17/06/2026
تعارف
*اخونزادہ محمود رحمہ اللہ (وادیٔ تیراہ کے بے تاج بادشاہ)*
آپ اخونزادہ ولی اللہ صاحب کے پانچویں اور سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے، جو ملا چپری کے نام سے مشہور تھے۔ بچپن ہی سے آپ سخاوت، بہادری اور اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ دینی تعلیم مکمل اور وافر حاصل کی تھی۔ سیاسی بصیرت اور حکمتِ عملی میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ فطری طور پر اثر و رسوخ، روحانی کشش اور غیر معمولی شخصیت کے حامل تھے۔ آپ کی وفاداری، کششِ شخصیت اور کردار کا یہ عالم تھا کہ دوستوں کے ساتھ ساتھ مخالفین بھی آپ کی تعریف کرتے تھے۔
اپنے محترم والد کے انتقال کے بعد افریدی، اورکزئی، زیمشت اور چمکنی قبائل نے متفقہ طور پر آپ کو گدی نشین منتخب کیا۔ یہ قبائل اپنے تمام داخلی اور خارجی معاملات آپ ہی کے ذریعے حل کرتے تھے۔
سیاسی اور عملی خدمات
تیراہ میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں آپ کا کردار نہایت فعال تھا۔ 1919ء میں افغانستان کی تیسری جنگ کے دوران تیراہ کے قبائل کے ایک بڑے لشکر کو انگریز فوج کے مقابلے میں "تل" کے محاذ پر بھیجا گیا۔ تاہم اس لشکر کی روانگی سے پہلے افغان فوج کے جنرل محمد نادر خان اور انگریز جنرل ڈائر کے درمیان جنگ بندی ہو چکی تھی۔
(حوالہ: تاریخ افغانستان، میر غلام محمد غبار؛ آئینۂ بنگش و تیراہ، عبدالحلیم خان)
اخونزادہ محمود صاحب نے تیراہ کے علاقے (اورکزئی، خیبر اور کرم کے مرکزی علاقوں) میں متعدد اصلاحات نافذ کیں۔ غیر قانونی اور غیر شرعی رسوم و رواج کا خاتمہ کیا۔ ہندوؤں اور سکھوں کے لباس میں امتیاز مقرر کیا گیا تاکہ دور سے مسلمان اور غیر مسلم کی شناخت ممکن ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے حکم جاری کیا گیا کہ ہندو اور سکھ سفید پگڑی کے بجائے سرخ رنگ کی پگڑی پہنیں۔
آپ نے تیراہ میں مخالف فریقوں کے درمیان صلح و صفائی اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے "قوم زونہ" اور "اسلام زونہ" کا نظام متعارف کروایا۔ جو شخص اس فیصلے کی خلاف ورزی کرتا، اس کے خلاف پوری قوم کارروائی کرتی، اس کا گھر جلایا جاتا، جرمانہ عائد کیا جاتا اور اسے علاقے سے نکال دیا جاتا۔ ان اقدامات سے علاقے میں امن و امان کی فضا قائم ہوئی۔
مجرموں اور قاتلوں سے بھاری جرمانے اور دیت وصول کی جاتی تھی، جن کا ایک حصہ جرگے کے ارکان میں تقسیم کیا جاتا اور باقی مقتولین کے ورثاء کو دیا جاتا تھا۔ آپ مظلوم خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کرتے اور ان کی مدد فرماتے۔ غریب اور بے سہارا لوگ آپ کی پناہ میں آکر رہتے اور آپ ان کی کفالت کرتے، جس کے باعث وہ ظالموں کے ظلم سے محفوظ رہتے تھے۔
روایت ہے کہ 14 اپریل 1923ء کو عجب خان آفریدی نے کوہاٹ چھاؤنی سے ایک انگریز افسر کی بیٹی *مس ایلس* کو اغوا کرکے تیراہ منتقل کیا۔ انگریزوں کے خوف سے کوئی شخص اسے پناہ دینے پر آمادہ نہ تھا، چنانچہ وہ اخونزادہ محمود صاحب کے پاس آیا اور پناہ طلب کی۔ آپ نے اسے عزت و احترام کے ساتھ رہائش اور خوراک فراہم کی۔
