نظام کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھا اور ان کے دور میں مبینہ بدعنوانی کے باعث بنوں جیسے اضلاع کا نام بھی بدنام ہوا۔
انہوں نے بنوں کے مجوزہ گل سٹی منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے لیے مبینہ طور پر ایسی جگہ کا انتخاب کیا گیا جو تکنیکی اعتبار سے موزوں نہیں۔ ان کے بقول اگر اس علاقے میں بنوں شہر کے نکاسی آب کے قدرتی راستے متاثر ہوئے تو بارشوں کے دوران شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور شہر میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے کے ماحولیاتی، تکنیکی اور نکاسی آب کے پہلوؤں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔
پیر قیصر عباس شاہ نے صوبائی سیکرٹریٹ کے انتظامی معاملات پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری، فنڈز کے اجرا اور منصوبوں پر نظرثانی کے مختلف مراحل میں مبینہ طور پر رشوت طلب کی جاتی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض منصوبوں کی منظوری کے لیے الگ رقم مانگی جاتی، فنڈز جاری کرنے کے لیے الگ مطالبات سامنے آتے جبکہ نظرثانی کے مرحلے پر 15 فیصد تک رقم دینے کا دباؤ ڈالا جاتا تھا۔ انہوں نے ان الزامات کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کا احتساب تو مسلسل ہوتا رہتا ہے، تاہم بیوروکریسی کو بھی احتساب کے یکساں نظام کے تابع ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق جنوبی اضلاع، بالخصوص بنوں، کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض افسران جنوبی اضلاع میں عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے تعیناتیوں کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ میرٹ کو نظر انداز کرنے اور بدعنوانی نے سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔
پیر قیصر عباس شاہ نے مزید کہا کہ کرپشن اور سفارش کے معاملے میں بیوروکریسی کے کردار کا بھی سنجیدہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے فوج کے حوالے سے کہا کہ اکثر تنقید کا رخ فوج کی طرف موڑ دیا جاتا ہے، تاہم ان کے بقول اداروں میں چیک اینڈ بیلنس، میرٹ اور نظم و ضبط کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے افسران کے شاہانہ پروٹوکول اور سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ بنوں کو ڈویژن کا درجہ ملنے کے بعد یہاں پاسپورٹ آفس، بڑے ہسپتالوں، نادرا اور مختلف علاقائی دفاتر سمیت متعدد سہولیات فراہم کی گئیں، تاہم افسوس کی بات ہے کہ بنوں کو ڈویژن کا درجہ دلوانے میں کردار ادا کرنے والی شخصیات کی خدمات کا اعتراف بھی نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق بنوں کو ڈویژن کا درجہ ملنا علاقے کی انتظامی ترقی کے لیے ایک اہم قدم تھا، جس کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
پیر قیصر عباس شاہ نے مطالبہ کیا کہ صوبے میں مبینہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال، میرٹ کی خلاف ورزیوں اور ترقیاتی منصوبوں میں بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور الزامات ثابت ہونے پر ذمہ دار افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی قیادت اور بیوروکریسی دونوں کو قانون، میرٹ اور جواب دہی کا پابند بنایا جائے۔