Mamozai Qaumi Etihad

Mamozai Qaumi Etihad Official Page of Mamozai Qaumi Etihad Ex-Name (Mamozai Youth Committee). Social Media Handing by Admins

تعارف*اخونزادہ محمود رحمہ اللہ (وادیٔ تیراہ کے بے تاج بادشاہ)*آپ اخونزادہ ولی اللہ صاحب کے پانچویں اور سب سے چھوٹے صاحبز...
17/06/2026

تعارف
*اخونزادہ محمود رحمہ اللہ (وادیٔ تیراہ کے بے تاج بادشاہ)*
آپ اخونزادہ ولی اللہ صاحب کے پانچویں اور سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے، جو ملا چپری کے نام سے مشہور تھے۔ بچپن ہی سے آپ سخاوت، بہادری اور اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ دینی تعلیم مکمل اور وافر حاصل کی تھی۔ سیاسی بصیرت اور حکمتِ عملی میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ فطری طور پر اثر و رسوخ، روحانی کشش اور غیر معمولی شخصیت کے حامل تھے۔ آپ کی وفاداری، کششِ شخصیت اور کردار کا یہ عالم تھا کہ دوستوں کے ساتھ ساتھ مخالفین بھی آپ کی تعریف کرتے تھے۔

اپنے محترم والد کے انتقال کے بعد افریدی، اورکزئی، زیمشت اور چمکنی قبائل نے متفقہ طور پر آپ کو گدی نشین منتخب کیا۔ یہ قبائل اپنے تمام داخلی اور خارجی معاملات آپ ہی کے ذریعے حل کرتے تھے۔

سیاسی اور عملی خدمات

تیراہ میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں آپ کا کردار نہایت فعال تھا۔ 1919ء میں افغانستان کی تیسری جنگ کے دوران تیراہ کے قبائل کے ایک بڑے لشکر کو انگریز فوج کے مقابلے میں "تل" کے محاذ پر بھیجا گیا۔ تاہم اس لشکر کی روانگی سے پہلے افغان فوج کے جنرل محمد نادر خان اور انگریز جنرل ڈائر کے درمیان جنگ بندی ہو چکی تھی۔

(حوالہ: تاریخ افغانستان، میر غلام محمد غبار؛ آئینۂ بنگش و تیراہ، عبدالحلیم خان)

اخونزادہ محمود صاحب نے تیراہ کے علاقے (اورکزئی، خیبر اور کرم کے مرکزی علاقوں) میں متعدد اصلاحات نافذ کیں۔ غیر قانونی اور غیر شرعی رسوم و رواج کا خاتمہ کیا۔ ہندوؤں اور سکھوں کے لباس میں امتیاز مقرر کیا گیا تاکہ دور سے مسلمان اور غیر مسلم کی شناخت ممکن ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے حکم جاری کیا گیا کہ ہندو اور سکھ سفید پگڑی کے بجائے سرخ رنگ کی پگڑی پہنیں۔

آپ نے تیراہ میں مخالف فریقوں کے درمیان صلح و صفائی اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے "قوم زونہ" اور "اسلام زونہ" کا نظام متعارف کروایا۔ جو شخص اس فیصلے کی خلاف ورزی کرتا، اس کے خلاف پوری قوم کارروائی کرتی، اس کا گھر جلایا جاتا، جرمانہ عائد کیا جاتا اور اسے علاقے سے نکال دیا جاتا۔ ان اقدامات سے علاقے میں امن و امان کی فضا قائم ہوئی۔

مجرموں اور قاتلوں سے بھاری جرمانے اور دیت وصول کی جاتی تھی، جن کا ایک حصہ جرگے کے ارکان میں تقسیم کیا جاتا اور باقی مقتولین کے ورثاء کو دیا جاتا تھا۔ آپ مظلوم خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کرتے اور ان کی مدد فرماتے۔ غریب اور بے سہارا لوگ آپ کی پناہ میں آکر رہتے اور آپ ان کی کفالت کرتے، جس کے باعث وہ ظالموں کے ظلم سے محفوظ رہتے تھے۔