اس وقت کوہاٹ کے ڈپٹی کمشنر مسٹر بروس تھے۔ انہوں نے اخونزادہ محمود صاحب کو دھمکی دی کہ عجب خان کو پناہ نہ دی جائے اور مس ایلس کو فوراً انگریز حکومت کے حوالے کر دیا جائے۔ دباؤ بڑھانے کے لیے جنگی طیارے بھی علاقے پر پرواز کرتے رہے، لیکن اخونزادہ محمود صاحب نے کوئی پروا نہ کی اور واضح جواب دیا کہ پشتون روایت کے مطابق پناہ مانگنے والے کو دشمن کے حوالے کرنا ناممکن ہے۔
جب ڈپٹی کمشنر کو یہ جواب ملا تو اس نے نرم رویہ اختیار کیا۔ بعد ازاں کوہاٹ کے چند معززین، جن میں ہنگو کے محمد امین جان خان مغل باز خان اور کرم کے خان بہادر قلی خان شامل تھے، ایک جرگے کی صورت میں اخونزادہ محمود صاحب کے پاس بھیجے گئے۔ مذاکرات کے بعد اخونزادہ محمود صاحب نے مس ایلس کو عزت و احترام اور تحائف کے ساتھ جرگے کے حوالے کر دیا، جبکہ انگریز حکومت سے یہ تحریری یقین دہانی حاصل کی کہ عجب خان آفریدی اور اس کے بھائی کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
اس کے بعد عجب خان اپنے بھائی کے ہمراہ افغانستان چلا گیا، جہاں افغان بادشاہ نے اسے رہائش فراہم کی۔ جب مس ایلس کو ڈپٹی کمشنر بروس اور کمشنر کے حوالے کیا گیا تو اس نے مجمع کے سامنے اخونزادہ محمود صاحب کی میزبانی، حسنِ سلوک اور عزت افزائی کی تعریف کی۔
انگریزوں کے سرکاری ریکارڈ اور متعدد کتابوں میں اخونزادہ محمود صاحب کا ذکر تیراہ، بنگش اور وزیرستان کے ایک عظیم قبائلی رہنما کے طور پر کیا گیا ہے۔ ان کا ذکر سر ولیم بار کے شمال مغربی سرحدی علاقوں سے متعلق تحریروں میں بھی ملتا ہے، جبکہ برطانوی خفیہ ریکارڈ میں بھی ان کے بارے میں کافی مواد موجود ہے۔
# وفات
اخونزادہ محمود صاحب 21 ذوالحجہ 1354 ہجری کو بیمار ہوئے اور یکم اپریل 1939ء کو وفات پا گئے۔
ان کی قبر پر فارسی زبان میں درج اشعار یہ ہیں:
دارِ فنا سے کوچ کر گئے
جلیل القدر صاحبزادہ محمود
کریم الاخلاق، سرچشمۂ فضائل
فقیر الحدیث صاحبزادہ محمود
ایک سال قبل وفات پا گئے
عظیم المرتبت صاحبزادہ محمود
آپ کو اپنے والد محترم ملا چپری صاحب کے پہلو میں، سَمہ ماموزئی میں سپردِ خاک کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ ان پر اپنی بے پایاں رحمت نازل فرمائے۔ آمین۔
تشکر
محمد طفیل کوہاٹی
وٹس گروپ کے کمنٹس سیکشن کے کچھ اہم معلوماتی کمنٹس
(1)
مولانا صاحب
" اورکزئی وطن اور قبیلے ،کتاب
کے مطابق ملا ولی اللہ کی وفات 1887 میں ہوئی تو اس وقت محمود صاحب چھوٹے تھے تو ملا ولی اللہ صاحب کی ذمہ داری ملا سیداکبراکاخیل پر پڑی ۔اور صفحہ نمبر188 پر لکھا ہے ملا صمند خان( بیٹا) ملا ولی اللہ کے جانشین تھے .
یہ اس لیے میں کہا کہ آپ کتاب میں اگر تذکرہ لکھتے ہیں تو کسی کو اعتراض نہ ہو ۔
لیکن بدقسمتی سے ہمارے ایک دوست نے جاکر ان کے موجودہ سربراہ سے کہا کہ میں محمود اخونزادہ پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں آپ میری مدد کریں تو اس نے ٹال مٹول کرکے مدد نہیں کی۔
(2)
یہ تحریر مولانا یونس قاسمی صاحب نے بھیجی ہے پشتو میں ۔۔۔ غالبا کسی صحافی کی لکھی ہوئی ہے
(3)
لیکن اس کے بارے میں بابو لالا کے معلومات اہم اور زیادہ ہیں ان کے مطابق ان کے اباؤ اجدادکا تعلق ھنگو روڈ پر کچہ پکہ کے قریب علی زئی گاؤں سے تھا شاید ان میں کسی نے سنی ہو کر چھپری ناریاب میں رہائش اختیار کی ہو کیونکہ چھپری میں بھی بنگش رہتے ہیں
(4)
جی بالکل ان کے بارے میں عبدالحلیم خان نے آئینہ تیراہ و بنگش میں بھی خوب لکھا ہے ،اس زمانے کے روزنامہ انقلاب میں بھی ان کے بارے میں بہت کچھ چھپا ہے جو میرے پاس محفوظ ہے