روایت ہے کہ 14 اپریل 1923ء کو عجب خان آفریدی نے کوہاٹ چھاؤنی سے ایک انگریز افسر کی بیٹی *مس ایلس* کو اغوا کرکے تیراہ منتقل کیا۔ انگریزوں کے خوف سے کوئی شخص اسے پناہ دینے پر آمادہ نہ تھا، چنانچہ وہ اخونزادہ محمود صاحب کے پاس آیا اور پناہ طلب کی۔ آپ نے اسے عزت و احترام کے ساتھ رہائش اور خوراک فراہم کی۔

اس وقت کوہاٹ کے ڈپٹی کمشنر مسٹر بروس تھے۔ انہوں نے اخونزادہ محمود صاحب کو دھمکی دی کہ عجب خان کو پناہ نہ دی جائے اور مس ایلس کو فوراً انگریز حکومت کے حوالے کر دیا جائے۔ دباؤ بڑھانے کے لیے جنگی طیارے بھی علاقے پر پرواز کرتے رہے، لیکن اخونزادہ محمود صاحب نے کوئی پروا نہ کی اور واضح جواب دیا کہ پشتون روایت کے مطابق پناہ مانگنے والے کو دشمن کے حوالے کرنا ناممکن ہے۔

جب ڈپٹی کمشنر کو یہ جواب ملا تو اس نے نرم رویہ اختیار کیا۔ بعد ازاں کوہاٹ کے چند معززین، جن میں ہنگو کے محمد امین جان خان مغل باز خان اور کرم کے خان بہادر قلی خان شامل تھے، ایک جرگے کی صورت میں اخونزادہ محمود صاحب کے پاس بھیجے گئے۔ مذاکرات کے بعد اخونزادہ محمود صاحب نے مس ایلس کو عزت و احترام اور تحائف کے ساتھ جرگے کے حوالے کر دیا، جبکہ انگریز حکومت سے یہ تحریری یقین دہانی حاصل کی کہ عجب خان آفریدی اور اس کے بھائی کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

اس کے بعد عجب خان اپنے بھائی کے ہمراہ افغانستان چلا گیا، جہاں افغان بادشاہ نے اسے رہائش فراہم کی۔ جب مس ایلس کو ڈپٹی کمشنر بروس اور کمشنر کے حوالے کیا گیا تو اس نے مجمع کے سامنے اخونزادہ محمود صاحب کی میزبانی، حسنِ سلوک اور عزت افزائی کی تعریف کی۔

انگریزوں کے سرکاری ریکارڈ اور متعدد کتابوں میں اخونزادہ محمود صاحب کا ذکر تیراہ، بنگش اور وزیرستان کے ایک عظیم قبائلی رہنما کے طور پر کیا گیا ہے۔ ان کا ذکر سر ولیم بار کے شمال مغربی سرحدی علاقوں سے متعلق تحریروں میں بھی ملتا ہے، جبکہ برطانوی خفیہ ریکارڈ میں بھی ان کے بارے میں کافی مواد موجود ہے۔

# وفات

اخونزادہ محمود صاحب 21 ذوالحجہ 1354 ہجری کو بیمار ہوئے اور یکم اپریل 1939ء کو وفات پا گئے۔

ان کی قبر پر فارسی زبان میں درج اشعار یہ ہیں:

دارِ فنا سے کوچ کر گئے
جلیل القدر صاحبزادہ محمود

کریم الاخلاق، سرچشمۂ فضائل
فقیر الحدیث صاحبزادہ محمود

ایک سال قبل وفات پا گئے
عظیم المرتبت صاحبزادہ محمود

آپ کو اپنے والد محترم ملا چپری صاحب کے پہلو میں، سَمہ ماموزئی میں سپردِ خاک کیا گیا۔

اللہ تعالیٰ ان پر اپنی بے پایاں رحمت نازل فرمائے۔ آمین۔

تشکر
محمد طفیل کوہاٹی

وٹس گروپ کے کمنٹس سیکشن کے کچھ اہم معلوماتی کمنٹس
(1)
مولانا صاحب
" اورکزئی وطن اور قبیلے ،کتاب
کے مطابق ملا ولی اللہ کی وفات 1887 میں ہوئی تو اس وقت محمود صاحب چھوٹے تھے تو ملا ولی اللہ صاحب کی ذمہ داری ملا سیداکبراکاخیل پر پڑی ۔اور صفحہ نمبر188 پر لکھا ہے ملا صمند خان( بیٹا) ملا ولی اللہ کے جانشین تھے .
یہ اس لیے میں کہا کہ آپ کتاب میں اگر تذکرہ لکھتے ہیں تو کسی کو اعتراض نہ ہو ۔
لیکن بدقسمتی سے ہمارے ایک دوست نے جاکر ان کے موجودہ سربراہ سے کہا کہ میں محمود اخونزادہ پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں آپ میری مدد کریں تو اس نے ٹال مٹول کرکے مدد نہیں کی۔

(2)
یہ تحریر مولانا یونس قاسمی صاحب نے بھیجی ہے پشتو میں ۔۔۔ غالبا کسی صحافی کی لکھی ہوئی ہے

(3)
لیکن اس کے بارے میں بابو لالا کے معلومات اہم اور زیادہ ہیں ان کے مطابق ان کے اباؤ اجدادکا تعلق ھنگو روڈ پر کچہ پکہ کے قریب علی زئی گاؤں سے تھا شاید ان میں کسی نے سنی ہو کر چھپری ناریاب میں رہائش اختیار کی ہو کیونکہ چھپری میں بھی بنگش رہتے ہیں

(4)
جی بالکل ان کے بارے میں عبدالحلیم خان نے آئینہ تیراہ و بنگش میں بھی خوب لکھا ہے ،اس زمانے کے روزنامہ انقلاب میں بھی ان کے بارے میں بہت کچھ چھپا ہے جو میرے پاس محفوظ ہے

17/06/2026

سنٹرل کُرم، میرباغ کے حالیہ واقعے میں شدید زخمی ہونے والے تین بھائیوں میں سے ایک کی عیادت کی۔ تینوں بچوں کے والدِ محترم انتہائی غریب اور نادار ہیں۔ احباب منشن کیے گئے نمبر پر رابطہ کرکے تعاون کرسکتے ہیں۔

برائے رابطہ و تعاون ایزی پیسہ:
مولانا سراج الدین صاحب
0335-9727996

نوٹ: اگر کوئی ہسپتال جا کر بچوں کی عیادت کرنا چاہے تو بچے پشاور کے ایل آر ایچ میں داخل ہیں، وہاں جا کر خود بھی ملاقات کرسکتے ہیں۔
Siraj Uden

@سنٹرل کرم کے علاقے میر باغ میں گزشتہ دنوں ڈرون حملے کے نتیجے میں ماموزئی قوم سے تعلق رکھنے والے صاحب الدین کے تین بچے ش...
17/06/2026

@

سنٹرل کرم کے علاقے میر باغ میں گزشتہ دنوں ڈرون حملے کے نتیجے میں ماموزئی قوم سے تعلق رکھنے والے صاحب الدین کے تین بچے شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی بچوں کو علاج کے لیے پشاور کے ایل آر ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایک بچے کی ٹانگ شدید متاثر ہونے کے باعث ضائع ہو گئی۔

سوال یہ ہے کہ بے گناہ بچوں کے ساتھ یہ سانحہ کب تک ہوتا رہے گا؟ آخر اس خطے میں پائیدار امن کب قائم ہوگا؟ ہم متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

منجانب: ماموزئی قوم کے عوام

#کرم #امن #انصاف

17/06/2026

اعلانِ وفات و نمازِ جنازہ

قومِ ماموزئی، گورنڈو کی معروف و معزز شخصیت
حاجی گل بت خان (عرف گورانڈو ملا)
انتقال کر گئے ہیں۔

مرحوم کی نمازِ جنازہ
آج سہ پہر 3:00 بجے
بمقام فقیر کلے جنازہ گاہ ادا کی جائے گی۔

تمام عزیز و اقارب، دوست احباب اور اہلِ علاقہ سے شرکت کی اپیل ہے اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی درخواست کی جاتی ہے۔

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

16/06/2026

ماموزئی عوام نے چندہ جمع کرکے اڑیا پل پر کام شروع کیا ہے۔ ایک سائیڈ کا کام مکمل ہونے والا ہے جبکہ دوسری سائیڈ پر بھی جلد کام شروع ہوگا۔
نوٹ: ان مسائل کے حل کے لیے عوام نے 5 ہزار سے زائد ووٹ دیے تھے، مگر آج لوگ چندے کے ذریعے اپنے بنیادی مسائل حل کرنے پر مجبور ہیں۔

اج وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام سے ض...
14/06/2026

اج وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام سے ضلع اورکزئی کے 100 رکنی جرگے نے ان کی رہائش گاہ پشاور کینٹ میں ملاقات کی

اس موقع پر جنرل سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا مرتضیٰ جاوید عباسی اور مسلم لیگ (ن) ضم شدہ اضلاع کے کوآرڈینیٹر زر خان صافی بھی موجود تھے۔

جرگے کے اراکین نے وفاقی وزیر کو ضلع اورکزئی کی عوام کو درپیش مسائل، ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات اور عوامی مشکلات سے آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے جرگے کے مطالبات اور مسائل تفصیل سے سنے اور متعلقہ حکام کو ان کے فوری ازالے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وفاقی وزیر نے جرگے کے عمائدین کو یقین دلایا کہ اورکزئی کے عوام کو درپیش مسائل کے حل اور علاقے کی ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَقوم ماموزئی، تپہ میر کلام خیل والی داد نواسی سے تعلق رکھنے والےپرسالی گل کا ا...
08/06/2026

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

قوم ماموزئی، تپہ میر کلام خیل والی داد نواسی سے تعلق رکھنے والے
پرسالی گل کا انتقال ہو گیا ہے۔

مرحوم، حاجی خیال دار خان کے بھائی،
محمد حسین اورکزئی کے چچا زاد،
اور خلیل الرحمن کے تایا جان تھے۔

نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے،
ان کی مغفرت فرمائے،
اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین

تمام احباب سے گزارش ہے کہ مرحوم کے لیے دعائے مغفرت فرمائیں۔

اعلانِ وفات و نمازِ جنازہقوم ماموزئی، تپہ ادرم خیل، تورسمت ڈالنی کے معزز شخصیت ارباب شاہ کے بھائی رحمان شاہ انتقال کر گئ...
07/06/2026

اعلانِ وفات و نمازِ جنازہ

قوم ماموزئی، تپہ ادرم خیل، تورسمت ڈالنی کے معزز شخصیت ارباب شاہ کے بھائی رحمان شاہ انتقال کر گئے ہیں۔

مرحوم کی نمازِ جنازہ آج سہ پہر 3:00 بجے، ڈھوڈہ روڈ، نزد گیس پلانٹ، بھوسہ بانڈہ میں ادا کی جائے گی۔

تمام عزیز و اقارب، دوست احباب اور اہلِ علاقہ سے شرکت اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَقوم ماموزئی موپٹی قدم حسین کے صاحبزادے اور اقبال حسین کے بھائی شینو انتقال ک...
06/06/2026

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

قوم ماموزئی موپٹی قدم حسین کے صاحبزادے اور اقبال حسین کے بھائی شینو انتقال کر گئے ہیں۔

مرحوم کی نمازِ جنازہ آج دوپہر 2:30 بجے، خواصی بانڈہ روڈ، جرما، کوہاٹ میں ادا کی جائے گی۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔

انتقال پُرملالقوم ماموزئی، تپہ سپائے، گاؤں موپٹی کے رہائشی زیت اللہ راشد خان کے جوان بیٹے کا چیک درہ میں کام کے دوران پا...
05/06/2026

انتقال پُرملال

قوم ماموزئی، تپہ سپائے، گاؤں موپٹی کے رہائشی زیت اللہ راشد خان کے جوان بیٹے کا چیک درہ میں کام کے دوران پانی میں ڈوبنے سے افسوسناک انتقال ہوگیا ہے۔

مرحوم کی نمازِ جنازہ آج شام 4:00 بجے وزیر کلے جارمہ میں ادا کی جائے گی۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

Address

Al Ajman
00000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mamozai Qaumi Etihad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Mamozai Qaumi Etihad:

Share